معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد کا، درجہ بدرجہ ١ ؎۔
Bahz ibn Hakim reported on the authority of his father and his grandfather that he asked, “O Messenger of Allah! ﷺ who is most deserving (of kind treatment)?” He said, “Your mother.” He asked, ‘Who next?” He said, “Your mother.” He asked, “And after her?” He (again) said, “Your mother.” He asked, “And next?” He said, “Your father. Then, the nearest, followed by the nearest.” [Bukhari 5971, Muslim 2548]
حسن، المشکاة (4929)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1897
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، شعبہ نے بہز بن حکیم کے بارے میں کلام کیا ہے، محدثین کے نزدیک وہ ثقہ ہیں، ان سے معمر، ثوری، حماد بن سلمہ اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، عائشہ اور ابو الدرداء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ماں کو تین مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے: ایک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب نو ماہ تک بچہ کو پیٹ میں رکھ کر مشقت و تکلیف برداشت کرتی ہے، دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب بچہ جننے کا وقت آتا ہے، وضع حمل کے وقت کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ماں ہی کو معلوم ہے، تیسرا مرحلہ دودھ پلانے کا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماں کو قرابت داروں میں نیکی اور صلہ رحمی کے لیے سب سے افضل اور سب سے مستحق قرار دیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٢٩ (٥١٣٩)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، و مسند احمد (٥/٣، ٥) (حسن )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، پھر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے، حالانکہ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ زیادہ بتاتے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud narrated: I asked Allah’s Messenger “O Messenger of Allah, which deed is most excellent?” He said, “Salah at its appointed time. I asked, “Then what, “O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Kindness to parents.” I asked, “What next, no Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Jihad in Allah’s path.” Then, Allah’s Messenger ﷺ observed silence with me. And, if I had asked more, he woi.ld have answered more. [Bukhari 527, Muslim 85]
صحيح، الصحيحة (1489)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے ابوعمرو شیبانی، شعبہ اور کئی لوگوں نے ولید بن عیزار سے روایت کی ہے، ٣ - یہ حدیث ابوعمرو شیبانی کے واسطہ سے ابن مسعود سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد سب سے افضل و بہتر عمل ہے، بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا یہ سب سے اچھا کام ہے، اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ سب سے اچھا کام ہے، جب کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز سب سے افضل عمل ہے، اسی لیے اس کی توجیہ میں مختلف اقوال وارد ہیں، سب سے بہتر توجیہ یہ ہے کہ افضل اعمال سے پہلے حرف «مِن» محذوف مان لیا جائے، گویا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ سب افضل اعمال میں سے ہیں، دوسری توجیہ یہ ہے کہ اس کا تعلق سائل کے احوال اور وقت کے اختلاف سے ہے، یعنی سائل اور وقت کے تقاضے کا خیال رکھتے ہوئے اس کے مناسب جواب دیا گیا۔ اور اپنی جگہ پر یہ سب اچھے کام ہیں۔
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے، اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے، (میں کیا کروں؟ ) ابوالدرداء ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو ١ ؎۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی «إن امی» (میری ماں) کہا اور کبھی «إن أبی» (میرا باپ) کہا۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that a man came to him and said, “I have a wife and my mother command’s him to divorce her.’ He said, “I heard Allah’s Messenger say, ‘The father is the central door of the doors of paradise. So, if you like demolish this door or protect it.’” Sufyan sometimes said, ‘My mother’ and at other times, ‘my father.’ [Ahmed 21776]
١ ؎: یعنی ماں باپ کے حقوق کی حفاظت کی جائے اور اس کا خاص خیال رکھا جائے، اگر والد کو جنس مان لیا جائے تو ماں باپ دونوں مراد ہوں گے، یا حدیث کا یہ مفہوم ہے کہ والد کے مقام و مرتبہ کا یہ عالم ہے تو والدہ کے مقام کا کیا حال ہوگا۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے ۔
Sayyidina Abdullah (RA) ibn Amr reported that the Prophet ﷺ said, ‘The pleasure of the Lord lies in the pleasure of the father, and the Lord’s wrath in the father’s wrath.” [Ahmed 27581]
صحيح، الصحيحة (515)
صحيح، الصحيحة (515)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1899
