لباس کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 22 · 75 hadiths · Page 4 of 4

1780Sunan At-Tirmidhi

کپڑوں میں پیوند لگانا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيّ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ثِقَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: صَحِبْتُ الْأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْبَرَهَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي، وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اگر تم (آخرت میں) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ said to me, “If you intend to join me (in the Hereafter) then let the world suffice you like the provision of a journey. And, it is impertative that you abstain from sitting with the rich people and do not cease to wear a garment till you put a patch on it.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف جدا، الضعيفة (1294)، التعليق الرغيب (4 / 98)، المشکاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) // ضعيف جدا، الضعيفة (1294)، التعليق الرغيب (4 / 98)، المشکاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1780 صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1780
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں، ٤ - نبی اکرم ﷺ کے فرمان «إياک ومجالسة الأغيناء» کا مطلب اسی طرح ہے جیسا کہ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس آدمی کو دیکھے جس کو صورت اور رزق میں اس پر فضیلت دی گئی ہو، تو اسے چاہیئے کہ اپنے سے کم تر کو دیکھے جس کے اوپر اس کو فضیلت دی گئی ہے، کیونکہ اس کے لیے مناسب ہے کہ اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ کرے ، ٤ - عون بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں: میں مالداروں کے ساتھ رہا تو اپنے سے زیادہ کسی کو غمزدہ نہیں دیکھا، کیونکہ میں اپنے سے بہتر سواری اور اپنے سے بہتر کپڑا دیکھتا تھا اور جب میں غریبوں کے ساتھ رہا تو میں نے راحت محسوس کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٧) (ضعیف جداً ) (سند میں ” صالح بن حسان “ متروک ہے) سنن ابی داود/ الترجل ١٢ (٤١٩١)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١١) (صحیح )
1781Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا أَعْرِفُ لِمُجَاهِدٍ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ١ ؎۔

Sayyidah Umm Hani (RA) said that when Allah’s Messenger ﷺ came to Makkah, he had four plaits (in his hair). [Abu Dawud 4191]

صحيح، ابن ماجة (3631)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1781
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے گردوغبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو، کیونکہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1782Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ يَقُولُ: كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةً.

ابوکبشہ انماری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔

Abdullah ibn Busr reported that he heard Sayyidina Abu Kabshah Anmari (RA) say that the caps of the sahabah of Allah’s Messenger ﷺ were flat (level with their heads).

ضعيف، المشکاة (4333 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1782
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث منکر ہے، ٢ - عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ٣ - «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢١٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن بسر مکی ضعیف ہیں )
1783Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ، فَقَالَ: هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.

حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا: یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کرلو، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کرسکتے ١ ؎۔

Sayyidina Huzayfah (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ caught the shin of my leg, or of his own leg, and said, “This is the limit of the lower garment (or wrapper) and if you cannot reconcile then a little lower, and, if not, then if has no right on the ankles.” [Ibn e Majah 3572]

صحيح، ابن ماجة (3572)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1783
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تہ بند باندھنے کی اصل جگہ آدھی پنڈلی تک اگر اس سے نیچا رکھنا ہے تو ٹخنوں سے کچھ اوپر تک رکھنے کی گنجائش ہے، اس سے نیچا رکھنا منع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٧ (٣٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٣٨٣) و مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠١) (صحیح )
1784Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُكَانَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلَا نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيَّ، وَلَا ابْنَ رُكَانَةَ.

محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے ۔

Abu Ja’far ibn Muhan-unad ibn Rukanah reported on the authority of his father that when Rukanah wrestled with him, the Prophet ﷺ iii knocked him down. Rukanah said that he heard Allah’s Messenger iit say, “The difference between us and the polytheists lies in turbans over caps (that we wear).” [Abu Dawud 4078] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (4340)، الإرواء (1503) // ضعيف الجامع الصغير (3959)، ضعيف أبي داود (882 / 4078) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1784
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی سند قائم (صحیح) نہیں ہے، ٣ - ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٢٤ (٤٠٧٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابو جعفر بن محمد مجہول ہیں نیز محمد بن علی یزید بن رکانہ اور ان کے پردادا رکانہ یا محمد بن یزید بن رکانہ ان کے دادا کے درمیان انقطاع ہے، اس بابت سخت اختلاف ہے دیکھئے: تہذیب الکمال )
1785Sunan At-Tirmidhi

لوہے اور پیتل کی انگوٹھی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ ، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ، قَالَ: مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آرہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: چاندی کی اور (وزن میں) ایک مثقال سے کم رکھو ۔

Abdullah ibn Buraydah reported on the authority of his father that a man came to the Prophet ﷺ He had an iron ring on his hand. He asked, “Why is it that I see on you the adornment of the people of Fire?” When he came again, he wore a ring of yellow copper, and the Prophet ﷺ said, ‘Why do I smell the odour of idols on you?” Then the next time he had on him a ring of gold, and he asked him, “Why is it that I see on you the ornament of the inhabitants of paradise?” He asked, “What material should I select?” He said, “Silver, but not weighing as much as a mithqal.’ [Abu Dawud 4223] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (4396)، آداب الزفاف (128)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1785
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ٣ - عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخاتم ٤ (٤٢٢٣)، سنن النسائی/الزینة ٤٦ (٥١٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٨٢)، و مسند احمد (٥/٣٥٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابو طیبہ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اکثر وہم ہوجایا کرتا تھا )
1786Sunan At-Tirmidhi

ریشمی کپڑا پہننے کی ممانعت

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُوسَى، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَائِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.

علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے «قسي» (ایک ریشمی کپڑا) سرخ (رنگ کا ریشمی) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔

Sayyidina Ali narrated : Allah’s Messenger ﷺ forbade me to wear silk clothing, to ride on red saddle cloth and to wear a ring on the middle finger, or the one next to it [Muslim 2078]

صحيح - بلفظ فی هذه أو هذه شک عاصم - الضعيفة (5499)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1786
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧)، والذکر ١٨ (٢٧٢٥)، سنن ابی داود/ الخاتم ٤ (٤٢٢٥)، سنن النسائی/الزینة ٥٢ (٥٢١٣)، ٧٩ (٥٢٨٨)، و ١٢١ (٥٣٧٨)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٣ (٣٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣١٨)، و مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (صحیح) ہذہ أو ہذہ کے لفظ سے صحیح ہے، اور دونوں سیاق کا معنی ایک ہی ہے )
1787Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا الْحِبَرَةُ. قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the dress dearest to Allah’s Messenger was a stripped cloak. [Bukhari 5812, Muslim 2019]

صحيح مختصر الشمائل المحمدية (51)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1787
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ١٨ (٥٨١٢)، صحیح مسلم/اللباس ٥ (٢٠٧٩)، سنن النسائی/الزینة ٩٤ (٥٣١٧)، والمؤلف في الشمائل ٨ (تحفة الأشراف: ١٣٥٣)، و مسند احمد (٣/١٣٤، ١٨٤، ٢٥١، ٢٩١) (صحیح )
1771Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ وَهَذَا أَصَحُّ.

نبی اکرم ﷺ نے درندوں کی کھال ( استعمال کرنے ) سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے ۱؎۔

Narrated Abu Al-Malih: The Prophet (ﷺ) prohibited predator skins. And this chain is more correct.