معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا ١ ؎۔
SahI ibn Muadh ibn Anas Juhanni reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “One who steps over men’s necks on Friday will be adopted as a bridge to hell.” [Ahmed 15609, Ibn e Majah 1116] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (1116) // ضعيف سنن ابن ماجة (230)، المشکاة (1392)، ضعيف الجامع الصغير (5516) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 513
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ترجمہ «اتّخَذَ» معروف کے صیغے کا ہے مشہور اعراب مجہول کے صیغے «اتُّخِذَ» کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا کہ جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے گا وہ جہنم کا پل بنادیا جائے گا جس پر چڑھ کر لوگ جہنم کو عبور کریں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٨ (١١١٦)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٩٢)، مسند احمد (٣/٤٣٧) (حسن) (سند میں رشدین بن سعد اور زبان بن فائد دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی ٤٥، السراج المنیر ١٥١٢، والصحیحہ ٣١٢٢)
معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
SahI ibn Muadh reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ disallowed (the posture) habwah during the imams sermon. --------------------------------------------------------------------------------
حسن، المشکاة (1293)، صحيح أبي داود (1017)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 514
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- عام اہل علم نے جمعہ کے دن حبوہ کو مکروہ جانا ہے، اور بعض نے اس کی رخصت دی ہے، انہیں میں سے عبداللہ بن عمر وغیرہ ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ دونوں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حبوہ» ایک مخصوص بیٹھک کا نام ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ سرین پر بیٹھا جائے اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا رکھا جائے اور انہیں دونوں ہاتھوں سے باندھ لیا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٤ (١١١٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٩٩)، مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن)
حصین کہتے ہیں کہ بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے دعا ١ ؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا: اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔
Ahmad ibn Mani reported from Hushaym who from Husayn that he heard Umarah ibn Ruwaybah say when Bishr ibn Marwan raised his hands in supplication while delivering the sermon, “May Allah spoil these two small hands! Indeed, I did not see Allah’s Messenger ﷺ gesture more than this.” And, Hushaym indicated with his fore-finger. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1012)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 515
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں «فی الدعاء» کا لفظ نہیں ہے، مولف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعا میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے، اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے دوران خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا، تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء ( بارش کے طلب ) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا، صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں (پہلی) اذان اس وقت ہوتی جب امام نکلتا اور (دوسری) جب نماز کھڑی ہوتی ١ ؎ پھر جب عثمان ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے زوراء ٢ ؎ میں تیسری اذان کا اضافہ کیا ٣ ؎۔
Sa’ib ibn Yazid narrated, “In the times of the Prophet ﷺ Abu Bakr (RA) and Umar (RA) the adhan (for Friday salah) was called when the imam came out Then the iqamah was called. Then when Uthman (RA) came, he added a third call from the top of az-Zawra (a wall in the markets of Madinah from which the mu’adhdhin called). [Ahmed 15228, Bukhari 912, Abu Dawud 1088, Nisai 1391, Ibn e Majah 1135] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1135)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 516
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں دوسری اذان سے مراد اقامت ہے۔ ٢ ؎: زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام تھا۔ ٣ ؎: عثمان ؓ نے مسجد سے دور بازار میں پہلی اذان دلوائی، اور فی زمانہ لوگوں نے یہ اذان مسجد کے اندر کردی ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اذان عثمان ؓ کی سنت ہے، اگر کہیں واقعی اس طرح کی ضرورت موجود ہو تو اذان مسجد سے باہر دی جائے، ویسے اب مائک کے انتظام اور اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں گھڑیوں کی موجودگی کے سبب اس طرح کی اذان کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی، جس ضرورت کے تحت عثمان ؓ یہ زائد اذان دلوائی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢)، و ٢٢ (٩١٣)، و ٢٤ (٩١٥)، و ٢٥ (٩١٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٢٥ (١٠٨٧)، سنن النسائی/الجمعة ١٥ (١٣٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٧ (١١٣٥)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٩٩)، مسند احمد (٣/٤٥٠) (صحیح)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ضرورت کی بات اس وقت کرتے جب آپ منبر سے اترتے۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that when the Prophet ﷺ got down from the pulpit, he did speak (to others) if there was need for it. [Ahmed 12286, Abu Dawud 1120, Nisai 1418, Ibn e Majah 1117]
شاذ، والمحفوظ الذي بعده .، ابن ماجة (1117)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 517
