جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مصلی اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش میں رہتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, the devil has despaired of being worshipped by those who offer salah, but he retains hope of setting them against each other.” [Muslim 2812]
صحيح، الصحيحة (1606)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں انس اور «سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبيه» سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مسلمان مرتد ہو کر بت پرستی کریں گے، اور شیطان کو پوجیں گے، اس مایوسی کے بعد وہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے، ان کے اندر بزدلی پیدا کرنے، جنگ وجدال اور فتنوں میں انہیں مشغول رکھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ١٦ (٢٨١٢) (تحفة الأشراف: ٢٣٠٢)، و مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٤، ٣٦٦، ٣٨٤) (صحیح )
اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف تین جگہ پر جھوٹ جائز اور حلال ہے، ایک یہ کہ آدمی اپنی بیوی سے بات کرے تاکہ اس کو راضی کرلے، دوسرا جنگ میں جھوٹ بولنا اور تیسرا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔
Sayyidah Asma bint Yazid reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Falsehood is not lawful except in three cases: a man speaks to his wife to please her, and one lies in war, and one lies to reconcile people.” Mahmud said in his hadith, “Falsehood is not correct except in three cases.
صحيح دون قوله: ليرضيها، الصحيحة (545)
صحيح دون قوله: ليرضيها، الصحيحة (545)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1939
داود بن ابی ہند نے یہ حدیث شہر بن حوشب کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، لیکن اس میں اسماء ؓ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسماء کی حدیث کو ہم صرف ابن خیثم کی روایت سے جانتے ہیں۔ ٣ - اس باب میں ابوبکر ؓ سے بھی روایت ہے۔
ام کلثوم بنت عقبہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور وہ (خود ایک طرف سے دوسرے کے بارے میں) اچھی بات کہے، یا اچھی بات بڑھا کر بیان کرے ١ ؎۔
Sayyidah Umm Kuithum bint Uqbah (RA) reported having heard from Allah’s Messenger ﷺ . “One who lies to reconcile people thereby is not a liar. Rather, he is speaker of good, or promoter of good.” [Bukhari 2692, Muslim 2605]
١ ؎: لوگوں کے درمیان صلح و مصالحت کی خاطر اچھی باتوں کا سہارا لے کر جھوٹ بولنا درست ہے، یہ اس جھوٹ کے دائرہ میں نہیں آتا جس کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے، مثلاً زید سے یہ کہنا کہ میں نے عمر کو تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے وغیرہ، اسی طرح کی بات عمر کے سامنے رکھنا، ایسا شخص جھوٹا نہیں ہے، بلکہ وہ ان دونوں کا محسن ہے، اور شریعت کی نظر میں اس کا شمار نیک لوگوں میں ہے۔
ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللہ تعالیٰ اسے تکلیف دے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sirmah (RA) reported the saying of Allah’s Messenger ﷺ . ‘If anyone causes harm then he will be harmed by Allah. He who behaves in a hostile manner will be dealt with in a hostile way by Allah.” [Abu Dawud 3635]
حسن، الإرواء (896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1940
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس نے کسی مسلمان کو مالی و جانی نقصان اور عزت و آبرو میں ناحق تکلیف دی، اللہ تعالیٰ اس پر اسی جیسی تکلیف ڈال دے گا، اسی طرح جس نے کسی مسلمان سے ناحق جھگڑا کیا اللہ اس پر مشقت نازل کرے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٥)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٧ (٢٣٤٠) (تحفة الأشراف: ١٢٠٦٦٣)، و مسند احمد (٣/٤٥٣) (حسن )
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کے لیے ان کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر (گوشت کا) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وارث بنادیں گے ١ ؎۔
Mujahid narrated: A sheep was slaughtered for Abdullah ibn Amr (RA) in his house. When he came, he asked, “Have you given some to our Jew neighbour? Have you given some to our Jew neighbour? I had heard Allah’s Messenger say, ‘Jibril did not cease to instruct me about the neighbour till I thought that he would make him an heir.” [Abu Dawud 5152]
صحيح، الإرواء (891)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1943
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث مجاہد سے عائشہ اور ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، انس، مقداد بن اسود، عقبہ بن عامر، ابوشریح اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک پڑوسی وہ ہے جو غیر مسلم ہے یعنی کافر و مشرک اور یہودی، نصرانی، مجوسی وغیرہ، اسے صرف پڑوس میں رہنے کا حق حاصل ہے، دوسرا وہ پڑوسی ہے جو مسلم ہے، اسے اسلام اور پڑوس میں رہنے کے سبب ان دونوں کا حق حاصل ہے، ایک تیسرا پڑوسی وہ ہے جو مسلم بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ ناتے والا بھی ہے، ایسے پڑوسی کو اسلام، رشتہ داری اور پڑوس میں رہنے کے سبب تینوں حقوق حاصل ہیں، ایسے ہی مسافر بھی پڑوسی ہے اس کے ساتھ اس تعلق سے بھی حقوق ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت (تاکید) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں (بھی) شریک ٹھہرا دیں گے ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Jibril did not cease to instruct me concerning the neighbour so that I thought he would make him an heir.” [Bukhari 6014, Muslim 2624]
