ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت کے کاموں میں نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔
Sayyidah Umm e Salamab (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “One who observes the (new) moon of Zulhajjah and intends to make a sacrifice must not take (meaning not shave) his hair and (not clip) his nails.” [Muslim 1977]
صحيح، ابن ماجة (2125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1524
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ زہری نے اس کو ابوسلمہ سے نہیں سنا ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، انہیں میں موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق ہیں، ان دونوں نے زہری سے بطریق: «سليمان بن أرقم عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: وہ حدیث یہی ہے (اور آگے آرہی ہے) ، ٣ - اس باب میں ابن عمر، جابر اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی معصیت کی نذر پوری نہیں کی جائے گی، البتہ اس میں قسم کا کفارہ دینا ہوگا، نذر کی اصل انذار ہے جس کے معنی ڈرانے کے ہیں، امام راغب فرماتے ہیں کہ نذر کے معنی کسی حادثہ کی وجہ سے ایک غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینے کے ہیں، قسم کے کفارے کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے: «لا يؤاخذکم اللہ باللغو في أيمانکم ولکن يؤاخذکم بما عقدتم الأيمان فکفارته إطعام عشرة مساکين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو کسوتهم أو تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام ذلک کفارة أيمانکم إذا حلفتم» اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو موکد کر دو، اس کا کفارہ دس مساکین کو اوسط درجہ کا جو خود کھاتے ہیں وہ کھانا کھلا نا یا کپڑے پہنانا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، پس جو شخص یہ نہ پائے تو اسے تین روزے رکھنے ہوں گے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھالو میں ہے (المائدة: ٨٩ )، یہ حدیث معصیت کی نذر میں کفارہ کے واجب ہونے کا تقاضا کرتی ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کی یہی رائے ہے مگر جمہور علماء اس کے مخالف ہیں، ان کے نزدیک وجوب سے متعلق احادیث ضعیف ہیں، لیکن شارح ترمذی کہتے ہیں کہ باب کی اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں، ان سے حجت پکڑی جاسکتی ہے۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ٢٣ (٣٢٩٠-٣٢٩٢)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٥)، سنن النسائی/الأیمان ٤١ (٣٨٦٥-٣٨٧٠) (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠)، و مسند احمد (٦/٢٤٧) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء رقم: ٢٥٩٠ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔
Abu Isma’il Muhammad ibn lsma’il ibn Yusuf Tirmidhi: reported from Ayyub ibn Sulayman ibn Bilal (RA) , from Abu Bakr (RA) ibn Uways, from Sulayman ibn Bilal (RA) , from Musa ibn Uqbah and Abdullah ibn Abu Atiq, from Zuhri, from Sulayman ibn Arqam, from Yahya ibn Abu Kathir, from Abu Salamah from Sayyidah Ayshah (RA) and she from the Prophet ﷺ the same hadith. [Abu Dawud 3292]
صحيح بما قبله (1524)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1525
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے، ٣ - ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے، ٤ - اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ٥ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٢) (صحیح) (سند میں ” سلیمان بن ارقم “ ضعیف ہیں، مگر سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اطاعت کرے، اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے ۔ اس سند سے بھی عائشہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ said, “He who vows to obey Allah must obey Him and he who vows to disobey Allah must not disobey Him.”
ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بندہ کے اختیار میں جو چیز نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Thabit ibnDahhak (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘There is no vow for a man in what he does not own.” [Bukhari 6047, Muslim 110]
صحيح، الإرواء (2575)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1527
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نذر مانتے وقت جو چیز بندے کے اختیار میں نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر اس چیز پر اختیار حاصل ہوجائے تو بھی وہ نذر پوری نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی اس پر کفارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٤٤ (٦٠٤٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١١٠)، سنن ابی داود/ الأیمان ٩ (٣٢٥٧)، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠١)، و ٣١ (٣٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٢)، و مسند احمد (٤/٣٣) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The expiation for an unspecified vow is the same as for an oath.” [Muslim 1645]
ضعيف، وهو صحيح دون قوله: إذا لم يسم، الإرواء (2586)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1528
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس نے کوئی نذر مانی اور اس کا نام نہیں لیا یعنی صرف اتنا کہا کہ اگر میری مراد پوری ہوجائے تو مجھ پر نذر ہے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النذور ٥ (١٦٤٥)، سنن ابی داود/ الأیمان ٣١ (٣٣٢٣)، سنن النسائی/الأیمان ٤١ (٣٨٦٣)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٧ (٢١٢٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩٦٠)، و مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٧) (صحیح) (لیکن ” لم یسم “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے بھی نہیں (جبکہ ابوداود نے اسی کا لحاظ رکھ کر ” من نذر نذراً لم یسم “ کا باب باندھا ہے) یہ مؤلف کے راوی ” محمد مولیٰ المغیرہ “ کا اضافہ ہے جو خود مجہول راوی ہیں، یہ دیگر کی سندوں میں نہیں ہیں )
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبدالرحمٰن! منصب امارت کا مطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اسی کے سپرد کردیئے جاؤ گے ١ ؎، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد و توفیق تمہارے شامل ہوگی، اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھو تو جسے تم بہتر سمجھتے ہو اسے ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو ۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “O Abdur Rahman, do not ask for office of authority, for if you are given one on your asking then you will be left to yourself to tackle the affairs. But, if you get it without asking for it then you will be helped. And when you take an oath but see something else better than it then opt for that which is better and make an atonement for your oath.” [Bukhari 6622, Muslim 1652]
صحيح، الإرواء (7 / 166 - 8 / 228 / 2601)، صحيح أبي داود (2601)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1529
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، جابر، عدی بن حاتم، ابو الدرداء، انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید تمہیں حاصل نہیں ہوگی۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو آدمی کسی امر پر قسم کھائے، اور اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے (جسے وہ بہتر سمجھتا ہے) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘If anyone takes an oath but finds (something else as) a better proposition then let him make an expiation for his oath, and undertake the better proposition.” [Ahmed 8742, Muslim 1650]
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ام سلمہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - اکثر اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا صحیح ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں:«حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد ہی کفارہ ادا کیا جائے گا، ٥ - سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر کوئی «حانث» ہونے (یعنی قسم توڑنے) کے بعد کفارہ ادا کرے تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے اور اگر «حانث» ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے تو بھی درست ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث جو اس سے پہلے مذکور ہے اور باب کی اس حدیث کے الفاظ مجموعی طور پر قسم توڑنے کی صورت میں کفارہ کی ادائیگی کو پہلے بھی اسی طرح جائز بتاتے ہیں جس طرح اس کے بعد جائز بتاتے ہیں، جمہور کا یہی مسلک ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قسم کا کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا کرنا کسی حالت میں صحیح نہیں ہے تو ابوداؤد کی حدیث «فكفر عن يمينک ثم ائت الذي هو خير» ان کے خلاف حجت ہے اس میں کفارہ کے بعد «ثم» کا لفظ ترتیب کا مقتضی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٣ (٦٥٠/١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٧٣٨)، و مسند احمد (٢/٣٦١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاء اللہ کہا، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If any one swears an oath and says Insha Allah (if god wills) then he has made an exception. (He will not have to pay an expiation if he goes contrary to it). [Abu Dawud 3261, Muslim 3838]
صحيح، ابن ماجة (2105)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1531
