Sunan At-Tirmidhi 1750

لباس کا بیان

1750Sunan At-Tirmidhi

تصویر کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، قَالَ: فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزِعُ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُ سَهْلٌ: لِمَ تَنْزِعُهُ ؟ فَقَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، قَالَ سَهْلٌ: أَوَلَمْ يَقُلْ: إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری ؓ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف ؓ کو پایا، ابوطلحہ ؓ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی، سہل ؓ نے ان سے کہا: کیوں نکال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں، نبی اکرم ﷺ نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں، سہل ؓ نے کہا: آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے: سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا: آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ١ ؎۔

Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utbah narrated: I visited Abu Talhah Ansari (RA) to enquire after his health. Sahi ibn Hunayf (RA) was present with him. Shortly, Abu Talhah summoned a man to remove the sheet under him. Sahi asked him why he removed it. He said, “Because it has pictures on it, and you know what the Prophet ﷺ . I had said about them.” Sahi .. said, “Did he not say that those that are inscribed on cloth are allowed?” He said, “Yes, but this is more satisfying to myself.” [Muslim 5359]

صحيح غاية المرام (134)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1750
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرنا میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١١١ (٥٣٥١)، وانظر أیضا: صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٦)، واللباس ٩٢ (٥٩٥٨)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦/٨٥)، سنن ابی داود/ اللباس ٤٨ (٤١٥٥)، سنن النسائی/الزینة ١١١ (٥٢٥٢)، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٢ و ٤٦٦٣)، و مسند احمد (٤/٢٨) (صحیح )