عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اسے داہنے ہاتھ میں پہنا، پھر منبر پر بیٹھے اور فرمایا: میں نے اس انگوٹھی کو اپنے داہنے ہاتھ میں پہنا تھا ، پھر آپ نے اسے نکال کر پھینکا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ had a ring made of gold and wore it on his right hand. Then he sat on the pulpit and said, “I had put this ring on my right hand.” Then, he threw it away and the people threw away their rings (too). [Muslim 2091, Bukhari 5767]
صحيح مختصر الشمائل (84)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1741
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث بواسطہ نافع ابن عمر سے دوسری سند سے اسی طرح آئی ہے، اس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی، ٢ - اس باب میں علی، جابر، عبداللہ بن جعفر، ابن عباس، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: فقہاء کے نزدیک دائیں اور بائیں کسی بھی ہاتھ میں انگوٹھی پہننا جائز ہے، ان میں سے افضل کون سا ہے، اس کے بارے میں اختلاف ہے، اکثر فقہاء کے نزدیک دائیں ہاتھ میں پہننا افضل ہے، اس لیے کہ انگوٹھی ایک زینت ہے اور دایاں ہاتھ زینت کا زیادہ مستحق ہے، سونے کی یہ انگوٹھی جسے آپ ﷺ نے پہنا یہ اس کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٥ (٥٨٦٥)، و ٤٦ (٥٨٦٦)، و ٤٧ (٥٨٦٧)، و ٥٠ (٥٨٧٣)، و ٥٣ (٥٨٧٦)، والأیمان والنذور ٦ (٦٦٥١)، والاعتصام ٤ (٧٢٩٨)، صحیح مسلم/اللباس ١١ (٢٠٩١)، سنن ابی داود/ الخاتم ١ (٤٢١٨)، سنن النسائی/الزینة ٤٣ (٥١٦٧)، و ٥٣ (٥٢١٧-٥٢٢١)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٣٩)، (تحفة الأشراف: ٨٤٧١)، و مسند احمد (٢/١٨، ٦٨، ٩٦، ١٢٧) (صحیح )
صلت بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا۔
Salt ibn Abdullah ibn Nawfal reported that he saw Sayyidina Ibn Abbas (RA) wearing a ring on his right hand. He said, “I think that he also said that he had seen Allah’s Messenger ﷺ wearing it on his right hand.’ [Abu Dawud 429]
حسن صحيح، الإرواء (3 / 303 - 304)، مختصر الشمائل (80)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1742
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: صلت بن عبداللہ بن نوفل کے واسطہ سے محمد بن اسحاق کی روایت حسن صحیح ہے۔
محمد الباقر کہتے ہیں کہ حسن اور حسین اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔
Ja’far ibn Muhamnad reported on the authoritly of his father that Sayyidina Hasan (RA) and Sayyidina Husayn wore rings on their left hands. [Muslim 2095]
صحيح موقوف مختصر الشمائل (82)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1743
حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی رافع ١ ؎ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر ؓ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا، عبداللہ بن جعفر ؓ نے کہا: نبی اکرم ﷺ اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
Hammad ibn Salamah reported that he saw Ibn Abu Rafi’ wear a ring on his left hand. He asked him and he said, “I had seen Abdullah ibn Ja’far wear a ring on his left hand and I heard him say that Allah’s Messenger used to wear a ring on his left hand.” [Nisai 5219, Ibn e Majah 3647]
صحيح، ابن ماجة (3747)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1744
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ابورافع ؓ کے لڑکے عبدالرحمن ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٤٨ (٥٢٠٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٢ (٣٦٤٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٢)، و مسند احمد (١/٢٠٤)، والمؤلف في الشمائل ١٣ (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبد الرحمن بن ابی رافع “ لین الحدیث ہیں )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا «محمد» ایک سطر میں «رسول» ایک سطر میں اور «اللہ» ایک سطر میں۔
Sayyidina Anas ibn MaaIik (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ made a ring of silver and inscribed thereon, ‘Muhammad Rasulullah’. Then he said, “Do not inscribe on it”.
صحيح، ابن ماجة (3639 - 3640)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1748
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - محمد بن یحییٰ نے اپنی روایت میں تین سطروں کا ذکر نہیں کیا ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ had a ring of silver made for him and had inscribed on it the words “Muhammad Rasulullah.” He said, ‘No one must have these words inscribed on his ring.’ [Bukhari 5878]
صحيح انظر ما قبله (1744)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1745
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٥٠ (٥٨٧٢)، و ٥١ (٥٨٧٤)، و ٥٤ (٥٨٧٧)، سنن النسائی/الزینة ٥٠ (٥٢١١)، و ٧٨ (٥٢٨٣)، و ٧٩ (٥٢٨٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠)، و مسند احمد (٣/١٠١، ١٦١) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ١ ؎۔
Sayyifina Anas (RA) narrated that when the Prophet ﷺ entered the privy, he took off his ring.
