طب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 26 · 64 hadiths · Page 1 of 3

2037Sunan At-Tirmidhi

پرہیز کرنا

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: مَهْ مَهْ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ ، قَالَ: فَجَلَسَ عَلِيٌّ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فُلَيْحٍ، وَيُرْوَى عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

ام منذر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ علی ؓ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی ؓ بھی کھانے لگے، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا: علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو، ابھی کمزوری باقی ہے، ام منذر کہتی ہیں: علی ؓ بیٹھ گئے اور نبی اکرم ﷺ کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی، نبی اکرم ﷺ نے کہا: علی! اس میں سے لو (کھاؤ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ١ ؎۔

Sayyidah Umm e Mundhir narrated Allah’s Messenger ﷺ visited us, Ali with him. We had a bunch of dates hanging. Allah’s Messenger began to eat and Ali with him. Allah’s Messenger ﷺ said to Ali “Enough, O Ali! You have just recovered.” So he sat down while the Prophet ﷺ ate. Then I prepared for them beetroot and barley and he said to Ali “O Ali, Have from this for, this is more suitable for you.” [Abu Dawud 3856]

حسن انظر ما بعده (2038)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2037
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فلیح کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - یہ حدیث فلیح سے بھی مروی ہے جسے وہ ایوب بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مریض اپنے مزاج و طبیعت کا خیال رکھتے ہوئے کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کرے، ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ مرض سے شفاء یابی کے بعد بھی بیمار احتیاط برتتے ہوئے نقصان دہ چیزوں کے کھانے پینے سے پرہیز کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ٢ (٣٨٥٦)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣ (٣٤٤٢) (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٢)، و مسند احمد (٦/٣٦٤) (حسن )
2036Sunan At-Tirmidhi

پرہیز کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ صُهَيْبٍ، وَأُمِّ الْمُنْذِرِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْمَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيُّ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ، وَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآهُ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ.

قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Qatadah ibn Numan reported that Allah’s Messenger said, “When Allah loves a slave, He protects him from the world just as one of you protects his patient from water.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (5250 / التحقيق الثاني) صحيح، المشکاة (5250 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2036 اس سند سے محمود بن لبید سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں قتادہ بن نعمان ؓ کا تذکرہ نہیں ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2036
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث محمود بن لبید کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں صہیب اور ام منذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ١ - قتادہ بن نعمان ظفری، ابو سعید خدری کے اخیافی (ماں شریک) بھائی ہیں، ٢ - محمود بن لبید نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے اور کم سنی میں آپ کو دیکھا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کی نظر میں جب اس کا کوئی بندہ محبوب ہوجاتا ہے تو اس کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اس کی دنیا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے اس محبوب بندے کو دنیا سے ٹھیک اسی طرح بچاتا اور اسے محفوظ رکھتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو کھانے اور پانی سے بچاتا ہے، کیونکہ اسے جو مرض لاحق ہے اس میں کھانا پانی اس کے لیے بےحد مضر اور نقصان دہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٠٧٤) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح )
2038Sunan At-Tirmidhi

دواء اور اس کی فضیلت

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَتْ الْأَعْرَابُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَدَاوَى ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، أَوْ قَالَ: دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ ؟ قَالَ: الْهَرَمُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں کہ اعرابیوں (بدوؤں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماریوں کا) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: بڑھاپا ١ ؎۔

Sayyidina Usamah ibn Shank reported that some villagers asked, “O Messenger of Allah! ﷺ Shall we not take medicine”? He said, “Yes, O slaves of Allah do take medicine, for Allah has not placed a disease but also placed a cure for it.” Or, he said, “A medicine for it”, “except for one disease. “They asked, ‘O Messenger of Allah ﷺ , what is it”? He said, “Old age.” [Bukhari 291] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3436)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2038
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، «ابو خزامہ عن أبیہ»، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مرض کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے دوا اور علاج کا بھی بندوبست فرمایا ہے، لیکن بڑھاپا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ بھی اس سے پناہ مانگتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ علاج و معالجہ کرنا مباح ہے اور مرض کی شفاء کے لیے اسباب تلاش کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ١ (٣٨٥٥)، سنن ابن ماجہ/الطب ١ (٣٤٣٦) (تحفة الأشراف: ١٢٧) (صحیح )
2039Sunan At-Tirmidhi

