Sunan At-Tirmidhi 2066

طب کا بیان

2066Sunan At-Tirmidhi

کھمبی اور عجوہ (عمدہ کھجور)

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَاسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عجوہ (کھجور) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ١ ؎ ایک طرح کا «من» (سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ajwah is from Paradise and it is a cure for poison. And, Kam’ah (truffles) is a kind of Mann and its extract is a cure for the eyes.” [Ahmed 8008]

حسن صحيح، المشکاة (4235 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2066
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، ٣ - اس باب میں سعید بن زید، ابوسعید اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں حدیث میں وارد لفظ «الکمأ ۃ » کا ترجمہ کھمبی قطعاً درست نہیں ہے «الکمأ ۃ » کو عربوں کی عامی زبان میں «فقعہ» کہا جاتا ہے، یہ «فقعہ» موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحرائے نجد و نفود کبریٰ، مملکت سعودیہ کے شمال اور ملک عراق کے جنوب میں پھیلے ہوئے بہت بڑے صحراء میں زیر زمین پھیلتا ہے، اس کی رنگت اور شکل و صورت آلو جیسی ہوتی ہے، جب کہ کھمبی زمین سے باہر اور ہندوستان کے ریتلے علاقوں میں ہوتی ہے، ابن القیم، ابن حجر اور دیگر علماء امت نے «الکمأ ۃ » کی جو تعریف لکھی ہے اس کے مطابق بھی «الکمأ ۃ » درحقیقت «فقعہ» ہے کھمبی نہیں، (تفصیل کے لیے فتح الباری اور تحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کرلیں، نیز اس پر تفصیلی کلام ابن ماجہ کے حدیث نمبر ( ٣٤٥٥ ) کے حاشیہ میں ملاحظہ کریں، اور جہاں بھی «کمأ ۃ » کا ترجمہ کھمبی لکھا ہے، اس کی جگہ «فقعہ» لکھ لیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٨ (٣٤٥٥) (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٧) و مسند احمد (٢/٣٠١، ٣٠٥، ٣٢٥، ٣٥٦، ٤٢١، ٤٨٨، ٤٩٠، ٥١١) (حسن صحیح )