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو عبیداللہ بن عمرو وغیرہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے موقوفا روایت کیا ہے، اسی طرح اس حدیث کو سالم بن علیہ نے ابن عمر ؓ سے موقوفاً روایت کی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ایوب سختیانی کے سوا کسی اور نے بھی اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اسماعیل بن ابراہیم کہتے ہیں: ایوب اس کو کبھی مرفوعاً روایت کرتے تھے اور کبھی مرفوعاً نہیں روایت کرتے تھے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جب قسم کے ساتھ «إن شاء اللہ» کا جملہ ملا ہو تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے، سفیان ثوری، اوزاعی، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کی رو سے قسم کھانے والا ساتھ ہی اگر «إن شاء اللہ» کہہ دے تو ایسی قسم توڑنے پر کفارہ نہیں ہوگا، کیونکہ قسم کو جب اللہ کی مشیئت پر معلق کردیا جائے تو وہ قسم منعقد نہیں ہوئی، اور جب قسم منعقد نہیں ہوئی تو توڑنے پر اس کے کفارہ کا کیا سوال؟۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ١١ (٣٢٦١)، سنن النسائی/الأیمان ١٨ (٣٨٠٢)، و ٣٩ (٣٨٣٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٦ (٢١٠٥)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٧)، و مسند احمد (٢/٦، ١٠، ٤٨، ١٥٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا، وہ «حانث» نہیں ہوا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘If anyone swears and adds Insha Allah then he does not commit perjury.” [Ahmed 8094]
صحيح، ابن ماجة (2104)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1532
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث میں غلطی ہے، اس میں عبدالرزاق سے غلطی ہوئی ہے، انہوں نے اس کو معمر کی حدیث سے اختصار کردیا ہے، معمر اس کو بسند «ابن طاؤس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے کہا: (اللہ کی قسم! ) آج رات میں ستر بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا، ہر عورت سے ایک لڑکا پیدا ہوگا، وہ ستر بیویوں کے پاس گئے، ان میں سے کسی عورت نے بچہ نہیں جنا، صرف ایک عورت نے آدھے (ناقص) بچے کو جنم دیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر انہوں (سلیمان علیہ السلام) نے «إن شاء اللہ» کہہ دیا ہوتا تو ویسے ہی ہوتا جیسا انہوں نے کہا تھا ، اسی طرح یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ عبدالرزاق سے آئی ہے، عبدالرزاق نے بسند «معمر عن ابن طاؤس عن أبيه» روایت کی ہے اس میں «علی سبعين امرأة» کے بجائے «سبعين امرأة» ہے، یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے دیگر سندوں سے آئی ہے، (اس میں یہ ہے کہ) وہ نبی کرم ﷺ سے (یوں) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سلیمان بن داود نے کہا: آج رات میں سو بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس نے قسم نہیں توڑی، اور ایسی قسم توڑنے سے اس پر کفارہ نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! آپ نے (انہیں بلا کر) فرمایا: سنو! اللہ نے تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے ، عمر ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے (باپ دادا کی) قسم نہیں کھائی، نہ جان بوجھ کر اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔
Saalim reported from his father that the Prophet ﷺ heard Umar (RA) say,” By my father! By my father!” So, he said, “Know that Allah farbids you to swear on your ancestors.” Umar (RA)then said, “By Allah! I never swore on them after that neither for myself nor on behalf of others.” [Bukhari 6647, Muslim 1646]
صحيح، ابن ماجة (2094)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1533
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ثابت بن ضحاک، ابن عباس، ابوہریرہ، قتیلہ اور عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابو عبید کہتے ہیں کہ عمر کے قول «ولا آثرا» کے یہ معنی ہیں «لم آثره عن غيري» (میں نے دوسرے کی طرف سے بھی نقل نہیں کیا) عرب اس جملہ کو «لم أذكره عن غيري» کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٧٤ (٦١٠٨)، و الأیمان ٤ (٦٦٤٦، وتعلیقاً بعد حدیث ٦٦٤٧) صحیح مسلم/الأیمان ١ (١٦٤٦/٣)، سنن النسائی/الأیمان ٤ (٣٧٩٦)، و ٥ (٣٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٨)، وط/النذور ٩ (١٤)، و مسند احمد (٢/١١، ٣٤، ٩٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ کو ایک قافلہ میں پایا، وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تم لوگوں کو باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے، قسم کھانے والا اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ چاپ رہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ overtook Sayyidina Umar (RA) while he was riding his beast and swearing by his father. Allah’s Messenger ‘ said, “Surely Allah has disallowed that you swear by your fathers. If anyone swears then he must swear by Allah, or observe silence.” [Bukhari 6646, Muslim 1646]
صحيح، ابن ماجة (2094)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1534
سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے ایک آدمی کو کہتے سنا: ایسا نہیں قسم ہے کعبہ کی، تو اس سے کہا: غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا ۔
Sa’d ibn Ubaydah narrated : Sayyidina Ibn Umar (RA) heard a man swear by the Ka’bah. He said, “Do not swear by other than Allah, for I had heard Allah’s Messenger ‘ ﷺ say that if anyone swears by anyone besides Allah then he has disbelieved or associated (with Allah).” [Abu Dawud 3251, Ahmed 6179]
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کی تفسیر بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان «فقد کفر أو أشرك» تنبیہ و تغلیظ کے طور پر ہے، اس کی دلیل ابن عمر ؓ کی حدیث ہے، نبی اکرم ﷺ نے عمر کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم، میرے باپ کی قسم! تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے ، نیز ابوہریرہ ؓ کی (روایت) کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی وہ «لا إله إلا الله» کہے،
٣ - یہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہے بیشک ریا، شرک ہے، ٤ - بعض اہل علم نے آیت کریمہ «فمن کان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا» (الکہف: ١١٠ ) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ ریا نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ٥ (٣٢٥١)، (تحفة الأشراف: ٧٠٤٥)، و مسند احمد ٢/٨٧، ١٢٥) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ تک (پیدل) چل کر جائے گی، نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے (پیدل) چلنے سے بےنیاز ہے، اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے ۔
Sayyidina Anas (RA) narrated that a woman vowed to walk up to the House of Allah. When the Prophet ﷺ was asked about it, he said, “Allah is not in need of her walking (all the way). Instruct her to ride (up to it).”