مریض کو کیا کھلایا جائے۔ ،

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعَكُ أَمَرَ بِالْحِسَاءِ فَصُنِعَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ، وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو إِسْحَاق الطَّالْقَانِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کو تپ دق آتا تو آپ «حساء» ١ ؎ تیار کرنے کا حکم دیتے، «حساء» تیار کیا جاتا، پھر آپ ان کو تھوڑا تھوڑا پینے کا حکم دیتے، تو وہ اس میں سے پیتے، آپ ﷺ فرماتے تھے: «حساء» غمگین کے دل کو تقویت دیتا ہے، اور مریض کے دل سے اسی طرح تکلیف دور کرتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی پانی کے ذریعہ اپنے چہرے سے میل دور کرتا ہے ۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated. When one of his family members fell ill, Allah’s Messenger ﷺ commanded that Hisa-(name of a dish)- should be prepared. So, it was prepared. Then he commanded that the patient should sip from it. He would say, “It enlivens the heart of the grieved and cleans the heart of the sick as one of you clears dirt from her face.”

ضعيف، ابن ماجة (3445) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (752)، المشکاة (4234) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2039
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو کے آٹے کا شہد یا دودھ کے ساتھ (حریرہ)۔ آج کل جو سے بنی بارلی بہت مشہور غذا ہے، جس کو میٹھا اور نمکین دونوں طرح استعمال کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/في الکبری: الطب (٧٥٧٣) سنن ابن ماجہ/الطب ٥ (٣٤٤٥) (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٠) مسند احمد (٦/٧٩) (حسن) (سند میں أم محمد مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کے وقت، اور مؤلف نے عروہ کی متابعت ذکر کی ہے، جو صحیحین میں ہے، لیکن کما تسرو ... الخ شاہد اور متابع نہ ہونے کی بنا پر ضعیف ہے، حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس آخری فقرے کو بھی نسائی کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور احمد اور ترمذی کی اس حدیث کو بھی ذکر کیا ہے، اور سکوت اختیار کیا ہے، یہ بھی اس حدیث کی ان کے نزدیک تقویت کی دلیل ہے)
2040Sunan At-Tirmidhi

مریض کو کھانے پینے پر مجبور نہ کیا جائے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے ۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Do not compel your sick persons to eat food, for Allah, the Blessed and the Exalted feeds them and gives to drink.’ [Ibn Majah 3444] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3444)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2040
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٤ (٣٤٤٤) (تحفة الأشراف: ٩٩٤٣) (صحیح )
2041Sunan At-Tirmidhi

کلونجی

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: هِيَ الشُّونِيزُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس کالے دانہ (کلونجی) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے، «سام» موت کو کہتے ہیں ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is upon you (to know) about this black seed (black cumin) for, in it is cure for every disease except saam, and saam is death.” [Bukhari 5688] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3447)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2041
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - «الحبة السوداء»،«شونيز» (کلونجی) کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٧ (٥٦٨٨)، صحیح مسلم/السلام ٢٩ (٢٢١٥)، سنن ابن ماجہ/الطب ٦ (٣٤٤٧) (تحفة الأشراف: ١٥١٤٨)، و مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦١، ٢٦٨، ٣٤٣، ٣٨٩، ٤٢٣، ٤٦٨، ٤٨٤، ٥٠٤، ٥١٠، ٥٣٨) (صحیح )
2042Sunan At-Tirmidhi

اونٹوں کا پیشاب پینا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ (چراگاہ کی طرف) روانہ کیا اور فرمایا: تم لوگ اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب پیو ١ ؎۔

Sayyidina Anas reported that some people of Uraynah came to Madinah but the climate did not suit them. So, Allah’s Messenger sent them to the camels of zakah, saying, ‘Drink their milk and their urine.’ [Ahmed 14063] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح وقد مضی أتم منه (62)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2042
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے اونٹ اور اونٹنی کا پیشاب علاج کی غرض سے انہیں پینے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوا کہ حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے، اگر ناپاک ہوتا تو اس کے پینے کی اجازت نہ ہوتی، کیونکہ حرام اور نجس چیز سے علاج درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٧٢ (صحیح )
2043Sunan At-Tirmidhi

جس نے زہر کھا کر خود کشی کی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہوگا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہوگا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported, perhaps in a marfu form, that he (Allah’s Messenger ﷺ said, “He who kills himself with iron will come on the day of resurrection with the iron in his hand, striking his stomach with it in the fire of Hell forever and ever and, he who kills himself with poison, will have poison in his hand, sipping it every now and then in the fire of Hell forever and ever. [Bukhari 5778]

