ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہوگی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam was created; and on this day, he was admitted to Paradise, and on this day, he was expelled from it. And the Hour will not come but on Friday.
صحيح، الصحيحة (961)، صحيح أبي داود (961)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 488
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابولبابہ، سلمان، ابوذر، سعد بن عبادہ اور اوس بن اوس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور سرانجام پائے ہیں کہ جن سے جمعہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے روز اس گھڑی کو جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے عصر سے لے کر سورج ڈوبنے تک کے درمیان تلاش کرو ۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Look out for the hour on Friday from after asr till the setting of the sun in which hope is placed.”
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- یہ حدیث انس ؓ سے بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٣- محمد بن ابی حمید ضعیف گردانے جاتے ہیں، بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان کی تضعیف کی ہے، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، نیز کہا جاتا ہے کہ یہی ابوابراہیم انصاری ہیں اور یہ منکرالحدیث ہیں، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ گھڑی جس میں قبولیت دعا کی امید کی جاتی ہے عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ احمد کہتے ہیں: اس گھڑی کے سلسلے میں جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے زیادہ تر حدیثیں یہی آئی ہیں کہ یہ عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، نیز سورج ڈھلنے کے بعد بھی اس کے ہونے کی امید کی جاتی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بابت متعدد روایات ہیں، دیکھئیے اگلی حدیثیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦١٩) (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی محمد بن ابی حمید ضعیف ہیں جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا)
عمرو بن عوف مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس میں مانگتا ہے اللہ اسے عطا کرتا ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی گھڑی ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز (جمعہ) کھڑی ہونے کے وقت سے لے کر اس سے پلٹنے یعنی نماز ختم ہونے تک ہے ١ ؎۔
Ziyad ibn Ayyub al-Baghdadi reported from Abu Aamir aI-Aqdi from Kathir ibn Abdullah ibn Amr ibn Awf al-Muzani who reported from his father from his grandfather from the Prophet ﷺ that he said, “There is, indeed, an hour on Friday when no slave asks Allah for something but He gives it to him definitely.” They asked, “O Messenger of Allah! ﷺ Which is that hour?” He said, “(It is) from iqamah of the salah till one gets over with it.” [Ibn e Majah 1138]
ضعيف جدا، ابن ماجة (1138) // ضعيف سنن ابن ماجة (235)، ضعيف الجامع الصغير (1890) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 490
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمرو بن عوف کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ، ابوذر، سلمان، عبداللہ بن سلام، ابولبابہ، سعد بن عبادہ اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قبولیت دعا کی اس گھڑی کے وقت کے بارے میں یہی ٹکڑا اس حدیث میں ضعیف ہے، نہ کہ مطلق حدیث ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٩ (١١٣٨) (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٣) (ضعیف جداً ) (یہ سند معروف ترین ضعیف سندوں میں سے ہے، کثیر ضعیف راوی ہیں، اور ان کے والد عبداللہ عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی مقبول یعنی متابعت کے وقت ورنہ ضعیف راوی ہیں)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کیے گئے، اسی دن وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن وہ جنت سے (زمین پر اتارے گئے) اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جسے مسلم بندہ نماز کی حالت میں پائے اور اللہ سے اس میں کچھ طلب کرے تو اللہ اسے ضرور عطا فرمائے گا، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں یہ گھڑی اچھی طرح جانتا ہوں، میں نے کہا: مجھے بھی اس کے بارے میں بتائیے اور اس سلسلہ میں مجھ سے بخل نہ کیجئے، انہوں نے کہا: یہ عصر کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، اس پر میں نے کہا: یہ عصر کے بعد کیسے ہوسکتی ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اسے مسلمان بندہ حالت نماز میں پائے اور یہ وقت ایسا ہے جس میں نماز نہیں پڑھی جاتی؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں کسی جگہ بیٹھا رہے تو وہ بھی نماز ہی میں ہوتا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور فرمایا ہے تو انہوں نے کہا: تو یہی مراد ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of days on which the sun has risen is Friday. On it, Adam was created and on it, he was admitted to Paradise and on it, he was sent down from it. And, there is an hour in it which no Muslim slave who gets it, prays and asks Allah in it for something but He will give it to him.” Sayyidina Abu Hurairah (RA) said, “I met Abdullah ibn Salaam and mentioned to him the hadith. He said, ‘I know that hour’. So, I said, ‘Infrom me of it and do not be miserly with me about it’. He said, ‘It is from after asr till sunset’. I said, ‘How can it be after asr while Allah’s Messenger ﷺ said that no Muslim slave who gets it will pray but this hour is one when one does not pray?’ So Abdullah ibn Salaam said, ‘Is it not that Allah’s Messenger ﷺ said that one who sits in a gathering waiting for prayer is as though he is engaged in prayer?’ I said, ‘Yes!’ He said, ‘It is that’. And the account is lengthy in the hadith. [Ahmed10307, Bukhari 935, Muslim 852, Nisai 1369] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1139)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 491
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، ٢- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٣- اور آپ کے اس قول «أخبرني بها ولا تضنن بها علي» کے معنی ہیں اسے مجھے بتانے میں بخل نہ کیجئے، «ضنّ» کے معنی بخل کے ہیں اور «ظنين» کے معنی، متہم کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر خطبہ سے فراغت کے درمیان ہے یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لیے بقول امام احمد اور ابن عبدالبر دونوں وقتوں میں دعا میں کوشش کرنی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٧ (١٠٤٦)، سنن النسائی/الجمعة ٤٥ (١٤٣)، ( تحفة الأشراف: ١٥٠٠٠)، موطا امام مالک/الجمعة ٧ (١٦) (صحیح) وقد رواہ بدون ذکر القصة مقتصرا علی الحدیث المرفوع کل من: صحیح البخاری/الجمعة ٣٧ (٩٣٥)، والطلاق ٢٤ (٥٢٩٤)، والدعوات ٦١ (٦٤٠٠)، و صحیح مسلم/الجمعة ٤ (٨٥٢)، و سنن النسائی/الجمعة ٤٥ (١٤٣٢، ١٤٣٣)، و سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٩ (١١٣٧)، وط/الجمعة ٧ (١٥) و مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٥٥، ٢٧٢، ٢٠٨، ٢٨٤، ٤٠٣، ٤٥٧، ٤٦٩، ٤٨١، ٤٨٩)، وسنن الدارمی/الصلاة ٢٠٤ (١٦١٠)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جو جمعہ کی نماز کے لیے آئے اسے چاہیئے کہ (پہلے) غسل کرلے ١ ؎۔
Saalim reported his father as saying that he heard the Prophet ﷺ say, “He who comes tor the Friday (salah) must have a bath.”Zuhri has also reported this hadith. He reported from Abdullah ibn Abdullah ibn Umar (RA) who from his father who reported from the Prophet ﷺ
صحيح، ابن ماجة (1088)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 492
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس بات میں عمر، ابو سعید خدری، جابر، براء، عائشہ اور ابو الدرداء سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے جمعہ کے دن کے غسل کو واجب قرار دیا ہے، اور جو وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں امر تاکید کے لیے ہے اس سے مراد وجوب اختیاری ( استحباب ) ہے جیسے آدمی اپنے ساتھی سے کہے تیرا حق مجھ پر واجب ہے یعنی مؤکد ہے، نہ کہ ایسا وجوب جس کے ترک پر سزا اور عقوبت ہو۔ ( اس تاویل کی وجہ حدیث رقم ٤٩٧ ہے )۔
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور غسل کرایا، اور سویرے پہنچا، شروع سے خطبہ میں شریک رہا، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اسے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کے قیام کا ثواب ملے گا ۔ وکیع کہتے ہیں: اس کا معنی ہے کہ اس نے خود غسل کیا اور اپنی عورت کو بھی غسل کرایا۔
Sayyidina Aws ibn Aws (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to him, “If anyone has a bath on Friday, and gives a bath, and goes early to the mosque, hears the imam’s sermon from the beginning, being near the imam and keeping quiet through out then, for him a reward is credited against ever step for a years fasting and standing in (tahajjud) prayer. Mahmud said about this hadith that Waki said: He had a bath and helped his wife have a bath. And it is reported from lbn Mubarak that he washed his head and had a bath. [Ahmed1616, Abu Dawud 346, Ibn e Majah 1078] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1087)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 496
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اوس بن اوس کی حدیث حسن ہے، ٢- عبداللہ بن مبارک نے اس حدیث کے سلسلہ میں کہا ہے کہ «من غسل واغتسل» کے معنی ہیں: جس نے اپنا سر دھویا اور غسل کیا، ٣- اس باب میں ابوبکر، عمران بن حصین، سلمان، ابوذر، ابوسعید، ابن عمر، اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو اختیار کیا اور خوب ہے یہ رخصت، اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے ١ ؎۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘He who makes ablution on Friday does well and he who has a bath, (then) a bath is better.”
