انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے گھر میں تھے (اسی دوران) ایک شخص نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ ﷺ تیر کا پھل لے کر لپکے (کہ اس کی آنکھیں پھوڑ دیں) لیکن وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ was in his home when a man peeped into it. So, he advanced to him with an arrow and the man retreated.” [Bukhari 6242]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2708
سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حجرے میں ایک سوراخ سے جھانکا (اس وقت) نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے (پہلے سے) معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں کونچ دیتا (تجھے پتا نہیں) اجازت مانگنے کا حکم تو دیکھنے کے سبب ہی سے ہے ١ ؎۔
Sayyidina Sahi ibn Sa’d Saidi (RA) reported that a man peeped into the room of the Prophet ﷺ through on aperture He had a comb with which he was scratching his hair and he said, “If I had known that you were peeping inside then I would have poked your eyes with it. Seeking permission is initiated only because of Ihe eyes.’ [Ahmed 22866, Bukhari 6241, Muslim 2156, Nisai 4874]
صحيح صحيح الترغيب (3 / 273)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2709
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اجازت مانگنے سے پہلے کسی کے گھر میں جھانکنا اور ادھر ادھر نظر دوڑانا منع ہے، یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بھی اجازت طلب کئے بغیر داخل ہونا منع ہے، اگر اجازت طلب کرنا ضروری نہ ہوتا تو بہت سوں کی پردہ دری ہوتی اور نامحرم عورتوں پر بھی نظر پڑتی، یہی وہ قباحتیں ہیں جن کی وجہ سے اجازت طلب کرنا ضروری ہے۔
کلدہ بن حنبل ؓ نے بیان کیا کہ صفوان بن امیہ نے انہیں دودھ، پیوسی اور ککڑی کے ٹکڑے دے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا اور آپ اس وقت مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس اجازت لیے اور سلام کئے بغیر چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: واپس باہر جاؤ، پھر کہو «السلام علیکم»، کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ یہ اس وقت کی بات ہے جب صفوان اسلام لا چکے تھے۔ عمرو بن عبداللہ کہتے ہیں: یہ حدیث امیہ بن صفوان نے مجھ سے بیان کی ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث میں نے کلدہ سے سنی ہے۔
Sayyidina Kaladah ibn Hanbal (RA) narrated: Safwan ibn Umayyah sent me to the Prophet ﷺ with a little milk, a young gazelle and some small cucumbers. The Prophet ﷺ was then in an upper part of the valley. I went to him but did not seek permission and did not offer salaam. So, he instructed me, “Go back and say, ‘assalaamu alikum, may I enter?” This was after Safwan had embraced Islam. Amr said, “Umayyah ibn Safwan told me of this hadith” and he did not say, “I heard it from Kaladah.” [Abu Dawud 5176, Ahmed 15425]
صحيح، الصحيحة (818)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2710
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف ابن جریج کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٣ - ابوعاصم نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٣٧ (٥١٧٦) (تحفة الأشراف: ١١١٦٧)، و مسند احمد (٣/٤١٤) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک قرض کے سلسلے میں جو میرے والد کے ذمہ تھا کچھ بات کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ نے کہا: کون ہے؟ ۔ میں نے کہا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: میں میں (کیا ہے؟ ) ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) said that he sought permission of the Prophet ﷺ that he might speak to him about his father’s debt. He asked, “Who is there?” Jabir said, “I” and he repeated, “I, I” as though he disliked that (response). [Ahmed 14446,Bukhari 6250,Muslim 2155,Abu Dawud 5187,Ibn Majah3719] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2711
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اجازت طلب کرتے وقت اگر گھر والے یہ جاننا چاہیں کہ آنے والا کون ہے تو میں کہنے کے بجائے اپنا نام اور اگر کنیت سے مشہور ہے تو کنیت بتلائے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو سفر سے رات میں بیویوں کے پاس لوٹ کر آنے سے روکا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade them to go to their women folk at night (on returning from a journey). [Muslim 15285,Bukhari 5247,Muslim 715,Abu Dawud 2778]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2712
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے جابر ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں انس، ابن عمر، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو رات میں بیویوں کے پاس سفر سے واپس لوٹ کر آنے سے روکا ابن عباس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اس روکنے کے باوجود دو شخص رات میں لوٹ کر اپنی بیویوں کے پاس آئے (نتیجہ انہیں اس نافرمانی کا یہ ملا) کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے پاس ایک دوسرے مرد کو پایا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رات میں سفر سے واپس آ کر اپنے گھر والوں کے پاس آنے کی ممانعت اس صورت میں ہے جب آمد کی پیشگی اطلاع نہ دی گئی ہو، اور اگر گھر والے اس کی آمد سے پہلے ہی باخبر ہیں تو پھر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you writes a letter, let him put dust on it, for, it turns out well for the objective.”