اس سند سے عبداللہ بن عمرو ؓ سے (موقوفاً ) اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ شعبہ نے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - شعبہ کے شاگردوں نے اسی طرح «عن شعبة عن يعلی بن عطاء عن أبيه عن عبد اللہ بن عمرو» کی سند سے موقوفا روایت کی ہے، ہم خالد بن حارث کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ہیں، جس نے شعبہ سے اس حدیث کو مرفوعاً روایت کی ہو، ٢ - خالد بن حارث ثقہ ہیں، مامون ہیں، کہتے ہیں: میں نے بصرہ میں خالد بن حارث جیسا اور کوفہ میں عبداللہ بن ادریس جیسا کسی کو نہیں دیکھا، ٣ - اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٨٨٨) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح )
ابوبکرہ نفیع بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتادوں؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، راوی کہتے ہیں: آپ اٹھ بیٹھے حالانکہ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایا: اور جھوٹی گواہی دینا ، یا جھوٹی بات کہنا رسول اللہ ﷺ باربار اسے دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ خاموش ہوجاتے ۔
Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that Allah’s Messenger asked, ‘Shall I not inform you of the great of the gravest of sins?” They said, “Of course, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “Joining partner with Allah and disobedience to parents.”He then sat straight though he had been reclining before and said, “False testimony.” or he said, “False speech.” He did not cease to say that till they hoped that he would pause. [Bukhari 2654, Muslim 87]
صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1901
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشھادات ١٠ (٢٦٥٤)، والأدب ٦ (٥٩٧٦)، والاستئذان ٣٥ (٦٢٧٣)، والمرتدین ١ (٦٩١٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٨ (٨٧)، والمؤلف في الشھادات (٢٣٠١)، وتفسیر النساء (٣٠١٩) (تحفة الأشراف: ١١٦٧٩)، و مسند احمد (٥/٣٦، ٣٨) (صحیح )
٢ - عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا، اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Among the grave sins is that a man should revile his parents.” They asked, “O Messenger of Allah, can a man revile his parents?” He said, “Yes. He abuses the father of a man who repays by abusing his father. And he abuses his mother, so he retorts and abuses the mother of this man.” [Bukhari 5973]
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he heard the Prophet ﷺ say, “The most pious of pious deeds is that a man should join ties of relationship with his father’s friends.” [Bukhari 41, Muslim 2552]
٢ - اس سند سے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، لیکن اس میں ابن عمر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three (kinds of) supplication are answered, no doubt about it: prayer of an oppressed, prayer of a traveller and the prayer of the father against his son.” [Ahmed 7513]
حسن، ابن ماجة (3862)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1905
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (١٥٣٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١١ (٣٨٦٢)، ویأتي عند المؤلف في الدعوات ٤٨ (٣٤٤٨) (تحفة الأشراف: ١١٨٧٣)، و مسند احمد (٢/٢٥٨، ٤٧٨، ٥٢٣) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور بیٹے کے اوپر باپ کی بد دعا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “A son cannot give rights of a father unless he finds him a slave of someone and buys him and sets him free. [Bukhari 10, Muslim 1510]
صحيح، ابن ماجة (3659)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1906
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - حجاج صواف نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے ہشام کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے، ابو جعفر جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے انہیں ابو جعفر مؤذن کہا جاتا ہے، ہم ان کا نام نہیں جانتے ہیں، ٢ - ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٦ (١٥١٠)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١١ (٣٦٥٩) (تحفة الأشراف: ١٢٥٩٥)، و مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٦٣، ٢٧٦، ٤٤٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے (یعنی باپ کو) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے ١ ؎۔
Sayyidina Abdur Rahaman ibn Awf (RA) narrated: I heard Allah’s Messenger ﷺ say that Allah, the Blessed and the Exalted, said, “I am Allah and I am Ar – Rahman (the Compassionate). I created Ar-Rahim ties of relationsip, and carved it out of my name. Thus he who joins it, I join him and he who severs it, I sever him.” [Bukhari 53]
صحيح، الصحيحة (520)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1907
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ہم اسے صرف سہیل بن ابی صالح کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باپ کے احسان کا بدلہ اس لیے ہے کہ غلامی کی زندگی سے کسی کو آزاد کرانا اس سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعہ کوئی کسی دوسرے پر احسان کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٤٦ (١٦٩٤) (تحفة الأشراف: ٩٧٢٨)، و مسند احمد (١/١٩١، ١٩٤) (صحیح )
