نیکی و صلہ رحمی کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 25 · 146 hadiths · Page 7 of 8

2015Sunan At-Tirmidhi

اخلاق نبوی ﷺ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ لِمَ تَرَكْتَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْأَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا قَطُّ وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا كَانَ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ مِسْكًا قَطُّ وَلَا عِطْرًا كَانَ أَطْيَبَ مِنْ عَرَقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْبَرَاءِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ کہا، اور نہ ہی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو تم نے ایسا کیوں نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق کے آدمی تھے، میں نے کبھی کوئی ریشم، حریر یا کوئی چیز آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم اور ملائم نہیں دیکھی اور نہ کبھی میں نے کوئی مشک یا عطر آپ ﷺ کے پسینے سے زیادہ خوشبودار دیکھی۔

Sayyidina Anas (RA) narrated: I served Allah’s Messenger for ten years. He never said, “Oof” to me. And did not say about anything that I did, ‘Why did you do it?” and about that which I neglected, “Why did you neglect it?” He possessed the best of manners among people. And, I never touched any cloth, silk or anything, more soft than his hands and I never smelt musk or perfume more fragrant than his sweat.

صحيح مختصر الشمائل المحمدية (296)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2015
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ اور براء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٥ (٢٧٢٨)، والمناقب ٢٣ (٣٥٦١)، والأدب ٣٩ (٦٠٣٨)، والدیات ٢٧ (٦٩١١) (في جمیع المواضع بالشطر الأول فحسب)، صحیح مسلم/الفضائل ١٣ (٢٣١٠) (بالشطر الأول فحسب) و ٢١ (٢٣٣٠) (بالشطر الأخیر)، سنن ابی داود/ الأدب ١ (٤٧٧٧٣) (في سیاق طویل بالشطر الأول فحسب) (تحفة الأشراف: ٢٦٤)، و مسند احمد (٣/١٠١، ١٢٤، ١٧٤، ٢٠٠، ٢٢٧، ٢٢١، ٢٥٥) (صحیح )
2016Sunan At-Tirmidhi

اخلاق نبوی ﷺ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ.

ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ١ ؎۔

Abu Abdullah Jadali reported that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the manners of Allah’s Messenger She said, He was never indecent of speech or of manners. He never spoke loudly in the markets. And, he never returned evil with evil, but he forgave and overlooked.’ [Ahmed 26049] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح مختصر الشمائل (298)، المشکاة (5820)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2016
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں نبی اکرم ﷺ کے حسن اخلاق اور کمال شرافت کا بیان ہے، اور اس بات کی صراحت ہے کہ آپ ﷺ برائی اور تکلیف پہنچانے والے سے عفو و درگذر سے کام لیتے تھے نہ کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٧٩٤)، وانظر: مسند احمد (٦/١٧٤، ٢٣٦، ٢٤٦) (صحیح )
2017Sunan At-Tirmidhi

حسن وفا

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں سے کسی پر میں اس طرح غیرت نہیں کھاتی تھی جس طرح خدیجہ پر غیرت کھاتی تھی جب کہ میں نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا تھا، اس غیرت کی کوئی وجہ نہیں تھی سوائے اس کے کہ آپ ان کو بہت یاد کرتے تھے، اور اگر آپ بکری ذبح کرتے تو ان کی سہیلیوں کو ڈھونڈتے اور گوشت ہدیہ بھیجتے تھے ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated: I never envied any of the wives of the Prophet ﷺ as I envied Khadijah (RA). What would have happened to me if I had found her times! This, because of the much mention of her by Allah’s Messenger. If he ever slaughtered a sheep, he would find out a friend of Khadijah and present (some of) it to her. [Bukhari 3816, Muslim 2435]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2017
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب سہیلیوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ اتنا اچھا تھا تو خود خدیجہ ؓ کے ساتھ کیسا ہوگا؟ نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا چاہیئے، جیسے کہ باپ کے بارے میں حکم آیا ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ آدمی اچھا برتاؤ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٢٠ (٣٨١٦، ٣٨١٧)، والنکاح ١٠٨ (٥٢٢٩)، والأدب ٢٣ (٦٠٠٤)، والتوحید ٣٢ (٧٤٨٤)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٢ (٢٤٣٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٦ (١٩٩٧) (تحفة الأشراف: ١٦٨٧)، و مسند احمد (٦/٥٨، ٢٠٢، ٢٧٩) (صحیح )
2018Sunan At-Tirmidhi

