زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتادوں؟ سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے ١ ؎۔
Sayyidina Zayd ibn Kalid Juhanni (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not inform you of the best of witnesses ? They offer testimony before they are asked”. [Ahmed 17044 Muslim 1719 Abu Dawud 3569 Ibn Majah 2364]Ahmad ibn Hasan reproted from Abdullah ibn Maslamah, from Malik the same hadith.
صحيح
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2295
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2296
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اکثر لوگوں نے اپنی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا ہے۔ ٣ - اس حدیث کی روایت کرنے میں مالک کے شاگردوں کا اختلاف ہے، بعض راویوں نے اسے ابی عمرہ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے ابن ابی عمرہ سے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری ہے، ابن ابی عمرہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مالک کے سوا دوسرے راویوں نے «عن عبدالرحمٰن بن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کہا ہے «عن ابن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کی سند سے اس کے علاوہ دوسری حدیث بھی مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے، ابو عمرہ زید بن خالد جہنی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ابو عمرہ کے واسطہ سے خالد سے حدیث غلول مروی ہے، اکثر لوگ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ہی کہتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس گواہی کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص کا کوئی ایسا معاملہ درپیش ہے جس میں کسی گواہ کی ضرورت ہے اور اس کے علم کے مطابق اس معاملہ کا کوئی گواہ نہیں ہے، پھر اچانک ایک دوسرا شخص آئے اور خود سے اپنے آپ کو پیش کرے اور اس معاملہ کی گواہی دے تو اس حدیث میں ایسے ہی گواہ کو سب سے بہتر گواہ کہا گیا ہے، معلوم ہوا کہ کسی کے پاس اگر کوئی شہادت موجود ہے تو اسے قاضی کے سامنے حاضر ہو کر معاملہ کے تصفیہ کی خاطر گواہی دینی چاہیئے اسے اس کے لیے طلب کیا گیا ہو یا نہ طلب کیا گیا ہو۔
١ ؎: مؤلف کے سوا ہر ایک کے یہاں «ابن أبي عمرة» ہی ہے۔
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سب سے بہتر گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی کا فریضہ ادا کر دے ۔
Sayyidina Zayd ibn Kalid Juhanni reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The best of witnesses is he who gives testimony before being called upon to give it”. [Ahmed 17061] --------------------------------------------------------------------------------
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2297
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور عورت کی گواہی درست اور مقبول نہیں ہے، اور نہ ان مردوں اور عورتوں کی گواہی مقبول ہے جن پر حد نافذ ہوچکی ہے، نہ اپنے بھائی سے دشمنی رکھنے والے کی گواہی مقبول ہے، نہ اس آدمی کی جس کی ایک بار جھوٹی گواہی آزمائی جا چکی ہو، نہ اس شخص کی گواہی جو کسی کے زیر کفالت ہو اس کفیل خاندان کے حق میں (جیسے مزدور وغیرہ) اور نہ اس شخص کی جو ولاء یا رشتہ داری کی نسبت میں متہم ہو ۔
Sayyidiah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The testimony is not admissible of a deceitful man or woman, of one who has received punishment offlogging, the hadd, of an enemy who harbours hatred for his brother, of one who has been proved to have lied, of a servant for his masters, or of one accused of slandering relationship”. [Ibn Majah 2366]
ضعيف، الإرواء (2675)، المشکاة (3781 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6199) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2298
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف یزید بن زیاد دمشقی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یزید ضعیف الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث زہری کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے، ٤ - فزازی کہتے ہیں: «قانع» سے مراد «تابع» ہے، ٥ - اس حدیث کا مطلب ہم نہیں سمجھتے اور نہ ہی سند کے اعتبار سے یہ میرے نزدیک صحیح ہے، ٦ - اس بارے میں اہل علم کا عمل ہے کہ رشتہ دار کے لیے رشتہ کی گواہی درست ہے، البتہ بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کو درست نہیں سمجھتے، ٧ - بعض اہل علم کہتے ہیں: جب گواہی دینے والا عادل ہو تو باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں اسی طرح باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی درست ہے، ٨ - بھائی کی گواہی کے جواز کے بارے میں اختلاف نہیں ہے، ٩ - اسی طرح رشتہ دار کے لیے رشتہ دار کی گواہی میں بھی اختلاف نہیں ہے، ١٠ - امام شافعی کہتے ہیں: جب دو آدمیوں میں دشمنی ہو تو ایک کے خلاف دوسرے کی گواہی درست نہ ہوگی، گرچہ گواہی دینے والا عادل ہو، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج کی حدیث سے استدلال کیا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے کہ دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے، اسی طرح اس (مذکورہ) حدیث کا بھی مفہوم یہی ہے، (جس میں) آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لیے دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٠) (ضعیف) (سند میں یزید بن زیاد دمشقی متروک الحدیث راوی ہے )
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا ، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہوجاتے۔
Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not inform you of the greatest of the grave sins?” They said, “Of course, O Messenger of Allah, ﷺ . “He said, “To associate partner with Allah, to disobey (and displease) parents, and to give false testimony, or to speak lies”. And he did not cease to say that till they said, “Would that he stopped”. [Bukhari 6273] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2301