ضعيف، ابن ماجة (303) // ضعيف ابن ماجة برقم (61)، ضعيف أبي داود (5 / 19)، ضعيف سنن النسائي (400 / 5213)، المشکاة (343)، ضعيف الجامع الصغير بلفظ وضع (4390) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1746
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ اس پر «محمد رسول اللہ» نقش تھا، معلوم ہوا کہ پاخانہ پیشاب جاتے وقت اس بات کا خیال رہے کہ اس کے ساتھ ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیئے جس کی بےحرمتی ہو، مثلاً اللہ اور اس کے رسول کے نام یا آیات قرآنیہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٠ (١٩)، سنن النسائی/الزینة ٥١ (٥٢١٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١ (٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٥١٢)، و مسند احمد (٣/٩٩، ١٠١، ٢٨٢)، والمؤلف الشمائل ١١ (٨٨) (ضعیف) (بطریق ” الزهري عن أنس “ اصل روایت یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پھینک دیا، اس روایت میں یا تو بقول امام ابوداود ہمام سے وہم ہوا ہے، یا بقول البانی اس کے ضعف کا سبب ابن جریج مدلس کا عنعنہ ہے، انہوں نے خود زہری سے نہیں سنا اور بذریعہ عنعنہ روایت کردیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: ضعیف ابی داود رقم ٤ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایا اور آپ نے اس کو بنانے سے بھی منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade keeping pictures in the home, and disallowed making them. [Ahmed 1462]
صحيح، الصحيحة (424)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1749
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابوطلحہ، عائشہ ابوہریرہ اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تصویر کے سلسلہ میں جمہور علماء کی یہ رائے ہے کہ ذی روح اور جاندار کی تصویر قطعی طور پر حرام ہے، غیر جاندار چیزیں مثلاً درخت وغیرہ کی تصویر حرام نہیں ہے، بعض کا کہنا ہے کہ جاندار کی تصویر اگر ایسی جگہ ہو جہاں اسے پاؤں سے روندا جا رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری ؓ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف ؓ کو پایا، ابوطلحہ ؓ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی، سہل ؓ نے ان سے کہا: کیوں نکال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں، نبی اکرم ﷺ نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں، سہل ؓ نے کہا: آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے: سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا: آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ١ ؎۔
Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utbah narrated: I visited Abu Talhah Ansari (RA) to enquire after his health. Sahi ibn Hunayf (RA) was present with him. Shortly, Abu Talhah summoned a man to remove the sheet under him. Sahi asked him why he removed it. He said, “Because it has pictures on it, and you know what the Prophet ﷺ . I had said about them.” Sahi .. said, “Did he not say that those that are inscribed on cloth are allowed?” He said, “Yes, but this is more satisfying to myself.” [Muslim 5359]
صحيح غاية المرام (134)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1750
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرنا میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ١ ؎، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for one who draws pictures, Allah will punish him till he blows a soul into it, and he will never be able to blow a soul into it. As for one who eavesdrops on a people and they do not like it, on the Day of Resurrection, molten lead will be poured into his ears.” [Bukhari 7042] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح غاية المرام (120 و 422)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1751
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابوحجیفہ، عائشہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، پھر بھی اس نے کان لگا کر سنا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بال کی سفیدی (خضاب کے ذریعہ) بدل ڈالو اور یہود کی مشابہت نہ اختیار کرو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA)reported that Allah’s Messenger said, “Alter (the look, of) old age and do not adopt resemblance to Jews.” [Ahmed 9220]
صحيح حجاب المرأة (96)، الصحيحة (836)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1752
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - اس باب میں زبیر، ابن عباس، جابر، ابوذر، انس، ابورمثہ، جہدمہ، ابوطفیل، جابر بن سمرہ، ابوحجیفہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہود و نصاریٰ خضاب کا استعمال نہیں کرتے، لہٰذا ان کی مخالفت میں اسے استعمال کرو، یہی وجہ ہے کہ سلف میں اس کا استعمال کثرت سے پایا گیا، چناچہ اسلاف کی سوانح لکھنے والوں میں سے بعض سوانح نگار اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ فلاں خضاب کا استعمال کرتے تھے اور فلاں نہیں کرتے تھے۔ اور یہ کہ فلاں کالا استعمال کرتے ہیں اور فلاں کالا نہیں استعمال کرتے۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے بال کی سفیدی بدلی جائے وہ مہندی اور وسمہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ is.i said, ‘The best thing with which old age is altered is henna and indigo (plant).” [Abu Dawud 42 05]
صحيح، ابن ماجة (2622)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1753
