سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ (کسی پر) اللہ کی لعنت نہ بھیجو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو ١ ؎۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not invoke on each other the curse of Allah. His anger or the Fire.” [Abu Dawud 4906]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابن عمر اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے وقت یہ مت کہو کہ تم پر اللہ کی لعنت، اس کے غضب کی لعنت اور جہنم کی لعنت ہو، کیونکہ یہ ساری لعنتیں کفار و مشرکین اور یہود و نصاری کے لیے ہیں، نہ کہ آپ ﷺ کی امت کے لیے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بےحیاء اور بدزبان نہیں ہوتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A Believer does not taunt or curse or be immoral or rude (with anyone).” [Ahmed 3839]
صحيح، الصحيحة (320)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1977
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث عبداللہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں مومن کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں کہ مومن کامل نہ تو کسی کو حقیر و ذلیل سمجھتا ہے، نہ ہی کسی کی لعنت و ملامت کرتا ہے، اور نہ ہی کسی کو گالی گلوج دیتا ہے، اسی طرح چرب زبانی، زبان درازی اور بےحیائی جیسی مذموم صفات سے بھی وہ خالی ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک آدمی نے ہوا پر لعنت بھیجی تو آپ نے فرمایا: ہوا پر لعنت نہ بھیجو اس لیے کہ وہ تو (اللہ کے) حکم کی پابند ہے، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجی جو لعنت کی مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: A man cursed the wind in the presence of the Prophet ﷺ He said, “Do not curse the wind, for, it is under command. And, if anyone curses something of which it is not liable then the curse rebounds on him.” [Abu Dawud 4908] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1978
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بشر بن عمر کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس قدر اپنا نسب جانو جس سے تم اپنے رشتے جوڑ سکو، اس لیے کہ رشتہ جوڑنے سے رشتہ داروں کی محبت بڑھتی ہے، مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے، اور آدمی کی عمر بڑھا دی جاتی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Learn about your genealogies that you may be able to join ties of relationship, for joining ties of relationship is a means of extending love among the family, increase in wealth and delaying death.” [Ahmed 8877]
صحيح، الصحيحة (276)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1979
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - «منسأة في الأثر» کا مطلب ہے «الزيادة في العمر» یعنی عمر کے لمبی ہونے کا سبب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ نیک عمل کی توفیق ملتی ہے، اور مرنے کے بعد لوگوں میں اس کا ذکر جمیل باقی رہتا ہے، اور اس کی نسل سے صالح اولاد پیدا ہوتی ہیں۔ اگر حقیقی طور پر عمر ان نیک اعمال سے ہوتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بعید بات نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی دعا اتنی جلد قبول نہیں ہوتی ہے جتنی جلد غائب آدمی کے حق میں غائب آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar reported that the Prophet ﷺ said, the supplication that receives the quickest answer is that of an absent person for an absent person.”
ضعيف، ضعيف أبي داود (269 / 2) // عندنا برقم (330 / 1535)، ضعيف الجامع الصغير (5065)، المشکاة (2247) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1980
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - راوی افریقی حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ایسی دعا ریا کاری اور دکھاوے سے خالی ہوتی ہے، صدق دلی اور خلوص نیت سے نکلی ہوئی یہ دعا قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (١٥٣٥) (تحفة الأشراف: ٨٨٥٢) (ضعیف) (سند میں ” عبدالرحمن بن أبی نعم “ ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں میں سے گالی کا گناہ ان میں سے شروع کرنے والے پر ہوگا، جب تک مظلوم حد سے آگے نہ بڑھ جائے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for two revilers, what they utter is against the beginner of the two provided the wronged one does not overstep.” [Muslim 2587]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1981
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن مسعود اور عبداللہ بن مغفل ؓ سے بھی حدیثیں مروی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر مظلوم بدلہ لینے میں ظالم سے تجاوز کر جائے تو ایسی صورت میں دونوں کے گالی گلوج کا وبال اسی مظلوم کے سر ہوگا نہ کہ ظالم کے سر۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کو گالی دے کر زندوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔
Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah narrated: Allah’s Messenger said, “Do not revile the dead because that hurts the living.” [Ahmed 18235] --------------------------------------------------------------------------------
