بغیر اجازت کسی کے گھر میں جھانکنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے گھر میں تھے (اسی دوران) ایک شخص نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ ﷺ تیر کا پھل لے کر لپکے (کہ اس کی آنکھیں پھوڑ دیں) لیکن وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ was in his home when a man peeped into it. So, he advanced to him with an arrow and the man retreated.” [Bukhari 6242]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2708
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ١١ (٦٢٤٢)، والدیات ١٥ (٦٨٨٠)، و ٢٣ (٦٩٠٠)، صحیح مسلم/الآداب ٩ (٢١٥٧)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٦ (٥١٧١)، سنن النسائی/القسامة ٤٦ (٤٨٦٢) (تحفة الأشراف: ٧٢١)، و مسند احمد (٣/١٠٨، ١٤٠، ٢٣٩، ٢٤٢) (صحیح )