آداب اور اجازت لینے کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 39 · 185 hadiths · Page 1 of 9

2688Sunan At-Tirmidhi

سلام کو پھیلانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ ، وفي الباب عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْبَرَاءِ، وَأنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم (صحیح معنوں میں) مومن نہ بن جاؤ اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے (سچی) محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہوجائے (وہ یہ کہ) آپس میں سلام کو عام کرو (پھیلاؤ) ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “By Him in Whose Hand is my life, you will not enter Paradise till you believe, and you will not believe till you love each other. Shall I not guide you to something which if you do, you will love each other. Give currency to salaam between yourselves.” [Muslim 54, Bukhari 260, Abu Dawud 5193, Ibn Majah 68, Ahmed 10436]

صحيح، ابن ماجة (3692)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2688
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن سلام، شریح بن ہانی عن ابیہ، عبداللہ بن عمرو، براء، انس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے بنیادی چیز ایمان ہے، اور ایمان کی تکمیل کے لیے آپسی محبت اور بھائی چارہ کا ہونا ضروری ہے، اور انہیں اگر باقی رکھنا ہے تو سلام کو عام کرو اور اسے خوب پھیلاؤ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٢ (٥٤)، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٢ (٥١٩٣)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٨)، والأدب ١١ (٣٦٩٢) (تحفة الأشراف: ١٢٥١٣)، و مسند احمد (٢/٣٩١)، ٤٤٢، ٤٧٧، ٤٩٥، ٥١٢) (صحیح )
2689Sunan At-Tirmidhi

سلام کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرِيرِيُّ البلخي، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِشْرُونَ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثُونَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وفي الباب عن عَلِيٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (اس کے لیے) دس نیکیاں ہیں ، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (اس کے لیے) بیس نیکیاں ہیں ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة اللہ وبرکاته»، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (اس کے لیے) تیس نیکیاں ہیں ١ ؎۔

Sayyidina lmran bn Husayn (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said, ‘As salaamu alikum.” He said, “(He has) ten (pious deeds).” Another came and said, “As salaamu alikum Wa rahmatullah.” He said, “Twenty.” Then another came and said, ‘As salaalmu alikum wa rahmatullah wa barakatuh.’ He said, “Thirty.” [Ahmed 19968]

صحيح، التعليق الرغيب (3 / 268)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2689
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرمان الٰہی: «وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها» یعنی جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو، یا انہی الفاظ کو لوٹا دو (النساء: ٨٦ ) کے مطابق سلام کا جواب سلام کرنے والے سے اچھا دو اور اگر ایسا نہ کرسکو تو انہی الفاظ کو لوٹا دو، یا در ہے یہ حکم مسلمانوں کے لیے، یعنی خیر و برکت کی کثرت کی دعا کسی مسلمان کے حق میں ہی ہونی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٤٣ (٥١٩٥) (تحفة الأشراف: ٤٣٣٠) (صحیح )
2690Sunan At-Tirmidhi

