کھانے کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 23 · 77 hadiths · Page 1 of 4

1788Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ ، قَالَ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ ؟، قَالَ: عَلَى هَذِهِ السُّفَرِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيُونُسُ: هَذَا هُوَ يُونُسُ الْإِسْكَافُ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی خوان (میز وغیرہ) پر نہیں کھایا، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا، اور نہ آپ کے لیے کبھی پتلی روٹی پکائی گئی۔ یونس کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: پھر کس چیز پر کھاتے تھے؟ کہا: انہی دسترخوانوں پر۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ never ate at a low table or from small plates and never was thin bread baked for him. I asked Qatadah at what they ate and he said, ‘Off these leather mats (say, dining mats).” [Bukhari 5386, Ibn e Majah 3292]

صحيح، ابن ماجة (3292)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1788
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن بشار کہتے ہیں: یہ یونس، یونس اسکاف ہیں، ٣ - عبدالوارث بن سعید نے بسند «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٨ (٥٣٨٦)، ٢٣ (٥٤١٥)، والرقاق ١٦ (٦٤٥٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٠ (٣٢٩٢)، والمؤلف في الزہد ٣٨ (٢٣٦٣)، والشمائل ٢٥ (تحفة الأشراف: ١٤٤٤)، و مسند احمد (٣/١٣٠) (صحیح )
1789Sunan At-Tirmidhi

خرگوش کھانا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهَا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَبَعَثَ مَعِي بِفَخِذِهَا أَوْ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ ، قَالَ: قُلْتُ: أَكَلَهُ، قَالَ: قَبِلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمَّارٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ صَيْفِيٍّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الْأَرْنَبِ بَأْسًا وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الْأَرْنَبِ، وَقَالُوا: إِنَّهَا تَدْمَى.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا، چناچہ آپ نے اسے کھایا۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں: میں نے (راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک ؓ سے) پوچھا: کیا آپ نے اسے کھایا؟ کہا: آپ ﷺ نے اسے قبول کیا ١ ؎۔

Hisharn ibn Zayd narrated: I heard Anas say,” I chased a rabbit at Marr uz Zahran as did the (other) sahabah I caught it and brought it to Abu Talhah who slaughtered it with a stone. He sent me with its hindleg or haunch to the Prophet ﷺ He ate it. I asked, “Did he eat it?’ He said, “He accepted it.’ [Bukhari 2572, Muslim 1953]

صحيح، ابن ماجة (3243)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1789
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، عمار، محمد بن صفوان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، ٤ - جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: اسے (یعنی مادہ خرگوش کو) حیض کا خون آتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خرگوش حلال ہے، اگر حلال نہ ہوتا تو آپ اسے قبول نہ فرماتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٥ (٢٥٧٢)، والصید ١٠ (٥٤٨٩)، و ٣٢ (٥٥٣٥)، صحیح مسلم/الصید ٩ (١٩٥٣)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٧ (٣٧٩١)، سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٧)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩)، و مسند احمد (٣/١١٨، ١٧١)، سنن الدارمی/الصید ٧ (٢٠٥٦) (صحیح )
1790Sunan At-Tirmidhi

گوہ کھانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ: لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَكْلِ الضَّبِّ فَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُكِلَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَذُّرًا .

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے ضب (گوہ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا؟ تو آپ نے فرمایا: میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about eating lizards. He said, “I neither eat it nor declare it to be unlawful.” [Bukhari 5536, Muslim 1943]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1790
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابو سعید خدری، ابن عباس، ثابت بن ودیعہ، جابر اور عبدالرحمٰن بن حسنہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ضب کھانے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم صحابہ نے رخصت دی ہے، ٤ - اور بعض نے اسے مکروہ سمجھا ہے، ابن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر ضب کھایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے طبعی کراہیت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ضب کھانا حلال ہے، بعض روایات میں ہے کہ آپ نے اسے کھانے سے منع فرمایا ہے، لیکن یہ ممانعت حرمت کی نہیں بلکہ کراہت کی ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اسے کھاؤ یہ حلال ہے، لیکن یہ میرا کھانا نہیں ہے، ضب کا ترجمہ گوہ سانڈا اور سوسمار سے کیا جاتا ہے، واضح رہے کہ اگر ان میں سے کوئی قسم گرگٹ کی نسل سے ہے تو وہ حرام ہے، زہریلا جانور کیچلی دانت والا پنجہ سے شکار کرنے اور اسے پکڑ کر کھانے والے سبھی جانور حرام ہیں۔ ایسے ہی وہ جانور جن کی نجاست و خباثت معروف ہے، لفظ ضب پر تفصیلی بحث کے لیے سنن ابن ماجہ میں انہی ابواب کا مطالعہ کریں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٧٢٤٠) (صحیح )
1791Sunan At-Tirmidhi

