انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بچھو کے ڈنک، نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کے سلسلے میں، جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
Sayyidina Anas (RA) confirmed that Allah’s Messenger permitted ruqyah (to recite supplication and blow) for snake-bite, evil eye and small pustules. [Muslim 2196]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2056
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کی وجہ سے ہی جائز ہے ١ ؎۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ruqyah is not allowed except for an evil eye or scorpion-sting.” [Ahmed 19929] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، المشکاة (4557)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2057
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
شعبہ نے یہ حدیث «عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کسی اور بیماری میں جھاڑ پھونک جائز نہیں ہے، کیونکہ ان کے علاوہ میں جھاڑ پھونک احادیث سے ثابت ہے، اس لیے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں میں جھاڑ بھونک زیادہ مفید اور کار آمد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ١٧ (٣٨٨٤)، وأخرجہ البخاري في الطب ١٧ (٥٧٠٥) موقوفا علی عمران بن حصین رضي اللہ عنہ (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٠)، وانظر مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٣٨، ٤٤٦) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورة الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Saeed reported that Allah’s Messenger ﷺ used to seek refuge from the jinn and the (evil) eye of human being till the mu’awidhatayn were revealed. When they were revealed, he adopted them and gave up everything else. [Ibn Majah 3511]
صحيح، ابن ماجة (3511)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2058
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں سورتوں یعنی «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» کے بہت سارے فائدے ہیں، انہیں صبح و شام تین تین بار پڑھنے والا إن شاء اللہ مختلف قسم کی بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ رہے گا، ان سورتوں کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ انہیں دونوں کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے تھے۔
عبید بن رفاعہ زرقی ؓ سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جعفر طیار ؓ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرسکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی ١ ؎۔
Ubayd ibn Rifa’ah Zuraqi reported that Sayyidah Asma bint Umays (RA) said, “O Messeger of Allah ﷺ ! Indeed, the children of Ja’far get afflicted with the evil eye easily and quickly. So, may I use ruqyah over them”? He said, “Yes! Were there anything that overtakes destiny, the (evil) eye surely overtakes it.” [Ibn Majah 3510]
صحيح، ابن ماجة (3510)
صحيح، ابن ماجة (3510)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2059
اس سند سے بھی اسماء بنت عمیس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
فائدہ ١ ؎: معلوم ہوا کہ نظر بد کا اثر بےانتہائی نقصان دہ اور تکلیف دہ ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی چیز خلاف تقدیر پیش آسکتی اور ضرر پہنچا سکتی تو وہ نظر بد ہوتی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2059
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أيوب عن عمرو بن دينار عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة عن أسماء بنت عميس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ٣ - اس باب میں عمران بن حصین اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٣٣ (٣٥١٠)، (والنسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٨) (صحیح )
انظر ماقبلہ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین ؓ پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے: «أعيذكما بکلمات اللہ التامة من کل شيطان وهامة ومن کل عين لامة» میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں ، اور آپ فرماتے تھے: اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم (علیہم السلام) پناہ مانگتے تھے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sought refuge for Hasan and Husayn, saying. I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and that which causes worry and grief and every evil eye. The Prophet ﷺ said, “This is how Ibrahim sought refuge for Ishaq and Ismail, on them be peace. [Bukhari 3371] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3525)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2060
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء ١٠ (٣٦٦٩)، سنن ابی داود/ السنة ٢٢ (٤٧٣٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٥) (صحیح )
حابس تمیمی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: الو (کے سلسلے میں لوگوں کے اعتقاد) کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نظر بد کا اثر حقیقی چیز ہے (یعنی سچ ہے) ۔
Sayyidina Habis Tamim (RA) reported having heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There is nothing in ham (as the Arabs wrongly attach to it), but the (evil) eye is a fact.”