اس حدیث کی روایت کرنے میں سفیان کے شاگرد مختلف ہیں، بعض نے حفری کی حدیث کے مثل روایت کی ہے (یعنی: «عن زياد بن علاقة، عن المغيرة» کے طریق سے) اور بعض نے اسے «عن سفيان عن زياد بن علاقة قال سمعت رجلا يحدث عند المغيرة بن شعبة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جھگڑا کرنا کفر ہے ١ ؎۔ راوی زبید بن حارث کہتے ہیں: میں نے ابو وائل شقیق بن سلمہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث عبداللہ بن مسعود ؓ سے سنی ہے؟ کہا: ہاں۔
Sayyidina Abdullah reported from Allah’s Messenger ﷺ that he said, “To revile a Muslim is sinful and to fight against him is disbelief.” Zubayd asked Abu Wail if he had heard this hadith from Abdullah directly, he confirmed, “Yes.” [Bukhari 48, Muslim 64]
صحيح، ابن ماجة (69)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1983
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھے کیونکہ ناحق کسی کو گالی دینا باعث فسق ہے، اور ناحق جھگڑا کرنا کفار کا عمل ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا ، (یہ سن کر) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں ١ ؎۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “In Paradise, there are upper chambers their exterior can be seen from their interior, and their interior from their exterior side.” A villager stood up and asked, “For whom are they, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “For those who speak a good word, feed the food, fast often, and pray by night when people are asleep.” [Ahmed 1337]
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ٣ - عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خوش کلامی، کثرت سے روزے رکھنا، اور رات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں اللہ کے لیے نماز پڑھنی یہ ایسے اعمال ہیں جو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والے ہیں، شرط یہ ہے کہ یہ سب اعمال ریاکاری اور دکھاوے سے خالی ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤالف وأعادہ في صفة الجنة ٣ (٢٥٢٧) (تحفة الأشراف: ١٠٢٩٦) و مسند احمد (١/١٥٦) (حسن) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق واسطی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے لیے کیا ہی اچھا ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کریں اور اپنے مالک کا حق ادا کریں ، آپ کے اس فرمان کا مطلب لونڈی و غلام سے تھا ١ ؎۔ کعب ؓ کہتے ہیں: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “How excellent is one who obeys Allah and (at the same time) gives the right of his master...he being a slave whether male or female.” And Ka’b said, “Allah and His Messenger spoke the truth.” [Muslim 1667]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا وہ غلام اور لونڈی جو رب العالمین کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے مالک کے جملہ حقوق کو اچھی طرح سے ادا کریں ان کے لیے دو گنا ثواب ہے، ایک رب کی عبادت کا دوسرا مالک کا حق ادا کرنے کا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Three people will be on mounds of musk.” Ibn Umar (RA) said, “I think that he also said: On the Day of Resurrection.” Allah’s Messenger said, “A slave who gives the rights of Allah and the rights of his master, a man who is Imam and whose followers are happy with him, and a man who calls for salah (calling the adhan) five times every day and night.” [Ahmed 4799] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (666) // ضعيف الجامع الصغير (2579)، وسيأتي برقم (470 / 2705) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1986
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ٢ - ابوالیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے، انہیں عثمان بن عمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہور ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اذان دیتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وأعادہ في صفة الجنة ٢٥ (٢٥٦٦) (تحفة الأشراف: ٦٧١٨)، وانظر مسند احمد (٢/٢٦) (ضعیف) (سند میں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے، اور تشیع میں بھی غالی ہے )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد (جو تم سے ہوجائے) بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے ١ ؎ اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Fear Allah wherever you are. Follow your evil deed with a pious deed that it may erase it. And meet people in a cheerful manner.” [Ahmed 21412] --------------------------------------------------------------------------------
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Shun misgivings. Indeed, misgiving is the most false kind of conversation.” [Bukhari 6066]
صحيح غاية المرام (417)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1988