صحيح، ابن ماجة (1091)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 497
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سمرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- قتادہ کے بعض تلامذہ نے تو یہ حدیث قتادہ سے اور قتادہ نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ بن جندب سے (مرفوعاً ) روایت کی ہے۔ اور بعض نے قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کو پسند کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ غسل کے بدلے وضو بھی کافی ہوجائے گا، ٥- شافعی کہتے ہیں: جمعہ کے روز نبی اکرم ﷺ کے غسل کے حکم کے وجوبی ہونے کے بجائے اختیاری ہونے پر جو چیزیں دلالت کرتی ہیں ان میں سے عمر ؓ کی حدیث بھی ہے جس میں انہوں نے عثمان ؓ سے کہا ہے کہ تم نے صرف وضو پر اکتفا کیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا ہے، اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ یہ حکم واجبی ہے، اختیاری نہیں تو عمر ؓ عثمان ؓ کو لوٹائے بغیر نہ چھوڑتے اور ان سے کہتے: جاؤ غسل کرو، اور نہ ہی عثمان ؓ سے اس بات کے جاننے کے باوجود کہ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے وجوب کی حقیقت مخفی رہتی، بلکہ اس حدیث میں صاف دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے نہ کہ واجب۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جمعہ کا غسل واجب نہیں کیونکہ ایک تو اس میں وضو کی رخصت دی گئی ہے بلکہ اسے اچھا قرار دیا گیا ہے اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے ترک غسل کی اجازت نکلتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٠ (٣٥٤)، سنن النسائی/الجمعة ٩ (١٣٨١)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٨٧)، مسند احمد (٥/١٥، ١٦، ٢٢) (صحیح) (یہ حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے، اور سب کی سندیں ضعیف ہیں، یہ سند بھی ضعیف ہے کیونکہ حسن بصری کا سماع سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ کے سوا ثابت نہیں ہے، ہاں تمام طرق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے، متن کی تائید صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا ١ ؎ پھر جمعہ کے لیے آیا ٢ ؎، امام کے قریب بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے ٣ ؎ کے گناہ ٤ ؎ بخش دیئے جائیں گے۔ اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو کیا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a person makes ablution and makes it a good ablution then he comes for Friday and sits near the imam and hears the sermon attentively observing silence then (his sins) are forgiven to him whatever he committed between that and (next) Friday plus three more days. And he who touches pebbles has indeed committed excess (and is deprived of this reward).” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1090)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 498
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اچھی طرح وضو کیا کا مطلب ہے سنت کے مطابق وضو کیا۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے وضو کر کے مسجد میں آنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔ ٣ ؎: یعنی دس دن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک نیکی کا اجر کم سے کم دس گنا ہے۔ ٤ ؎: اس سے صغیرہ گناہ مراد ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ٨ (٨٥٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٩ (١٠٥٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٢ (١٠٢٥)، و ٨١ (١٠٩٠)، ( تحفة الأشراف: ١٢٤٠٥)، مسند احمد (٢/٤٢٤) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے روز جنابت کے غسل کی طرح (یعنی خوب اہتمام سے) غسل کیا پھر نماز جمعہ کے لیے (پہلی گھڑی میں ) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، اور جو اس کے بعد والی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک گائے قربان کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک سینگوں والا مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک مرغی کا صدقہ کر کے اللہ کا تقرب حاصل کیا، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب امام خطبہ کے لیے گھر سے نکل آیا تو فرشتے ذکر سننے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone had a bath on Friday, very well and goes to the mosque at the first time then it is as though he sacrificed a camel. Then, as for one who goes at the second moment, he is as though he secrificed a cow. As for one who goes at the third hour, he is as though he sacrificed a horned ram. As for him who goes at the fourth hour, he is as though he sacrificed a hen in Allah’s way. As for him who went at the fifth hour, he is as though he gave an egg for Allah’s sake. And when the imam comes to deliver the sermon the angels are occupied in listening to it.” [Ahmed9933, Bukhari 881, Muslim 850, Abu Dawud 351, Nisai 1384] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1092)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 499