ضعيف، لکن قوله: العين حق صحيح .، الضعيفة (4804)، الصحيحة (1248) // ضعيف الجامع الصغير (6295)، صحيح الجامع الصغير (7503) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2061
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٢٧٢)، وانظر مسند احمد (٤/٦٧) (صحیح) (سند میں حیہ بن حابس متابعت کے باب میں مقبول راوی ہیں، اس لیے حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، تراجع الالبانی/٥، السراج المنیر ٥٥٩٠ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت (پہل) کرسکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت (پہل) کرتی، اور جب لوگ تم سے غسل کرائیں تو تم غسل کرلو ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If there is anything that overtakes decree then the (evil) eye surely overtakes it. And when you are asked to have a bath, do have a bath.” [Muslim 2188] --------------------------------------------------------------------------------
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - حیہ بن حابس کی روایت (جو اوپر مذکور ہے) غریب ہے، ٣ - شیبان نے اسے «عن يحيى بن أبي كثير عن حية بن حابس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے جب کہ علی بن مبارک اور حرب بن شداد نے اس سند میں ابوہریرہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٤ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زمانہ جاہلیت میں نظر بد کا ایک علاج یہ تھا کہ جس آدمی کی نظر لگنے کا اندیشہ ہوتا اس سے غسل کرواتے، اور اس پانی سے نظر لگنے والے کو غسل دیتے، نبی اکرم ﷺ نے اس عمل کو سند جواز عطا فرمایا، اور فرمایا کہ اگر کسی سے ایسے غسل کی طلب کی جائے تو وہ برا نہ مانے اور غسل کر کے غسل کیا ہوا پانی نظر بد لگنے والے کو دیدے۔ مگر اس غسل کا طریقہ عام غسل سے سے قدرے مختلف ہے، تفصیل کے لیے ہماری کتاب مسنون وظائف واذکار اور شافی طریقہ علاج کا مطالعہ کریں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، ہم نے ایک قوم کے پاس پڑاؤ ڈالا اور ان سے ضیافت کی درخواست کی، لیکن ان لوگوں نے ہماری ضیافت نہیں کی، اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، چناچہ انہوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: کیا آپ میں سے کوئی بچھو کے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک کہ تم مجھے کچھ بکریاں نہ دے دو، انہوں نے کہا: ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے، چناچہ ہم نے قبول کرلیا اور میں نے سات بار سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ صحت یاب ہوگیا اور ہم نے بکریاں لے لیں ١ ؎، ہمارے دل میں بکریوں کے متعلق کچھ خیال آیا ٢ ؎، لہٰذا ہم نے کہا: جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ جائیں، جب ہم آپ ﷺ کے پاس پہنچے تو میں نے جو کچھ کیا تھا آپ سے بیان کردیا، آپ نے فرمایا: تم نے کیسے جانا کہ سورة فاتحہ رقیہ (جھاڑ پھونک کی دعا) ہے؟ تم لوگ بکریاں لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) narrated Allah’s Messenger sent us on an expedition. We halted at a place and requested its people for their hospitality, but they declined to host us. Meanwhile, a scorpion stung their chief, so they came to us and asked if we had anyone who would cure him through ruqyah. I said, “Yes, I will. But, I will not blow on him until you give us sheep.” They said, “We will give you thirty sheep.” We agreed, I recited al-Fatihah over him seven times and he was relieved (of poison), and we took the sheep. Then we had doubt about it and we said, “Do not make haste till we come to Allah’s Messenger ﷺ . When we came to him, I mentioned to him what I had done. He asked, “How did you know that it (al-Fatihah) is a ruqyah. Take the sheep and count me with you for my share.” [Bukhari 5749]
صحيح، ابن ماجة (2156)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2063
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - شعبہ، ابو عوانہ ہشام اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي المتوکل عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - تعلیم قرآن پر معلم کے لیے اجرت لینے کو امام شافعی نے جائز کہا ہے اور وہ معلم کے لیے اجرت کی شرط لگانے کو درست سمجھتے ہیں، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ خیال آیا کہ یہ ہمارے لیے حلال ہیں یا نہیں۔ ٢ ؎: جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اذان، قضاء، امامت، اور تعلیم قرآن کی اجرت لی جاسکتی ہے، کیونکہ صحیح بخاری میں کتاب اللہ کی تعلیم کی بابت اجرت لینے سے متعلق ابن عباس کی روایت اور سورة فاتحہ پڑھ کر دم کر کے اس کی اجرت لینے سے متعلق ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے، اسی طرح صحیحین میں سہل بن سعد ؓ کی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے ایک شخص کے نکاح میں قرآن کی چند آیات کو مہر قرار دیا یہ ساری کی ساری روایات اس کے جواز پر دلیل ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ١٦ (٢٢٧٦)، وفضائل القرآن ٩ (٥٠٠٧)، والطب ٣٣ (٥٧٣٦)، و ٣٩ (٥٧٤٩)، صحیح مسلم/السلام ٢٣ (٢٢٠١)، سنن ابی داود/ الطب ١٩ (٣٩٠٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٧ (٢١٥٦) (تحفة الأشراف: ٤٣٠٧)، و مسند احمد (٣/٤٤) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ (جن میں شامل میں بھی تھا) عرب کے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان کا سردار بیمار ہوگیا، چناچہ ان لوگوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: آپ لوگوں کے پاس کوئی علاج ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، لیکن تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے اس لیے ہم اس وقت تک علاج نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اجرت نہ متعین کر دو، انہوں نے اس کی اجرت میں بکری کا ایک گلہ مقرر کیا، ہم میں سے ایک آدمی (یعنی میں خود) اس کے اوپر سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرنے لگا تو وہ صحت یاب ہوگیا، پھر جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ جھاڑ پھونک (کی دعا) ہے؟ ابو سعید خدری ؓ نے آپ سے اس پر کوئی نکیر ذکر نہیں کی، آپ نے فرمایا: کھاؤ اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that a group of the sahabah (RA) passed by a village of Arabs. They did not entertain and host them. Their chief fell ill and they came to the sahabah asking them if they had medicine. They affirmed, “Yes, we have, but you neither entertained us nor hosted us, so will not treat him unless you determine our wages.” So they fixed their wages at a herd of sheep. So, one of them recited over him al-Fatihah and he was cured. When they came to the Prophet ﷺ they mentioned that to him. He said, “And what told you that it is ruqyah.” He did not disallow them that but said, “Eat and determine for me a share with you.” [Bukhari 2276, Muslim 2201]
صحيح انظر ما قبله (2063)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2064
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث اعمش کی اس روایت سے جو جعفر بن ایاس کے واسطہ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ٣ - کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن أبي المتوکل عن أبي سعيد» کی سند سے روایت کی ہے۔
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں (ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں ١ ؎۔
Abu Khizamah reported from his father who said that he asked Allah’s Messenger “O Messenger of Allah’ This ruqyah that we practice (and we blow) and these medicines that we use and the preventive measures we adopt do they alter Allah’s decree in any way?” He said, they are a part of Allah’s decree.” [Ahmed 15472]
ضعيف، ابن ماجة (3437) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (749)، وسيأتي برقم (379 / 2252) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2065
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی توفیق حسب تقدیر الٰہی ہوتی ہے، اس لیے اسباب کو اپنانا چاہیئے، لیکن یہ اعتقاد نہ ہو کہ ان سے تقدیر بدل جاتی ہے، کیونکہ اللہ اپنے فیصلہ کو نہیں بدلتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ١ (٣٤٣٧) (تحفة الأشراف: ١١٨٩٨) (ضعیف) (اس کی سند میں اضطراب ہے ۔ یعنی ” أبوخزامة، عن أبيه “ یا ” ابن أبي خزامة، عن أبيه “ نیز ابو خزامہ تابعی ہیں یا صحابی؟، اگر ” ابو خزامہ “ تابعی ہیں تو ان کا حال معلوم نہیں، اگر یہ صحابی ہیں تو ان کے بیٹے ” ابن أبی خزمہ “ ہیں، تراجع الالبانی ٣٤٤ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عجوہ (کھجور) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ١ ؎ ایک طرح کا «من» (سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ajwah is from Paradise and it is a cure for poison. And, Kam’ah (truffles) is a kind of Mann and its extract is a cure for the eyes.” [Ahmed 8008]
حسن صحيح، المشکاة (4235 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2066