بجو کھانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: الضَّبُعُ صَيْدٌ هِيَ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ، قُلْتُ: آكُلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الضَّبُعِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الضَّبُعِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الضَّبُعِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ الْمَكِّيُّ.

ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر ؓ سے پوچھا: کیا لکڑبگھا بھی شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا: اسے کھا سکتا ہوں؟ کہا: ہاں، میں نے پوچھا: کیا یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے؟ کہا: ہاں۔

Ibn Abu Ammar reported that he asked Jabir (RA) if a hyena could be hunted. He said, “Yes” He asked can they be eaten?” He said, “Yes” He asked, “Is that what Allah’s Messenger said?” He said, “Yes!” [Abu Dawud 3801]

صحيح، ابن ماجة (3236)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1791
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یحییٰ قطان کہتے ہیں: جریر بن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے: عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابن ابی عمار سے، ابن ابی عمار نے جابر سے، جابر نے عمر ؓ کے قول سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٣ - بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، وہ لوگ لکڑبگھا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - نبی اکرم ﷺ سے لکڑبگھا کھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے، لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے، ٥ - بعض اہل علم نے بجو کھانے کو مکروہ سمجھا ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٣٢ (٣٨٠١)، سنن النسائی/الحج ٨٩ (٢٨٣٩)، والصید ٢٧ (٤٣٢٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٠ (٣٠٨٥)، والصید ١٥ (٣٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٣٨١)، و مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣١٨، ٣٢٢)، سنن الدارمی/المناسک ٩٠ (١٩٨٤) (صحیح )
1792Sunan At-Tirmidhi

بجو کھانا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ ؟ ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الذِّئْبِ فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ ؟ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِسْمَاعِيل وَعَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَهُوَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ثِقَةٌ.

خزیمہ بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے ۔

Sayyidina Khuzaymah ibn Jazi said that he asked Allah’s Messenger ﷺ about eating hyena. He asked, “Does anyone eat hyena?” He enquired about eating wolf and he asked, “Does one with good in him eat a wolf?” [Ibn e Majah 3237]

ضعيف، ابن ماجة (3237) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (696) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1792
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ہم اسے عبدالکریم ابی امیہ کے واسطہ سے صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - بعض محدثین نے اسماعیل اور عبدالکریم ابی امیہ کے بارے میں کلام کیا ہے، (حدیث کی سند میں مذکور) یہ عبدالکریم، عبدالکریم بن قیس بن ابی المخارق ہیں، ٣ - اور عبدالکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصید ١٤ (٣٢٣٥)، و ١٥ (٣٢٣٧) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن مسلم مکی اور عبد الکریم بن ابی المخارق دونوں ضعیف راوی ہیں )
1793Sunan At-Tirmidhi

گھوڑوں کا گوشت کھانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ١ ؎۔

Sayyiudina Jabir ﷺ said that Allah’s Messenger ﷺ fed us horse meat and forbade us to eat flesh of ass. [Nisai 4339]

