Sunan At-Tirmidhi 2019

نیکی و صلہ رحمی کا بیان

2019Sunan At-Tirmidhi

لعن وطعن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔

Sayyidina ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “A believer is not one who curses others.

صحيح، المشکاة (4848 / التحقيق الثانی)، ظلال الجنة (1014)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2019
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو ، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٧٩٤) (صحیح )