صحيح، ابن ماجة (3460)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2043
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل توحید کے سلسلہ میں متعدد روایات سے ثابت ہے کہ وہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اس سے باہر آ جائیں گے، یہی وجہ ہے کہ علماء نے «خالدا مخلدا» کی مختلف توجیہیں کی ہیں: ( ١ ) اس سے زجر و توبیخ مراد ہے، ( ٢ ) یہ اس شخص کی سزا ہے جس نے ایسا حلال و جائز سمجھ کر کیا ہو، ( ٣ ) اس عمل کی سزا یہی ہے لیکن اہل توحید پر اللہ کی نظر کرم ہے کہ یہ سزا دینے کے بعد پھر انہیں جہنم سے نکال لے گا، ( ٤ ) ہمیشہ ہمیش رہنے مراد لمبی مدت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٥٦ (٥٧٧٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١٧٥)، سنن ابی داود/ الطب ١١ (٣٨٧٢)، سنن النسائی/الجنائز ٦٨ (١٩٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (٣٤٦٠) (تحفة الأشراف: ١٢٤٤٠)، و مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٤٨٨)، و سنن الدارمی/الدیات ١٠ (٢٤٠٧) (صحیح )
2044Sunan At-Tirmidhi

جس نے زہر کھا کر خود کشی کی

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوہے سے اپنی جان لی، اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہوگا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں زہر ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone kills himself with an iron(weapon) then the iron(weapon) will be in his hand and he will be striking his belly with it in the fire of Hell ever and ever, always. And, if anyone kills himself with poison then the poison will be in his hand and he will sip it in the fire of Hell ever and ever, always. And, if anyone drops himself thus then he will keep dropping himself in the fire of Hell ever and ever always.” [Muslim 109]

صحيح انظر ما قبله (2043)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2044
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٢٣٩٤) (صحیح )
2045Sunan At-Tirmidhi

جس نے زہر کھا کر خود کشی کی

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: يَعْنِي السُّمَّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خبیث دوا استعمال کرنے سے منع فرمایا۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) said that Allah’s Messenger forbade the evil medicine meaning poison. [Abu Dawud 3870, Ibn Majah 3459] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3459)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2045
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
خبیث دوا سے وہ دوا مراد ہے جس میں زہر ہو ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خبیث دوا میں وہ سب چیزیں داخل ہیں جو نجس ناپاک اور حرام ہوں اور انسانی طبائع جس سے نفرت کرتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ١١ (٣٨٧٠)، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (٣٤٥٩) (تحفة الأشراف: ١٤٣٤٦)، و مسند احمد (٢/٣٠٥، ٤٤٦، ٤٧٨) (صحیح )
2046Sunan At-Tirmidhi

نشہ آور چیز سے علاج کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ أَوْ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّا نَتَدَاوَى بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهَا دَاءٌ . حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَشَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ النَّضْرُ: طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَقَالَ شَبَابَةُ: سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر تھے جب سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں شراب سے منع فرمایا، سوید نے کہا: ہم لوگ تو اس سے علاج کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ دوا نہیں بلکہ وہ تو خود بیماری ہے ۔

Sayyidina Wail (RA) reported that Suwayd ibn Tariq or Tariq ibn Suwayd (RA) asked the Prophet ﷺ his presence about wine and he prohibited it. He said, “We give medical treatment by it.” The Prophet ﷺ said, “It is not medicine but a sickness.” [Muslim 1984]

صحيح، ابن ماجة (3500) صحيح، ابن ماجة (3500)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2046 اس سند سے بھی وائل ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ (اس سند کے ایک راوی) نضر نے طارق بن سوید کہا اور (دوسرے راوی) شبابہ نے سوید بن طارق کہا۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2046
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٣ (١٩٨٤)، سنن ابی داود/ الطب ١١ (٣٨٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧١)، و مسند احمد (٣/٣١٧)، (وھو مروي أیضا من مسند طارق بن سوید عند: سنن ابن ماجہ/الطب ٢٧ (٣٥٠٠)، و مسند احمد (٤/٣١١)، و (٥/٢٩٢- ٢٩٣، ٢٩٩) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح )
2047Sunan At-Tirmidhi

ناک میں دوائی ڈالنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ ، فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ أَصْحَابُهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: لُدُّوهُمْ، قَالَ: فَلُدُّوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْعَبَّاسِ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» (ناک میں ڈالنے والی دوا) ، «لدود» (منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا) ، «حجامة» (پچھنا لگانا حجامہ) اور دست آور دوا ہے، جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا: موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو ، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: عباس ؓ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best medicine with which you treat yourself are: sa’ut°, Ladud, cupping and purgatives.” When Allah’s Messenger ﷺ fell ill, his sahabah put medicine in his mouth. When they had finished, he said, “Insert medicine in the mouth of all of them.” So, medicine was poured in the mouth of all of them except Abbas ‘.

