ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa Ash’ari reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Wearing silk and gold is forbidden to the men of my ummah. But (they are) allowed to their women.” [Nisai 5163]
صحيح، ابن ماجة (3595)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1720
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، علی، عقبہ بن عامر، انس، حذیفہ، ام ہانی، عبداللہ بن عمرو، عمران بن حصین، عبداللہ بن زبیر، جابر، ابوریحان، ابن عمر، براء، اور واثلہ بن اسقع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلمان مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے کپڑے حرام ہیں، حرمت کی کئی وجہیں ہیں: کفار و مشرکین سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے، زیب و زینت عورتوں کا خاص وصف ہے، مردوں کے لیے یہ پسندیدہ نہیں، اس پہلو سے یہ دونوں حرام ہیں، اسلام جس سادگی کی تعلیم دیتا ہے یہ اس سادگی کے خلاف ہے، حالانکہ سادگی رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ایمان کا حصہ ہے، آپ کا ارشاد ہے «البذاذة من الإيمان» یعنی سادہ اور بےتکلف رہن سہن اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے، یہ دونوں چیزیں عورتوں کے لیے حلال ہیں، لیکن حلال ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے استعمال میں حد سے تجاوز کیا جائے، اسی طرح یہاں حلت کا تعلق صرف سونے کے زیورات سے ہے، نہ کہ ان سے بنے ہوئے برتنوں سے کیونکہ سونے (اور چاندی) سے بنے ہوئے برتن سب کے لیے حرام ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٤٠ (٥١٥١)، و ٧٤ (٥٢٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨٩٩٨)، و مسند احمد (٤/٣٩٢، ٣٩٣، ٤٠٧) (صحیح )
سوید بن غفلہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی اکرم ﷺ نے ریشم سے منع فرمایا سوائے دو، یا تین، یا چار انگشت کے برابر ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) delivered a sermon at Jabiyah and said, “Allah’s Messenger ﷺ frobade wearing silk, except to the extent of two fingers.... or three, or four.” [Muslim 2066] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1721
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ریشم کا لباس مردوں کے لیے شرعی طور پر حرام ہے، البتہ دو یا تین یا چار انگلی کے برابر کسی کپڑے پر ریشم لگا ہو، یا کوئی عذر مثلاً خارش وغیرہ ہو تو اس کی گنجائش ہے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام ؓ نے ایک غزوہ میں نبی اکرم ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص کی اجازت دے دی، انس ؓ کہتے ہیں: میں نے ان کے بدن پر ریشم کی قمیص دیکھی۔
Sayyidina Anas (RA) reported that in a battle Abdur Rahman ibn Awf (RA) and Zubayr ibn Awwam (RA) complained to the Prophet ﷺ of lice. So, he permitted both of them to wear silk shirts. Anas (RA) said, “I saw them wearing it.” [Bukhari 2920, Muslim 2076] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3592)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1722
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ (ہمارے پاس) آئے تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ؓ ہوں، انس ؓ رو پڑے اور بولے: تم سعد کی شکل کے ہو، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ١ ؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے: ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں جو تم دیکھ رہے ہو ۔
Waqid ibn Amr ibn Sad ibn Mu’adh narrated: When Anas ibn Maalik came, I went to him. He asked me, “Who are you?’ I said, “I am Waqid ibn Amr.” He wept, saying, “You resemble Sad and Sad was among great men... .and greater! He had sent to the Prophet ﷺ a silk robe with gold embroidery. He wore it and climbed up the minbar. He stood up or sat down (on it) and people began to touch (and examine) it, saying that they had not ever seen a garment like that. He said, ‘Do you wonder at it. Indeed, Sad’s handkerchieves in Paradise will be better than what you see.’” [Nisai 5312] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1723
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جبہ اکیدردومہ نے نبی اکرم ﷺ کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا، یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ ﷺ سے خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ١ ؎۔
صحيح، ابن ماجة (3599 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1724