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ـ جو سرخ اورسیاہمخلوطہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الترجل ١٨ (٤٢٠٥)، سنن النسائی/الزینة ١٦ (٥٠٨٠)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٢ (٣٦٢٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٧)، و مسند احمد (٥/١٤٧، ١٥٠، ١٥٤، ١٥٦، ١٦٩) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میانہ قد تھے، آپ نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد، گندمی رنگ کے سڈول جسم والے تھے، آپ کے بال نہ گھونگھریالے تھے نہ سیدھے، آپ جب چلتے تو پیر اٹھا کر چلتے جیسا کوئی اوپر سے نیچے اترتا ہے۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was of medium height neither very tall nor short. He had a beautiful body, a wheat complexion and his hair were neither curly not straight. He walked as though he descended from a height. [Bukhari 3547, Muslim 2338]
صحيح مختصر الشمائل (1 و 2)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1754
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے حمید کی روایت سے انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، براء، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوسعید، جابر، وائل بن حجر اور ام ہانی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، آپ کے بال «جمہ» سے چھوٹے اور «وفرہ» سے بڑے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated We Allah’s Messenger ﷺ and I used to bath from the same single vessel. He had hair that did not reach his shoulders but went beyond his ear-lobes. [Abu Dawud 4187]
حسن صحيح، ابن ماجة (604 و 3635)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1755
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - دوسری سندوں سے یہ حدیث عائشہ سے یوں مروی ہے، کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، راویوں نے اس حدیث میں یہ جملہ نہیں بیان کیا ہے، «وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة» ٣ - عبدالرحمٰن بن ابی زناد ثقہ ہیں، مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «جمہ»: ایسے بال جو کندھوں تک لٹکتے ہیں، اور «وفرہ» کان کی لو تک لٹکنے والے بال کو کہتے ہیں، بال تین طرح کے ہوتے ہیں: «جمہ»،«وفرہ»، اور «لمہ»، «لمة»: ایسے بال کو کہتے ہیں جو کان کی لو سے نیچے اور کندھوں سے اوپر ہوتا ہے، (یعنی «وفرہ» سے بڑے اور «جمہ» سے جھوٹے) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بال «جمہ» یعنی کندھوں تک لٹکنے والے تھے، ممکن ہے کبھی «جمہ» رکھتے تھے اور کبھی «لمہ» نیز کبھی «وفرہ» بھی رکھتے تھے۔
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ ناغہ کر کے کی جائے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed combing hair every day. [Abu Dawud 4159] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (501)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1756
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الترجل ١ (٤١٥٩)، سنن النسائی/الزینة ٧ (٥٠٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٠)، و مسند احمد (٤/٨٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس (داہنی آنکھ) میں اور تین سلائی اس (بائیں آنکھ) میں سرمہ لگاتے تھے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Apply collyrium the ithmadO kind for, it is good for eyesight and grows hair.” He believed that the Prophet ﷺ had a case for collyrium from which he applied it to this eye three times and to this eye three times every night. [Ibn e Majah 3497]
(حديث ابن عباس اکتحلوا بالإثمد .. ) صحيح دون قوله وزعم ..، (الحديث الآخر عليكم بالإثمد .. ) ** مختصر الشمائل (42)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1757
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اس لفظ کے ساتھ صرف عباد بن منصور کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں جابر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢٥ (٣٤٩٧)، وانظر أیضا: سنن ابی داود/ الطب ١٤ (٣٨٧٨)، سنن النسائی/الزینة ٢٨ (٥١١٦)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٧)، و مسند احمد (١/٣٥٤)، ویأتي عند المؤلف برقم ٢٠٤٨) (صحیح) (پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عباد بن منصور “ مدلس ومختلط ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو لباس سے منع فرمایا: ایک صماء، اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص خود کو کپڑے میں اس طرح لپیٹ لے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ رہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger disallowed two kinds of dress: (1) Sama which is to throw a cloak on the shoulders and place its right corner on the left shoulder and the left corner on the right shoulder wrapping the hands within it, and (2) Sitting erect on the hips with a single garment wrapping the knees and back, nothing else covering the private parts. [Ibn e Majah 3560]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1758
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ دوسری سندوں سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ، ابوسعید، جابر اور ابوامامہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل لغت کے نزدیک صماء یہ ہے کہ آدمی چادر سے جسم کو اس طرح لپیٹ لے کہ بوقت ضرورت ہاتھ بھی نہ نکال سکے، فقہاء کے نزدیک صماء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے جسم پر ایک ہی چادر لپیٹے اور اس کا ایک کنارہ اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال لے جس سے اس کی شرمگاہ کھل جائے، اور احتباء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے چوتڑ کے بل بیٹھ جائے اور اوپر سے کپڑا اس طرح لپیٹے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