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان کہتے ہیں کہ ظن دو طرح کا ہوتا ہے، ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب ہے اور ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب نہیں ہے، جو ظن گناہ کا سبب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر لائے، اور جو ظن گناہ کا سبب نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر نہ لائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی حدیث میں بدگمانی سے بچنے کی سخت تاکید ہے، کیونکہ یہ جھوٹ کی بدترین قسم ہے اس لیے عام حالات میں ہر مسلمان کی بابت اچھا خیال رکھنا ضروری ہے سوائے اس کے کہ کوئی واضح ثبوت اس کے برعکس موجود ہو۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر والوں کے ساتھ اس قدر مل جل کر رہتے تھے کہ ہمارے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ابوعمیر! نغیر کا کیا ہوا؟ ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: Allah’s Messenger used to mix with us with familiarity. He would say to my younger brother, “O Abu Umayr! What does Nughayr do?’ [Bukhari 6129]
صحيح وقد مضی (333)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1989
Notes · وضاحت
١ ؎: نغیر گوریا کی مانند ایک چڑیا ہے جس کی چونچ لال ہوتی ہے، ابوعمیر نے اس چڑیا کو پال رکھا تھا اور اس سے بہت پیار کرتے تھے، جب وہ مرگئی تو نبی اکرم ﷺ تسلی مزاح کے طور پر ان سے پوچھتے تھے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں (خوش طبعی اور مزاح میں بھی) حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated we said, “O Messenger of Allah, you joke with us.” He said, “I do not speak but the truth.” [Ahmed 7831]
١ ؎: لوگوں کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے ہمیں مزاح (ہنسی مذاق) اور خوش طبعی کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ خود خوش طبعی کرتے ہیں، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مزاح اور خوش طبعی کے وقت بھی میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا، جب کہ ایسے موقع پر دوسرے لوگ غیر مناسب اور ناحق باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے دو کان والے! محمود بن غیلان کہتے ہیں: ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ ﷺ نے اس سے مزاح کیا۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that the Prophet ﷺ said to him, “O one with two ears!” Mahmud said on the authority of Usamah that Anas (RA) meant to say that he was joking. [Abu Dawud 5002]
صحيح مختصر الشمائل (200)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1992
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٩٢ (٥٠٠٢)، ویأتي في المناقب ٥٦ (برقم: ٣٨٢٨) (تحفة الأشراف: ٩٣٤)، و مسند احمد (٣/١١٧، ١٢٧، ٢٤٢، ٢٦٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا ، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟ ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that a man requested Allah’s Messenger ﷺ for a riding beast. He said, “I will give you the young of a she-camel to ride.” He said, “O Messenger of Allah, what shall I do with the young of a she-camel. Allah’s Messenger ﷺ said, “Does any other than a she-camel give birth to a camel?” [Abu Dawud 4998] --------------------------------------------------------------------------------
١ ؎: یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے، ایسے ہی آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: «لا تدخل الجنة عجوز» یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان: «إني حاملک علی ولد الناقة» کا بھی حال ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیا جائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (جھگڑے کے وقت) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا ۔
Sayyidina Anas ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “For him who abandons lying and it is vain, a house will be built at the edge of paradise. And for him who abandons dispute though he is rightful, a house is built in the centre of paradise. And, for him who makes his manners excellent, a house is built in the heights of paradise.” [Ibn Majah 51]
ضعيف بهذا اللفظ، ابن ماجة (51) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (6)، الصحيحة (273)، ضعيف الجامع برقم (5522) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1993
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٥١) (تحفة الأشراف: ٨٦٨) (ضعیف) سند میں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں، صحیح الفاظ ابو امامہ ؓ کی حدیث سے اس طرح ہیں: ” أنا زعیم ببیت في ربض الجنة لمن ترک المزاح و إن کان محقا، و بیت في وسط الجنة لمن ترک الکذب و إن کان مازحا، و بیت في اعلی الجنة لمن حسن خلقہ “ (أبو داود رقم ٤٨٠٠) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة ٢٧٣ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی سے مت جھگڑو، نہ اس سے ہنسی مذاق کرو، اور نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی تم خلاف ورزی کرو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Do not quarrel with your brother, do not tease him and do not make a promise to him that you will break.”
ضعيف، المشکاة (4892 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6274) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1995
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦١٥١) (ضعیف) (سند میں ” لیث بن أبی سلیم “ ضعیف راوی ہیں )