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ہم اس حدیث کو صرف جریر بن حازم کی روایت سے جانتے ہیں، اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جریر بن حازم کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بطریق: «ثابت عن أنس» مروی ہے، انس ؓ کہتے ہیں کہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑا تو آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ بعض لوگوں کو اونگھ آنے لگی۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حدیث یہی ہے، اور جریر کو کبھی کبھی وہم ہوجاتا ہے حالانکہ وہ صدوق ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ جریر بن حازم کو ثابت کی حدیث میں (بھی) جسے ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے وہم ہوا ہے (جو یہ ہے کہ) آپ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: نیز حماد بن زید سے روایت کی جاتی ہے کہ ہم لوگ ثابت بنانی کے پاس تھے، اور حجاج صواف نے یحییٰ ابن ابی کثیر کے واسطہ سے حدیث بیان کی، جسے یحییٰ نے عبداللہ بن ابوقتادہ سے اور عبداللہ نے اپنے والد ابوقتادہ سے اور ابوقتادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو چناچہ جریر کو وہم ہوا، انہیں گمان ہوا کہ ثابت نے ان سے بیان کیا ہے اور ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٠ (١١٢٠)، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٩ (١١١٧)، ( تحفة الأشراف: ٢٦٠)، مسند احمد (٣/١٢٧) (شاذ) (جریر سے وہم ہوا ہے، واقعہ عشاء کا ہے، نہ کہ جمعہ کا، جیسا کہ مسلم کی حدیث نمبر ٣٧٠ میں ہے)
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ ؓ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ ؓ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے (پہلی رکعت میں) سورة الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءک المنافقون»، عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ ؓ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی ؓ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے سنا ہے۔
Sayyidina Ubaydulah ibn Abu Rafi (RA) freedom of Allah’s Messenger ﷺ narrated that Marwan appointed Sayyidina Abu Hurairah (RA) ,- as his deputy in Madinah and himself went away to Makkah. “So, Abu Hurairah (RA) led us in the Friday prayer, reciting surah al-Jumu’ah in the first raka’ah and al-Munafiqun in the second.” He said that he then met Abu Hurairah (RA) and said to him, “You recited these two surah which Ali recites in Kufah.” He said, “I have heard Allah’s Messenger recite them.” [Ahmed 9554, Muslim 877, Abu Dawud 1121, Ibn e Majah 1118] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1118)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 519
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «هل أتاک حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٢ (١١٢٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١١٨)، ( تحفة الأشراف: ١٤١٠٤) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل السجدةَ»، «هل أتى علی الإنسان» پڑھتے تھے۔
Sayyidiha Urn Abba reported that on Friday. Allah’s Messenger ﷺ used to recite in the saiah of fajr surah as-Sajdah and surah ad Dahr [Ahmed 3160; Muslim 879, Abu Dawud 1074, Nisai 952, Ibn e Majah 829] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (821)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 520
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- سفیان ثوری، شعبہ اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث مخول بن راشد سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعت (سنت) پڑھتے تھے ١ ؎۔
Saalim reported from his father from the Prophet ﷺ that he offered two raka’at after Friday salah. [Ahmed 591, Muslim 882, Ibn e Majah 1131]
صحيح، ابن ماجة (1131)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 521
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- یہ حدیث بطریق «نافع عن ابن عمر» ہے، ٤- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، اور یہی شافعی اور احمد بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں جمعہ کے بعد صرف دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے، اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت آئی ہے جس میں چار رکعتیں پڑھنے کا حکم ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائز ہیں، بعض علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ مسجد میں پڑھنے والا چار رکعت پڑھے، اور گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے کچھ لوگ چھ رکعت کے قائل ہیں، لیکن کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں کہ کس طرح پڑھی جائے، اس میں بھی اختلاف ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاروں رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائیں اور بعض کا کہنا ہے کہ دو دو کر کے چار رکعت پڑھی جائیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جائیں کیونکہ صحیح حدیث میں ہے «صلاۃ اللیل والنہار مثنیٰ مثنیٰ» رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔
نافع سے روایت ہے ابن عمر ؓ جب جمعہ پڑھ لیتے تو (گھر) واپس آتے اور دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے پھر کہتے رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
Nafi reported from Sayyldina lbn Umar (RA) that after he had offered the Friday salah, he offered, at home two raka’at. And he said afterwards, The Prophet ﷺ used to do it.” [Ahmed 6063, Muslim 822, Ibn e Majah 1130]
صحيح، ابن ماجة (1130)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 522
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے ۔