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور» تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو (ان کی پرستش نہ کرو) اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو (الحج: ٣٠ ) ۔
Sayyidina Ayman ibn Khuraym reported that the Prophet ﷺ stood up to deliver a sermon. He said, “O people! False testimony is made the same as ascribing partner to Allah. He recited: So shun the abomination of the idols, and shun the speaking of falsehood. (22 :30) [Ahmed 17615]
ضعيف، ابن ماجة (2372) // ضعيف سنن ابن ماجة (518)، تخريج الإيمان لابن سلام (49 / 118)، طبع المکتب الإسلامي، المشکاة (3779 و 3780) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2299
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ٣ - نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم ﷺ سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٤٨) (ضعیف) (یہ مرسل ہے أیمن بن خریم تابعی ہیں، نیز اس کے راوی فاتک بن فضالہ مستور (مجہول الحال) ہیں )
خریم بن فاتک اسدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو ۔
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2300
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ٢ - خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣٢ (٢٣٧٢) (ضعیف) (سند میں زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں )
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا ، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہوجاتے۔
صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2301
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں (یعنی صحابہ) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تابعین) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی اتباع تابعین) ١ ؎، آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Imran ibn Husayn reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The best of people are my generation, then those that succeed them, then those who will succeed them then those who wil I succeed them. Three times. Then a people will come after them who will like elderliness and love it. They will offer testimony before being asked for it”. [Ahmed 19841]
صحيح مضی (2334)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2302
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اعمش کے واسطہ سے علی بن مدرک کی روایت سے غریب ہے، ٢ - اعمش کے دیگر شاگردوں نے «عن الأعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين» کی سند سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے صحابہ کرام کی فضیلت تابعین پر، اور تابعین کی فضیلت اتباع تابعین پر ثابت ہوتی ہے۔ ٢ ؎: ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ لفظ دو یا تین بار دہرایا، اگر تین بار دہرایا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنا زمانہ مراد لیا، پھر صحابہ کا پھر تابعین کا، پھر اتباع تابعین کا، اور اگر آپ نے صرف دو بار فرمایا تو اس کا وہی مطلب ہے جو ترجمہ کے اندر قوسین میں واضح کیا گیا ہے۔ ٣ ؎: اس حدیث سے از خود شہادت دینے کی مذمت ثابت ہوتی ہے، جب کہ حدیث نمبر ٢١٩٥ سے اس کی مدح و تعریف ثابت ہے، تعارض اس طرح دفع ہوجاتا ہے کہ مذمت مطلقاً اور از خود شہادت پیش کرنے کی نہیں بلکہ جلدی سے ایسی شہادت دینے کی وجہ سے ہے جس سے جھوٹ ثابت کرسکیں اور باطل طریقہ سے کھا پی سکیں اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اسے ہضم کر سکں، معلوم ہوا کہ حقوق کے تحفظ کے لیے دی گئی شہادت مقبول اور بہتر وعمدہ ہے جب کہ حقوق کو ہڑپ کر جانے کی نیت سے دی گئی شہادت قبیح اور بری ہے۔
اس سند سے بھی عمران بن حصین سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور یہ محمد بن فضیل کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
صحيح مضی (2334 )
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2302
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہوجائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا ۔ اور نبی اکرم ﷺ کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی (حق بات کی خاطر) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے، گواہی دینے سے باز نہ رہے، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2303
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حدیث کے الفاظ «يعطون الشهادة قبل أن يسألوها» سے جھوٹی گواہی مراد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گواہی طلب کیے بغیر وہ گواہی دیں گے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina ibn e Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There are two blessings that of which many people are careless: health and leisure” [Ahmed 3207, Bukhari 6412, Ibn e Majah 4170]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2304
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی قدر نہیں کرتے ہیں ایک تندرستی اور دوسری فراغت ہیں بلکہ یوں ہی انہیں ضائع کردیتے ہیں جب کہ تندرستی کو بیماری سے پہلے اور فرصت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١ (٦٤١٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٥ (٤١٧٠) (تحفة الأشراف: ٥٦٦٦)، و مسند احمد (١/٢٥٨، ٣٤٤)، وسنن الدارمی/الرقاق ٢ (٢٧٤٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہوجاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بےنیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سچے مسلمان ہوجاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ asked, “Who will learn from these words and act upon them,or teach to one who will act upon them? I said, “I , O Messenger of Allah” So, he took me by hand and conuting five he said, “ Guard against the things that are forbidden, you will be the most devout of men, and be pleased with what Allah has allotted you, you will be the richest of men: and be kind to your neighbour ,you will be a believer : and love for people what you love for yourself, you will be a Muslim and do not laugh much for much laughter causes the heart to die” [ Ibn e Majah 4193]