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر بن سمرہ، ابورمثہ اور ابوجحیفہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سرخ لباس کی بابت حالات و ظروف کی رعایت ضروری ہے، اگر یہ عورتوں کا مخصوص زیب و زینت والا لباس ہے جیسا کہ آج کے اس دور میں شادی کے موقع پر سرخ جوڑا دلہن کو خاص طور سے دیا جاتا ہے تو مردوں کا اس سے بچنا بہتر ہے، خود نبی اکرم ﷺ کے اس سرخ جوڑے کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیسا تھا؟ خلاصہ اقوال یہ ہے کہ یہ سرخ جوڑا یا دیگر لال لباس جو آپ ﷺ پہنے تھے، ان میں تانا اور بانا میں رنگوں کا اختلاف تھا، بالکل خالص لال رنگ کے وہ جوڑے نہیں تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٣٣ (٣٥٥١)، واللباس ٣٥ (٥٨٤٨)، و ٦٨ (٥٩٠٣)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧)، سنن ابی داود/ الترجل ٩ (٤١٨٣)، سنن النسائی/الزینة ٩ (٥٠٦٣)، و ٥٩ (٥٢٣٤)، و ٩٣ (٥٢٤٨)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٥٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٤٧)، و مسند احمد (٤/٢٨١، ٢٩٥) و یأتي برقم ٣٦٣٥ (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Ali said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed wearing Qassi (silken clothes) and coloured garments. [Muslim 2078]
صحيح، ابن ماجة (3602)، ويأتي بأتم (3637)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1725
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «معصفر» وہ کپڑا ہے جو عصفر سے رنگا ہوا ہو، اس کا رنگ سرخی اور زردی کے درمیان ہوتا ہے، اس رنگ کا لباس عام طور سے کاہن، جوگی اور سادھو پہنتے ہیں، ممکن ہے نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے کاہنوں کا لباس یہی رہا ہو جس کی وجہ سے اسے پہننے سے منع کیا گیا۔
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گھی، پنیر اور پوستین (چمڑے کا لباس) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا، اور حرام وہ ہے، جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کردیا اور جس چیز کے بارے میں وہ خاموش رہا وہ اس قبیل سے ہے جسے اللہ نے معاف کردیا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Salman (RA) reported that Allah’s Messenger was asked about ghee (butter oil or clarified butter), cheese and fur. He said, The lawful is what Allah has made lawful in His Book and the forbidden is that which He has made unlawful in His Book. And if nothing is said about something then that is forgiven.” [Ibn e Majah 3367]
حسن، ابن ماجة (3366)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1726
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٢ - اسے سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفاً روایت کیا ہے، گویا یہ موقوف حدیث زیادہ صحیح ہے، اس باب میں مغیرہ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣ - میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اس کو محفوظ نہیں سمجھتا ہوں، سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفا روایت کی ہے، ٤ - امام بخاری کہتے ہیں: سیف بن ہارون مقارب الحدیث ہیں، اور سیف بن محمد عاصم سے روایت کرنے میں ذاہب الحدیث ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا استعمال جائز اور مباح ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے یہ اصول اپنایا کہ چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے حلال و مباح ہیں، اس کی تائید اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے «هو الذي خلق لکم ما في الأرض جميعا» لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی حرمت سے متعلق کوئی دلیل نہ ہو، کیونکہ حرمت کی دلیل آ جانے کے بعد وہ حرام ہوجائیں گی، فقہاء کے مذکورہ اصول اور مذکورہ آیت سے بعض نے پان، تمباکو اور بیڑی سگریٹ کے مباح ہونے پر استدلال کیا ہے، لیکن یہ استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ ضرر رساں نہ ہوں، اگر دیر یا سویر نقصان ظاہر ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ ہرگز مباح نہیں ہوں گی، اور مذکورہ چیزوں میں جو ضرر و نقصان ہے یہ کسی سے مخفی نہیں، نیز ان کا استعمال «تبذیر» (اسراف اور فضول خرچی) کے باب میں آتا ہے، لہٰذا ان کی حرمت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦٠ (٣٣٦٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٦) (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی سیف سخت ضعیف ہیں، دیکھئے: غایة المرام رقم: ٣، وتراجع الألبانی ٤٢٨ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک بکری مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے بکری والے سے کہا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when a sheep died, (a natural death) the Prophet ﷺ I said to its owners, “Why did you not remove its skin. You could have tanned it and benefitted from it.”
صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1727
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے، اور ان روایتوں کو جن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چمڑے کو دباغت دی گئی، وہ پاک ہوگیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The hide that is tanned is pure.” [Muslim 366]
صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1728
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بواسطہ ابن عباس نبی اکرم ﷺ سے دوسری سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے، ٣ - یہ حدیث ابن عباس سے کبھی میمونہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اور کبھی سودہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو نبی اکرم ﷺ سے مروی ابن عباس کی حدیث اور میمونہ کے واسطہ سے مروی ابن عباس کی حدیث کو صحیح کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: احتمال ہے کہ ابن عباس نے بواسطہ میمونہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہو، اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے براہ راست بھی روایت کیا، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - نضر بن شمیل نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «إهاب» اس جانور کے چمڑے کو کہا جاتا ہے، جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ٦ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہوجاتا ہے ، ٧ - شافعی کہتے ہیں: کتے اور سور کے علاوہ جس مردار جانور کا چمڑا دباغت دیا جائے وہ پاک ہوجائے گا، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے، ٨ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں نے درندوں کے چمڑوں کو مکروہ سمجھا ہے، اگرچہ اس کو دباغت دی گئی ہو، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے اسے پہننے اور اس میں نماز ادا کرنے کو برا سمجھا ہے، ٩ - اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے قول «أيما إهاب دبغ فقد طهر» کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا چمڑا دباغت سے پاک ہوجائے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ١٠ - اس باب میں سلمہ بن محبق، میمونہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چمڑا جسے دباغت دیا گیا ہو وہ پاک ہے، لیکن اس عموم سے درندوں کی کھالیں نکل جائیں گی، کیونکہ اس سلسلہ میں فرمان رسول ہے «أن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نهى عن جلود السباع» یعنی آپ ﷺ نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے، اس حدیث کی بنیاد پر درندوں کی کھالیں ہر صورت میں ناپاک ہی رہیں گی، اور ان کا استعمال ناجائز ہوگا۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ١ ؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔
Sayyidina Abdullah ibn Ukaym (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ wrote to them that no one should use the skin or the sinew of an animal that had died a natural death. [Abu Dawud 4127]
صحيح، ابن ماجة (3613)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1729
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے، ٣ - اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے، ٤ - عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا، ٥ - میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے: یہ نبی اکرم ﷺ کا آخری حکم تھا، ٦ - پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے، چناچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دباغت سے پہلے کی حالت پر محمول ہے، گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٤٢ (٤١٢٧)، سنن النسائی/الفرع ٥٤ (٢٤٥٥، ٢٤٥٦)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٦ (٣٦١٣)، (تحفة الأشراف: ٦٦٤٢)، و مسند احمد (٤/٢١٠، ٣١١) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء ٣٨، والصحیحة ٣١٣٣، والضعیفة ١١٨، تراجع الألبانی ١٥ و ٤٧٠ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند گھیسٹا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “Allah will not look at one who trails his lower garment below his ankles arrogantly.” [Bukhari 5783, Muslim 2085]
صحيح، ابن ماجة (3569)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1730
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، سمرہ، ابوذر، عائشہ اور وہیب بن مغفل ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا تکبر کیے بغیر غیر ارادی طور پر تہ بند کا نیچے لٹک جانا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ارادۃ و قصداً نیچے رکھنا اور حدیث میں جو سزا بیان ہوئی ہے اسے معمولی جاننا یہ بڑا جرم ہے، کیونکہ کپڑا گھسیٹ کر چلنا یہ تکبر کی ایک علامت ہے، جو لباس کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٥)، واللباس ١ (٥٧٨٣)، و ٢ (٥٧٨٤)، و ٥ (٥٧٩١)، صحیح مسلم/اللباس ٩ (٢٠٨٥)، سنن ابی داود/ اللباس ٢٨ (٤٠٨٥)، سنن النسائی/الزینة ٦٦ (٥٣٧٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٦ (٣٥٦٩)، و ٩ (٣٥٧٦)، (تحفة الأشراف: ٦٧٢٦ و ٧٢٢٧ و ٨٣٥٨)، وط/اللباس ٥ (٩) و مسند احمد (٢/٥، ١٠، ٣٢، ٤٢، ٤٤، ٤٦، ٥٥، ٥٦، ٦٠، ٦٥، ٦٧، ٦٩، ٧٤، ٧٦، ٨١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ام سلمہ نے کہا: عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ایک بالشت لٹکا لیں ، انہوں نے کہا: تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے، آپ نے فرمایا: ایک بالشت لٹکائیں ١ ؎ اور اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone trails arrogantly his lower garment below his ankles then Allah will not look at huh on the day of Resurrection.” Sayyidah Umm Salamah asked him. “How should women make their skirts?” He said, “Let them leave it down a span.” She said, “In that case, a woman’s legs might be uncovered.” So, he said, “They may let it down a cubit, but not more.” [Muslim 2085]
صحيح، ابن ماجة (3580 - 3581)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1731
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کپڑا لٹکانے کے سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حکم ہے، مردوں کے لیے آدھی پنڈلی تک لٹکانا زیادہ بہتر ہے، تاہم ٹخنوں تک رکھنے کی اجازت ہے، لیکن ٹخنوں کا کھلا رکھنا بےحد ضروری ہے، اس کے برعکس عورتیں نہ صرف ٹخنے بلکہ پاؤں تک چھپائیں گی، خاص طور پر جب وہ باہر نکلیں تو اس کا خیال رکھیں کہ پاؤں پر کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ١ ؎۔
Sayyidah Umm Salamah jiri reported that the Prophet ﷺ measured for Sayyidah Fatimah (RA) the extent of a span.
