Sunan At-Tirmidhi 500

جمعہ کا بیان

500Sunan At-Tirmidhi

بغیر عذر جمعہ ترک کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ فِيمَا زَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي الْجَعْدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ. قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنِ اسْمِ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ، فَلَمْ يَعْرِفْ اسْمَهُ، وَقَالَ: لَا أَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.

ابوالجعد ضمری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جمعہ تین بار سستی ١ ؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۔

Ubaydah ibn Sufyan reported on the authority of Sayyidina Abu Ja’d who, according to Muhammad ibn Umar, was a sahabi that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone neglects Friday (salah) three times out of laziness then Allah puts a seal on his heart.” [Ahmed15498, Abu Dawud 1052, Nisai 1368, Ibn e Majah 1125] --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، ابن ماجة (1125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 500
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوالجعد کی حدیث حسن ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ابوالجعد ضمری کا نام پوچھا تو وہ نہیں جان سکے، ٣- اس حدیث کے علاوہ میں ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، ٤- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل جمعہ چھوڑنا ایک خطرناک کام ہے، اس سے دل پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد اخروی کامیابی کی امید ختم ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢١٠ (١٠٥٢)، سنن النسائی/الجمعة ١ (١٣٦٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٣ (١١٢٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، مسند احمد (٣/٤٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١٢) (حسن صحیح)