بلند اخلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ، وَالْمُتَشَدِّقُونَ، فَمَا الْمُتَفَيْهِقُونَ ؟ قَالَ: الْمُتَكَبِّرُونَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، وَهَذَا أَصَحُّ وَالثَّرْثَارُ، هُوَ الْكَثِيرُ الْكَلَامِ، وَالْمُتَشَدِّقُ الَّذِي يَتَطَاوَلُ عَلَى النَّاسِ فِي الْكَلَامِ وَيَبْذُو عَلَيْهِمْ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں، اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے، زبان دراز اور تکبر کرنے والے «متفيهقون» ہیں ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے «ثرثارون» (باتونی) اور «متشدقون» (بلااحتیاط بولنے والے) کو تو جان لیا لیکن کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: تکبر کرنے والے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The dearest of you to me and the nearest of you to me in station on the Day of Resurrection are the best of you in manners. And the most hated of you to me and the farthest from me on the Day of Resurrection are chatter-boxes, bigmouthed (who speak much without deliberation and caution) and the mutafayhiqun.” They asked, “O Messenger of Allah, we know those who speak much, but who the mutafayhiqun?” He said, “Those who speak with arrogance.” [Ahmed 17758]

صحيح، الصحيحة (791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2018
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٣ - بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن المبارک بن فضالة عن محمد بن المنکدر عن جابر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم ولم» کی سند سے روایت کی ہے اور اس میں «عن عبد ربه بن سعيد» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، اور یہ زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - «ثرثار» باتونی کو کہتے ہیں: اور «متشدق» اس آدمی کو کہتے ہیں: جو لوگوں کے ساتھ گفتگو میں بڑائی جتاتے اور فحش کلامی کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں کم بولنے اور سادگی سے گفتگو کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور تصنع و بناوٹ اور تکبر سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠٥٤) (صحیح )
2019Sunan At-Tirmidhi

لعن وطعن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔

Sayyidina ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “A believer is not one who curses others.

صحيح، المشکاة (4848 / التحقيق الثانی)، ظلال الجنة (1014)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2019
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو ، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٧٩٤) (صحیح )
2020Sunan At-Tirmidhi

غصہ کی زیادتی

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلِّمْنِي شَيْئًا وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعِيهِ، قَالَ: لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا تَغْضَبْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیادہ نہ بتائیے تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں، آپ نے فرمایا: غصہ مت کرو ، وہ کئی بار یہی سوال دہراتا رہا اور آپ ہر بار کہتے رہے غصہ مت کرو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said, “Teach me something but do not make it much on me perchance I might remember it.” He said, “Do not lose your temper.” He repeated that often and every time he said, “Do not lose your temper.” [Bukhari 6116, Muslim 2608]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2020
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوسعید اور سلیمان بن صرد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غصہ کی صفت سے کوئی انسان خالی نہیں ہے، لیکن غصہ پر قابو پالینا سب سے بڑی نیکی اور انسان کی سب سے کامل عادت ہے، نصیحت مخاطب کے مزاج و طبیعت کا خیال کرتے ہوئے اس کے حالات کے مطابق ہونی چاہیئے، چناچہ اس حدیث میں آپ ﷺ نے اس آدمی کے متعدد بار سوال کرنے کے باوجود اس کے حالات کے مطابق ایک ہی جواب دیا یعنی غصہ مت کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٧٦ (٦١١٦) (تحفة الأشراف: ١٢٨٤٦)، و مسند احمد (٢/٣٦٢، ٤٦٦) (صحیح )
2021Sunan At-Tirmidhi

غصہ کی زیادتی

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ الدُّورِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِيأَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنَفِّذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص غصہ ضبط کرلے حالانکہ وہ اسے کر گزرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے منتخب کرلے ۔

