عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعت (سنت) پڑھتے تھے ١ ؎۔
Saalim reported from his father from the Prophet ﷺ that he offered two raka’at after Friday salah. [Ahmed 591, Muslim 882, Ibn e Majah 1131]
صحيح، ابن ماجة (1131)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 521
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- یہ حدیث بطریق «نافع عن ابن عمر» ہے، ٤- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، اور یہی شافعی اور احمد بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں جمعہ کے بعد صرف دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے، اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت آئی ہے جس میں چار رکعتیں پڑھنے کا حکم ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائز ہیں، بعض علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ مسجد میں پڑھنے والا چار رکعت پڑھے، اور گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے کچھ لوگ چھ رکعت کے قائل ہیں، لیکن کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں کہ کس طرح پڑھی جائے، اس میں بھی اختلاف ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاروں رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائیں اور بعض کا کہنا ہے کہ دو دو کر کے چار رکعت پڑھی جائیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جائیں کیونکہ صحیح حدیث میں ہے «صلاۃ اللیل والنہار مثنیٰ مثنیٰ» رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