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - حسن بصری کا سماع ابوہریرہ سے ثابت نہیں، ٣ - اسی طرح ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ان سب کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ٤ - ابوعبیدہ ناجی نے اسے حسن بصری سے روایت کرتے ہوئے اس کو حسن بصری کا قول کہا ہے اور یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ حدیث حسن بصری ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٧)، و مسند احمد (٢/٣١٠) (حسن) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” حسن بصری “ کا سماع ابوہریرہ ؓ سے نہیں ہے، نیز ” ابو طارق “ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ ٩٣٠ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah;s Messenger ﷺ said, “Hasten you (good) deeds before seven things: poverty and need; wealth and property that makes one neglectful ; disease that incapacitates;old age that amkes infirm; fast approaching death, worst of the awaited unseen,or,the hour calamitous and bitter”
ضعيف، الضعيفة (1666) // ضعيف الجامع الصغير (2315) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2306
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اعرج ابوہریرہ سے مروی حدیث ہم صرف محرز بن ہارون کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - بشر بن عمر اور ان کے علاوہ لوگوں نے بھی اسے محرز بن ہارون سے روایت کیا ہے، ٤ - معمر نے ایک ایسے شخص سے سنا ہے جس نے بسند «سعيدا المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں «هل تنتظرون» کی بجائے «تنتظرون» ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٩٥١) (ضعیف) (سند میں ” محرر۔ یا محرز۔ بن ہارون “ متروک الحدیث راوی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Remember often the cutter of the taste- which is death”
حسن صحيح، ابن ماجة (4258)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2307
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: موت کی یاد اور اس کا تصور انسان کو دنیاوی مشاغل سے دور اور معصیت کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے، اس لیے بکثرت موت کو یاد کرنا چاہیئے اور اس کے پیش آنے والے معاملات سے غافل نہیں رہنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٣ (١٨٢٥)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣١ (٤٢٥٨) (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٠)، و مسند احمد (٢/٢٩٣) (حسن صحیح )
ہانی مولی عثمان کہتے ہیں کہ عثمان ؓ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہوجاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے ، عثمان ؓ نے مزید کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا ١ ؎۔
Abdullah ibn Bujayr (RA) reported on the authority of Hani, the freedman of Sayyidina Uthman (RA): When Uthman stood by a grave, he wept so much that his beard would get wet. So, it was said to him” Paradise and the Fire are also mentioned but you do not weep, yet you weep here (why)? He said, “ Surely, Allah’s Messenger ﷺ said , ‘The grave s the first stop of the several stops before the hereafter, and deliverance from it means that after it is an easy sailing, but if one does not get deliverance from it then the following stages are more severe than it’.” He also said, I have not seen a sight more frightening than the sight of the grave. [Ibn e Majah 4267]
حسن، ابن ماجة (4267)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2308
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ہشام بن یوسف کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان ؓ کا یہ حال کہ قبر کے عذاب کا اتنا خوف اور ڈر لاحق ہو کہ اسے دیکھ کر زار و قطار رونے لگیں باوجود یہ کہ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ہمارا یہ حال ہے کہ اس عذاب کو بھولے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ منازل آخرت میں سے پہلی منزل ہے، اللہ رب العالمین ہم سب کو قبر کے عذاب سے بچائے آمین۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٢ (٤٢٦٧) (تحفة الأشراف: ٩٨٣٩)، و مسند احمد (١/٦٤) (حسن )
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا ١ ؎۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone loves to meet Allah , Allah also loves to meet him. And if anyone dislikes to meet Allah then Allah also dislikes to meet him.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2309
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ام المؤمنین عائشہ، انس اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی کتاب الجنائز باب رقم ١٠ ، حدیث رقم ١٨٣٨ میں ہے: ام المؤمنین عائشہ ؓ نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ موت کے وقت کا معاملہ ہے جب بینائی چھن جائے، جاں کنی کا عالم ہو اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو جس کو اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دی جائے اس وقت جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہے گا اور جس کو اللہ کے عذاب کی وارننگ دی جائے وہ اللہ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا، یعنی مومن کو اللہ سے ملنے میں خوشی اور کافر کو گھبراہٹ اور ڈر لاحق ہوتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتک الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ!، اے محمد کی بیٹی فاطمہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! اللہ کی طرف سے تم لوگوں کے نفع و نقصان کا مجھے کچھ بھی اختیار نہیں ہے، تم میرے مال میں سے تم سب کو جو کچھ مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگ لو ١ ؎۔