Mu’adh ibn Anas Juhanni reported that the Prophet ﷺ said, “As for him who suppresses his anger while he is able to express (and impose) it, Allah will call him on the Day of Resurrection ahead of all the creatures and give h choice of any of the maidens of paradise he likes.” [Ahmed 15637, Abu Dawud 4777, Ibn Majah 4186] --------------------------------------------------------------------------------

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2021
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٣ (٤٧٧٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٨ (٤١٨٦)، یأتي في القیامة ٢٤٩٣ (تحفة الأشراف: ١١٢٩٨)، و مسند احمد (٣/٤٣٨، ٤٤٠) (حسن )
2022Sunan At-Tirmidhi

بڑوں کی تعظیم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ بَيَانٍ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّحَّالِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ يَزِيدَ بْنِ بَيَانٍ، وَأَبُو الرِّجَالِ الْأَنْصَارِيُّ آخَرُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے احترام کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر فرما دے گا جو اس عمر میں (یعنی بڑھاپے میں) اس کا احترام کریں ۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “No young man will respect an elderly person because of his old age but Allah will appoint for him one who will respect him during his old age.”

ضعيف، الضعيفة (304)، المشکاة (4971) // ضعيف الجامع الصغير (5012) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2022
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی شیخ یعنی یزید بن بیان کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ابوالرجال انصاری ایک دوسرے راوی ہیں (اور جو راوی اس حدیث میں ہیں وہ ابوالرحال ہیں) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧١٦) (ضعیف) (سند میں یزید بن بیان، اور أبوالرحال دونوں ضعیف راوی ہیں )
2023Sunan At-Tirmidhi

ملاقات ترک کرنے والوں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُفَتَّحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ فِيهِمَا لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ، يُقَالُ: رُدُّوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: ذَرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْمُهْتَجِرَيْنِ: يَعْنِي الْمُتَصَارِمَيْنِ، وَهَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والوں کی اس دن مغفرت کی جاتی ہے، سوائے ان کے جنہوں نے باہم قطع تعلق کیا ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان دونوں کو لوٹا دو یہاں تک کہ آپس میں صلح کرلیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, The gates of Paradise are opened on Monday and Thursday and, on these days, those are forgiven who do not associate anything with Allah except those who cease to meet each other. Allah says: Send them back till they reconcile.” [Muslim 2565] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (3 / 105)، غاية المرام (412)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2023
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض روایتوں میں «ردوا هذين حتی يصطلحا» ان دونوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو جب تک صلح نہ کرلیں کے الفاظ مروی ہیں، ٣ - «مهتجرين» کے معنی «متصارمين» قطع تعلق کرنے والے ہیں، ٤ - یہ حدیث اسی روایت کے مثل ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پیر اور جمعرات یہ ایسے دو دن ہیں جن کے بارے میں بعض روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دو دنوں میں (اللہ کے یہاں) بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، آپ ﷺ ان دو دنوں میں اہتمام سے روزہ رکھتے تھے، اور مسلم کی روایت ہے کہ پیر کے دن آپ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن آپ کی بعثت بھی ہوئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١١ (٢٥٦٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٢ (١٧٣٩) (تحفة الأشراف: ١٢٧٠٢)، و مسند احمد (٢/٣٢٩) (صحیح )
2024Sunan At-Tirmidhi

صبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ: مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ شَيْئًا هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ أَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ هَذَا الْحَدِيثُ، فَلَنْ أَذْخَرَهُ عَنْكُمْ وَالْمَعْنَى فِيهِ وَاحِدٌ، يَقُولُ: لَنْ أَحْبِسَهُ عَنْكُمْ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ چند انصاریوں نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا، آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا، پھر فرمایا: جو مال بھی میرے پاس ہوگا میں اس کو تم سے چھپا کر ہرگز جمع نہیں رکھوں گا، لیکن جو استغناء ظاہر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دے گا ١ ؎، جو سوال سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس کو سوال سے محفوظ رکھے گا، اور جو صبر کی توفیق مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا کرے گا، کسی شخص کو بھی صبر سے بہتر اور کشادہ کوئی چیز نہیں ملی ۔