داخل ہونے کے لئے تین مرتبہ اجازت لینا

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ ؟ قَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ ؟ قَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ ؟ فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ لِلْبَوَّابِ: مَا صَنَعَ ؟ قَالَ: رَجَعَ، قَالَ عَلَيَّ بِهِ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ ؟ قَالَ: السُّنَّةُ، قَالَ السُّنَّةُ ؟، وَاللَّهِ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبُرْهَانٍ أَوْ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، قَالَ: فَأَتَانَا وَنَحْنُ رُفْقَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتُمْ أَعْلَمَ النَّاسِ رَسُولِ للَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ، وَإِلَّا فَارْجِعْ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يُمَازِحُونَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ: فَمَا أَصَابَكَ فِي هَذَا مِنَ الْعُقُوبَةِ فَأَنَا شَرِيكُكَ، قَالَ: فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا كُنْتُ عَلِمْتُ بِهَذَا، وفي الباب عن عَلِيٍّ، وَأُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْجُرَيْرِيُّ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ يُكْنَى: أَبَا مَسْعُودٍ، وَقَدْ رَوَى هَذَا غَيْرُهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَأَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ: الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے عمر ؓ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا:«السلام عليكم» کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ عمر ؓ نے (دل میں) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ عمر ؓ نے (دل میں) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر (مزید) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟ عمر ؓ نے (دل میں کہا) تین بار اجازت طلب کرچکے، پھر ابوموسیٰ اشعری ؓ واپس ہو لیے، عمر ؓ نے دربان سے کہا: ابوموسیٰ نے کیا کیا؟ اس نے کہا: لوٹ گئے۔ عمر ؓ نے کہا انہیں بلا کر میرے پاس لاؤ، پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو عمر ؓ نے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے سنت پر عمل کیا ہے، عمر ؓ نے کہا سنت پر؟ قسم اللہ کی! تمہیں اس کے سنت ہونے پر دلیل و ثبوت پیش کرنا ہوگا ورنہ میں تمہارے ساتھ سخت برتاؤ کروں گا۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: پھر وہ ہمارے پاس آئے، اس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔ ابوموسیٰ اشعری نے کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو، کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: «الاستئذان ثلاث» (اجازت طلبی) تین بار ہے۔ اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اگر اجازت نہ دی جائے تو لوٹ جاؤ؟ (یہ سن کر) لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: میں نے اپنا سر ابوموسیٰ اشعری کی طرف اونچا کر کے کہا: اس سلسلے میں جو بھی سزا آپ کو ملے گی میں اس میں حصہ دار ہوں گا، راوی کہتے ہیں: پھر وہ (ابوسعید) عمر ؓ کے پاس آئے، اور ان کو اس حدیث کی خبر دی، عمر نے کہا: مجھے اس حدیث کا علم نہیں تھا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Sayyidina Abu Musa (Ra) sought permission of Sayyidina Umar (RA) to enter his home, saying, “Assalamu alikum, may I come in? Umar (RA) said, this is once and he kept quiet for some time and sought permission a second time, “As-salaamu alikum, may I come in? Umar (RA) said, “This is twice, and then he kept quiet for some time. Again he said, ‘Assalaamu alikum, may I come in? Umar (Ra)‘, said, “This is thrice.’ Then he returned. Umar (RA) asked the gate-keeper what he had done. He said, ‘He has gone away.” Umar (RA) said, “Bring him to me.” When he came, Umar (RA) asked him, “What did you do?” Abu Musa said, “This is the sunnah.” Umar (RA) asked, “Is that the sunnah. By Allah, bring me an evidence and witness, or I will punish you.” Abu Sa’eed narrated futher Abu Musa came to us and we were his friends, the Ansars. He said, “O Group of Ansars, are you not those who know the ahadith of Allah’s Messenger ﷺ the best of all people? Did he not say that permission is sought three times? If you are given permission, enter otherwise turn back.” The people laughed at him, but I raised my head to him and asked, “What had befallen you in this matter? I am your partner in the punishment that you might receive.” I went to Umar (RA) and informed him of that (hadith) and he said, “I had not known this.” [Ahmed 11029, Bukhari 6245, Muslim 2153, Abu Dawud 5170, Ibn Majah 3706] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2690
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور جریری کا نام سعید بن ایاس ہے اور ان کی کنیت ابومسعود ہے۔ یہ حدیث ان کے سوا اور لوگوں نے بھی ابونضرہ سے روایت کی ہے، اور ابونضرہ عبدی کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے، ٢ - اس باب میں علی اور سعد کی آزاد کردہ لونڈی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ بسا اوقات ایک ادنی شخص کو علم دین کی وہ بات معلوم ہوسکتی ہے جو کسی بڑے صاحب علم کو معلوم نہیں، چناچہ عمر ؓ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ تین بار اجازت طلب کرنے پر اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جانا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٧ (٢١٥٣) (تحفة الأشراف: ٤٣٣٠) (صحیح )
2691Sunan At-Tirmidhi

داخل ہونے کے لئے تین مرتبہ اجازت لینا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ: سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، وَإِنَّمَا أَنْكَرَ عُمَرُ، عِنْدَنَا، عَلَى أَبِي مُوسَى حَيْثُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِذَا أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لَهُ، وَلَمْ يَكُنْ عَلِمَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ .

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔

Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) reported that he sought permission of Allah’s Messenger ﷺ three times and he gave permission. [Bukhari 89, Muslim 1479, Nisai 2128] Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) reported that he sought permission of Allah’s Messenger ﷺ three times and he gave permission. [Bukhari 89, Muslim 1479, Nisai 2128] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد، منکر المتنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2691
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے، ٣ - میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ ۔ (رہ گیا عمر ؓ کا اپنا معاملہ) تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٩) (ضعیف الإسناد منکر المتن) (اس کے راوی ” عکرمہ بن عمار “ روایت میں غلطی کر جاتے تھے، اور فی الحقیقت یہ روایت پچھلی صحیح روایت کے برخلاف ہے )
2692Sunan At-Tirmidhi

سلام کا جواب کیسے دیا جائے

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ: وَعَلَيْكَ ، قَالَ: وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَصَحُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں آیا (اس وقت) رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس نے نماز پڑھی پھر آ کر آپ کو سلام عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا «وعليك» تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that a man came into the mosque while Allah’s Messenger ﷺ was sitting at a side. He offered his salah and offered salaam to Allah’s Messenger ﷺ He responded with, “Wa alayk (and on you). Go back and pray, for you have not prayd.” Then he reported the full hadith. [Bukhari 6251]

صحيح، ابن ماجة (1160)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2692
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے اور عبیداللہ بن عمر نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «عن أبيه عن أبي هريرة» کہا ہے، اس میں «فسلم عليه وقال وعليك» اس نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے کہا تم پر بھی سلام ہو کا ذکر نہیں کیا، ٣ - یحییٰ بن سعید کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٠٣ (صحیح )
2693Sunan At-Tirmidhi

کسی کو سلام بھیجنے کے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Salamah (RA) reported that Sayyidah Aisha (RA) narrated to him: Allah’s Messenger ﷺ said to me “Jibril, here conveys salaam to you.” I responded, “And to him be as salaam wa rahamatulah wa barakatuh.” [Bukhari 6249, Abu Dawud 5232, Ahmed 24335, Ibn e Majah 3696]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2693
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ٣ - زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غائبانہ سلام کسی شخص کے واسطہ سے پہنچے یا کسی خط میں لکھ کر آئے تو اس کا جواب فوری طور پر دینا چاہیئے۔ اور اسی طرح دینا چاہیئے جیسے اوپر ذکر ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٢٢١٧)، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٨)، والأدب ١١١ (٦٢٠١)، والاستئذان ١٦ (٦٢٤٩)، و ١٩ (٦٢٥٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٧)، سنن ابی داود/ الأدب ١٦٦ (٥٢٣٢)، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٩٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٢ (٣٦٩٥) (تحفة الأشراف: ١٧٧٢٧)، و مسند احمد (٦/١٤٦، ١٥٠، ٢٠٨، ٢٢٤)، وسنن الدارمی/الاستئذان ١٠ (٢٦٩٠) (صحیح )
2694Sunan At-Tirmidhi

پہلے سلام کرنے والے کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ فَقَالَ: أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے ١ ؎۔ (وہ پہل کرے گا )

Sayyidina AbuUmamah (RA) reported that someone submitted. “O Messenger of Allah ﷺ when two people meet, which of them must take the initative in greeting with salaam”? He said, “He who is nearer to Allah (must take precedence).’ [Abu Dawud 5197]

صحيح، المشکاة (4646)، تخريج الکلم الطيب (198)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2694
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اور تعلق ہوگا اس میں تواضع اور خاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی، اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٨٦٩) (صحیح )
2695Sunan At-Tirmidhi

