نیکی و صلہ رحمی کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 25 · 146 hadiths · Page 6 of 8

1996Sunan At-Tirmidhi

حسن سلوک

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ أَخُو الْعَشِيرَةِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میں آپ کے پاس تھی، آپ نے فرمایا: یہ قوم کا برا بیٹا ہے، یا قوم کا بھائی برا ہے ، پھر آپ نے اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور اس سے نرم گفتگو کی، جب وہ نکل گیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو اس کو برا کہا تھا، پھر آپ نے اس سے نرم گفتگو کی ١ ؎، آپ نے فرمایا: عائشہ! لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کی بد زبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں ۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated: A man sought permission to visit Allah’s Messenger while I was also there. He said, “How evil is the son of the clan, or the brother of the clan.” He allowed him in, and conversed with him with tenderness. When he went away, I said, ‘O Messenger of Allah, you spoke of him as you did but afterwards relented towards him with soft speech.” He said, “O Aisha (RA) , the worst of men is he whom people avoid because of his indecent speech.” [Bukhari 3132]

صحيح، الصحيحة (1049)، مختصر الشمائل (301)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1996
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے برا ہوتے ہوئے بھی اس کے مہمان ہونے پر اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣٨ (٦٠٣٢)، و ٤٨ (٦٠٥٤)، و ٨٢ (٦١٣١)، صحیح مسلم/البر والصلة ٢٢ (٢٥٩١)، سنن ابی داود/ الأدب ٦ (٤٧٩١) (تحفة الأشراف: ١٦٧٥٤) (صحیح )
1997Sunan At-Tirmidhi

محبت اور بغض میں میانہ روی اختیار کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا، رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا، بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے دوست سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دوستی رکھو شاید وہ کسی دن تمہارا دشمن ہوجائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported in a marfu’ from that the Prophet ﷺ said, “Love your friend with moderation; perhaps he might become contemptuous some day. And let your dislike (for anyone) be within limits, perhaps he might turn your friend one day.

صحيح غاية المرام (472)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1997
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - یہ حدیث ایوب کے واسطہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے، حسن بن ابی جعفر نے اپنی سند سے اس کی روایت کی ہے، جو علی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ تک پہنچتی ہے، یہ روایت بھی ضعیف ہے، اس روایت کے سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ علی سے موقوفا مروی ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٤٣٢) (صحیح) (انظر غایة المرام رقم: ٤٧٢ )
1998Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر (گھمنڈ) ہوگا ١ ؎ اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا ٢ ؎۔

Sayyidina Abdullah reported that Allah’s Messenger said, “He in whose heart is pride even so much as a grain of mustard seed will not enter paradise. And he who has faith in his heart even as much as a grain of mustard seed will not enter Hell.” [Muslim 2853]

صحيح تخريج إصلاح المساجد (115)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1998
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، سلمہ بن الاکوع اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد جنت میں پہلے پہل جانے کا ہے، ورنہ ہر موحد سزا بھگتنے بعد «إن شاء اللہ» جنت میں جائے گا۔ ٢ ؎: مراد کفار کی طرح جہنم میں داخل ہونے کا ہے، یعنی ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں نہیں داخل ہوگا، بلکہ اخیر میں سزا کاٹ کر جنت میں چلا جائے گا، «إن شاء اللہ»۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٩ (١٤٨)، سنن ابی داود/ اللباس ٢٩ (٤٠٩١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة (٥٩) (تحفة الأشراف: ٩٤٢١)، و مسند احمد (١/٣٨٧) (صحیح )
1999Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ يَعْنِي مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي حَسَنًا وَنَعْلِي حَسَنًا، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ: لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِنَّمَا مَعْنَاهُ: لَا يُخَلَّدُ فِي النَّارِ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَقَدْ فَسَّرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ هَذِهِ الْآيَةَ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192 فَقَالَ: مَنْ تُخَلِّدُ فِي النَّارِ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر (گھمنڈ) ہو، اور جہنم میں داخل نہیں ہوگا یعنی وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو ١ ؎۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں؟ آپ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جمال (خوبصورتی) کو پسند کرتا ہے، لیکن تکبر اس شخص کے اندر ہے جو حق کونہ مانے اور لوگوں کو حقیر اور کم تر سمجھے ۔ بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من کان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا ، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنک من تدخل النار فقد أخزيته» (سورۃ آل عمران: ١٩٢ ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کردیا۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has in his heart as much as a grain of pride will not enter paradise and he who has in his heart as much as a grain of faith will not enter Hell.” A man said, “I like my garment to be beautiful and my sandals to be beautiful.’ He explained, “Allah loves beauty while pride is to disregard truth and look down upon people.

