Sunan At-Tirmidhi 1957

نیکی و صلہ رحمی کا بیان

1957Sunan At-Tirmidhi

عاریت دینا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَشُعْبَةُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، هَذَا الْحَدِيثَ، وَفِي الْبَابِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ: قَرْضَ الدَّرَاهِمِ، قَوْلُهُ: أَوْ هَدَى زُقَاقًا يَعْنِي بِهِ: هِدَايَةَ الطَّرِيقِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ١ ؎، یا چاندی قرض دی، یا کسی کو راستہ بتایا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا ۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that he heard the Prophet ﷺ say, “If anyone gives a minhah of milk or silver, or guides one who is lost then he will get reward for setting free a male slave or a female slave.” [Ahmed 18687]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 34 و 241)، المشکاة (1917 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1957
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابواسحاق کی روایت سے جسے وہ طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - منصور بن معتمر اور شعبہ نے بھی اس حدیث کی روایت طلحہ بن مصرف سے کیا ہے، ٣ - اس باب میں نعمان بن بشیر ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٤ -«من منح منيحة ورق» کا مطلب ہے بطور قرض دینا «هدى زقاقا» کا مطلب ہے راستہ دکھانا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی کو اونٹ، گائے یا بکری دیا تاکہ وہ دودھ سے فائدہ اٹھائے اور پھر جانور واپس کر دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٨٧)، وانظر مسند احمد (٤/٢٩٦، ٣٠٠) (صحیح )