صحيح، الإرواء (8 / 138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1793
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے، ٣ - حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں، ٥ - اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے، سلف و خلف میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر علما کی اکثریت اس کی حلت کی قائل ہے، جو اسے حرام سمجھتے ہیں، یہ حدیث اور اسی موضوع کی دوسری احادیث ان کے خلاف ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی حرمت کی وجہ جیسا کہ بخاری میں ہے یہ ہے کہ یہ ناپاک اور پلید حیوان ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٣٢١٩)، والصید ٢٧ (٥٥٢٠)، و ٢٨ (٥٥٢٤)، صحیح مسلم/الصید ٦ (١٩٤١)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٦ (٣٧٨٨)، سنن النسائی/الصید ٢٩ (٤٣٣٢)، وانظر: سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٤ (١٩٦١)، والذبائح ١٢ (٣١٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٩)، و مسند احمد (٣/٣٢٢، ٣٢٥٦، ٣٦١، ٣٦٢، ٣٨٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٢ (٢٠٣٦) (صحیح )
1794Sunan At-Tirmidhi

پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ زَمَنَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِهما ابنا محمد ابن الحنفية، وعبد الله بن محمد يكنى أبا هاشم، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وقَالَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ١ ؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔

Sayyidina Ali said that during the. Battle Khaybar Allah’s Messenger forbade mutah and meat of domestic ass. [Bukhari 4219, Muslim 1941]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد اللہ والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی،
1795Sunan At-Tirmidhi

پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَالْمُجَثَّمَةَ وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَنَسٍ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَأَبِي ثَعْلَبَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هَذَا الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا ذَكَرُوا حَرْفًا وَاحِدًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ .

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن ہر کچلی دانت والے درندہ جانور، «مجثمة» ١ ؎ اور پالتو گدھے کو حرام قرار دیا۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade, during the Battle of Khaybar, beast of prey, targetted animals, and domestic ass.

حسن صحيح، الصحيحة (358 و 2391)، الإرواء (2488 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1795
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبدالعزیز بن محمد اور دوسرے لوگوں نے بھی اسے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے صرف ایک جملہ بیان کیا ہے «نهى رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم عن کل ذي ناب من السباع» یعنی صرف کچلی والے درندوں کا ذکر کیا، مجثمہ اور پالتو گدھے کا ذکر نہیں کیا ، ٣ - اس باب میں علی، جابر، براء، ابن ابی اوفی، انس، عرباض بن ساریہ، ابوثعلبہ، ابن عمر اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ پرندہ یا خرگوش جس کو باندھ کر نشانہ لگایا جائے، یہاں تک کہ مرجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٦) (حسن صحیح )
1796Sunan At-Tirmidhi

کفار کے برتنوں میں کھانا

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ فَقَالَ: أَنْقُوهَا غَسْلًا وَاطْبُخُوا فِيهَا وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبْعٍ ذِي نَابٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَرُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو ثَعْلَبَةَ اسْمُهُ جُرْثُومٌ، وَيُقَالُ جُرْهُمٌ وَيُقَالُ: نَاشِبٌ وَقَدْ ذُكِرَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ.

ابوثعلبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مجوس کی ہانڈیوں (برتنوں) کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: انہیں دھو کر صاف کرو اور ان میں کھانا پکاؤ، اور آپ نے ہر کچلی دانت والے درندے جانور سے منع فرمایا ۔

Sayyidina Abu Tha’labah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ was asked about the vessels of the Majusis. He said,”Wash them and cook in them.” And he disallowed every beast with a fang.

صحيح ومضی برقم (1620)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1796
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے، ان سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٢ - ابوثعلبہ کا نام جرثوم ہے، انہیں جرہم اور ناشب بھی کہا گیا ہے، ٣ - یہ حدیث «عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن أبي ثعلبة» کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح )
1797Sunan At-Tirmidhi

کفار کے برتنوں میں کھانا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ،وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو ، پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کردیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہوجائے تو اسے کھاؤ۔

Abu Qilahab reported from Abu Asma Rahabi from Abu Tha’labah Khushanni (RA) that he submitled, “O Messenger of Allah, we are in the land of the people of the Scripture. We cook in their vessels and drink from their utensils.” He said, “If you do not find vessels other than that then wash them with water.” He submitted again, “O Messenger of Allah, in this land, there are games. How do we act?” He said, “If you set out your trained dog and say Bismillah and it kills (a game) then eat it. If the dog is untrained then slaughter the game. And if you cast your arrow, saying Bismillah, and it kills then eat it.’ [Bukhari 5496, Muslim 1930]

