عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ (شرک) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone invites a Muslim orphan to his food and drink then Allah will admit him to paradise there being not even a semblance of doubt about it unless he commits a sin that is unforgivable.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، التعليق الرغيب (3 / 230)، الضعيفة (5345) // ضعيف الجامع الصغير (5745) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے، کنیت ابوعلی رحبی ہے، سلیمان تیمی کہتے ہیں: یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ٢ - اس باب میں مرہ فہری، ابوہریرہ، ابوامامہ اور سہل بن سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٠٢٧) (ضعیف) (سند میں ” حنش “ یعنی حسین بن قیس “ متروک الحدیث ہے )
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں کی طرح ہوں گے ١ ؎ اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
Sayyidina Sahl ibn Sa’d (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I and the guardian of an orphan will be in paradise like this.” and he gestured with his two fingers, the index finger and the middle finger. [Ahmed 22883]
صحيح، الصحيحة (800)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ ہے یتیموں کے سرپرستوں کے درجات کی بلندی کی طرف یعنی یتیموں کی کفالت کرنے والے جنت میں اونچے درجات پر فائز ہوں گے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا، وہ نبی اکرم ﷺ سے ملنا چاہتا تھا، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik narrated: An old man came to meet the Prophet ﷺ The people were slow to give him passage. So, the Prophet ﷺ said, “He is not one of us who is not compassionate to our young (children) and respectful to our old.” [Bukhari 354]
صحيح، الصحيحة (2196)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - راوی زربی نے انس بن مالک اور دوسرے لوگوں سے کئی منکر حدیثیں روایت کی ہیں، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٣٨) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” زربی “ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحہ رقم: ٢١٩٦ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا مقام نہ پہچانے ۔
Abu Bakr (RA) Muhammad ibn Aban reported from Muhammad ibn Fubayl, from Muhammad ibn Ishaq, from Amir ibn Shu’ayb, from his father and from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “He is not one of us who does not show mercy to our young and (does not) know the nobility of our old people.” [Bukhari 355]
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، معروف (بھلی باتوں) کا حکم نہ دے اور منکر (بری باتوں) سے منع نہ کرے ۔
Abu Bakr (RA) Muhammad ibn Absan reported from Yazid ibn Harun, from Shank, from Layth, from Ikrimah from Ibn Abbas (RA) that Allah’s Messenger said, “He is not one of us who does not show mercy to our young and respect our old and enjoin piety and forbid evil.” [Ahmed 2329]
ضعيف، المشکاة (4970)، التعليق الرغيب (3 / 173) // ضعيف الجامع الصغير (4938) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب کے واسطہ سے مروی حدیث صحیح ہے، ٣ - عبداللہ بن عمرو سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اس قول «ليس منا» کا مفہوم یہ ہے «ليس من سنتنا ليس من أدبنا» یعنی وہ ہمارے طور طریقہ پر نہیں ہے، ٥ - علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری اس تفسیر کی تردید کرتے تھے اور اس کا مفہوم یہ بیان کرتے تھے کہ «ليس منا» سے مراد «ليس من ملتنا» ہے، یعنی وہ ہماری ملت کا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٢٠٧)، و مسند احمد (١/٢٥٧) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبي سلیم اور شریک القاضي دونوں ضعیف ہیں، مگر پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے پچھلی دونوں حدیثیں )
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص لوگوں پر مہربانی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی نہیں کرے گا ۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone does not show mercy to people then Allah will not show mercy to him.” [Bukhari 7376]
صحيح تخريج مشكلة الفقر (108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1922
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابو سعید خدری، ابن عمر، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوعثمان جنہوں نے ابوہریرہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ان کا نام نہیں معلوم ہے، کہا جاتا ہے، وہ اس موسیٰ بن ابوعثمان کے والد ہیں جن سے ابوالزناد نے روایت کی ہے، ابوالزناد نے «عن موسیٰ بن أبي عثمان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا، رحم رحمن سے مشتق (نکلا) ہے، جس نے اس کو جوڑا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) جوڑے گا اور جس نے اس کو توڑا اللہ اس کو اپنی رحمت سے کاٹ دے گا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “To those who dispense mercy, the Compasionate. Ar.Rahman is merciful. Show mercy to those who are on earth, He who is in the heaven will be merciful to you i. (Rahim) is a branch of (Ar-Rahman). Thus, Allah joins ties with him who keeps it united and severs ties with one who severs it.” [Bukhari 57]