ضعيف، المشکاة (5657)، الضعيفة (1738) // ضعيف الجامع الصغير (674) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2713
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث منکر ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تحریر پھیلی اور بگڑی ہوئی نہیں بلکہ صاف و ستھری رہے گی تو جس مقصد کے لیے لکھی گئی ہوگی، اس مقصد کے جلد حاصل ہونے کی امید کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٩ (٣٧٧٤) (تحفة الأشراف: ٢٦٩٩) (سند میں حمزة بن عمرو متروک الحدیث ہے اور ابو زبیر مکی مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابن ماجہ کی سند میں بقیہ ہیں اور روایت ابو احمد دمشقی سے ہے جو مجہول ہیں) (ضعیف) (الضعیفة ١٧٣٨ )
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپ کے سامنے ایک کاتب بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سنا آپ اس سے فرما رہے تھے: تم اپنا قلم اپنے کان پر رکھے رہا کرو کیونکہ اس سے لکھوانے والوں کو آگاہی و یاد دہانی ہوجایا کرے گی ۔
Sayyidina Zayd ibn Thabit (RA) reported that he visited Allah’s Messenger ﷺ once. A scribe was sitting with him and Zayd heard him say (to the scribe), “Place the pen on your ear. It helps keep the memory of the dictator sharp.”
موضوع، الضعيفة (865) // ضعيف الجامع الصغير (3588) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2714
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے، ٣ - عنبسہ بن عبدالرحمٰن اور محم بن زاذان، دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (التحفہ: ٤٧٤٣) (موضوع) (سند میں عنبسہ اور محمد بن زاذان دونوں متروک الحدیث ہیں )
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا ، چناچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیکھ لیا اور آپ کو یہودیوں کے پاس کچھ لکھ کر بھیجنا ہوا تو میں نے لکھ کر ان کے پاس بھیج دیا، اور جب یہودیوں نے کوئی چیز لکھ کر آپ کے پاس بھیجی تو میں نے ان کی کتاب (تحریر) پڑھ کر آپ کو سنا دی ١ ؎۔
Sayyidina Zayd ibn Thabit (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ commanded me to learn for him words from the writing of the Jews, saying, “By Allah, I am not convinced that the Jews write correctly.” Half a month had not gone by when I learnt it for him. When I had learnt it, and he had to write to the Jews, I wrote it down to them and when they wrote him, I read out to him their letters.” [Ahmed 21643,Bukhari 7195,Abu Dawud 3645] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، المشکاة (4659)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2715
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے، اسے اعمش نے ثابت بن عبید انصاری کے واسطہ سے زید بن ثابت ؓ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہود سے اگر کوئی چیز لکھائی جاتی یا ان سے کوئی چیز پڑھوائی جاتی دونوں صورتوں میں ان کی طرف سے کمی و زیادتی کا امکان تھا، اسی خطرہ کے پیش نظر آپ نے زید بن ثابت کو یہود کی زبان سیکھنے کا حکم دیا، یہ خطرہ آج بھی باقی ہے، اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ضروری ہے کہ دوسری زبانیں بھی سیکھی جائیں، اس لیے امت مسلمہ کو چاہیئے کہ دنیا کی ہر زبان سیکھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٤٠ (٧١٩٥) (تعلیقاً )، سنن ابی داود/ العلم ٢ (٣٦٤٥) (تحفة الأشراف: ٣٧٠٢)، و مسند احمد (٥/١٨٦) (حسن صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے کسریٰ و قیصر، نجاشی اور سارے سرکش و متکبر بادشاہوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے۔ اس نجاشی سے وہ نجاشی (بادشاہ حبش اصحمہ) مراد نہیں ہے کہ جن کے انتقال پر نبی اکرم ﷺ نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ wrote letters before his death to the Chosroes, Caesar, and Najashi and to every King, inviting them to Allah. And, the Najashi was not the one whose funeral salah he had led. [Muslim 1774, Ahmed 12358]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2716