صحيح، ابن ماجة (3207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1797
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح )
1798Sunan At-Tirmidhi

اگ چوہا گھی میں گر کر مرجائے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَصَحُّ وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَهُوَ حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ: وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ فِيهِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ: إِذَا كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ هَذَا خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مَعْمَرٌ، قَالَ: وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مرگئی، رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے اور جو کچھ چکنائی اس کے اردگرد ہے اسے پھینک دو ١ ؎ اور (بچا ہوا) گھی کھالو ۔

Sayyidah Maymunah (RA) said that a mouse once dropped into clarified butter (ghee), and died. The Prophet ﷺ was asked about it, and he said, “Throw it and throw that which is around it. Eat the rest.’ [Muslim 2020, Ahmed 4537, Abu Dawud 3776]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1798
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند سے بھی آئی ہے «الزهري عن عبيد اللہ عن ابن عباس أن النبي صلی اللہ عليه وسلم»، راویوں نے اس میں «عن میمونة» کا واسطہ نہیں بیان کیا ہے، ٣ - میمونہ کے واسطہ سے ابن عباس کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٤ - معمر نے بطریق: «الزهري، عن ابن أبي هريرة، عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ حدیث (سند) غیر محفوظ ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر کی حدیث جسے وہ «عن الزهري عن سعيد ابن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: جب گھی جما ہوا ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا گھی پھینک دو اور اگر پگھلا ہوا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ یہ خطا ہے، اس میں معمر سے خطا ہوئی ہے، صحیح زہری ہی کی حدیث ہے جو «عن عبيد اللہ عن ابن عباس عن ميمونة» کی سند سے آئی ہے ٢ ؎، ٥ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جمی ہوئی چیز ہو، اور اگر سیال ہے تو پھر پورے کو پھینک دیا جائے گا۔ ٢ ؎: معمر کی مذکورہ روایت مصنف عبدالرزاق کی ہے، معمر ہی کی ایک روایت نسائی میں (رقم: ٤٢٦٥ ) میمونہ سے بھی ہے جس میں سیال اور غیر سیال کا فرق ابوہریرہ ؓ ہی کی روایت کی طرح ہے، سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے اگرچہ یہ دونوں روایات متکلم فیہ ہیں، لیکن ایک مجمل روایت ہی میں نسائی کا لفظ ہے «سمن جامد» جما ہوا گھی اور یہ سند صحیح ہے، بہرحال اگر صحیحین کی مجمل روایت ہی کو لیا جائے تو بھی ارد گرد اسی گھی کا ہوسکتا ہے جو جامد ہو، سیال میں ارد گرد ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ چوہیا اس میں گھومتی رہے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٧ (٢٣٥)، والذبائح ٣٤ (٥٥٣٨)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٨ (٣٨٤١)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١٠ (٤٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٥)، وط/الاستئذان ٧ (٢٠)، و مسند احمد (٦/٣٢٩، ٣٣٠، ٣٣٥) وسنن الدارمی/الطہارة ٥٩ (٧٦٥)، والأطعمة ٤١ (٢١٢٨، ٢١٢٩، ٢١٣٠، ٢١٣١) (صحیح )
1799Sunan At-Tirmidhi

بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَحَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ مَالِكٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “None of you must eat with his left hand, for the devil eats with his left hand and drinks with his left hand.” [Muslim 2020]

صحيح، الصحيحة (1236)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1799
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح مالک اور ابن عیینہ نے بسند «الزهري عن أبي بکر بن عبيد اللہ عن ابن عمر» روایت کی ہے، معمر اور عقیل نے اسے زہری سے، بسند «سالم بن عبداللہ عن ابن عمر» روایت کی ہے، مالک اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں جابر، عمر بن ابی سلمہ، سلمہ بن الاکوع، انس بن مالک اور حفصہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ضروری ہے، اور بائیں ہاتھ سے مکروہ ہے، البتہ کسی عذر کی صورت میں بائیں کا استعمال کھانے پینے کے لیے جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠٢٠) سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٠ (٣٧٧٦)، (تحفة الأشراف: ٨٥٧٩)، وط/صفة النبی ﷺ ٤ (٦)، و مسند احمد (٢/١٠٦)، سنن الدارمی/الأطعمة ٩ (٢٠٧٣) (صحیح )
1800Sunan At-Tirmidhi

بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ .

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (لم یذکرہ المزي) (صحیح )
1801Sunan At-Tirmidhi

انگلیاں چاٹنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنَ الْمُخْتَلِفِ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس انگلی میں برکت ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you eats, he must lick his fingers (after finishing), for, he does not know in which of them lies blessing.” [Muslim 2033]

صحيح، الروض النضير (19)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1801
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عبدالعزیز کی یہ حدیث، مختلف کے قبیل سے ہے، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے، ٣ - اس باب میں جابر، کعب بن مالک اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ہم اسے اس سند سے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ برکت اس میں تھی جسے وہ کھاچکا یا اس میں ہے جو اس کی انگلیوں میں لگا ہوا ہے، یا اس میں ہے جو کھانے کے برتن میں باقی رہ گیا ہے، اس لیے کھاتے وقت کھانے والے کو ان سب کا خیال رکھنا ہے، تاکہ اس برکت سے جو کھانے میں اللہ نے رکھی ہے محروم نہ رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٢٧)، و مسند احمد (٢/٣٤٠، ٤١٥) (صحیح )
1802Sunan At-Tirmidhi

گرجانے والا لقمہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَسَقَطَتْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گرجائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ١ ؎، اسے پھر کھالے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When one of you eats his meal and a morsal falls down, he must pick it up and remove the doubtful portion and eat the rest. He must not leave it for the devil.” [Ahmed 14943]

صحيح، ابن ماجة (3279)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1802
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گرے ہوئے نوالہ پر جو گردوغبار جم گیا ہے، اسے ہٹا کر اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے، اسے کھالے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے کیونکہ چھوڑنے سے اس نعمت کی ناقدری ہوگی، لیکن اس کا بھی لحاظ رہے کہ وہ نوالہ ایسی جگہ نہ گرا ہو جو ناپاک اور گندی ہو، اگر ایسی بات ہے تو بہتر ہوگا کہ اسے صاف کر کے کسی جانور کو کھلا دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٣)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٣ (٣٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧٨)، و مسند احمد (٣/٣٠١، ٢٣١، ٣٣١)، ٣٣٧، ٣٦٦، ٣٩٤) (صحیح )
1803Sunan At-Tirmidhi

گرجانے والا لقمہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ ، وَقَالَ: إِذَا مَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلِتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: amp;qquot; إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے تھے ١ ؎، آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا نوالہ گرجائے تو اس سے گرد و غبار دور کرے اور اسے کھالے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ، آپ نے ہمیں پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی ہوئی ہے ۔

Sayyidina Anas reported that when the Prophet ﷺ finished eating, he would lick his three fingers. He would say, “If a morsel of one of you falls down then he must clean it remove the inj’urous, and eat it and leave it not for the devil.” He commanded us to lick the plate clean, saying, “You cannot imagine in which portion of your meal lies blessing.” [Ahmed 12815, Muslim 2034, Abu Dawud 3845]

صحيح مختصر الشمائل (120)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1803
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے کھانے کے لیے جن تین انگلیوں کا استعمال کیا وہ یہ ہیں: انگوٹھا، شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٤)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥٠ (٣٨٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٣)، و مسند احمد (٣/١١٧، ٢٩٠)، سنن الدارمی/١ الأطعمة ٨ (٢٠٧١) (صحیح )
1804Sunan At-Tirmidhi

گرجانے والا لقمہ

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ وَكَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ لِسِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ.