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، ٣ - اس باب میں سعید بن زید، ابوسعید اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں حدیث میں وارد لفظ «الکمأ ۃ » کا ترجمہ کھمبی قطعاً درست نہیں ہے «الکمأ ۃ » کو عربوں کی عامی زبان میں «فقعہ» کہا جاتا ہے، یہ «فقعہ» موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحرائے نجد و نفود کبریٰ، مملکت سعودیہ کے شمال اور ملک عراق کے جنوب میں پھیلے ہوئے بہت بڑے صحراء میں زیر زمین پھیلتا ہے، اس کی رنگت اور شکل و صورت آلو جیسی ہوتی ہے، جب کہ کھمبی زمین سے باہر اور ہندوستان کے ریتلے علاقوں میں ہوتی ہے، ابن القیم، ابن حجر اور دیگر علماء امت نے «الکمأ ۃ » کی جو تعریف لکھی ہے اس کے مطابق بھی «الکمأ ۃ » درحقیقت «فقعہ» ہے کھمبی نہیں، (تفصیل کے لیے فتح الباری اور تحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کرلیں، نیز اس پر تفصیلی کلام ابن ماجہ کے حدیث نمبر ( ٣٤٥٥ ) کے حاشیہ میں ملاحظہ کریں، اور جہاں بھی «کمأ ۃ » کا ترجمہ کھمبی لکھا ہے، اس کی جگہ «فقعہ» لکھ لیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٨ (٣٤٥٥) (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٧) و مسند احمد (٢/٣٠١، ٣٠٥، ٣٢٥، ٣٥٦، ٤٢١، ٤٨٨، ٤٩٠، ٥١١) (حسن صحیح )
سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صحرائے عرب کا فقعہ ایک طرح کا «من» (سلوی والا «من» ) ہے اور اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔
Sayyidina Sa’eed ibn Zayd (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “Kam’ah is a kind of Mann. Its extract is a cure for the eyes.” [Bukhari 4639]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کھنبی زمین کی چیچک ہے، (یہ سن کر) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صحرائے عرب کا «فقعہ» ایک طرح کا «من» ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے، اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے، وہ زہر کے لیے شفاء ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Some of the sahaba (RA) of the Prophet ﷺ said, “Kam’ah is small-pox of earth.” Allah’s Messenger said, ‘Kam’ah is a kind of Mann. Its extract is a cure for the eyes. And ajwah is from Paradise and it is a cure of poison.” [Ahmed 8008]
صحيح بما قبله (2067)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2068
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٠٦٦ (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٦) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تین، پانچ یا سات کھنبی لی، ان کو نچوڑا، پھر اس کا عرق ایک شیشی میں رکھا اور اسے ایک لڑکی کی آنکھ میں ڈالا تو وہ صحت یاب ہوگئی۔
Qatadah said that he reported that Abu Hurairah (RA) said, “I took three Kam’ah (truffles), or five, or seven and extracted. Their juice and poured it into a phial. Then I applied it to (the eyes of) my female slave and she recovered.”
ضعيف الإسناد مع وقفهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2069
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں قتادہ اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ موقوف ہے، یعنی ابوہریرہ کا کلام ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ قتادہ ہر روز کلونجی کے اکیس دانے لیتے، ان کو ایک پوٹلی میں رکھ کر پانی میں بھگوتے پھر ہر روز داہنے نتھنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے، دوسرے دن بائیں میں دو بوندیں اور داہنی میں ایک بوند ڈالتے اور تیسرے روز داہنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے۔
Qatadah reported that Sayyidina Abu Hurairah (RA) said, “Shuniz is a remedy for every disease except death.” Qatadah said that, every day, he took twenty-one seeds of it and soaked them in a piece of cloth. He would put two drops in his right nostril and one in his left one day. The second day he would put two drops in his left nostril and one in his right nostril. On the third day, he would put two drops in the right nostril and one in the left. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد مع وقفه، لكن، الصحيحة مرفوعا دون قول قتادة: يأخذ ...، الصحيحة (1905)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2070
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (اس سند میں بھی قتادہ اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ موقوف ہے، یعنی ابوہریرہ کا کلام ہے، لیکن ابوہریرہ کا یہ قول مرفوع حدیث سے ثابت ہے، الصحیحة ١٩٠٥ )
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade sale price of the dog, dower of adultery and wages of the soothsayers.” [Bukhari 2237] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2071