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نام درج کرنے والا رجسٹر بند کر کے خطبہ سننے لگتے ہیں۔
ابوالجعد ضمری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جمعہ تین بار سستی ١ ؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۔
Ubaydah ibn Sufyan reported on the authority of Sayyidina Abu Ja’d who, according to Muhammad ibn Umar, was a sahabi that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone neglects Friday (salah) three times out of laziness then Allah puts a seal on his heart.” [Ahmed15498, Abu Dawud 1052, Nisai 1368, Ibn e Majah 1125] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، ابن ماجة (1125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 500
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوالجعد کی حدیث حسن ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ابوالجعد ضمری کا نام پوچھا تو وہ نہیں جان سکے، ٣- اس حدیث کے علاوہ میں ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، ٤- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل جمعہ چھوڑنا ایک خطرناک کام ہے، اس سے دل پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد اخروی کامیابی کی امید ختم ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢١٠ (١٠٥٢)، سنن النسائی/الجمعة ١ (١٣٦٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٣ (١١٢٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، مسند احمد (٣/٤٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١٢) (حسن صحیح)
اہل قباء میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتا ہے - اس کے والد صحابہ میں سے ہیں - وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قباء سے آ کر جمعہ میں شریک ہوں۔ اس سلسلے میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔
Thuwayr reported from a man of Quba who from his father who was one of the Prophet’s companions that the Prophet ﷺ commanded them to present themselves from Quba for (the) Friday (salah).Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Friday (salah) is wajib on one who can return to his family by night.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد
ضعيف جدا، المشکاة (1386) // ضعيف الجامع الصغير (2661) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 501
میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا کہ ہم لوگ احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے؟ تو امام احمد نے اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز ذکر نہیں کی، احمد بن حسن کہتے ہیں: تو میں نے احمد بن حنبل سے کہا: اس سلسلہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، تو امام احمد نے پوچھا کیا نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں (نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے) ، پھر احمد بن حسن نے «حجاج بن نصير حدثنا معارک بن عباد عن عبد اللہ بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جمعہ اس پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آسکے ، احمد بن حسن کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل مجھ پر غصہ ہوئے اور مجھ سے کہا: اپنے رب سے استغفار کرو، اپنے رب سے استغفار کرو۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 502
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں ہے، ٢- ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ اس پر فرض ہے جو رات کو اپنے گھر والوں تک پہنچ سکے ، اس حدیث کی سند ضعیف ہے، یہ حدیث معارک بن عباد سے روایت کی جاتی ہے اور معارک عبداللہ بن سعید مقبری سے روایت کرتے ہیں، یحییٰ بن سعید قطان نے عبداللہ بن سعید مقبری کی حدیث کی تضعیف کی ہے، ٣- اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ جمعہ کس پر واجب ہے، بعض کہتے ہیں: جمعہ اس شخص پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر پہنچ سکے اور بعض کہتے ہیں: جمعہ صرف اسی پر واجب جس نے اذان سنی ہو، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
احمد بن حنبل نے ایسا اس لیے کیا کہ انہوں نے اس حدیث کو کوئی حیثیت نہیں دی اور اسے کسی شمار میں نہیں رکھا، سند کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی ” رجل من اھل قباء “ مبہم ہے)
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٩٦٥) (ضعیف جداً ) (اس کے تین راوی ضعیف ہیں: عبداللہ بن سعید متروک، اور حجاج بن نصیر اور معارک دونوں ضعیف ہیں)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھجور کے ایک تنے پر (کھڑے ہو کر) خطبہ دیتے تھے، جب آپ ﷺ نے منبر بنا لیا تو وہ تنا رو پڑا یہاں تک کہ آپ اس کے پاس آئے اور اسے چمٹا لیا تو وہ چپ ہوگیا۔
