Sunan At-Tirmidhi 2023

نیکی و صلہ رحمی کا بیان

2023Sunan At-Tirmidhi

ملاقات ترک کرنے والوں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُفَتَّحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ فِيهِمَا لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ، يُقَالُ: رُدُّوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: ذَرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْمُهْتَجِرَيْنِ: يَعْنِي الْمُتَصَارِمَيْنِ، وَهَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والوں کی اس دن مغفرت کی جاتی ہے، سوائے ان کے جنہوں نے باہم قطع تعلق کیا ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان دونوں کو لوٹا دو یہاں تک کہ آپس میں صلح کرلیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, The gates of Paradise are opened on Monday and Thursday and, on these days, those are forgiven who do not associate anything with Allah except those who cease to meet each other. Allah says: Send them back till they reconcile.” [Muslim 2565] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (3 / 105)، غاية المرام (412)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2023
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض روایتوں میں «ردوا هذين حتی يصطلحا» ان دونوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو جب تک صلح نہ کرلیں کے الفاظ مروی ہیں، ٣ - «مهتجرين» کے معنی «متصارمين» قطع تعلق کرنے والے ہیں، ٤ - یہ حدیث اسی روایت کے مثل ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پیر اور جمعرات یہ ایسے دو دن ہیں جن کے بارے میں بعض روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دو دنوں میں (اللہ کے یہاں) بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، آپ ﷺ ان دو دنوں میں اہتمام سے روزہ رکھتے تھے، اور مسلم کی روایت ہے کہ پیر کے دن آپ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن آپ کی بعثت بھی ہوئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١١ (٢٥٦٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٢ (١٧٣٩) (تحفة الأشراف: ١٢٧٠٢)، و مسند احمد (٢/٣٢٩) (صحیح )