سلام میں ہاتھ سے اشارہ کرنے کی کراہت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ، وَلَا بِالنَّصَارَى، فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ، وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الْإِشَارَةُ بِالْأَكُفِّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے غیروں سے مشابہت اختیار کرے، نہ یہود کی مشابہت کرو اور نہ نصاریٰ کی، یہودیوں کا سلام انگلیوں کا اشارہ ہے اور نصاریٰ کا سلام ہتھیلیوں کا اشارہ ہے ١ ؎۔

Amr ibn Shu’ayb reported from his father who from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said “He is not of us who assumes resemblance to those other that us. Do not imitate the Jews and the Christions. The greeting of the Jews is a gesture of the fingures and the greeting of the Christiansis a gesture of the palm.”

حسن، الصحيحة (2194)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2695
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ٢ - ابن مبارک نے یہ حدیث ابن لھیعہ سے روایت کی ہے، اور اسے انہوں نے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہود و نصاری اور کفار کی کسی بھی فعل میں مشابہت نہ کرو، خصوصا سلام کی ان دو خصلتوں میں ممکن ہے یہ لوگ «السلام عليكم» اور «وعليكم السلام» کہنے کے بجائے صرف اشارہ پر اکتفا کرتے رہے ہوں، زبان سے سلام ادا کرنا انبیاء کی سنت ہے، اس لیے اس سنت کو اپناتے ہوئے عذر کی جگہوں میں اشارہ کو بھی شامل کرلیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے کسی بہرے کو سلام کرنا وغیرہ، اسی طرح بعض مخصوص حالات میں صرف اشارہ پر اکتفا کرنا بھی صحیح ہے، جیسے گونگے کا سلام کرنا اور حالت نماز میں اشارہ سے جواب دینا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٧٣٤) (حسن) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابن لہیعہ “ ضعیف ہیں، اور عبد اللہ بن مبارک کی ان سے جو روایت ہے وہ موقوف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة رقم: ٢١٩٤ )
2696Sunan At-Tirmidhi

بچوں کو سلام کرنے کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ ثَابِتٌ: كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَنَسٍ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں انس ؓ کے ساتھ (جا رہا) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر انس نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا ١ ؎۔

Sayyar reported that he was going with Thabit Bunani. They came across children and he greeted them with salaam and said, “I was with Anas (RA) and we passed by children and he offered them salaam and told me that he was with the Prophet ﷺ and as they passed by some childern the Prophet ﷺ greeted them.” [Bukhari 6247, Muslim 2168, Abu Dawud 5202, Ibn e Majah 3700]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2696 اس سند سے بھی انس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2696
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اسے کئی لوگوں نے ثابت سے روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث متعدد سندوں سے انس ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بچوں سے سلام کرنے میں کئی فائدے ہیں: ( ١ ) سلام کرنے والے میں تواضع کا اظہار ہوتا ہے، ( ٢ ) بچوں کو اسلامی آداب سے آگاہی ہوتی ہے، ( ٣ ) سلام سے ان کی دلجوئی بھی ہوتی ہے، ( ٤ ) ان کے سامنے سلام کی اہمیت واضح ہوتی ہے، ( ٥ ) وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں کہ یہ سنت رسول ہے جس پر عمل کرنا بہت اہم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ١٥ (٦٢٤٧)، صحیح مسلم/السلام ٥ (٢١٦٨)، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٧ (٥٢٠٢)، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٤ (٢٧٠٠) (تحفة الأشراف: ٤٣٨)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٨ (٢٦٧٨) (صحیح) انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٢٦٧) (صحیح )
2697Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کو سلام کرنے کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ تُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ، وَأَشَارَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بِيَدِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَا بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: شَهْرٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَقَوَّى أَمْرَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ ثُمَّ رَوَى عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمَصَاحِفِيُّ بَلْخِيٌّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ النَّضْرُ: نَزَكُوهُ أَيْ طَعَنُوا فِيهِ، وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِيهِ لِأَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَ السُّلْطَانِ.

اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چناچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا ١ ؎۔

Sayyidah Asma bint Yazid narrated: Alalh’s Messenger ﷺ passed through the mosque one day. A group of women were sitting there. He gestured his greeting with his hand. [Abu Dawud 5204, Ibn e Majah 3701]

ضعيف حجاب المرأة المسلمة (99 - 100)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2697
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - عبدالحمید (راوی) نے بھی پتے ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ اس طرح) ، ٣ - احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزکوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان (حکومت) کے ملازم بن گئے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جہاں فتنے کا خوف نہ ہو وہاں مرد اور عورتوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا جائز ہے، مثلاً عورتوں کی جماعت ہو یا کوئی بوڑھی عورت ہو، کیونکہ ان دونوں صورتوں میں فتنے کا اندیشہ نہیں ہے، البتہ مرد کا کسی جوان عورت کو سلام کرنا جب کہ وہ تنہا ہو اسی طرح تنہا جوان عورت کا کسی مرد کو سلام کرنا صحیح نہیں، کیونکہ یہ دونوں صورتیں فتنے سے خالی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٤٨ (٥٢٠٤) (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٦) (صحیح )
2698Sunan At-Tirmidhi

اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ الْأَنْصَارِيُّ مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہوگا ١ ؎۔

Sa’eed ibn Musayyiab reported from Sayyidina Anas (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said to him in the mosque, “O son, whenever you go to your family, give your salaam. That will bring blessings to you and to the people of your house.”

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2698
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ سلام گھر میں خیر و برکت کی کثرت کا سب سے بہترین نسخہ ہے، بہت افسوس ہے ایسے لوگوں پر جو سلام جیسی چیز کو چھوڑ کر خود بھی اور اپنے گھر والوں کو بھی خیر و برکت اور سلامتی سے محروم رکھتے ہیں، ہوسکتا ہے ایسے لوگ اپنے بیوی بچوں کو سلام کرنے میں اپنی سبکی محسوس کرتے ہوں، اس لیے گھر میں آتے جاتے سلام ضرور کرنا چاہیئے تاکہ سلام کی خیر و برکت سے محروم نہ رہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٦٥) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں )
2699Sunan At-Tirmidhi

کلام سے پہلے سلام کرنے کے متعلق

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ بَغْدَادِيٌّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّلَامُ قَبْلَ الْكَلَامِ . وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى الطَّعَامِ حَتَّى يُسَلِّمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ذَاهِبٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بات چیت شروع کرنے سے پہلے سلام کیا کرو ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Salaam before speech And through the same sanad it is reported from the Prophet ﷺ that he said, “Do not invite a person to the meal till he greets with salaam.”

(حديث: السلام قبل الکلام ) حسن، (حديث: لا تدعوا أحد ..... ) // موضوع // (حديث: السلام قبل الکلام )، الصحيحة (816)، (حديث: لا تدعوا أحد ... ) // ضعيف الجامع الصغير (3374)، وقال فيه: موضوع // (حديث: السلام قبل الکلام ) حسن، (حديث: لا تدعوا أحد ..... ) // موضوع // (حديث: السلام قبل الکلام )، الصحيحة (816)، (حديث: لا تدعوا أحد ... ) // ضعيف الجامع الصغير (3374)، وقال فيه: موضوع //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2699 اور سند سے نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: کسی کو کھانے پر نہ بلاؤ جب تک کہ وہ سلام نہ کرلے ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2699
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث منکر ہے ہم اس حدیث کو اس سند کے سوا کسی اور سند سے نہیں جانتے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنبسہ بن عبدالرحمٰن حدیث بیان کرنے میں ضعیف اور بہکنے والے، اور محمد بن زاذان منکرالحدیث ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠٧٤) (حسن) (سند میں محمد بن زاذان اور عنبسہ بن عبد الرحمن دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحة ٨١٦) تخريج: (موضوع) (ضعیف الجامع ٣٣٧٣، ٣٣٧٤، الضعیفة ١٧٣٦ )
2700Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ذمی (کافر) کو سلام کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہوجائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not take precedence in greeting the Jews and the Christians. When you encounter one of them on the road, compell him to go by a narrow path.” [Ahmed 8569, Bukhari 1103, Muslim 2167, Abu Dawud 5205]

صحيح، الإرواء (127)، الصحيحة (704)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2700
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہود و نصاری اور غیر مسلموں کو مجبور کیا جائے کہ بھیڑ والے راستوں میں کناروں پر چلیں، اور مسلمان درمیان میں چلیں تاکہ ان کی شوکت و حشمت کا اظہار ہو۔ اور اس طرح سے ان کو سلام اور مسلمانوں کے بارے میں مزید غور وفکر کا موقع ملے، شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کا دل عزت و غلبہ والے دین کے لیے کھول دے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٠٢ (صحیح )
2701Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ذمی (کافر) کو سلام کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ: قَدْ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» تم پر موت و ہلاکت آئے ، نبی اکرم ﷺ نے جواب میں فرمایا: «عليكم» ١ ؎، عائشہ نے (اس پر دو لفظ بڑھا کر) کہا «بل عليكم السام واللعنة» بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے ، عائشہ ؓ نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟۔ آپ نے فرمایا: تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated; ‘A company of Jews visited the Prophet ﷺ and said, ‘As-saam alayk’ The Prophet ﷺ said, “Wa alayk.” [Their words meant ‘death to you’ and the Prophet ﷺ said ‘same to you’]. I said to them, “Death to you all and the curse.” So the Prophet ﷺ said, “O Aisha (RA) , Allah loves mildness in affairs, all of them.” I asked, “Did you not hear what they said?” He said, “Indeed I responded with (on you, what you say).” [Bukhari 6356,Muslim 2165, Ibn e Majah 3698,Ahmed 24145]

صحيح، الروض النضير (764)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2701
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا آپ نے «عليكم» کہہ کر یہود کی بد دعا خود انہیں پر لوٹا دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الستتابة المرتدین ٤ (٦٩٢٧)، صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٥) (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٧)، و مسند احمد (٦/١٩٩) (صحیح )
2702Sunan At-Tirmidhi

جس مجلس میں مسلمان اور کافر ہوں ان کو سلام کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسٍ وَفِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا ١ ؎۔

Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) reported that the Prophet ﷺ passed by an assembly containing a mixture of Muslims and Jews. He offered them salaam. [Ah 21828, Nisai 2987, Muslim 1798]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2702
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ایسی مجلس جس میں مسلمان اور کافر دونوں موجود ہوں، اس میں مسلمانوں کو اپنا مخاطب سمجھ کر انہیں السلام علیکم کہنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر آل عمران ١٥ (٤٥٦٦)، والمرضی ١٥ (٥٦٦٣)، والأدب ١١٥ (٦٢٠٧)، والاستئذان ٢٠ (٦٢٥٤)، صحیح مسلم/الجھاد ٤٠ (١٧٩٨) (تحفة الأشراف: ١٠٩)، و مسند احمد (٥/٢٠٣) (کلہم سوی المؤلف في سیاق طویل فیہ قصة) (صحیح )
2703Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ وَزَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ وَيُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ ، وفي الباب عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وقَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ: إِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو (یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے ۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported on the authority of the Prophet ﷺ that salaam should be offered by the rider to the pedestrian, the pedestrian to the one who is seated, and a fewer number to a larger group. And, Ibn Muthanna added in his hadith: And the young should salute the old. [Ahmed 10630, Bukhari 6231, Muslim 2160, Abu Dawud 5198]