ام عاصم کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نبیشہ الخیر آئے، ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے تو پیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے ۔

Sayyidah Umm Aasim (RA) the Umm Walad of Sinan ibn Salamah, narrated: Nubayshah al-Khayr visited us while we were having our meal from a bowl. She said to us that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone who eats from a bowl and licks it then the bowl seeks forgiveness for him.” [Ibn e Majah 3271]

ضعيف، ابن ماجة (3271) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (703)، المشکاة (4218)، ضعيف الجامع الصغير (5478) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1804
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف معلی بن راشد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - یزید بن ہارون اور کئی ائمہ حدیث نے بھی یہ حدیث معلی بن راشد سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٠ (٣٢٧١)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٨) (ضعیف) (سند میں معلی بن راشد اور ام عاصم دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں )
1805Sunan At-Tirmidhi

کھانے کے درمیان سے کھانا کھانے کی کراہت

حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَرَكَةُ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کناروں سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Blessing descends in the middle of the food. So, eat from its sides and not from the middle.” [Ibn e Majah 3277] SAW) said, “If anyone who eats from a bowl and licks it then the bowl seeks forgiveness for him.” [Ibn e Majah 3271]

صحيح، ابن ماجة (3277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1805
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور صرف عطاء بن سائب کی روایت سے معروف ہے، اسے شعبہ اور ثوری نے بھی عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں کھانے کا ادب و طریقہ بتایا گیا ہے کہ درمیان سے مت کھاؤ بلکہ اپنے سامنے اور کنارے سے کھاؤ، کیونکہ برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اور اس برکت سے تاکہ سبھی فائدہ اٹھائیں، دوسری بات یہ ہے کہ ایسا کرنے سے جو حصہ کھانے کا بچ جائے گا وہ صاف ستھرا رہے گا، اور دوسروں کے کام آ جائے گا، اس لیے اس کا خیال رکھا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ١٨ (٣٧٧٢)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٢ (٣٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٦)، سنن الدارمی/الأطعمة ١٦ (٢٠٩٠) (صحیح )
1806Sunan At-Tirmidhi

لہسن اور پیاز کھانے کی کراہت

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ الثُّومِ ثُمَّ قَالَ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ان میں سے لہسن کھائے، یا لہسن، پیاز اور گندنا ١ ؎ - کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے ٢ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone eats this” the narrator said, “Garlic” The first time, but named garlic and onion and leek the second time must not come near us in our mosque.” [Bukhari 855, Muslim 564]

صحيح، الإرواء (547)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1806
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابوایوب، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، جابر بن سمرہ، قرہ بن ایاس مزنی اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بدبودار سبزیاں یا ایسی چیزیں جن میں بدبو ہوتی ہے۔ ٢ ؎: بعض احادیث میں «فلا یقربن المساجد» ہے، اس حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ لہسن، پیاز اور اسی طرح کی بدبودار چیزیں کھا کر مسجدوں میں نہ آیا جائے، کیونکہ فرشتے اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں۔ دیگر بدبودار کھانے اور بیڑی سگریٹ وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦ (٨٥٤)، والأطعمة ٤٩ (٥٤٥٢)، والاعتصام ٢٤ (٧٣٥٩)، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٤)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤١ (٣٨٢٢)، سنن النسائی/المساجد ١٦ (٧٠٨)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٧)، و مسند احمد (٣/٣٧٤، ٣٨٧) (صحیح )
1807Sunan At-Tirmidhi

پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَيُّوبَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ يَوْمًا بِطَعَامٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى أَبُو أَيُّوبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِيهِ ثُومٌ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ ؟، قَالَ: لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ہجرت کے بعد) ابوایوب انصاری ؓ کے گھر ٹھہرے، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ ابوایوب انصاری ؓ کے پاس بھیجتے، آپ نے ایک دن (پورا) کھانا (واپس) بھیجا، اس میں سے نبی اکرم ﷺ نے کچھ نہیں کھایا، جب ابوایوب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اس میں لہسن ہے؟ ، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔

Sayyidina Jabir (RA) ibn Samurah narrated : When Allah’s Messenger ﷺ stayed with Abu Ayyub . . and had eaten hi meal, he would return what remained. One day, he returned to him food from which he had eaten nothing. When Abu Ayyub s.i came to him and mentioned that, the Prophet ﷺ said, “There was garlic in it.” He asked, “O Messenger of Allah, is it unlawful?” He said, “No, but I dislike it because of its odour.” [Muslim 2053, Ahmed 23596]

صحيح، الإرواء (2511)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1807
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٠٧) (صحیح )