صحيح، الصحيحة (1626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1999
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کبر و غرور اللہ کو قطعا پسند نہیں ہے، اس کا انجام بےحد خطرناک اور نہایت برا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٩٤٤٤) (صحیح )
2000Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتَّى يُكْتَبَ فِي الْجَبَّارِينَ فَيُصِيبُهُ مَا أَصَابَهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر (گھمنڈ) کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا ۔

Sayyidina Salamah ibn Akwa’ (RA) reported that Allah’s Messenger said, “A man does not cease to magnify himself till he is recorded among the tyrants and is belaboured with what belabours them.”

ضعيف، الضعيفة (1914) // ضعيف الجامع الصغير (6344) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2000
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٥٢٨) (ضعیف) (سند میں عمر بن راشد ضعیف راوی ہیں )
2001Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَقُولُونَ فِيَّ التِّيهُ وَقَدْ رَكِبْتُ الْحِمَارَ وَلَبِسْتُ الشَّمْلَةَ وَقَدْ حَلَبْتُ الشَّاةَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا فَلَيْسَ فِيهِ مِنَ الْكِبْرِ شَيْءٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ میرے اندر تکبر ہے، حالانکہ میں نے گدھے کی سواری کی ہے، موٹی چادر پہنی ہے اور بکری کا دودھ دوہا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے یہ کام کیے اس کے اندر بالکل تکبر نہیں ہے ۔

Sayyidina Jubayr ibn Mut’im narrated: People allege that I am arrogant. But, I ride a donkey; wear thick, coarse garment and milk sheep. Allah’s Messenger ﷺ had said, “One who does these things has nothing of arrogance in him.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2001
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٢٠٠) (صحیح الإسناد )
2002Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاق حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ بےحیاء، بدزبان سے نفرت کرتا ہے ۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There is nothing heavier in the scale of the Believer on the Day of Resurrection than good manners. Indeed, Allah, the Exalted hates the indecent and the obscene.” [Ahmed 27587]

صحيح، الصحيحة (876)، الروض النضير (941)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2002
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، انس اور اسامہ بن شریک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٨ (٤٧٩٩) (تحفة الأشراف: ١١٠٠٢)، و مسند احمد (٦/٤٤٢، ٤٤٦، ٤٤٨، ٤٥١) (صحیح )
2003Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ اللَّيْثِ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میزان میں رکھی جانے والی چیزوں میں سے اخلاق حسنہ (اچھے اخلاق) سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے، اور اخلاق حسنہ کا حامل اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجہ تک پہنچ جائے گا ۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Nothing of what is put in the scale is heavier than good manners. And, the good mannered person will attain the rank of the person who keeps fast and offers salah.” [Ahmed 28587]

صحيح، الصحيحة (876)، الإرواء (941)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2003
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٢) (صحیح )
2004Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَوْدِيُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that some one asked Allah’s Messenger ﷺ about what most will cause people to enter Paradise. He said, “Fear of Allah and good manners.” And, he was asked about what will predominantly cause people to enter the Fire. He said, ‘The mouth and the sexual organ.” [Ahmed 9107] Abdullah ibn Mubarak described good manners as a cheerful face, generous spending on good causes and removing harmful things.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2004
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کا خوف اور اچھے اخلاق جس کے اندر پائے جائیں اس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے، اسی طرح جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت نہ کرسکے اس سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہے، کیونکہ دین کا سارا دارومدار اسی پر ہے، ہر طرح کی برائی کا صدور انہیں سے ہوتا ہے، اس لیے جس نے ان دونوں کی حفاظت کی وہ خوش نصیب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٩ (٤٢٤٦) (تحفة الأشراف: ١٤٨٤٧)، و مسند احمد (٢/٢٩١، ٣٩٢، ٤٤٢) (حسن الإسناد )
2005Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ وَصَفَ حُسْنَ الْخُلُقِ، فَقَالَ: هُوَ بَسْطُ الْوَجْهِ، وَبَذْلُ الْمَعْرُوفِ، وَكَفُّ الْأَذَى .

عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ انہوں نے اخلاق حسنہ کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا: اخلاق حسنہ لوگوں سے مسکرا کر ملنا ہے، بھلائی کرنا ہے اور دوسروں کو تکلیف نہ دینا ہے۔

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2005
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٩٣٦) (صحیح الإسناد )
2006Sunan At-Tirmidhi

احسان اور معاف کرنا

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ فَلَا يَقْرِينِي وَلَا يُضَيِّفُنِي، فَيَمُرُّ بِي أَفَأُجْزِيهِ، قَالَ: لَا، اقْرِهِ ، قَالَ: وَرَآَّنِي رَثَّ الثِّيَابِ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: فَلْيُرَ عَلَيْكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: اقْرِهِ: أَضِفْهُ، وَالْقِرَى هُوَ الضِّيَافَةُ.

مالک بن نضلہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ ١ ؎ آپ نے فرمایا: نہیں، (بلکہ) اس کی ضیافت کرو ، آپ ﷺ نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا، تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے، آپ نے فرمایا: تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے ۔

Abu Al Ahwas reported on the authority of his father that he submitted, ‘O Messenger of Allah, if I go to a man and he does not give me a reception or hospitality and he comes to me (later), shall I repay him in the same coin?” He said, “No, give him a reception.” Abu Ahwas also reported his father as saying that the Prophet ﷺ saw him shabbily dressed and asked,” Do you have any wealth.” He said that he had all kind of wealth, and Allah had bestowed on him camels and sheep. He said, “So, let it be seen on you.”

صحيح غاية المرام (75)، الصحيحة (1320)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2006
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - «اقْرِهِ» کا معنی ہے تم اس کی ضیافت کرو «قری» ضیافت کو کہتے ہیں، ٣ - اس باب میں عائشہ، جابر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک نضلہ جشمی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بدلہ کے طور پر میں بھی اس کی میزبانی اور ضیافت نہ کروں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس ١٧ (٤٠٦٣)، سنن النسائی/الزینة ٥٤ (٥٢٣٩)، و ٨٢ (٥٣٠٩) (تحفة الأشراف: ١١٢٠٦)، و مسند احمد (٣/٤٧٣-٤٧٤) و (٤/١٣٧) (صحیح )
2007Sunan At-Tirmidhi

احسان اور معاف کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ہر ایک کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو، اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو ۔

Sayyidina Hudhaifa reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not be imma’ah, saying, ‘If people favour us, we will favour them and if they, wrong us, we will wrong them. Rather, condition yourselves so that if people show favour, you too show favour and if they hurt you, you do not wrong them.”

ضعيف نقد الکتاني (26)، المشکاة (5129) // ضعيف الجامع الصغير (6271) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2007
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٣٦١) (ضعیف) (سند میں ” ولید بن عبد اللہ بن جمیع زہری “ حافظہ کے کمزور ہیں )
2008Sunan At-Tirmidhi

بھائیوں کی ملاقات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ هُوَ الشَّامِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا، أَوْ زَارَ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ، نَادَاهُ مُنَادٍ أَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو سِنَانٍ اسْمُهُ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ، وَقَدْ رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کرلیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone visits a sick person or visits his brother for Allah’s sake, an announcer calls, ‘You have done well, may your walk be blessed. You have made a station for yourself in Paradise.’” [Ibn Majah 1443]

حسن، المشکاة (5015)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2008
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - حماد بن سلمہ نے «عن ثابت عن أبي رافع عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حصول ثواب کی خاطر اپنے کسی دینی بھائی کی جو مریض ہو عیادت کرے یا کسی بھی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایسا شخص اس ثواب کا مستحق ہوگا جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢ (١٤٤٣) (تحفة الأشراف: ١٤١٣٣) (حسن )
2009Sunan At-Tirmidhi

حیاء کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیاء ایمان کا ایک جزء ہے اور ایمان والے جنت میں جائیں گے اور بےحیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Modesty is part of faith and faith leads to paradise, but obscenity is rudeness and rudeness leads to the Fire.”