Sayyidina Abe Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone of you will pray after the Friday prayer then let him pray four raka’at.” [Ahmed 7404, Muslim 881, Nisai 713, Ibn e Majah 1133] --------------------------------------------------------------------------------
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز میں ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “If anyone gets one raka’ah of salah (with congregation) then he got the salah.” [Ahmed 2669, Bukhari 580, Muslim 607, Abu Dawud 1121, Nisai 49, Ibn e Majah 1122] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 524
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی تو وہ دوسری رکعت (خود سے) پڑھ لے اور جس نے لوگوں کو سجدے میں پایا تو وہ چار رکعت (ظہر کی نماز) پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جماعت کی فضیلت اس نے پالی، یا اس نے نماز کا وقت پا لیا، اس کے عموم میں جمعہ کی نماز بھی داخل ہے، اس لیے جمعہ کی دو رکعتوں میں اگر کوئی ایک رکعت بھی پالے تو گویا اس نے پوری نماز جمعہ جماعت سے پالی۔ ٢ ؎: کیا نماز جمعہ میں امام کے ساتھ دوسری رکعت کے کسی بھی حصے میں شامل ہونے والا ظہر کی پوری چار رکعت پڑھے گا یا صرف دو رکعت مکمل کرے گا؟ اس موضوع پر تفصیل جاننے کے لیے قول ثابت اردو شرح مؤطا امام مالک کی کتاب وقوف الصلاۃ کے باب وقت الجمعۃ کا مطالعہ کرلیں، بموجب صحیح مسلک بالاختصار یہ ہے کہ ایسا مقتدی دو رکعت ہی پڑھے، چار نہیں۔
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمعہ کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔
Sayyidina Sahi ibn Sa’d (RA) narrated ‘We did not eat (our meal) nor had a short nap in the times of Allah’s Messener ﷺ but after Friday salah. [Ahmed 22910, Bukhari 939, 859, Bukhari 1086, Ibn e Majah 1099] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1099)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 525
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سہل بن سعد کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٤٠ (٩٣٩)، والحرث ٢١ (٢٣٤٩)، والاطعمة ١٧ (٥٤٠٣)، والاستئذان ١٦ (٦٢٤٨)، و ٣٩ (٦٢٧٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٤ (١٠٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٤٦٩٨)، مسند احمد (٥/٣٣٦) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ بدل دے ۔
Sayyidiha lbn tJmár narrated that the Prophet ﷺ said,”Tf anyone dozes off on Friday then he must get up from his place and sit elsewhere. [Ahmed4841, Abu Dawud 1119] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1025)، التعليق علی ابن خزيمة (1819)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 526
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٩ (١١١٩)، ( تحفة الأشراف: ٨٤٠٦)، مسند احمد (٢/٢٢، ١٣٥) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ایک سریہ میں بھیجا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، ان کے ساتھی صبح سویرے روانہ ہوگئے، انہوں نے (اپنے جی میں) کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہوں۔ پھر میں ان لوگوں سے جا ملوں گا، چناچہ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: تمہیں کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانے سے روک دیا؟ ، عرض کیا: میں نے چاہا کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر میں ان سے جا ملوں گا۔ آپ نے فرمایا: اگر تم جو کچھ زمین میں ہے سب خرچ کر ڈالو تو بھی ان کے صبح روانہ ہونے کا ثواب نہیں پاس کو گے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ sent Abdullah ibn Rawahah on an expedition (with an army) and that happened to be a Friday. While his companions departed in the morning, he said, “I will stay behind, pray. (the Friday) with Allah’s Messenger then join them.” When h prayed with the Prophet ﷺ he saw him and asked, “What prevented you from going with your companions,” He said, “I intended to pray with you and then join them.” He (the Prophet) said,” If you were to spend all that is on earth (in charity), ou would not attain the excellence of their morning departure.” [Ahmed 2317] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 527
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم صرف اسی سند سے اسے جانتے ہیں، ٢- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ حدیثیں سنی ہیں اور شعبہ نے انہیں گن کر بتایا تو یہ حدیث شعبہ کی گنی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی۔ گویا حکم نے یہ حدیث مقسم سے نہیں سنی ہے، ٣- جمعہ کے دن سفر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے جمعہ کے دن سفر پر نکلنے میں کوئی حرج نہیں جانا ہے جب کہ نماز کا وقت نہ ہوا ہو اور بعض کہتے ہیں، جب جمعہ کی صبح ہوجائے تو جمعہ پڑھے بغیر نہ نکلے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے سفر کی مشروعیت پر دلالت کر رہی ہے، لیکن ضعیف ہے، مگر جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے خاص طور پر زوال کے بعد سفر سے ممانعت کی کوئی صحیح حدیث وارد بھی نہیں ہے اس لیے اس بابت علماء میں اختلاف ہے کہ کیا بہتر ہے؟ دونوں طرف لوگ گئے ہیں جس کا تذکرہ مولف نے کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: مسند احمد (١/٢٢٤)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٧١) (ضعیف الإسناد) (حکم نے یہ حدیث مقسم سے نہیں سنی ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے)
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں اور ہر ایک اپنے گھر والوں کی خوشبو میں سے خوشبو لگائے، اگر اسے خوشبو میسر نہ ہو تو پانی ہی اس کے لیے خوشبو ہے ۔ اس باب میں ابوسعید ؓ اور ایک انصاری شیخ سے بھی روایت ہے۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is the duty of every Muslim that he should have a bath on Friday and apply from the perfume of his house. But if he cannot get it then water is perfume for him.”