Sayyidina lbn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ used to deliver the sermon standing by a trunk. When he took the pulpit (to deliver it), the trunk cried till he went to it and embraced it and it quietened down. [Bukhari 3583] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (2174)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 505
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، جابر، سہل بن سعد، ابی بن کعب، ابن عباس اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دیتے پھر (بیچ میں) بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، راوی کہتے ہیں: جیسے آج کل تم لوگ کرتے ہو۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ used to deliver a sermon on Friday, then sit down, and then get up and give a sermon. He said, ‘Like they do today.” [Ahmed5730, Nisai 861] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1002)، الإرواء (604)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 506
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور جابر بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہی اہل علم کی رائے ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرے۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتا تھا تو آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانا ہوتا تھا۔ (یعنی زیادہ لمبا نہیں ہوتا تھا)
Sayyidina Jabir ibn Samurah said, “I prayed with the Prophet ﷺ and indeed his prayer was moderate and his sermon was moderate. (That is, they were neither lengthy nor brief). [Ahmed2089, Muslim 866, Abu Dawud 1101, Nisai 1578, Ibn e Majah 1106] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1106)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 507
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمار بن یاسر اور ابن ابی اوفی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر پڑھتے سنا: «ونادوا يا مالک» ١ ؎ اور وہ پکار کر کہیں گے اے مالک!
Safwan ibn Yala ibn Umayyah reported from his father that he heard the Prophet ﷺ recite on the minbar (pulpit) (the verse) “And they shall call out.....” (43:77) --------------------------------------------------------------------------------
١- یعلیٰ بن امیہ ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہی ابن عیینہ کی حدیث ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے امام کے خطبہ میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھنے کو پسند کیا ہے ٢ ؎، شافعی کہتے ہیں: امام جب خطبہ دے اور اس میں قرآن کچھ نہ پڑھے تو خطبہ دہرائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: الزخرف: ٧٧ («مالک» جہنم کے دروغہ کا نام ہے جس کو جہنمی پکار کر کہیں گے کہ اپنے رب سے کہو کہ ہمیں موت ہی دیدے تاکہ جہنم کے عذاب سے نجات تو مل جائے، جواب ملے گا: یہاں ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے ) ٢ ؎: صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ جمعہ میں سورة ق پوری پڑھا کرتے تھے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بطور وعظ ونصیحت کے قرآن کی کوئی آیت پڑھنی چاہیئے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب منبر پر بیٹھتے تو ہم اپنا منہ آپ کی طرف کرلیتے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud narrated that when Allahs Messenger ﷺ sat down on the pulpit, they turned their faces towards him. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (2080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 509
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- منصور کی حدیث کو ہم صرف محمد بن فضل بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- محمد بن فضل بن عطیہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ضعیف اور ذاہب الحدیث ہیں، ٣- اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی کوئی چیز صحیح نہیں ہے ١ ؎، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ خطبے کے وقت امام کی طرف رخ کرنا مستحب سمجھتے ہیں اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٥- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سند کے لحاظ سے اس باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے لیکن متعدد احادیث وآثار سے اس مضمون کو تقویت مل جاتی ہے ( دیکھئیے الصحیحۃ رقم ٢٠٨٠) عام مساجد میں یہ چیز تو بہت آسان ہے لیکن خانہ کعبہ میں مشکل ہے، تو وہاں یہ بات معاف ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٤٥٧) (صحیح) (یہ سند سخت ضعیف ہے، اس لیے کہ اس میں راوی محمد بن فضل بن عطیہ کی لوگوں نے تکذیب تک کی ہے، لیکن براء بن عازب اور ابن عمر، انس اور ابو سعید خدری وغیرہ سے مروی شواہد کی بنا پر صحابہ کا یہ تعامل صحیح اور ثابت ہے تفصیل کے لیے دیکھئے: الصحیحة ٢٠٨٠)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا تو آپ نے اسے پوچھا: کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اٹھو اور (دو رکعت) نماز پڑھ لو ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated that while the Prophet ﷺ was delivering the sermon, a man came. So, he asked him, “Have you offered salah?” He said, “No!” The Prophet ﷺ said, ‘Get up and pray.” [Ahmed 14313, Bukhari 930, Muslim 875, Abu Dawud Nisai 1405]
