Sunan At-Tirmidhi 490

جمعہ کا بیان

490Sunan At-Tirmidhi

جمعہ کے دن کی وہ ساعت جس میں دعا کی قبولیت کی امید ہے

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يَسْأَلُ اللَّهَ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ ؟ قَالَ: حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ إِلَى الِانْصِرَافِ مِنْهَا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مُوسَى، وَأَبِي ذَرٍّ، وَسَلْمَانَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَأَبِي لُبَابَةَ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عمرو بن عوف مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس میں مانگتا ہے اللہ اسے عطا کرتا ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی گھڑی ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز (جمعہ) کھڑی ہونے کے وقت سے لے کر اس سے پلٹنے یعنی نماز ختم ہونے تک ہے ١ ؎۔

Ziyad ibn Ayyub al-Baghdadi reported from Abu Aamir aI-Aqdi from Kathir ibn Abdullah ibn Amr ibn Awf al-Muzani who reported from his father from his grandfather from the Prophet ﷺ that he said, “There is, indeed, an hour on Friday when no slave asks Allah for something but He gives it to him definitely.” They asked, “O Messenger of Allah! ﷺ Which is that hour?” He said, “(It is) from iqamah of the salah till one gets over with it.” [Ibn e Majah 1138]

ضعيف جدا، ابن ماجة (1138) // ضعيف سنن ابن ماجة (235)، ضعيف الجامع الصغير (1890) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 490
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمرو بن عوف کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ، ابوذر، سلمان، عبداللہ بن سلام، ابولبابہ، سعد بن عبادہ اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قبولیت دعا کی اس گھڑی کے وقت کے بارے میں یہی ٹکڑا اس حدیث میں ضعیف ہے، نہ کہ مطلق حدیث ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٩ (١١٣٨) (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٣) (ضعیف جداً ) (یہ سند معروف ترین ضعیف سندوں میں سے ہے، کثیر ضعیف راوی ہیں، اور ان کے والد عبداللہ عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی مقبول یعنی متابعت کے وقت ورنہ ضعیف راوی ہیں)