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٢٧ (١٧٧٤) (تحفة الأشراف: ١١٧٩)، و مسند احمد (٣/٣٣٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوسفیان بن حرب ؓ نے ان سے بیان کیا کہ وہ قریش کے کچھ تاجروں کے ساتھ شام میں تھے کہ ہرقل (شہنشاہ شام) نے انہیں بلا بھیجا، تو وہ سب اس کے پاس آئے، پھر سفیان نے آگے بات بڑھائی۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا۔ پھر خط پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا «بسم اللہ الرحمن الرحيم من محمد عبدالله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم السلام علی من اتبع الهدى أمابعد» میں شروع کرتا ہوں اس اللہ کے نام سے جو رحمان (بڑا مہربان) اور رحیم (نہایت رحم کرنے والا) ہے۔ یہ خط محمد کی جانب سے ہے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور ہرقل کے پاس بھیجا جا رہا ہے جو روم کے شہنشاہ ہیں۔ سلامتی ہے اس شخص کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد: حمد و نعت کے بعد … الخ ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Abu Sufyan (RA) ibn Harb informed him that when he had gone to Syria on a trade mission with some people, Heraclius sent him message. They presented themselves in his court. Thereafter, Sufyan mentioned the hadith. Heraclius called for the letter of Allah’s Messenger ﷺ and it was read out to him. It said, “In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. From Muhammad the slave of Allah and His Messenger ﷺ to Heraclius, the great of Rome. Peace be on him who follows guidance. To procced!” [Ahmed 2370, Muslim
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2717
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوسفیان کا نام صخر بن حرب ؓ تھا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جب عجمی (بادشاہوں) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چناچہ آپ نے (مہر کے لیے) ایک انگوٹھی بنوائی، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that when the Prophet ﷺ intended to write letters to the non-Arabs, he was told that the non-Arabs did not accept a letter without a seal on it. So, he had a ring made. “It is as though I see its whiteness on his palm.’ [Ahmed 2092, Abu Dawud 4210, Ahmed 12940]
صحيح مختصر الشمائل (74)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2718
مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو دوست (مدینہ) آئے، فقر و فاقہ اور جہد و مشقت کی بنا پر ہماری سماعت متاثر ہوگئی تھی ١ ؎ اور ہماری آنکھیں دھنس گئی تھیں، ہم نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا ٢ ؎، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے آئے، اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہو ، تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ پیتا اور رسول اللہ ﷺ کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے، پھر رسول اللہ ﷺ رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ اٹھے اور جاگنے والا سن بھی لے ٣ ؎، پھر آپ مسجد آتے نماز تہجد پڑھتے پھر جا کر اپنے حصے کا دودھ پیتے۔
Sayyidina Miqdad ibn Aswad (RA) reported: I and my two friends (came to Madinah). Our hearing and sight had gone weak from hunger. We presented ourselves to the sahabah (RA) but none o f them accepted us. So we went to the Prophet ﷺ and he took us to his home there were three sheep. The Prophet ﷺ said to us “Milk these sheep.” So, we milked them and each of us drank his portion and kept aside the Prophet’s ﷺ shares. He would come in the night and offer salaam in such a way that if anyone was sleeping then he would not be disturbed while one who was awake heard him. He would then go to the mosque and offer salah. When he returned, he drank his share of milk. [Muslim 2055, Ahmed 23873] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح آداب الزفاف ص (82 - 83)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2719