صحيح، ابن ماجة (1112)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 510
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔
عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری ؓ جمعہ کے دن (مسجد میں) داخل ہوئے، مروان بن حکم خطبہ دے رہے تھے، وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، پہریدار آئے تاکہ انہیں بٹھا دیں لیکن وہ نہیں مانے اور نماز پڑھ ہی لی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان کے پاس آ کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے ہاتھا پائی کر بیٹھتے، تو انہوں نے کہا: میں تو یہ دونوں رکعتیں ہرگز چھوڑنے والا تھا نہیں، بعد اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص جمعہ کے دن پراگندہ حالت میں آیا، نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ جب مسجد میں آتے اور امام خطبہ دے رہا ہوتا تو دو رکعتیں پڑھتے تھے، وہ اس کا حکم بھی دیتے تھے، اور ابوعبدالرحمٰن المقری بھی اسے درست سمجھتے تھے۔
lyad ibn Abdullah ibn Abu Sarh narrated that on a Friday, Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) enterred (the mosque) while Marwan was delivering a sermon. He stood up in prayer and the guards came to make him sit down but he did not cease till he had finished. When the prayer (of Friday) was over, the men met him and said “May Allah be Merciful to you”. These people had pressed you to sit down.” He said, “I would never have given them up (the two raka’at), having seen Allah’s Messenger He then mentioned that a man in dirty clothing came one Friday. The Prophet ﷺ commanded him to offer the two raka’at while he (the Prophet ﷺ SAW) was delivering the sermon. [Nisai 1404, Ibn e Majah 1113] --------------------------------------------------------------------------------
(حكاية عياض بن عبد اللہ بن أبي السرح عن أبي سعيد الخدري) حسن صحيح، (قول العلاء بن خالد القرشي عن الحسن البصري) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (1113)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے سنا کہ سفیان بن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ ہیں اور حدیث میں مامون ہیں، ٣- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور سہل بن سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جب کوئی مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بیٹھ جائے نماز نہ پڑھے، یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ٥- پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت دو رکعت تحیۃ المسجد کی تاکید ثابت ہوتی ہے، اس باب میں اور بہت سی احادیث ہیں حتیٰ کہ تحیۃ المسجد کے لیے مکروہ اوقات کی بھی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ یہ سببی صلاۃ ہے، ہاں اگر کوئی ایسے وقت مسجد میں داخل ہو کہ جب کسی فرض وسنت صلاۃ کا وقت تھا تو فرض وسنت صلاۃ سے تحیۃ المسجد کی بھی ادائیگی ہو جائیگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٣٩ (١٦٧٥)، (مختصرا)، سنن النسائی/الجمعة ٢٦ (١٤٠٩)، والزکاة ٥٥ (٢٥٣٧)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٧٢)، مسند احمد (٣/٢٥)، (کلہم بدون ذکر قصة مروان) (حسن صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران کسی سے کہا: چپ رہو تو اس نے لغو بات کی یا اس نے اپنا جمعہ لغو کرلیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger said, “If anyone says on Friday while the imam delivers the sermon, ‘Be quiet!’ then he has indulged in vain talk.” [Ahmed 7690, Bukhari 394, Muslim 851, Abu Dawud 1112, Nisai 1397] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 512
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر عمل ہے، علماء نے آدمی کے لیے خطبہ کے دوران گفتگو کرنا مکروہ جانا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی دوسرا گفتگو کرے تو اسے بھی منع نہ کرے سوائے اشارے کے، ٤- البتہ دوران خطبہ سلام کے جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمک الله» کہنے کے سلسلہ میں اختلاف ہے بعض اہل علم نے دوران خطبہ سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمک الله» کہنے کی اجازت دی ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، اور یہی شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے جمعہ کی فضیلت نہیں ملی بلکہ اس سے محروم رہا، یہ معنی نہیں کہ اس کی نماز ہی نہیں ہوئی کیونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ اس کی نماز جمعہ ادا ہوجائے گی، البتہ وہ جمعہ کی فضیلت سے محروم رہے گا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ پورے انہماک اور توجہ سے سننا چاہیئے، اور خطبہ کے دوران کوئی ناروا حرکت نہیں کرنی چاہیئے۔