Sayyidina Abu Sa’eed narrated: Some people of the Ansar requested the Prophet ﷺ for something which he gave them. They asked again, and he gave it to them. He said thereafter, ‘If I had anything of value, I would not conceal it from you. He who is independent, Allah makes him free of want and him who refrains from begging, Allah saves him from having to beg, and he who is accustomed to patience, Allah enables him to show patience. And no one is given anything better and more encompassing than patience.’ [Bukhari 1469, Muslim 1053]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 11)، صحيح أبي داود (1451)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2024
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث امام مالک سے (دوسری سند سے) «فلن أذخره عنكم» کے الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے، ان دونوں عبارتوں کا ایک ہی معنی ہے، یعنی تم لوگوں سے میں اسے ہرگز نہیں روک رکھوں گا، ٣ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو قناعت سے کام لے گا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ بڑھانے اور سوال کرنے سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اطمینان قلب بخشے گا اور دوسروں سے بےنیاز کر دے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٣٦٩)، والرقاق ٢٠ (٦٤٧٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٢ (١٠٥٣)، سنن النسائی/الزکاة ٨٥ (٢٥٨٩) (تحفة الأشراف: ٤١٥٢)، وط/الصدقہ ٢ (٧)، و مسند احمد (٣/١٢، ١٤، ٤٧، ٩٣)، و سنن الدارمی/الزکاة ١٨ (١٦٨٦) (صحیح )
2025Sunan At-Tirmidhi

ہر ایک کے منہ پر اس کی طرف داری کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَمَّارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کی نظر میں دو رخے شخص سے بدتر کوئی نہیں ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, the worst of men in the sight of Allah on the Day of Resurrection is the two-faced.” [Bukhari 6058, Muslim 2526] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح صحيح الجامع (2226)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2025
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس اور عمار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دو رخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ یقین دلائے کہ تمہارا خیرخواہ اور ساتھی ہوں اور دوسرے کا مخالف ہوں، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو اسے بھی اسی طرح کا تاثر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١ (٣٤٩٤)، والأدب ٥٢ (٦٠٥٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٨ (٢٥٢٦)، سنن ابی داود/ الأدب ٣٩ (٤٨٧٢) (تحفة الأشراف: ١٢٥٣٨)، و مسند احمد (٢/٤٥٥) (صحیح )
2026Sunan At-Tirmidhi

چغل خوری کرنے والے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَذَا يُبَلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّاسِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ ، قَالَ سُفْيَانُ: وَالْقَتَّاتُ: النَّمَّامُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان ؓ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے، تو حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: چغل خور جنت میں نہیں داخل ہوگا ١ ؎۔ سفیان کہتے ہیں: «قتات»، «نمام» چغل خور کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Hammam ibn Harith reported that a man passed by Hudhaifa ibn Yaman. Someone said to him, “He carries tales of people to the rulers.” Huzayfah (RA) said, “I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The qattat will not enter Paradise.’ Sufyan said that the qattat is an informer or a tale-bearer.” [Bukhari 6056] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (1034)، غاية المرام (433)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2026
Notes · وضاحت
١ ؎: حاکموں اور حکومتی عہدہ داروں کے پاس اہل ایمان اور صالح لوگوں کی چغلی کرنے والوں، ان کی رپورٹیں بنا بنا کر پیش کرنے والوں اور جھوٹ سچ ملا کر اپنے مفادات حاصل کرنے والوں کو اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیئے، دنیاوی مفادات چار دن کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ اخروی حیات کا آخری کوئی سرا نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٥٠ (٦٠٥٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٥ (١٥٠)، سنن ابی داود/ الأدب ٣٨ (٤٨٧١) (تحفة الأشراف: ٣٣٨٦)، و مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٨٩، ٣٩٧، ٤٠٣، ٤٠٤) (صحیح )
2027Sunan At-Tirmidhi

کم گوئی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، قَالَ: وَالْعِيُّ: قِلَّةُ الْكَلَامِ، وَالْبَذَاءُ: هُوَ الْفُحْشُ فِي الْكَلَامِ، وَالْبَيَانُ: هُوَ كَثْرَةُ الْكَلَامِ مِثْلُ هَؤُلَاءِ الْخُطَبَاءِ الَّذِينَ يَخْطُبُونَ فَيُوَسِّعُونَ فِي الْكَلَامِ وَيَتَفَصَّحُونَ فِيهِ مِنْ مَدْحِ النَّاسِ فِيمَا لَا يُرْضِي اللَّهَ.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حیاء اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Modesty and curtness are branches of faith, while indecency and talkative ness are two branches of hypocrisy.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح إيمان ابن أبى شيبة (118)، المشکاة (4796 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2027
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب، ہم اسے صرف ابوغسان محمد بن مطرف ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - «عي» کا معنی کم گوئی اور «بذاء» کا معنی فحش گوئی ہے، «بيان» کا معنی کثرت کلام ہے، مثلا وہ مقررین جو لمبی تقریریں کرتے ہیں اور لوگوں کی تعریف میں ایسی فصاحت بگھاڑتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: حیاء اور کم گوئی کے سبب انسان بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے، یہ دونوں خصلتیں انسان کو بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے روک دیتی ہیں، جب کہ بک بک کرتے رہنے سے انسان جھوٹ گوئی کا بھی ارتکاب کر بیٹھتا ہے، اور جو دل میں ہو اس کے خلاف بھی بول پڑتا ہے، یہی نفاق ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (٤٨٥٥)، وانظر: مسند احمد (٥/٢٦٩) (صحیح )
2028Sunan At-Tirmidhi

بعض بیان جادو ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ قَدِمَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمَا، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو آدمی آئے ١ ؎ اور انہوں نے تقریر کی، لوگ ان کی تقریر سن کر تعجب کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کچھ باتیں جادو ہوتی ہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: Two men came in the times of Allah’s Messenger ﷺ and delivered sermons which appealed to us. Allah’s Messenger ﷺ then turned towards us and said, “In eloquence there is magic.” or he said, ‘In some eloquent speech is magic.’ [Bukhari 5146] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2028
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمار، ابن مسعود اور عبداللہ بن شخیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ٩ ھ میں بنو تمیم کے وفد میں یہ دونوں شامل تھے، ان میں سے ایک کا نام زبرقان اور دوسرے کا نام عمرو بن اہیم تھا۔ ٢ ؎: اگر حق کی دفاع اور اخروی زندگی کی کامیابی سے متعلق اسی طرح کی خوبی کسی میں ہے تو قابل تعریف ہے، اور اگر باطل کی طرف پھیرنے کے لیے ہے تو لائق مذمت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٧ (٥١٤٦)، والطب ٥١ (٥٧٦٧)، سنن ابی داود/ الأدب ٩٤ (٥٠٠٧) (تحفة الأشراف: ٦٧٢٧)، و مسند احمد (٤/٢٦٣) (صحیح )
2029Sunan At-Tirmidhi

تواضع

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ رَجُلًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي كَبْشَةَ الْأَنَّمَارِيِّ وَاسْمُهُ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، اور عفو و درگزر کرنے سے آدمی کی عزت بڑھتی ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع و انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بلند فرما دیتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Sadaqah does not diminish wealth. And Allah increases a man who forgives in honour and no one observes humility for Allah’s sake but Allah raises him.” [Ahmed 7210, Muslim 2588] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (2200)، الصحيحة (2328)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2029
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابن عباس اور ابوکبشہ انماری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوکبشہ انماری کا نام عمر بن سعد ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں تواضع اور خاکساری کا مذکور مرتبہ تو دنیا میں دیکھی حقیقت ہے، اے کاش لوگ نصیحت پکڑتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٩ (٢٥٨٨) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٢)، و مسند احمد (٢/٣٨٦)، و سنن الدارمی/الزکاة ٣٥ (١٧١٨) (صحیح )
2030Sunan At-Tirmidhi

ظلم

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ظلم کرنا قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Oppression will produce darkness on the Day of Resurrection.” (The Arabic words are zuim for oppression and zulamat for darkness). [Bukhari 2447]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2030
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابوموسیٰ، ابوہریرہ، اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظلم کرنے والا اپنے ظلم کے سبب قیامت کے دن مختلف قسم کے مصائب سے دوچار ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٨ (٢٤٤٧)، صحیح مسلم/البر والصلة ١٥ (٢٥٧٩) (تحفة الأشراف: ٧٢٠٩)، و مسند احمد (٢/٩٢، ١٠٦، ١٣٦، ١٣٧، ١٥٦، ١٥٩، ١٩١، ١٩٥) (صحیح )
2031Sunan At-Tirmidhi