صحيح، الصحيحة (1145)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2703
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ٢ - ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ہے، ٣ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ سلام کرنے میں حدیث میں جو طریقہ اور صورت مذکور ہے اس کا اعتبار ہوگا نہ کہ رتبے اور درجے کا، اگر صورت میں اتفاق ہوگا مثلاً دونوں سوار ہیں یا دونوں پیدل ہیں تو ایسی صورت میں سلام کرتے وقت چھوٹے اور بڑے کا لحاظ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ٤ (٦٢٣١)، و ٥ (٦٢٣٢)، و ٦ (٦٢٣٣)، و ٧ (٦٢٣٤)، صحیح مسلم/السلام ١ (٩٢١٦٠، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٥ (٥١٩٨)، ٥١٩٩) (تحفة الأشراف: ١٢٢٥١)، و مسند احمد (٢/٣٢٥، ٥١٠) (صحیح )
2704Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Let the young give salaam to the old, the passer-by to the seated and the few to the many.”

صحيح، الصحيحة (1149)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2704
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٤٦٧٩) (صحیح )
2705Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ: حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُسَلِّمُ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَائِمِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْجَنْبِيُّ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ.

فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو اور چلنے والا کھڑے ہوئے شخص کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔

Sayyidina Fardalah ibn Ubaid (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Salaam is offered by the horse-rider to one who is on foot, and by the pedestrian to one who is standing, and by a smaller number to a larger number.” [Ahmed 23990, Bukhari 996]

صحيح، الصحيحة (1150)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2705
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٢٧ (٣٣٨) (تحفة الأشراف: ١١٠٣٤)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٦ (٢٦٧٦) (صحیح )
2706Sunan At-Tirmidhi

اٹھتے اور بیٹھتے وقت سلام کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ، ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْسَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا (سلام) دوسرے (سلام) سے زیادہ ضروری نہیں ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messsenger ﷺ said, “When one of you ends up at an assembly, let him offer salaam. If he seems inclined to sit then let him sit down. Thereafter, when he stands up, he must offer salaam. And the first (salaam) is not more rightful than the last.” [Ahmed 7145]

حسن صحيح، الصحيحة (183)، تخريج الکلم (201)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2706
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے، ابن عجلان نے بسند «سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں سلام کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٥٠ (٥٢٠٨)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣١ (٣٦٩) (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٨)، و مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٨٧، ٤٣٩) (حسن صحیح )
2707Sunan At-Tirmidhi

گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، لَوْ أَنَّهُ حِينَ أَدْخَلَ بَصَرَهُ اسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فَفَقَأَ عَيْنَيْهِ مَا غَيَّرْتُ عَلَيْهِ، وَإِنْ مَرَّ الرَّجُلُ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ غَيْرِ مُغْلَقٍ فَنَظَرَ، فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (گھر میں داخل ہونے کی) اجازت ملنے سے پہلے ہی جس نے (دروازے کا) پردہ کھسکا کر کسی کے گھر کے اندر جھانکا، اور گھر والے کی بیوی کی پردہ دری کی تو اس نے ایک ایسا کام کیا جس کا کرنا اس کے لیے حلال نہ تھا، جس وقت اس نے اپنی نگاہ اندر ڈالی تھی کاش اس وقت اس کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہوجاتا جو اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ دیتا تو میں اس پر اسے خوں بہا نہ دیتا۔ اور اگر کوئی شخص ایسے دروازے کے سامنے سے گزرا جس پر کوئی پردہ پڑا ہوا نہیں ہے اور دروازہ بند بھی نہیں ہے پھر اس کی نظر اٹھ گئی تو اس کی کچھ خطا نہیں۔ غلطی و کوتاہی تو گھر والے کی ہے ۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone slid the curtain (of a house) and his sight penetrated in the house before he sought permission for himself and he saw the secret of its .folks, then he touched the limit that was not lawful to him to touch. If meanwhile someone had pierced his eyes while they were penetrating (the house) then I would not get him retribution. But, if a man goes to a house that has no curtains neither is it shut and his eyes fall inside then he is not in error that fault lies with the people of the house.”

ضعيف، المشکاة (3526 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2707
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اس طرح کی حدیث صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٩٦٠)، و مسند احمد (٥/١٨١) (صحیح) (تراجع الالبانی / ١ )