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوالرداد لیثی بیمار ہوگئے، عبدالرحمٰن بن عوف ؓ ان کی عیادت کو گئے، ابوالرداء نے کہا: میرے علم کے مطابق ابو محمد (عبدالرحمٰن بن عوف) لوگوں میں سب سے اچھے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے «رحم» (یعنی رشتے ناتے) کو پیدا کیا ہے، اور اس کا نام اپنے نام سے (مشتق کر کے) رکھا ہے، اس لیے جو اسے جوڑے گا میں اسے (اپنی رحمت سے) جوڑے رکھوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں بھی اسے (اپنی رحمت سے) کاٹ دوں گا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The joiner of ties of relationship is not one who reciprocrates a kind gesture but he is one who when ties of relationship are broken with him (by the other), he keeps them joined.” [Bukhari 5991]
صحيح غاية المرام (404)، صحيح أبي داود (1489)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1908
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ابو سعید خدری، ابن ابی اوفی، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ اور جبیر بن مطعم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٢ - زہری سے مروی سفیان کی حدیث صحیح ہے، معمر نے زہری سے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن رداد الليثي عن عبدالرحمٰن بن عوف و معمر» کی سند سے روایت کی ہے، معمر نے (سند بیان کرتے ہوئے) ایسا ہی کہا ہے، محمد (بخاری) کہتے ہیں: معمر کی حدیث میں خطا ہے، (دونوں سندوں میں فرق واضح ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سند میں ابوالرداد ہے، اور امام ترمذی کے کلام میں نیچے رداد آیا ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ رداد کو بعض لوگوں نے ابوالرداد کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے، (تقریب التہذیب)۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے ١ ؎، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناتا توڑنے پر بھی صلہ رحمی کرے ۔
Sayyidina Jubayr ibn Mut’ini reported that Allah’s Messenger said, “The qaati (one who cuts off) will not enter paradise.” Ibn Umar (RA) ﷺ said that Sufyan xplained that qaati means “One who severs ties of relationship.” [Bukhari 5984]
صحيح غاية المرام (407)، صحيح أبي داود (1488)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1909
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سلمان، عائشہ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صلہ رحمی کی جائے تو صلہ رحمی کرے اور قطع رحمی کیا جائے تو قطع رحمی کرے، یہ کوئی صلہ رحمی نہیں۔
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان نے کہا: «قاطع» سے مراد «قاطع رحم» (یعنی رشتہ ناتا توڑنے والا) ہے۔
Sayyidah Khawlah bint Hakim (RA) narrated One day, Allah’s Messenger ﷺ came out carrying one of the sons of his daughter, saying, “Surely you....the lot of you children..., turn (parents) into misers, cowards and ignorants. And you are from the fragrance of Allah.”
ضعيف، الضعيفة (3214) // ضعيف الجامع الصغير (2041) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: تخریج کتاب الزہد لوکیع بن الجراح ب تحقیق، عبدالرحمن الفریوائی، حدیث نمبر ١٧٨، والضعیفة ٣٢١٤، والصحیحة ٤٧٦٤ )
خولہ بنت حکیم ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ گود میں اپنی بیٹی (فاطمہ) کے دو لڑکوں (حسن، حسین) میں سے کسی کو لیے ہوئے باہر نکلے اور آپ (اس لڑکے کی طرف متوجہ ہو کر) فرما رہے تھے: تم لوگ بخیل بنا دیتے ہو، تم لوگ بزدل بنا دیتے ہو، اور تم لوگ جاہل بنا دیتے ہو، یقیناً تم لوگ اللہ کے عطا کئے ہوئے پھولوں میں سے ہو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah(RA) narrated Aqra’ ibn Habis (RA) saw the Prophet ﷺ kiss Hasan Ibn Abu Umar said, “Hasan or Husayn.” And he commented, “I have ten children (or Sons), but I do not kiss any one of them.” So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, he who does not dispense mercy is not shown mercy.” [Bukhari 5997]
صحيح تخريج مشكلة الفقر (108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1911
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابراہیم بن میسرہ سے مروی ابن عیینہ کی حدیث کو ہم صرف انہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ہم نہیں جانتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کا سماع خولہ سے ثابت ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر اور اشعث بن قیس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, As for one of you who has three daughters or three sisters and attends to them well, he will get nothing short of admittance to paradise.” [Bukhari 1418]
ضعيف بهذا اللفظ الصحيحة تحت الحديث (294) // ضعيف الجامع الصغير (5808) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٩١٢ (تحفة الأشراف: ١٠٨٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو: حدیث رقم: ١٩١٢، وصحیح الترغیب ١٩٧٣ )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہوگا ۔
Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone has three daughters or three sisters, or two daughters or two sisters and he looks after them well, fearing Allah in this regard then for him is paradise.’