نعمت میں عیب جوئی ترک کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، جب آپ کو پسند آتا تو کھالیتے نہیں تو چھوڑ دیتے۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger never found fault with food. If he had an appetite, he ate it otherwise he did not touch it. [Bukhari 3563, Muslim 2064]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2031
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٦٣)، صحیح مسلم/الأشربة ٣٥ (٢٠٦٤)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤ (٣٢٥٩) (تحفة الأشراف: ١٣٤٠٣) (صحیح )
2032Sunan At-Tirmidhi

مومن کی تعظیم

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، وَالْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ، لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ ، قَالَ: وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا إِلَى الْبَيْتِ أَوْ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللَّهِ مِنْكِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، نَحْوَهُ، وَرُوِي عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے، بلند آواز سے پکارا اور فرمایا: اے اسلام لانے والے زبانی لوگوں کی جماعت ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا ہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتا ہے، اسے رسوا و ذلیل کردیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو ۔ راوی (نافع) کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر ؓ نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: کعبہ! تم کتنی عظمت والے ہو! اور تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کی نظر میں مومن (کامل) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ climbed on the pulpit and said in a loud voice, “O gathering of those who have professed Islam by the tongue but faith has not penetrated into their hearts! Do not hurt the Muslims, do not shame them, and do not search for their faults, for, if anyone follows the defects of his brother then Allah follows his faults. He whose faults Allah follows ends up disgraced even if he is inside his home. The sub-narrator said that Ibn Umar (RA) looked one day at the House (of Allah), or he said, at the Ka’bah, and remarked, “How great are you! How great is your sanctity! But, the Believers are greater in sanctity in Allah’s sight than you are.” [Ahmed 19797] --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، المشکاة (5044 / التحقيق الثانی)، التعليق الرغيب (3 / 277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2032
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اسحاق بن ابراہیم سمر قندی نے بھی حسین بن واقد سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - ابوبرزہ اسلمی ؓ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٥٠٩) (حسن )
2033Sunan At-Tirmidhi

تجربے کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ، وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غلطی کرنے والے ہی بردبار ہوتے ہیں اور تجربہ والے ہی دانا ہوتے ہیں ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger said, “No one is forbearing unless he stumbles. No one is wise unless he gains an experience. [Ahmed 110506]

ضعيف، المشکاة (5056)، الضعيفة (5646) // ضعيف الجامع الصغير (6283) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2033
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٥٥)، وانظر: مسند احمد (٣/٦٩) (ضعیف) (سند میں ” دراج أبوالسمح “ أبوالھیثم سے روایت میں ضعیف ہیں )
2034Sunan At-Tirmidhi

جو چیز اپنے پاس نہ اس پر فخر نہ کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ، فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَ، وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَائِشَةَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ يَقُولُ: قَدْ كَفَرَ تِلْكَ النِّعْمَةَ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے کوئی تحفہ دیا جائے پھر اگر اسے میسر ہو تو اس کا بدلہ دے اور جسے میسر نہ ہو تو وہ (تحفہ دینے والے کی) تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے تعریف کی اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے نعمت کو چھپالیا اس نے کفران نعمت کیا، اور جس نے اپنے آپ کو اس چیز سے سنوارا جو وہ نہیں دیا گیا ہے، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone is given a gift and he has ability then he must reciprocate it. If one is unable then he must praise it, for, one who praises it has shown gratitude. But, he who conceals (the blessing) has been ungrateful. And, if anyone adorns himself with what he is not given then he has donned a garment of falsehood.” [Bukhari 215] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، الصحيحة (2617)، التعليق الرغيب (2 / 55)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2034
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں اسماء بنت ابوبکر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - «ومن کتم فقد کفر» کا معنی یہ ہے: اس نے اس نعمت کی ناشکری کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٨٩٢) (حسن )