Sunan At-Tirmidhi 2072

طب کا بیان

2072Sunan At-Tirmidhi

گلے میں تعویز لٹکانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى أَخِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ أَبِي مَعْبَدِ الْجُهَنِيِّ أَعُودُهُ وَبِهِ حُمْرَةٌ، فَقُلْنَا: أَلَا تُعَلِّقُ شَيْئًا، قَالَ: الْمَوْتُ أَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُكَيْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

عیسیٰ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عکیم ابومعبد جہنی کے ہاں ان کی عیادت کرنے گیا، ان کو «حمرة» کا مرض تھا ١ ؎ ہم نے کہا: کوئی تعویذ وغیرہ کیوں نہیں لٹکا لیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: موت اس سے زیادہ قریب ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کردیا گیا ٢ ؎۔

Eesa ibn Abdul Rahman ibn Abu Layla narrated, I paid a sick-visit to Abdullah ibn Abu Ma’bad Juhanni. He had redness on his body. I asked him, “Why do you not suspend something (like a talisman)?” He said, “Death is nearer than that. And the Prophet ﷺ had said that if anyone wears something on his neck then he would be entrusted to that (and has no Divine support).’ [Ahmed 18804] --------------------------------------------------------------------------------

حسن غاية المرام (297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2072
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عکیم کی حدیث کو ہم صرف محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، عبداللہ بن عکیم نے نبی اکرم ﷺ سے حدیث نہیں سنی ہے لیکن وہ آپ ﷺ کے زمانہ میں تھے، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کے پاس لکھ کر بھیجا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حمرہ» ایک قسم کا وبائی مرض ہے جس کی وجہ سے بخار آتا ہے، اور بدن پر سرخ دانے پڑجاتے ہیں۔ ٢ ؎: جو چیزیں کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہیں وہ حرام ہیں، چناچہ تعویذ گنڈا اور جادو منتر وغیرہ اسی طرح حرام کے قبیل سے ہیں، تعویذ میں آیات قرآنی کا ہونا اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی، کیونکہ حدیث میں مطلق لٹکانے کو ناپسند کیا گیا ہے، یہ حکم عام ہے اس کے لیے کوئی دوسری چیز مخص نہیں ہے۔ بلکہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی تعویذ، گنڈا یا کوئی منکا وغیرہ لٹکایا اس نے شرک کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٦٤٣) (صحیح )