صحيح المصدر نفسهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنے کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٢٨ (٦٠١٤)، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٢ (٢٦٢٤)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٢ (٥١٥١)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤ (٢٦٧٣) (تحفة الأشراف: ١٧٩٤٧)، و مسند احمد (٦/٩١، ١٢٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو لوگوں میں اپنے دوست کے لیے بہتر ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The best of companions in the sight of Allah is he who is the best for his companions, and the best of neighbours in Allah’s sight is the best of them for his neighbour.” [Ahmed 6577]
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے زیر دست کردیا ہے، لہٰذا جس کے تحت میں اس کا بھائی (خادم) ہو، وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے، اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اسے کسی ایسے کام کا مکلف نہ بنائے جو اسے عاجز کر دے، اور اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بناتا ہے، جو اسے عاجز کر دے تو اس کی مدد کرے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “(They are) your brothers whom Allah has caused to grow young under your hands. Hence, he, under whose hand is his brother, must feed him from his own food and clothe him from his own clothing, and not burden him with what he cannot do. If he burdens him with what he cannot do then he must lend him a hand.” [Bukhari 2545, Muslim 16611
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1945
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ام سلمہ، ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٢ (٣٠)، والتعق ١٥ (٢٥٤٥)، والأدب ٤٤ (٦٠٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ١٠ (١٦٦١)، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٠ (٣٦٩٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٨٠)، و مسند احمد (٥/١٥٨، ١٧٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ١ ؎ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Abu Qasim, the Prophet ﷺ bestowed with the characteristic to repent, said, “If anyone accuses his slave, whether male or female, of adultery and they are innocent then Allah will inflict on him the prescribed punishment on the Day of Resurrection unless it is as he had said.” [Bukhari 6858]
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کہنے والے کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا: ابومسعود جان لو، ابومسعود جان لو (یعنی خبردار) ، جب میں نے مڑ کر دیکھا تو میرے پاس رسول اللہ ﷺ تھے آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے جتنا کہ تم اس غلام پر قادر ہو ۔ ابومسعود کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے اپنے کسی غلام کو نہیں مارا ١ ؎۔
Sayyidina Abu. (RA) narrated I was beating my slave. Suddenly, I heard a speaker behind me say, “Beware, O Abu Mas’ud! Beware, O Abu Mas’ud!” So, I turned (my face) and as I was facing Allah’s Messenger ﷺ . He said, “Allah is more powerful over you than you are over him.” After that, I never beat a servant. [Muslim 1659]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1948
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ ـ: غلاموں اور نوکروں چاکروں پر سختی برتنا مناسب نہیں، بلکہ بعض روایات میں ان پر بےجا سختی کرنے یا جرم سے زیادہ سزا دینے پر وعید آئی ہے، نبی اکرم ﷺ اللہ کی جانب سے جلالت وہیبت کے جس مقام پر فائز تھے اس حدیث میں اس کی بھی ایک جھلک دیکھی جاسکتی ہے، چناچہ آپ کے خبردار کہنے پر ابومسعود اس غلام کو نہ صرف یہ کہ مارنے سے رک گئے بلکہ آئندہ کسی غلام کو نہ مارنے کا عہد بھی کر بیٹھے اور زندگی اس پر قائم رہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ (خادم) اللہ کا نام لے لے تو تم اپنے ہاتھوں کو روک لو ۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one of you beats his servant and he mentions Allah then he must raise his hand away.”
ضعيف (1441) // ضعيف الجامع الصغير (582)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1950
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
راوی ابوہارون عبدی کا نام عمارہ بن جو ین ہے، ابوبکر عطار نے یحییٰ بن سعید کا یہ قول نقل کیا کہ شعبہ نے ابوہارون عبدی کی تضعیف کی ہے، یحییٰ کہتے ہیں: ابن عون ہمیشہ ابوہارون سے روایت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٦٣) (ضعیف) (سند میں ” ابو ہارون عمارة بن جو ین عبدی “ متروک الحدیث راوی ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ ﷺ اس شخص کے اس سوال پر خاموش رہے، اس نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ نے فرمایا: ہر دن ٧٠ (ستر) بار معاف کرو ۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar narrated: A man came to the Prophet ﷺ and asked, “O Messenger of Allah, how many times may I forgive my servant?” He did not say anything. He asked again, “O Messenger of Allah, how many times may I forgive my servant?” He said, “Seventy times every day.”
صحيح، الصحيحة (488)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1949
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے عبداللہ بن وہب نے بھی ابوہانی خولانی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٣٣ (٥١٦٤) (تحفة الأشراف: ٧١١٧، ٨٨٣٦)، و مسند احمد (٢/٩٠، ١١١) (صحیح) (اس حدیث کے ” عبد اللہ بن عمر بن خطاب “ یا ” عبد اللہ بن عمرو بن العاص “ کی روایت سے ہونے میں اختلاف ہے جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کردیا، مزی نے ابوداود کی طرف عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت، اور ترمذی کی طرف عبد اللہ بن عمر ابن خطاب کی روایت کی نسبت کی ہے )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے لڑکے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ دینے سے بہتر ہے ۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, That a man trains his son manners is better than that he gives in sadaqah one sa.” [Ahmed 20954]
ضعيف الضعيفة (1887) // ضعيف الجامع الصغير (4642) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1951
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - راوی ناصح کی کنیت ابوالعلا ہے، اور یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، یہ حدیث صرف اسی سند سے معروف ہے، ٣ - ناصح ایک دوسرے شیخ بھی ہیں جو بصرہ کے رہنے والے ہیں، عمار بن ابوعمار وغیرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں، اور یہ ان سے زیادہ قوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢١٩٥) (ضعیف) (سند میں ” ناصح “ ضعیف راوی ہیں )
عمرو بن سعید بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا ۔
Ayyub ibn Musa reported on the authority of his father who from his grand father that Allah’s Messenger ﷺ said, “No father gave a better gift to his son than (teaching) good manners.” [Ahmed 15403]
ضعيف الضعيفة (1121)، نقد الکتاني ص (20) // ضعيف الجامع الصغير (5227) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1952
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عامر بن ابوعامر خزاز کی روایت سے جانتے ہیں، اور عامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں، ٢ - راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں، ٣ - یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «ایوب» ہیں تو ان کے دادا «عمرو بن سعید الأشرق» صحابی نہیں ہیں، اور اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «موسیٰ» ہیں تو ان کے دادا «سعید بن العاص» بہت چھوٹے صحابی ہیں، ان کا سماع نبی کریم ﷺ سے نہیں ہے، تب یہ روایت مرسل صحابی ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٤٧٣) (ضعیف) (سند میں ” عامر بن صالح “ حافظہ کے کمزور ہیں، اور ” موسیٰ بن عمرو “ مجہول الحال )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔
Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ accepted gifts and reciprocated the gesture. [Bukhari 2585, Abu Dawud 3536]
صحيح، الإرواء (1603)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1953
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف عیسیٰ بن یونس کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام سے روایت کرتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
١ ؎: یعنی جو اللہ کے بندوں کا ان کے توسط سے ملنے والی کسی نعمت پر شکر گزار نہ ہو حالانکہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو ایسے شخص سے یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ کا شکر گزار بندہ ہوگا؟ یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کا شکر اس احسان پر جو اللہ نے اس پر کیا ہے نہیں قبول کرے گا، جب تک کہ بندہ لوگوں کے احسان کا شکر ادا نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٢ (٤٨١١) (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٨)، و مسند احمد (٢/٢٩٥، ٣٠٣، ٤٦١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘He who did not express gratitude to people did not thank Allah.” [Ahmed 3044]
صحيح بما قبله (1954)، المشکاة (3025)، الصحيحة (417)، التعليق الرغيب (2 / 56)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1955
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٣٥) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے دو راوی ” محمد بن ابی لیلی “ اور ” عطیہ عوفی “ ضعیف ہیں )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے، تمہارا بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، بھٹک جانے والی جگہ میں کسی آدمی کو تمہارا راستہ دکھانا تمہارے لیے صدقہ ہے، نابینا اور کم دیکھنے والے آدمی کو راستہ دکھانا تمہارے لیے صدقہ ہے، پتھر، کانٹا اور ہڈی کو راستے سے ہٹانا تمہارے لیے صدقہ ہے، اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں تمہارا پانی ڈالنا تمہارے لیے صدقہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Your smile before your brother is a sadaqah for you, and your enjoining piety and forbidding evil is a sadaqah. Your guiding one who is lost on the land is a sadaqah for you. Your leading the blind is a sadaqah for you. Your removing from the thoroughfare a stone, a thorn or a bone is for you a sadaqah. And, your filling with your bucket the bucket of your brother is a sadaqah for you. [Ahmed 21538]
صحيح، الصحيحة (572)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1956
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، جابر، حذیفہ، عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اس حدیث میں مذکور سارے کام ایسے ہیں جن کی انجام دہی پر ثواب اسی طرح ملتا ہے جس طرح کسی صدقہ کرنے والے کو ملتا ہے۔