ضعيف انظر ما قبله (1911) // ضعيف الجامع الصغير (6369) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1912
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے، ٢ - اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے (سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان) ایک اور راوی (ایوب بن بشیر) کا اضافہ کیا ہے، ٣ - اس باب میں عائشہ، عقبہ بن عامر، انس، جابر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٣٠ (٥١٤٧) (تحفة الأشراف: ٤٠٤١)، و یأتي برقم ١٩١٦ (صحیح) (اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کردیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب ١٩٧٣، و الادب المفرد باب من أعلی جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الالبانی ٤٠٩، والسراج المنیر ٢/١٠٤٩ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص لڑکیوں کی پرورش سے دوچار ہو، پھر ان کی پرورش سے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے تو یہ سب لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بنیں گی ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated Allah’s Messenger said, “If anyone is tried in a little way regarding daughters and he exhibits patience with them then they will serve as an obstacle to Hell for him.” [Muslim 2631]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٠ (١٤١٨)، والأدب ١٨ (٥٩٩٥)، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٦ (٢٦٢٩)، کلاہما مع ذکر القصة المشھورة في رقم ١٩١٥، و مسند احمد (٦/٣٣، ٨٨، ١٦٦، ٢٤٣)، ویأتي عند المؤلف برقم ١٩١٥ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں، اس نے (کھانے کے لیے) کوئی چیز مانگی مگر میرے پاس سے ایک کھجور کے سوا اسے کچھ نہیں ملا، چناچہ اسے میں نے وہی دے دیا، اس عورت نے کھجور کو خود نہ کھا کر اسے اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان بانٹ دیا اور اٹھ کر چلی گئی، پھر میرے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، میں نے آپ سے یہ (واقعہ) بیان کیا تو آپ نے فرمایا: جو ان لڑکیوں کی پرورش سے دو چار ہو اس کے لیے یہ سب جہنم سے پردہ ہوں گی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated: A woman came to me with her two daughters. She asked me for something but I did not have anything except a piece of date which I gave her for herself. She divided that between her two daughters and she did not eat all all, then she stood up and went away. The Prophet ﷺ came later and I in formed him and he said, “One who is tried a little bit concerning these daughters will find them a protection from the Fire.” [Bukhari 5995]
١ ؎: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ ؓ نے اسے تین کھجوریں دی تھیں، دو کھجوریں اس نے ان دونوں بچیوں کو دے دیں اور ایک کھجور خود کھانا چاہتی تھی، لیکن بچیوں کی خواہش پر آدھا آدھا کر کے اسے بھی ان کو دے دیا، جس پر عائشہ ؓ کو بڑا تعجب ہوا، ان دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں ایک کھجور دی، پھر بعد میں جب دو کھجوریں اور مل گئیں تو انہیں بھی اس کے حوالہ کردیا، یا یہ کہا جائے کہ یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں۔
Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم ١٩١٣ (تحفة الأشراف: ١٦٣٥٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے ، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں (شہادت اور درمیانی) سے اشارہ کیا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger - said, “As for him who sustains two girls, I and he will enter paradise like these two” and, he gestured with two fingers. (The index and next fingers).
صحيح، الصحيحة (297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1914
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن عبید نے محمد بن عبدالعزیز کے واسطہ سے اسی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہے اور سند بیان کرتے ہوئے کہا ہے: «عن أبي بکر بن عبيد اللہ بن أنس» حالانکہ صحیح یوں ہے «عن عبيد اللہ بن أبي بکر بن أنس»۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٤٦ (٢٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٧١٣) (صحیح) (مسلم کی سند میں ” عن عبيد اللہ بن أبي بکر بن أنس، عن أنس بن مالک “ ہے )