صحيح، الصحيحة (922)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1924
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: دین سراپا خیر خواہی ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ (حکمرانوں) اور عام مسلمانوں کے لیے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said three times, “Religion is nasihah. “The sahabah (RA) asked, “O Messenger of Allah, for whom?” He said, “For Allah, for His Book, for the leaders of Muslims and their common men.” [Bukhari 57]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا اور اس کی ذات پر صحیح طور پر ایمان رکھنا یہ اللہ کے ساتھ خیر خواہی ہے، جس کا فائدہ انسان کو خود اپنی ذات کو پہنچتا ہے، ورنہ اللہ عزوجل کی خیر خواہی کون کرسکتا ہے، اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ نصیحت اور خیر خواہی کا حق اللہ کے لیے ہے جو وہ اپنی مخلوق سے کرتا ہے، اور اس کی کتاب (قرآن) کے ساتھ خیر خواہی اس کے احکام پر عمل کرنا ہے، اس میں غور و فکر اور تدبر کرنا اس کی تعلیمات کو پھیلانا اس میں تحریف سے بچنا، اس کی تصدیق کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کا التزام کرنا ہے، رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا پابند ہونا، اس کی رسالت کی تصدیق کرنا اور اس کی فرماں برداری کرنا یہ رسول کی خیر خواہی ہے، مسلمان حکمراں اور ائمہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ حق اور غیر معصیت میں ان کی اعانت و اطاعت کی جائے، سیدھے راستے سے انحراف کرنے کی صورت میں ان کے خلاف خروج و بغاوت سے گریز کرتے ہوئے انہیں معروف کا حکم دیا جائے، سوائے اس کے کہ ان سے صریحاً کفر کا اظہار ہو تو ایسی صورت میں ترک اعانت ضروری ہے، عام مسلمانوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ دنیا و آخرت سے متعلق جو بھی خیر اور بھلائی کے کام ہیں ان سے انہیں آگاہ کیا جائے، اور شر و فساد کے کاموں میں ان کی صحیح رہنمائی کی جائے، اور برائی سے روکا جائے۔
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ١ ؎۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah(RA) reported that he pledged allegiance to the Prophet ﷺ to establish salah, pay zakah and to give nasihah to all Muslims. [Muslim 55]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1925
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مالی اور بدنی عبادتوں میں نماز اور زکاۃ سب سے اصل ہیں، نیز «لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ» کی شہادت و اعتراف کے بعد ارکان اسلام میں یہ دونوں (زکاۃ و صلاۃ) سب سے اہم ہیں اسی لیے ان کا تذکرہ خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر خواہی عام وخاص سب کے لیے ہے، طبرانی میں ہے کہ جریر ؓ نے اپنے غلام کو تین سو درہم کا ایک گھوڑا خریدنے کا حکم دیا، غلام گھوڑے کے ساتھ گھوڑے کے مالک کو بھی لے آیا، جریر ؓ نے کہا کہ تمہارا گھوڑا تین سو درہم سے زیادہ قیمت کا ہے، کیا اسے چار سو میں بیچو گے؟ وہ راضی ہوگیا، پھر آپ نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ قیمت کا ہے کیا پانچ سو درہم میں فروخت کرو گے، چناچہ وہ راضی ہوگیا، پھر اسی طرح اس کی قیمت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے آٹھ سو درہم میں خریدا، اس سلسلہ میں ان سے عرض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ پر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بیعت کی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس کے ساتھ خیانت نہ کرے، اس سے جھوٹ نہ بولے، اور اس کو بےیار و مددگار نہ چھوڑے، ہر مسلمان کی عزت، دولت اور خون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے، تقویٰ یہاں (دل میں) ہے، ایک شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر و کمتر سمجھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A Muslim is the brother of a Muslim. So, he must not betray him, tell him lies or adandon him. Everything of a Muslim that is unlawful to another Muslim includes his honour, his property and his blood. Taqwa is here (in the heart). It is enough to know a man is evil when he belittles his brother, Muslim.’ [Ahmed 8109]
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں مسلمانوں کی عزت آبرو اور جان و مال کی حفاظت کرنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ ایک اہم بات یہ بتائی گئی ہے کہ تقویٰ کا معاملہ انسان کا اندرونی معاملہ ہے، اس کا تعلق دل سے ہے، اس کا حال اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا، اس لیے دوسرے مسلمان کو حقیر سمجھتے ہوئے اپنے بارے میں قطعا یہ گمان نہیں کرنا چاہیئے کہ میں زہد و تقویٰ کے اونچے مقام پر فائز ہوں، کیونکہ اس کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے ۔
Sayyidina Abu Musa Ash’ary (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A believer is to (another) believer like a building part of which supports the other part.” [Bukhari 6026]
صحيح تخريج المشکاة (104)، إيمان ابن أبى شيبة (90)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1928
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے، اگر وہ اپنے بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو اسے (اطلاع کے ذریعہ) دور کر دے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Each of you is a mirror of his brother. So, if he sees a defect in him, he must remove it from him.”
ضعيف جدا، الضعيفة (1889) // ضعيف الجامع الصغير (1371) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1929
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - شعبہ نے یحییٰ بن عبیداللہ کو ضعیف کہا ہے، ٢ - اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤١٢١) (ضعیف جداً ) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث راوی ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرما دے گا، جس نے دنیا میں کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں آسانی کرے گا، اور جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہوتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a man removes a difficulty out of a Muslim’s worldly difficulties then Allah will remove from him a difficulty of the difficulties on the day of resurrection and if anyone makes it easy for a hard-pressed in this world then Allah will make it easy for him in this world and the next, and if anyone conceals a Muslim’s faults in this world then Allah will conceal his faults in this world and the next. Indeed, Allah continues to help the slave as long as the slave continues to help his brother.” [Bukhari 2442] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1225)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1930
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو ابو عوانہ اور کئی لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، لیکن اس میں «حدثت عن أبي صالح» کے الفاظ نہیں بیان کیے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عمر اور عقبہ بن عامر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا کی خاطر دنیاوی مفاد کے بغیر جو کوئی مسلمانوں کی حاجات و ضروریات کا خاص خیال رکھے اور انہیں پوری کرے تو اس کا یہ عمل نہایت فضیلت والا ہے، ایسے شخص کی حاجات خود رب العالمین پوری کرتا ہے، مزید اسے آخرت میں اجر عظیم سے بھی نوازے گا۔
ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی عزت (اس کی غیر موجودگی میں) بچائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے بچائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone removes blame) from the honour of his brother then Allah will remove from his face the fire on the day of resurrection. [Ahmed 27130] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح غاية المرام (431)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1931
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں اسماء بنت یزید ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض احادیث میں «عن عرض أخيه» کے بعد «بالغيب» کا اضافہ ہے، مفہوم یہ ہے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کا دفاع کرے اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اس کی بڑی فضیلت ہے، اور اس کا بڑا مقام ہے، اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب العالمین اسے جہنم کی آگ سے قیامت کے دن محفوظ رکھے گا۔
ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے (کسی دوسرے مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام بند رکھے، جب دونوں کا آمنا سامنا ہو تو وہ اس سے منہ پھیر لے اور یہ اس سے منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Ayyub Ansari (RA) reported that Allah’s Messenger said, it is not lawful for a Muslim to abandon his brother for over three (days)... meeting one another hut this one turning away and that one turning away. The better of the two is he who takes an initiative in greeting.” [Bukhari 6077]
صحيح، الإرواء (2029)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1932
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، ابوہریرہ، ہشام بن عامر اور ابوہند داری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان بھائی سے ذاتی نوعیت کے معاملات کی وجہ سے ناراض رہنا درست نہیں، اور اگر اس ناراضگی کا تعلق کسی دینی معاملہ سے ہو تو علماء کا کہنا ہے کہ اس وقت تک قطع تعلق درست ہے جب تک وہ سبب دور نہ ہوجائے جس سے یہ دینی ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ؓ (ہجرت کر کے) مدینہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، سعد بن ربیع نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے کہا: آؤ تمہارے لیے اپنا آدھا مال بانٹ دوں، اور میرے پاس دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے شادی کرلو، عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتاؤ، انہوں نے ان کو بازار کا راستہ بتادیا، اس دن وہ (بازار سے) کچھ پنیر اور گھی لے کر ہی لوٹے جو نفع میں انہیں حاصل ہوا تھا، اس کے (کچھ دنوں) بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے اوپر زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ (یہ زردی کیسی) کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: اس کو مہر میں تم نے کیا دیا؟ کہا: ایک (سونے کی) گٹھلی، (یا گٹھلی کے برابر سونا) آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو ۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: When Abdul Rahman ibn Awf (RA) came to Madinah, Allah’s Messenger ﷺ established fraternal ties between him and Sa’d ibn Rabi.’ He said to him, “Come, I will apportion to you my wealth, half of it. And, I have two wives, so I will divorce one of them and when she completes her waiting period, you may marry her. But, he said, ‘May Allah bless you in your family and your wealth. Guide me to the market.” So, he led him to the market. That very day, he did not return but he had with him some cheese and clarified butter which was his profit. Later (after some days), Allah’s Messenger saw him and he had a yellow stain on him and asked him about it. He said, “I have married an Ansar woman.” The Prophet ﷺ asked, “How much dower have you given her?” He said, ‘Nawat of gold.” He said, “Give a wedding feast, even a sheep.” [Bukhari 2048]
صحيح، ابن ماجة (1907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1933
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - احمد کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے، ٣ - اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس انداز سے اپنے بھائی کا تمہارا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے ، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ چیز اس میں موجود ہو جسے میں بیان کر رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت (چغلی) کی، اور جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر تہمت باندھی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that someone asked Allah’s Messenger ﷺ . ‘“What is backbiting?” He said, “It is your remembrance of your brother in a way that he does not like.” He asked, “What, if that fault I mention is found in him?” He said, “If what you say is found in him then that is backbiting. But, if what you say is not found in him then that is reviling him.” [Ahmed 3308, Abu Dawud 4874, Muslim 2589] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح غاية المرام (426)، نقد الکتانی (36)، الصحيحة (2667)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1934
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبرزہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غیبت (چغلی) حرام اور کبیرہ گناہ ہے، قرآن کریم میں اسے مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے، اس حدیث میں بھی اس کی قباحت بیان ہوئی، اور قباحت کی وجہ یہ ہے کہ غیبت کرنے والا اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے، اور اس کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے، غیبت یہ ہے کہ کسی آدمی کا تذکرہ اس طور پر کیا جائے کہ جو اسے ناپسند ہو، یہ تذکرہ الفاظ میں ہو، یا اشارہ و کنایہ میں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپس میں قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے بےرخی نہ اختیار کرو، باہم دشمنی و بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے سلام کلام بند رکھے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, do not sever ties of relationship, do not criticize one who is absent, do not despise anyone and do not be jealous of someone. But, be slaves of Allah, brothers mutually. It is not lawful for a Muslim to abandon his brother for over three days.” [Ahmed 12074, Bukhari 6026, Muslim 2559, Abu Dawud 4910]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، زبیر بن عوام، ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسلام نے مسلم معاشرہ کی اصلاح اور اس کی بہتری کا خاص خیال رکھا ہے، اس حدیث میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی اصلاح معاشرہ اور سماج کی سدھار سے ہے، صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے، ہاہمی بغض و عناد اور دشمنی سے باز رہنے کو کہا گیا ہے، حسد جو معاشرہ کے لیے ایسی مہلک بیماری ہے جس سے نیکیاں جل کر راکھ ہوجاتی ہیں، اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیئے، ایک اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس میں سے رات دن (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتا ہے، دوسرا اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے علم قرآن دیا اور وہ رات دن اس کا حق ادا کرتا ہے ١ ؎۔
Saalim reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “Envy is disallowed except in two cases: a man whom Allah has given wealth and he spends of it by night and by day, and a man whom Allah has given the Qur’an and he stands with it (giving its right) by night and by day.’ [Bukhari 7529, Muslim 815] --------------------------------------------------------------------------------
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حسد کی دو قسمیں ہیں: حقیقی اور مجازی، حقیقی حسد یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے پاس موجود نعمت کے ختم ہوجانے کی تمنا و خواہش کرے، حسد کی یہ قسم بالاتفاق حرام ہے، اس کی حرمت سے متعلق صحیح نصوص وارد ہیں، اسی لیے اس کی حرمت پر امت کا اجماع ہے، حسد کی دوسری قسم رشک ہے، یعنی دوسرے کی نعمت کے خاتمہ کی تمنا کیے بغیر اس نعمت کے مثل نعمت کے حصول کی تمنا کرنا، اس حدیث میں حسد کی یہی دوسری قسم مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ٤٥ (٧٥٢٩)، صحیح مسلم/ صلاة المسافرین ٤٧ (٨١٥)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٢ (٤٢٠٩) (تحفة الأشراف: ٦٨١٥)، و مسند احمد (٢/٩، ٣٦، ٨٨، ١٣٣، ١٥٢) (صحیح )