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہم اونچا سننے لگے تھے۔ ٢ ؎: وہ سوچتے یہ تو خود ہی مر رہے ہیں یہ کیا کام کریں گے۔ اور وہ ہمیں کام نہ دیتے۔ ٣ ؎: نہ آواز بھاری، بلند اور کرخت ہوتی کہ سونے والا چونک کر اٹھ بیٹھے اور نہ ہی اتنی باریک، ہلکی اور پست کہ جاگنے والا بھی نہ سن سکے۔ بلکہ آواز درمیانی ہوتی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٣٢ (٢٠٥٥)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٢٣ (٣٢٣) (تحفة الأشراف: ١١٥٤٦)، و مسند احمد (٦/٣٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو اس وقت سلام کیا جب آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man offered salaam to the Prophet ﷺ while he was passing urine. So, he did not respond to his salaam. [Muslim 370, Abu Dawud 16, Ibn e Majah 353]
حسن صحيح وهو مکرر الحديث (90)
حسن صحيح وهو مکرر الحديث (90)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2720
عبداللہ بن عمر ؓ نے اس سند سے اسی طرح روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2720
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علقمہ بن فغواء، جابر، براء اور مہاجر بن قنفد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٩٠ (حسن صحیح)
انظر ما قبلہ (حسن صحیح )
جابر بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ سے ملنا چاہتا تھا، مگر آپ تک پہنچ نہ سکا، میں بیٹھا رہا پھر کچھ لوگ سامنے آئے جن میں آپ ﷺ بھی تھے۔ میں آپ سے واقف نہ تھا، آپ ان لوگوں میں صلح صفائی کرا رہے تھے، جب آپ (اس کام سے) فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں نے (لوگوں کو) ایسا کہتے دیکھا تو میں نے کہا: «علیک السلام یا رسول اللہ»! (آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول) اور ایسا میں نے تین بار کہا، آپ نے فرمایا: «علیک السلام» میت کا سلام ہے ١ ؎، آپ نے بھی ایسا تین بار کہا، پھر آپ میری طرف پوری طرح متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ کہے «السلام علیکم ورحمة اللہ» پھر آپ نے میرے سلام کا جواب اس طرح لوٹایا، فرمایا: «وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ» (تین بار) ۔
Abu TamimahHujaymi (RA) reported that a man of his community said: I looked for the Prophet ﷺ but could not find him. So I sat down. Suddenly a group of men appeared and he was one of them. I did not necognise him. He was patching up differences between them. When he had finished, some of them stood with him and said, “O Messenger of Allah ﷺ ” When I heard that, I said, “Alaykas salaam, O Messenger of Allah ﷺ , alaykas salaam, O Messenger of Allah ﷺ , alaykas salaam, O Messenger of Allah ﷺ .” He said, “The words alaykas salaam are greeting for the dead.” Then he turned to me and said, “When you meet a man, your brother Muslim, you must say as-salaamu alayum wa rahmatullah wa barakatuh.” Then he responded to my salaam, saying. “wa alayka wa rahmatullah, wa alayka wa rahmatullah, wá alayka wa rahmatullah.” [Abu Dawud 4084, Ahmed 15955]
صحيح، الصحيحة (1403)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2721
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوغفار نے یہ حدیث بسند «ابو تمیمہ الہجیمی عن ابی جری جابر بن سلیم الہجیمی» سے روایت کی ہے، ہجیمی کہتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا پھر آگے پوری حدیث بیان کردی۔ ابو تمیمہ کا نام طریف بن مجالد ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں «علیک السلام» کہنے کی جو ممانعت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں سلام کا یہی رواج تھا، ورنہ اسلام میں تو زندوں اور مردوں دونوں کے لیے «السلام علیکم» ہی سلام ہے، چناچہ مردوں کے لیے سلام کے تعلق سے حدیث کے یہ الفاظ ہیں: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين»۔
جابر بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، پھر آپ سے عرض کیا: «علیک السلام» آپ پر سلامتی ہو تو آپ نے فرمایا:«علیک السلام» مت کہو بلکہ «السلام علیک» کہو اور آگے پورا لمبا قصہ بیان کیا۔
Hasan ibn Ali (RA) Khallal reported from Abu Usamah, from Abu Ghifar Müthanna, from Sa’eed Ta’i, fromAbu Tamimah Hujaymi, from Jabir ibn Sulaym. He said, “I came to the Prophet ﷺ and said, ‘Alikas saaam.’ He said “Do not say alikas salaam, but say assalaamu alik.” And a lengthy account follows.