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غیب کا علم صرف رب العالمین کے لیے خاص ہے، اس کا دعویٰ کرنا بہت بڑا گناہ ہے، اسی لیے اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل اور غلط طریقے سے جو مال لوگوں سے حاصل کرتے ہیں، وہ حرام ہے، زنا معصیت اور فحش کے اعمال میں سے سب سے بدترین عمل ہے، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت ناپاک اور حرام ہے، کتا ایک نجس جانور ہے اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ جس برتن میں یہ منہ ڈال دے شریعت نے اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے، اسی لیے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، سوائے اس کے کہ گھر، جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔
عیسیٰ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عکیم ابومعبد جہنی کے ہاں ان کی عیادت کرنے گیا، ان کو «حمرة» کا مرض تھا ١ ؎ ہم نے کہا: کوئی تعویذ وغیرہ کیوں نہیں لٹکا لیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: موت اس سے زیادہ قریب ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کردیا گیا ٢ ؎۔
Eesa ibn Abdul Rahman ibn Abu Layla narrated, I paid a sick-visit to Abdullah ibn Abu Ma’bad Juhanni. He had redness on his body. I asked him, “Why do you not suspend something (like a talisman)?” He said, “Death is nearer than that. And the Prophet ﷺ had said that if anyone wears something on his neck then he would be entrusted to that (and has no Divine support).’ [Ahmed 18804] --------------------------------------------------------------------------------
حسن غاية المرام (297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2072
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عکیم کی حدیث کو ہم صرف محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، عبداللہ بن عکیم نے نبی اکرم ﷺ سے حدیث نہیں سنی ہے لیکن وہ آپ ﷺ کے زمانہ میں تھے، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کے پاس لکھ کر بھیجا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حمرہ» ایک قسم کا وبائی مرض ہے جس کی وجہ سے بخار آتا ہے، اور بدن پر سرخ دانے پڑجاتے ہیں۔ ٢ ؎: جو چیزیں کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہیں وہ حرام ہیں، چناچہ تعویذ گنڈا اور جادو منتر وغیرہ اسی طرح حرام کے قبیل سے ہیں، تعویذ میں آیات قرآنی کا ہونا اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی، کیونکہ حدیث میں مطلق لٹکانے کو ناپسند کیا گیا ہے، یہ حکم عام ہے اس کے لیے کوئی دوسری چیز مخص نہیں ہے۔ بلکہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی تعویذ، گنڈا یا کوئی منکا وغیرہ لٹکایا اس نے شرک کیا۔
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Fever is intense because of the fire (of Hell), so cool it down with water.” [Bukhari 3262]
صحيح، ابن ماجة (3473)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2073
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں اسماء بنت ابوبکر، ابن عمر، زبیر کی بیوی، ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں (عائشہ ؓ کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٠ (٣٢٦٢)، والطب ٢٨ (٥٧٢٦)، صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢١٢)، سنن ابن ماجہ/الطب ١٩ (٣٤٧٣) (تحفة الأشراف: ٣٥٦٢)، و مسند احمد (٣/٤٦٤)، و (٤/١٤١)، وسنن الدارمی/الرقاق ٥٥ (٢٨١١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely fever is from the vastness of (the fire of) Hell. So, cool it down with water.” [Muslim 2210]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2074
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم اللہ الکبير أعوذ بالله العظيم من شر کل عرق نعار ومن شر حر النار» میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ taught (the sahabah) when afflicted with fever or pain to make this supplication.” In the Name of Allah the Great (I begin to blow). I seek refuge in Allah the Mighty from the evil of every bursting vein and from the evil of the heat of the fire." [Ibn Majah 3526] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (1554) // ضعيف الجامع الصغير (4587) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2075
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ کی روایت سے جانتے ہیں اور ابراہیم بن اسماعیل ضعیف الحدیث سمجھے جاتے ہیں، ٣ - بعض احادیث میں «عرق نعار» کے بجائے «عرق يعار» بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٣٧ (٣٥٢٦) (تحفة الأشراف: ٦٠٧٦) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں )