براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ١ ؎، یا چاندی قرض دی، یا کسی کو راستہ بتایا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا ۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that he heard the Prophet ﷺ say, “If anyone gives a minhah of milk or silver, or guides one who is lost then he will get reward for setting free a male slave or a female slave.” [Ahmed 18687]
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 34 و 241)، المشکاة (1917 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1957
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابواسحاق کی روایت سے جسے وہ طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - منصور بن معتمر اور شعبہ نے بھی اس حدیث کی روایت طلحہ بن مصرف سے کیا ہے، ٣ - اس باب میں نعمان بن بشیر ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٤ -«من منح منيحة ورق» کا مطلب ہے بطور قرض دینا «هدى زقاقا» کا مطلب ہے راستہ دکھانا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی کو اونٹ، گائے یا بکری دیا تاکہ وہ دودھ سے فائدہ اٹھائے اور پھر جانور واپس کر دے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اسے ایک کانٹے دار ڈالی ملی، اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام سے خوش ہو کر اس کو بدلہ دیا یعنی اس کی مغفرت فرما دی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “A man who walks on the road finds a thorny branch and puts it away. Allah will reward him for that and forgive him.” [Bukhari 652]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1958
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبرزہ، ابن عباس اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that the Prophet ﷺ said, “When a man narrates something and goes away then that is a trust with you.” [Abu Dawud 4868]
صحيح، الصحيحة (1089)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1959
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابن ابی ذئب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص تم سے کوئی بات کہے اور کہتے ہوئے مڑ کر دائیں بائیں دیکھے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ راز کی بات ہے جو صرف تم سے ہو رہی ہے کسی دوسرے کو اس کی خبر نہ ہو لہٰذا سننے والے کی امانت داری میں سے ہے کہ وہ اسے راز رکھے کیونکہ یہ مجلس کے آداب میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٣٧ (٤٨٦٨) (تحفة الأشراف: ٢٣٨٤)، و مسند احمد (٣/٣٨٠) (حسن )
اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے گھر میں صرف زبیر کی کمائی ہے، کیا میں اس میں سے صدقہ و خیرات کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، صدقہ کرو اور گرہ مت لگاؤ ورنہ تمہارے اوپر گرہ لگا دی جائے گی ١ ؎۔ «لا توكي فيوكى عليك» کا مطلب یہ ہے کہ شمار کر کے صدقہ نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی شمار کرے گا اور برکت ختم کر دے گا ٢ ؎۔
Sayyidah Asma bint Abu Bakr (RA) narrated: I said, “O Messenger of Allah, I have nothing but it belongs to Zubayr. Can I give sadaqah from it?” He said, “Yes! Do not hoard, else it will be kept away from you too.” [Bukhari 1433, Muslim 1029]
صحيح، صحيح أبي داود (1490)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1960
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض راویوں نے اس حدیث کو «عن ابن أبي مليكة عن عباد بن عبد اللہ بن الزبير عن أسماء بنت أبي بکر رضي اللہ عنهما» کی سند سے روایت کی ہے ٣ ؎، کئی لوگوں نے اس حدیث کی روایت ایوب سے کی ہے اور اس میں عباد بن عبیداللہ بن زبیر کا ذکر نہیں کیا، ٣ - اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بخل نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ برکت ختم کر دے گا۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال کے ختم ہوجانے کے ڈر سے صدقہ خیرات نہ کرنا منع ہے، کیونکہ صدقہ و خیرات نہ کرنا ایک اہم سبب ہے جس سے برکت کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے، اس لیے کہ رب العالمین خرچ کرنے اور صدقہ دینے پر بیشمار ثواب اور برکت سے نوازتا ہے، مگر شوہر کی کمائی میں سے صدقہ اس کی اجازت ہی سے کی جاسکتی ہے جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت آئی ہے۔ ٣ ؎: یعنی ابن ابی ملیکہ اور اسماء بنت ابی بکر کے درمیان عباد بن عبداللہ بن زبیر کا اضافہ ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سخی آدمی اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے، بخیل آدمی اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، اور جہنم سے قریب ہے، جاہل سخی اللہ کے نزدیک بخیل عابد سے کہیں زیادہ محبوب ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The generous person is near to Allah, near to paradise and near to the people, and far away from the fire. The miser is far from Allah, far from paradise and far from the people, but near to the fire. An ignorant generous person is dearer to Allah than an ascetic miser.”
ضعيف جدا الضعيفة (154) // ضعيف الجامع الصغير (3341) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1961
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے «يحيى بن سعيد عن الأعرج عن أبي هريرة» کی سند سے صرف سعد بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سعید سے اس حدیث کی روایت کرنے میں سعید بن محمد کی مخالفت کی گئی ہے، (سعید بن محمد نے تو اس سند سے روایت کی ہے جو اوپر مذکور ہے) جب کہ یہ «عن يحيى بن سعيد عن عائشة» کی سند سے بھی مرسلاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٣) (ضعیف جداً ) (سند میں ” سعید بن محمد الوراق “ سخت ضعیف ہے، بلکہ بعض کے نزدیک متروک الحدیث راوی ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کے اندر دو خصلتیں بخل اور بداخلاقی جمع نہیں ہوسکتیں ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger said, “There are two characteristics that cannot be associated with a Believer, miserliness and evil manners.”
ضعيف الضعيفة (1119)، نقد الکتاني (33 / 33) // ضعيف الجامع الصغير (2833) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1962
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صدقہ بن موسیٰ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ حسن خلق اور خیر خواہی کا نام ایمان ہے، اس لیے جس شخص میں یہ دونوں خوبیاں پائی جائے گی وہ مومن کامل ہوگا، اور ایسا مومن کامل بخیل اور بداخلاقی جیسی بری اور قابل مذمت صفات سے دور ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤١١٠) (ضعیف) (سند میں ” صدقہ بن موسیٰ “ حافظہ کے کمزور ہیں )
ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دھوکہ باز، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں نہیں داخل ہوں گے ۔
Sayyidina Abu Bakr Siddiq (RA) , the truthful, reported that the Prophet ﷺ said, “The deceiver, the miser and one who is not benevolent will not enter paradise.” [Ahmed 32]
ضعيف أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (6339) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1963
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٦٢٠) (ضعیف) (سند میں صدقہ بن موسیٰ، اور فرقد سبخی دونوں ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے، اور فاجر دھوکہ باز اور کمینہ خصلت ہوتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Believer is tender and compassionate while the sinner is deceitful and mean.” [Abu Dawud 4790] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، الصحيحة (932)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1964
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مومن اپنی شرافت اور سادگی کی وجہ سے دنیاوی منفعت کو منفعت سمجھتے ہوئے اس کا حریص نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات دھوکہ کھا کر اسے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، اس کے برعکس ایک فاجر شخص دوسروں کو دھوکہ دے کر انہیں نقصان پہنچاتا ہے جو اس کے کمینہ خصلت ہونے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٦ (٤٧٩٠) (تحفة الأشراف: ١٥٣٦٢)، و مسند احمد (٢/٣٩٤) (حسن )
ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے جہاد کی سواری پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ، ابوقلابہ کہتے ہیں: آپ نے بال بچوں کے نفقہ (اخراجات) سے شروعات کی پھر فرمایا: اس آدمی سے بڑا اجر و ثواب والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں حرام چیزوں سے بچاتا ہے اور انہیں مالدار بناتا ہے ۔
Sayyidina Thawban (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The most excellent of dinars is the dinar a man spends on his family, and the dinar he spends on his animal in Allah’s path, and the dinar a man spends on his companions in the path of Allah.” Abu Qilabah said that he began with the family. Then, the Prophet ﷺ said, “Which of the men can be more deserving of reward than the man who spends on his family having young children whom Allah protects through him and makes them independent.” [Muslim 994]
صحيح، ابن ماجة (2760)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1966
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١٢ (٩٩٤)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤ (٢٧٦٠) (تحفة الأشراف: ٢١٠١)، و مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٧٩، ٢٨٤) (صحیح )
ابوشریح عدوی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا اور کانوں نے آپ سے سنا، آپ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرے ، صحابہ نے عرض کیا، مہمان کی عزت و تکریم اور آؤ بھگت کیا ہے؟ ١ ؎ آپ نے فرمایا: ایک دن اور ایک رات، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Shurayh Adawi narrated: My eyes saw Allah’s Messenger ﷺ and my ears heard him when he spoke. He said, “One who believes in Allah and the Last Day must honour his guest and serve him his jaizah.” The sahabah asked him what his jaizah was. He said, “A day and a night.” He added, “And the hospitality is for three days what is beyond that is sadaqah. And he who believes in Allah and the Last Day must speak a good word, or keep quiet.” (Jaizah is provision of a traveler). [Bukhari 6019]
صحيح، ابن ماجة (3675)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1967
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کتنے دن تک اس کے لیے پرتکلف کھانا بنایا جائے۔ ٢ ؎: اس حدیث میں ضیافت اور مہمان نوازی سے متعلق اہم باتیں مذکور ہیں، مہمان کی عزت و تکریم کا یہ مطلب ہے کہ خوشی سے اس کا استقبال کیا جائے، اس کی مہمان نوازی کی جائے، پہلے دن اور رات میں اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کیا جائے، مزید اس کے بعد تین دن تک معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، اپنی زبان ذکر الٰہی، توبہ و استغفار اور کلمہ خیر کے لیے وقف رکھے یا بےفائدہ فضول باتوں سے گریز کرتے ہوئے اسے خاموش رکھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٩) و ٨٥ (٦١٣٥)، والرقاق ٢٣ (٦٤٧٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٩ (٤٨)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥ (٣٧٤٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٥) (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٦)، وط/صفة النبي ﷺ ١٠ (٢٢)، و مسند احمد (٤/٣١)، و (٦/٣٨٤)، وسنن الدارمی/الأطعمة ١١ (٢٠٧٨) (صحیح )
ابوشریح کعبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ضیافت (مہمان نوازی) تین دین تک ہے، اور مہمان کا عطیہ (یعنی اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کرنا) ایک دن اور ایک رات تک ہے، اس کے بعد جو کچھ اس پر خرچ کیا جائے گا وہ صدقہ ہے، مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے پاس (تین دن کے بعد بھی) ٹھہرا رہے جس سے اپنے میزبان کو پریشانی و مشقت میں ڈال دے ۔
Sayyidina Abu Shurayh Ka’bi reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Hospitality extends to three days while his jaizah is for a day and a night, and whatever is spent on him (the guest) after that is sadaqah. It is not lawful for a Muslim to stay with the host longer so that he is inconvenienced.” This means that the guest should not prolong his stay as to cause a burden the host and hurt him.
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مالک بن انس اور لیث بن سعد نے اس حدیث کی روایت سعید مقبری سے کی ہے، ٣ - ابوشریح خزاعی کی نسبت الکعبی اور العدوی ہے، اور ان کا نام خویلد بن عمرو ہے، ٤ - اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥ - «لا يثوي عنده» کا مطلب یہ ہے کہ مہمان گھر والے کے پاس ٹھہرا نہ رہے تاکہ اس پر گراں گزرے، ٦ - «الحرج» کا معنی «الضيق» (تنگی ہے) اور «حتی يحرجه» کا مطلب ہے «يضيق عليه» یہاں تک کہ وہ اسے پریشانی و مشقت میں ڈال دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٩)، و ٨٥ (٦١٣٥)، والرقاق ٢٣ (٦٤٧٦)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥ (٣٧٤٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٥) (تحفة الأشراف: ٢٠٥٦) و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ١٠ (٢٢)، و مسند احمد (٤/٣١)، و (٦/٣٨٤)، و سنن الدارمی/الأطعمة ١١ (٢٠٧٨) (صحیح )
صفوان بن سلیم نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بیوہ اور مسکین پر خرچ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا اس آدمی کی طرح ہے جو دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتا ہے۔
Safwan ibn Sulaym reported in a marfu’ manner that the Prophet ﷺ said, ‘One who endeavours to look after the needs of widows and the poor is like a warrior in the path of Allah or like one who keeps fast during the day and stands (in prayer) during the night.” [Bukhari 5353]
صحيح، ابن ماجة (2140)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1969
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٢٥ (٦٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٨١٨) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، صفوان تابعی ہیں، اگلی روایت کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، مالک کے طرق کے لیے دیکھئے: فتح الباری ٩/٤٩٩ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every piety is a sadaqah. And, it is also piety that you meet your brother with a cheerful face and that you pour water from your bucket into your brother’s bucket.” [Bukhari 6021]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوذر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف مال ہی خرچ کرنا صدقہ نہیں ہے، بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے، چناچہ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے، اور دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سچ بولو، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتا ہے، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Bind yourself to truth, for, truth leads to piety. And, piety leads to paradise. A man does not cease to speak truth and search for truth, but is recorded with Allah as truthful. And, refrain from falsehood, for, falsehood leads to indecency and indecency leads to the fire. And, a man does not cease to lie and look out for falsehood till he is recorded as a liar in Allah’s sight.” [Bukhari 6094]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1971
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، عمر، عبداللہ بن شخیر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ہمیشہ جھوٹ سے بچنا اور سچائی کو اختیار کرنا چاہیئے، کیونکہ جھوٹ کا نتیجہ جہنم اور سچائی کا نتیجہ جنت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٦٩ (٦٠٩٤)، صحیح مسلم/البر والصلة ٢٩ (٢٦٠٧)، و القدر ١ (٢٦٤٣)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٦) (تحفة الأشراف: ٩٢٦١)، و مسند احمد (١/٣٨٤، ٤٠٥)، و سنن الدارمی/الرقاق ٧ (٢٧٥٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے ۔
It is reported by Sayyidina Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ said, “When a man lies, the angel moves away from him to a mile’s distance because of the (pungent) odour emanating from him.”
ضعيف جدا، الضعيفة (1828) // ضعيف الجامع الصغير (680) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1972
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن جید غریب ہے ٢ - یحییٰ بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحیم بن ہارون سے پوچھا: کیا آپ سے عبدالعزیز بن ابی داود نے یہ حدیث بیان کی؟ کہا: ہاں، ٣ - ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اس کی روایت کرنے میں عبدالرحیم بن ہارون منفرد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٧٦٧) (ضعیف جداً ) (سند میں ” عبد الرحیم بن ہارون “ سخت ضعیف راوی ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی اور عادت نفرت کے قابل ناپسندیدہ نہیں تھی، اور جب کوئی آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس جھوٹ بولتا تو وہ ہمیشہ آپ کی نظر میں قابل نفرت رہتا یہاں تک کہ آپ جان لیتے کہ اس نے جھوٹ سے توبہ کرلی ہے،
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي ولا یوجد ھو في أکثر النسخ) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں بہتر ہیں، نبی اکرم ﷺ بےحیاء اور بدزبان نہیں تھے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of you are those of you who have very good manners.” And it was not given to the Prophet ﷺ to ever indulge in indecent talk and he was not indecent. [Bukhari 6029] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1975