صحيح، ابن ماجة (3580)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1732
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے، ٢ - اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند (چادر) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک بالشت کے برابر لٹکانے کی اجازت دی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس ٤٠ (٤١١٧-٤١١٨)، و ق /اللباس ١٣ (٣٥٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٢٥٧) (صحیح) (ابوداود اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف راوی ہیں )
ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ ؓ نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Burdah (RA) narrated: Sayyidah Ayshah (RA) showed us a woollen cloak and a lower wrapper for the body of thick coarse cloth, saying, Allah’s Messenger ﷺ died in these two garments.” [Bukhari 3108, Muslim 2080, Ibn e Majah 3551]
صحيح، ابن ماجة (3551)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1733
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا» اللہ مجھے مسکین کی زندگی عطا کر اور اسی حالت میں میری وفات ہو، اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول کی چناچہ آپ کی وفات حدیث میں مذکور دو معمولی کپڑوں میں ہوئی، غور کا مقام ہے کہ آپ زہد کے کس مقام پر فائز تھے، اور دنیاوی مال و متاع سے کس قدر دور رہتے تھے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس دن موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ (علیہ السلام) کے بدن پر پرانی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی، اور اونی سراویل (پائجامہ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے ۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “On the day, his Lord spoke to him, Musa had on him a woollen cloak and a woolen robe, a woollen small cap and woollen trousers. His sandals were made of the hide of a dead donkey.”
ضعيف جدا، الضعيفة (4082) // ضعيف الجامع الصغير (4154) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1734
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں، وہ ثقہ ہیں، ٣ - «کمہ»: چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٢٨) (ضعیف جدا) (سند میں حمید بن علی کوفی ضعیف ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that when the Prophet ﷺ entered Makkah on the day of conquest, he had on him a black turban. [Abu Dawud 4076, Ibn e Majah 2822] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2822)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1735
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتا ہے، مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے، کیونکہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے، اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر ؓ اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے۔ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that when Allah’s Messenge ﷺ put on a turban, he put the end of it between his shoulders behind him. Nafi’ said that he saw Ibn Umar (RA) do the same thing. Ubaydullah said that he saw Qasim and Saalim do like that.
صحيح، الصحيحة (716)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1736
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے، لیکن ان کی حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» (ایک ریشمی کپڑا) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» (کسم سے رنگے ہوئے زرد) کپڑے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina All ibn Abu Talbi reported that Allah’s Messenger disallowed him to wear a golden ring and silken garments and to recite the Quran in ruku and sajdah (bowing and prostration) and wearing yellow garments. [Muslim 480]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1737
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ (عقیق) حبشہ کا بنا ہوا تھا ١ ؎۔
Sayidina Anas reported that the ring of Allah’s Messenger ﷺ was made of silver and it had an Ethiopian stone. [Bukhari 5868, Muslim 2094]
صحيح، ابن ماجة (3646)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1739
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آنے والی انس کی روایت جس میں ذکر ہے کہ نگینہ بھی چاندی کا تھا، اور باب کی اس روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ احتمال ہے کہ آپ کے پاس دو قسم کی انگوٹھیاں تھیں، یا یہ کہا جائے کہ نگینہ چاندی کا تھا، حبشہ کی جانب نسبت کی وجہ یہ ہے کہ حبشی نقش و نگار یا طرز پر بنا ہوا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٨ (٥٨٧٠)، صحیح مسلم/اللباس ١٥ (٢٠٩٤)، سنن ابی داود/ الخاتم ١ (٤٢١٦)، سنن النسائی/الزینة ٤٧ (٥١٩٩)، و ٧ (٥٢٧٩-٥٢٨٢) سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤١)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤)، و مسند احمد (٣/٢٠٩)، وانظر الحدیث التالي (صحیح )