صحيح انظر ما قبله (2721)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2722
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دھراتے۔
Sayiidina Anas (RA) ibn Malik reported that when Allah’s Messenger ﷺ offered salaam, he did it thrice and when he said something, he repeated it three times. [Bukhari 94]
حسن صحيح مختصر الشمائل (192)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2723
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
فائدہ ١ ؎: تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔
ابو واقد حارث بن عوف لیثی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ لوگ بھی بیٹھے تھے، اسی دوران اچانک تین آدمی آئے، ان میں سے دو رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھ آئے، اور ایک واپس چلا گیا، جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر رکے تو انہوں نے سلام کیا، پھر ان دونوں میں سے ایک نے مجلس میں کچھ جگہ (گنجائش) دیکھی تو وہ اسی میں (گھس کر) بیٹھ گیا۔ اور دوسرا شخص ان لوگوں کے (یعنی صحابہ) کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ اور تیسرا تو پیٹھ موڑے چلا ہی گیا تھا، پھر جب فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا: کیا میں تمہیں تینوں اشخاص کے متعلق نہ بتاؤں؟ (سنو) ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے نے شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور رہا تیسرا شخص تو اس نے اعراض کیا، چناچہ اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا، منہ پھیرلیا ۔
Sayyidina Abu Waqid Laythi (RA) reported that while Allah’s Messenger ﷺ was seated in the mosque and the people were with him, three men came. Two of them approached him while the third went away. When they stood by him. they offered salaam. One of them saw some space in the circle and sat down there and the other sat behind the people. The third had already gone away. When Allah’s Messenger ﷺ had finshed (what he had in hand), he said, “Shall I not tell you about the three people. As for one of them, he leaned towards Allah, so Allah leaned towards him. As for the othr, he felt shy (and sat in the rear) so Allah let him be. As for the third, he turned away, so Allah deprived him.” [Ahmed 21966,Bukhari 66,Muslim 2176]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2724
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابو مرہ ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام یزید ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عقیل ابن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم جب نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے تو جس کو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported that when they came to the Prophet’s ﷺ gatherings, they sat down wherever they got space. [Ahmed 20983, Bukhari 1141, Abu Dawud 8425]
صحيح، الصحيحة (330)، تخريج علم أبي خيثمة (100)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2725
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث زہیر بن معاویہ نے سماک سے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مجلس کو کشادہ رکھنا چاہیئے تاکہ ہر آنے والے کو مجلس میں بیٹھنے کیا جگہ مل جائے اور اس میں تنگی محسوس نہ کرے، مجلس میں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جانا چاہیئے، دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھنا ممنوع ہے، اس میں رتبے و درجے کا کوئی اعتبار نہیں، یہ اور بات ہے کہ بیٹھا ہوا شخص اپنے سے بڑے کے لیے جگہ خالی کر دے پھر تو اس جگہ بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٦ (٤٨٢٥) (تحفة الأشراف: ٢١٧٣)، و مسند احمد (٥/٩٨) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ (سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بالخصوص شعبہ کی روایت ہونے کی وجہ سے قوی ہے) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: (یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور (بھولے بھٹکے ہوئے کو) راستہ بتادیا کرو ۔
Sayyidina Bara (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ passed by a few Ansar seated on a throught fare. He said, “If you cannot help but sit here then respond to the salaam (of every passerby), help the helpless, and guide the lost.” [Ahmed 18593]
صحيح المتنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2726
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ہاں (بس اتنا ہی کافی ہے) ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that a man said, “O Messenger of Allah ﷺ ; if a man among us meets his brother or his friend, should he bow down before him”? He said, “No.” He asked, “Then shall he embrace him? And, Kiss him”? He said, “No.” The man asked. “Should he hold his hand and give him a hndshake”? The Prophet ﷺ said, “Yes.” [Muslim 3702]
حسن، ابن ماجة (3702)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2728
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ( ١ ) ملاقات کے وقت کسی کے سامنے جھکنا منع ہے، اس لیے جھک کر کسی کا پاؤں چھونا ناجائز ہے، ( ٢ ) اس حدیث میں معانقہ اور بوسے سے جو منع کیا گیا ہے، یہ ہر مرتبہ ملاقات کے وقت کرنے سے ہے، البتہ نئی سفر سے آ کر ملے تو معانقہ و بوسہ درست ہے، ( ٣ ) «أفيأخذ بيده ويصافحه» سے یہ واضح ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہوگا، کیونکہ حدیث میں دونوں ہاتھ کے پکڑنے کے متعلق نہیں پوچھا گیا، بلکہ یہ پوچھا گیا ہے کہ اس کے ہاتھ کو پکڑے اور مصافحہ کرے معلوم ہوا کہ مصافحہ کا مسنون طریقہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ١٥ (٣٧٠٢) (تحفة الأشراف: ٨٢٢) (حسن )