Sayyidina Aisha (RA) narrated when this verse “and warn your clan, the nearest kin” (26:214) was revealed, Allah’s Messenger ﷺ said, “O Saifyah daughterod abdul Muttalib, O Fatimah daughter of Muhammad , O children of Abdul Muttalib, I cannot help you before Allah in the least. (However), you may askme for whatever you like of my wealth” [Ahmed 2592, Muslim 205, Nisai 3647]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2310
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ان میں سے بعض نے اسی طرح ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے، اور بعض نے «عن هشام عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کی ہے اور «عن عائشة» کا ذکر نہیں کیا، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تں ہی عذاب دینا چاہے تو میں تمہیں اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، کیونکہ میں کسی کے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں، البتہ دنیاوی وسائل جو مجھے اللہ کی جانب سے حاصل ہیں، ان میں سے جو چاہو تم لوگ مانگ سکتے ہو، میں دینے کے لیے تیار ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٩ (٢٠٥)، سنن النسائی/الوصایا ٦ (٣٦٧٨) ویأتي عند المؤلف برقم ٣١٨٤ (تحفة الأشراف: ١٧٢٣٧)، و مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جاسکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے اور اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں دونوں اکٹھا نہیں ہوسکتے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ No man who weeps from fear of Allah will go to the Fire till the milk returns to the udder. And dust in the path of Allah and smoke of hell cannot come together” [ Tirmidhi 1639, Nisai 3107, Ibn e Majah 2774, Ahmed 10565]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوریحانہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مدنی ہیں، ثقہ ہیں، ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نہ کبھی دودھ تھن میں واپس ہوگا اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا جہنم میں ڈالا جائے گا، اسی طرح راہ جہاد میں نکلنے والا بھی جہنم میں نہیں جاسکتا، کیونکہ جہاد مجاہد کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے، معلوم ہوا کہ جہاد کی بڑی فضیلت ہے، لیکن یہ ثواب اس مجاہد کے لیے ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچتا رہا ہو۔ معلوم ہوجائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے۔
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانے کا حق بھی ہے، اس لیے کہ اس میں چار انگل کی بھی جگہ نہیں خالی ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ بھی جان لو تو ہنسو گے کم اور رؤ گے زیادہ اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو گے، اور یقیناً تم لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے میدانوں میں نکل جاتے ، (اور ابوذر ؓ) فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) Reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ I see what you do not see and I hear what you do not hear. The heaven laments and it has a right to lament. There is no in space you fingers, but an angel has placed his forehead on it for prostration to Allah. By Allah, if you know what i know, you would laugh little and weep much and would not enjoy women on beds but would have gone out to the plains calling to Allah in prayer” Abu Dharr (RA) said , “I wished were a tree and chopped to pieces” [Ibn e Majah 4190, Ahmed 21572]
حسن دون قوله: لوددت ....، ابن ماجة (4190)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2312
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس کے علاوہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ ابوذر ؓ فرمایا کرتے تھے: کاش میں ایک درخت ہوتا کہ جسے لوگ کاٹ ڈالتے ، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، ابن عباس اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٩ (٤١٩٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٨٦) (حسن) (حدیث میں ” لوددت … “ کا جملہ مرفوع نہیں ہے، ابو ذر ؓ کا اپنا قول ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ جان لیتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah;s Messenger ﷺ said, “If you know that which I know then you would certainly laugh little and weep much” [ Bukhari 6485, Ahmed 9583]
صحيح فقه السيرة (479)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2313
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کبھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس میں وہ خود کوئی حرج نہیں سمجھتا حالانکہ اس کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ Indeed a man speaks some words seeing no harm in them but Allah will cast him in fire down seventy years deep” [Ibn e Majah 3970, Bukhari 6477, Ahmed 7219]
حسن صحيح، ابن ماجة (3970)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2314
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک شخص دوسروں کو ہنسانے کے لیے اور ان کی دلچسپی کی خاطر اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے یا بناوٹی اور جھوٹی بات کہتا ہے، اور کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ باعث گناہ اور لائق سزا ہے حالانکہ وہ اپنی اس بات کے سبب جہنم کی سزا کا مستحق ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ دوسروں کو ہنسانے اور انہیں خوش کرنے کے لیے کوئی ایسی ہنسی کی بات نہیں کرنی چاہیئے جو گناہ کی بات ہو اور باعث عذاب ہو۔