ضعيف، المشکاة (1400) // ضعيف الجامع الصغير (2737) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 528
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر مسند احمد (٤/٢٨٢، ٢٨٣) (تحفة الأشراف: ١٧٨٧) (ضعیف) (سند میں اسماعیل التیمی اور یزید بن ابی زیاد دونوں ضعیف راوی ہیں)
Ahmad ibn Mani’ reported from Hushaym and he from Yazid ibn Abu Ziyad a hadith like it. [Ahmed 18514]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- براء ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- ہشیم کی روایت (رقم ٥٢٩) اسماعیل بن ابراہیم تیمی کی روایت (رقم ٥٢٨) سے زیادہ اچھی ہے، ٣- اسماعیل بن ابراہیم تیمی کو حدیث کے سلسلے میں ضعیف گردانا جاتا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یزید بن ابی زیاد جن پر اس حدیث کا دارومدار ہے خود ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (اس کے راوی ” یزید بن ابی زیاد “ ضعیف ہیں)
وروي عن الزهري عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث ايضا حدثنا بذلك قتيبة حدثنا الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن ابيه ان النبي صلى الله عليه وسلم مثله وقال محمد: وحديث الزهري عن سالم عن ابيه وحديث عبد الله بن عبد الله عن ابيه كلا الحديثين صحيح وقال بعض اصحاب الزهري عن الزهري قال: حدثني آل عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر قال ابو عيسى: وقد روي عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم في الغسل يوم الجمعة ايضا وهو حديث حسن صحيح.
نیز ابن شہاب زہری سے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی مروی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «سالم عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے اور جو حدیث انہوں نے بطریق: «عبدالله بن عبدالله بن عمر عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اور زہری کے بعض تلامذہ نے اسے بطریق: «الزهري عن آل عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر» روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جمعہ کے دن کے غسل کے سلسلہ میں بطریق: «ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً مروی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Salim narrated: (Another chain) from Abdullah bin Umar from the Prophet which is similar
عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران صحابہ میں سے ایک شخص ۱؎ ( مسجد میں ) داخل ہوئے، تو عمر رضی الله عنہ نے پوچھا: یہ کون سا وقت ( آنے کا ) ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے صرف اتنی دیر کی کہ اذان سنی اور بس وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی الله عنہ نے کہا: تم نے صرف ( وضو ہی پر اکتفا کیا ) حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل کا حکم دیا ہے؟
And Yunus and Ma'mar reported, from Az-Zuhri, from Salim Wudu from his father: Umar bin Al-Khattab was giving a Khutbah on Friday when a man from the Companions of the Prophet entered. So he said: What time is it? So he said: 'I don't know, I heard the call and did nothing more than perform Wudu.' So he said: And Wudu again!? I know surely that the Messenger of Allah has ordered Ghusl.'
زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔ اور مالک نے بھی یہ حدیث بطریق: «عن الزہری عن سالم» روایت کی ہے، وہ سالم بن عمر کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے اس سلسلے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے بطریق: «سالم عن أبیہ» روایت کی ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مالک سے بھی اسی حدیث کی طرح مروی ہے، انہوں نے بطریق: «الزهري عن سالم عن أبيه» بھی روایت کی ہے۔
(Another chain reaching to Az-Zuhri) with this Hadith.Malik reported this Hadith from Az-Zuhri, from Salim who said: Umar [bin al-Khattab] was giving a Khutbah on Friday. And he mentioned this Hadith.