ضعيف، المشکاة (4473 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2047
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر حدیث رقم ١٧٥٧ (لم یذکرہ المزي بھذا اللفظ، وإنما ذکرہ بلفظ ما مضی برقم ١٧٥٧ (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں )
2048Sunan At-Tirmidhi

ناک میں دوائی ڈالنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: اللَّدُودُ، وَالسَّعُوطُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ، وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ: الْإِثْمِدُ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ ، قَالَ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ 75، وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی (نظر) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best medicine with which you treat yourself are ladud, saut, cupping and purgatives. And the best of antimonies you may apply is ithmid, for, it sharpens eye-sight and grows hair.” The Prophet ﷺ had a collyrium-box from which he applied three times to each eye before going to sleep.

ضعيف إلا فقرة الاکتحال بالإثمد فصحيحة، ابن ماجة (3495 - 3497 - 3499)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2048
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (ضعیف )
2049Sunan At-Tirmidhi

داغ لگانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْكَيِّ ، قَالَ: فَابْتُلِينَا فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدن داغنے سے منع فرمایا ١ ؎، پھر بھی ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے بدن داغ لیا، لیکن ہم کامیاب و کامران نہیں ہوئے۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ forbade that one should resort to branding. He said, “When we were afflicted, we had ourselves branded but we were neither relieved (of disease) nor succeeded.” [Ahmed 19852]

صحيح، ابن ماجة (3490)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2049
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: داغ کر علاج کرنے کی ممانعت نہی تنزیہی پر محمول ہے یعنی نہ داغنا بہتر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا رہے ہوں جس میں بدن داغنے سے انہیں فائدہ کے بجائے نقصان پہنچنے والا ہو، دیکھئیے اگلی حدیث۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٤) (صحیح )
2050Sunan At-Tirmidhi

داغ لگانے کی اجازت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) said that the Prophet ﷺ had Asad ibn Zurarah branded because of the disease shawkah (prickly, redness).

صحيح، المشکاة (5434 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2050
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابی اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر بدن کو داغنا جائز ہے لیکن بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٤٩) (صحیح )
2051Sunan At-Tirmidhi

پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ، وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔

Sayyidina Anas said (RA) that the Prophet ﷺ would have himself cupped in the two veins at the sides of the neck and between the shoulders. He did that on the 17th, 19th or 21st (of a month).

صحيح، ابن ماجة (3483)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2051
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ٤ (٣٨٦٠)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٢) (تحفة الأشراف: ١١٤٧)، و مسند احمد (٣/١١٩) (صحیح )
2052Sunan At-Tirmidhi

پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ قُرَيْشٍ الْيَامِّيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنِالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ: أَنَّهُ لَمْ يَمُرَّ عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُوهُ: أَنْ مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات کا حال بیان کیا کہ آپ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو یہ حکم ضرور دیا کہ اپنی امت کو پچھنا لگوانے کا حکم دیں۔

Sayyidina Ibn Masud (RA) reported that Allah’s Messenger narrated the account of the night of ascension to heaven and disclosed, “I did not pass by any section of the angels but they instructed me to command my ummah to have themselves cupped.’ [Ibn Majah 3479]

صحيح، ابن ماجة (3477)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2052
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابن مسعود کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٦٤)، وانظر: مسند احمد (١/٢٥٤) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2053Sunan At-Tirmidhi

پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: كَانَ لِابْنِ عَبَّاسٍ غِلْمَةٌ ثَلَاثَةٌ حَجَّامُونَ، فَكَانَ اثْنَانِ مِنْهُمْ يُغِلَّانِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ، وَوَاحِدٌ يَحْجُمُهُ وَيَحْجُمُ أَهْلَهُ، قَالَ: وَقَالَابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ، يُذْهِبُ الدَّمَ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ، وَيَجْلُو عَنِ الْبَصَرِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُرِجَ بِهِ مَا مَرَّ عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: إِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ: يَوْمَ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَيَوْمَ تِسْعَ عَشْرَةَ، وَيَوْمَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ الْعَبَّاسُ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَدَّنِي ؟ فَكُلُّهُمْ أَمْسَكُوا، فَقَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِمَّنْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ، قَالَ عَبْدٌ: قَالَ: النَّضْرُ اللَّدُودُ الْوَجُورُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ (فاسد) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے ۔ آپ ﷺ معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے ، آپ ﷺ نے مزید فرمایا: سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے ، رسول اللہ ﷺ کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے ۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے (حلق میں ڈالنے کی ایک دوا) ہے۔

Sayyidina Ikrimah reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) had three slaves who were cuppers, two of them on remuneration and one attended to him and his family. He also reported that Ibn Abbas (RA) cited the Prophet ﷺ as saying, “How excellent a cupper is! He removes blood and lightens the back and sharpens vision.” He also reported that when Allah’s Messenger ﷺ was on Mi’raj, he did not go by any group of angels without their advising him to resort to cupping. He said, “The best cupping you can have is on the 17th, 19th and 21st.” He said also, “The best medicine you treat yourself with is Sa’ut, Ladud, cupping and purgative.” Indeed, Allah’s Messenger was given medicine by Abbas (RA) and his sahabah, who poured medicine in his mouth. So he asked, ‘Who has treated with ladud? Let them all pour it in their mouth.” So no one in the house was spared but medicine was poured in his mouth, except his uncle Abbas. Nadr explained that ladud is Wajur. [Ibn Majah 3478]

(کان لابن عباس ..) ضعيف الإسناد، (نعم العبد ..) ضعيف، (إن خير ما تحتجمون ..) **، (إن خير ما تداويتم ..) ضعيف، (لا يبقی ممن ... ) صحيح - دون قوله لده العباس بل هو منکر لمخالفته لقوله صلی اللہ عليه وسلم في حديث عائشة نحوه بلفظ غير (نعم العبد ....)، ابن ماجة (3478) // ضعيف سنن ابن ماجة (762)، ضعيف الجامع الصغير (5966) //، (إن خير ما تداويتم .....) مضی (2048)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2053
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ٢ - اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٧٨) (تحفة الأشراف: ٦١٣٨) (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں )
2054Sunan At-Tirmidhi

مہندی سے علاج کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا فَائِدٌ مَوْلًى لِآلِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى، وَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَا كَانَ يَكُونُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرْحَةٌ وَلَا نَكْبَةٌ إِلَّا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَضَعَ عَلَيْهَا الْحِنَّاءَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ فَائِدٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ فَائِدٍ، وَقَالَ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ أَصَحُّ، وَيُقَالُ: سُلْمَى. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ فَائِدٍ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَوْلَاهُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.

سلمی ؓ سے (جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتی تھیں) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ ﷺ مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے۔

Ali ibn Ubaydullah reported on the authority of his grandmother who was the Prophet’s ﷺ woman servant. She said, “Allah’s Messenger ﷺ never had a wound or bleeding (through a stone or thorn) but he ordered me to apply henna on it.” [Ibn Majah 3502]

صحيح، ابن ماجة (3502) صحيح، ابن ماجة (3502 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2054 ہم سے محمد بن علی نے «زيد ابن حباب عن فائد مولی عبيد اللہ بن علي عن مولاه عبيد اللہ بن علي عن جدته عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث بیان کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2054
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله، عن جدته سلمی» کی بجائے «عن عبيد اللہ ابن علي عن جدته سلمی» بیان کیا ہے، «عبيد اللہ بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بھذا اللفظ، وأخرجہ نحوہ بھذا السند: سنن ابی داود/ الطب ٣ (٣٨٥٨)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٩ (٣٥٠٢) (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٣)، و مسند احمد (٦/٤٦٢) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح )
2055Sunan At-Tirmidhi

تعویذ اور جھاڑ پھونک کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا ١ ؎۔

Sayyidina Mughirah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has himself cauterized (branded or seared) or uses a spell then he is absolved of trust in Allah.” [Ibn Majah 3489] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3489)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2055
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابن عباس اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ جن کے معنی و مفہوم واضح نہ ہوں ان کے ذریعہ جھاڑ پھونک ممنوع ہے، ماثور الفاظ کے ساتھ جھاڑ پھونک جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢٣ (٣٤٨٩) (تحفة الأشراف: ١١٥١٨) (صحیح )