صحيح، الصحيحة (495)، الروض النضير (746)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2009
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابوبکرہ، ابوامامہ اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جس طرح ایمان صاحب ایمان کو گناہوں سے روکنے کا سبب ہے، اسی طرح حیاء انسان کو معصیت اور گناہوں سے بچاتا ہے، بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی ڈھال ہے، اسی وجہ سے حیاء کو ایمان کا جزء کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٤٠، و ١٥٠٥٣، و ١٥٠٨٨) (صحیح )
2010Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ الْمُزَنِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن سرجس مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اچھی خصلت، غور و خوص کرنا اور میانہ روی نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Sarjis Muzani (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Good habits, being gentle and steady, and moderation in affairs are part of the twenty four parts of prophet hood.”

حسن، الروض النضير (384)، التعليق الرغيب (3 / 6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2010
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٣٢٣) (حسن )
2010Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَاصِمٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن سرجس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، لیکن اس میں عاصم کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، نصر بن علی کی روایت ہی صحیح ہے (جو اوپر مذکور ہے) ۔

حسن، الروض النضير (384)، التعليق الرغيب (3 / 6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2010
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (حسن )
2011Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا: تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور غور و فکر کی عادت ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Ashaj of Abd Qays, “You have two characteristics that Allah loves: caution and deliberation in affairs.” [Ibn Majah 4188]

صحيح، ابن ماجة (4188)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2011
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیئے، جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے اور آدمی کو بردباری اور حلیم و صابر ہونا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٨ (٤١٨٨) (تحفة الأشراف: ٦٥٣١) (صحیح )
2012Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَالْأَشَجُّ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَائِذٍ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جلد بازی نہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔

Sayyidina Sahl ibn Sa’d Sa’idi reported that Allah’s Messenger said, “Deliberation is from Allah, but haste is from the devil.”

ضعيف، المشکاة (5055 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2300) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2012
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض محدثین نے عبدالمہیمن بن عباس بن سہل کے بارے میں کلام کیا ہے، اور حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ٣ - اشج بن عبدالقیس کا نام منذر بن عائذ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٧٩٧) (ضعیف) (سند میں ” عبد المھیمن بن عباس “ ضعیف ہیں )
2013Sunan At-Tirmidhi

نرمی کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْأُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو نرم برتاؤ کا حصہ مل گیا، اسے اس کی بھلائی کا حصہ بھی مل گیا اور جو شخص نرم برتاؤ کے حصہ سے محروم رہا وہ بھلائی سے بھی محروم رہا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, “He who is given his share of mildness is indeed given his share of good and he who is denied his share of mildness is indeed denied his share of good.” [Ahmed 27623]

صحيح، الصحيحة (515 و 874)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2013
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، جریر بن عبداللہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ نرم برتاؤ، مہربانی اور رفق دنیا اور آخرت کی ہر اچھائی کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے، چناچہ انسان میں خیر کا پہلو اتنا ہی غالب ہوگا جتنا اس میں رفق اور نرم روی کا پہلو غالب ہوگا، اور جو اس صفت سے محروم ہوگا وہ خیر سے خالی ہوگا
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٠٠٣)، وانظر: مسند احمد (٦/٤٥١) (صحیح )
2014Sunan At-Tirmidhi

مظلوم کی دعا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَعْبَدٍ اسْمُهُ نَافِذٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل کو (حاکم بنا کر) یمن روانہ کرتے وقت فرمایا: مظلوم کی دعا سے ڈرو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ آڑے نہیں آتا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger sent Mu’az to Yemen and instructed him, “Fear the supplication of the oppressed, for, there is not between it and Allah an obstacle.” [Bukhari 3561, Muslim 2330]

صحيح، صحيح أبي داود (1412)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2014
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے، اس لیے ظلم و تعدی سے ہمیشہ دور رہو، ورنہ مظلوم کی آہ کا شکار ہوجاؤ گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٣ (١٤٩٦)، والمظالم ٩ (٢٤٤٨)، والمغازي ٦٠ (٤٣٤٧)، سنن ابی داود/ الزکاة ٥ (١٥٨٤)، سنن النسائی/الزکاة ٤٦ (٢٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١ (١٧٨٣) (تحفة الأشراف: ٦٥١١)، و مسند احمد (١/٢٣٣)، وسنن الدارمی/الزکاة ١ (١٦٥٥) (وانظر أیضا ماتقدم عند المؤلف برقم ٦٢٥) (صحیح )