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1536
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب عورت (حج کو پیدل) چل کر جانے کی نذر مان لے تو وہ سوار ہوجائے اور ایک بکری دم میں دے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک بوڑھے کے قریب سے گزرے جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے (حج کے لیے) چل رہا تھا، آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے ان کا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے (پیدل) چلنے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل اس کے اپنی جان کو عذاب دینے سے بےنیاز ہے ، پھر آپ نے اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔
Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger came by an old man being led by his two sons. He asked about him and was told that he had vowed to walk. He said, ‘Indeed, Allah has no concern with his punishing himself. Instruct him to ride.’ [Bukhari 6701, Muslim 3301]
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر مت مانو، اس لیے کہ نذر تقدیر کے سامنے کچھ کام نہیں آتی، صرف بخیل اور کنجوس کا مال اس طریقہ سے نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messanger ﷺ said, “Do not make vows, for a vow is of no use against fate. It is only that the miserly will make some expenses.’ [Muslim 1640]
صحيح، ابن ماجة (2123 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1538
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ نذر کو مکروہ سمجھتے ہیں، ٤ - عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: نذر کے اندر کراہیت کا مفہوم طاعت اور معصیت دونوں سے متعلق ہے، اگر کسی نے اطاعت کی نذر مانی اور اسے پورا کیا تو اسے اس نذر کے پورا کرنے کا اجر ملے گا، لیکن یہ نذر مکروہ ہوگی ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نذر سے منع کرنا دراصل بہتر کی طرف رہنمائی کرنا مقصود ہے، صدقہ و خیرات کو مقصود کے حصول سے معلق کرنا کسی بھی صاحب عظمت و مروت کے شایان شان نہیں، یہ عمل اس بخیل کا ہے جو کبھی خرچ نہیں کرتا اور کرنے پر بہتر چیز کی خواہش رکھتا ہے اور ایسا وہی شخص کرتا ہے جس کا دل صدقہ و خیرات کرنا نہیں چاہتا صرف کسی تنگی کے پیش نظر اصلاح حال کے لیے صدقہ و خیرات کی نذر مانتا ہے، نذر سے منع کرنے کی یہی وجہ ہے «واللہ اعلم»۔ ٢ ؎: اور اگر معصیت کی نذر ہو تو اس کا پورا کرنا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/النذور ٢ (١٦٤٠)، سنن ابی داود/ الأیمان ٢١ (٣٢٨٨)، سنن النسائی/الأیمان ٢٥ (٣٨٣٥)، و ٢٦ (٣٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٠٠)، و مسند احمد (٢/٢٣٥، ٣٠١، ٣١٤، ٤١٢، ٤٦٣) (صحیح )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا، (تو اس کا حکم بتائیں؟ ) آپ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ١ ؎۔
Sayyidina Umar ﷺ reported that he said, “O Messenger of Allah, during the jahiliyah, I had vowed to observe i’tikaf for one night in the Masjid Haram.” He said, “Fulfil your vow.’ [Bukhari 2042, Muslim 1656]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1539
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی اسلام لائے، اور اس کے اوپر جاہلیت کی نذر طاعت واجب ہو تو اسے پوری کرے، ٤ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ہے اور دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ معتکف پر روزہ واجب نہیں ہے الا یہ کہ وہ خود اپنے اوپر (نذر مانتے وقت) روزہ واجب کرلے، ان لوگوں نے عمر ؓ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا (اور روزے کا کوئی ذکر نہیں کیا) ، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ عمر ؓ نے ایک رات کے لیے مسجد الحرام میں اعتکاف کیا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قسم کھاتے تھے تو اکثر «لا ومقلب القلوب» کہتے تھے نہیں، دلوں کے بدلنے والے کی قسم ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar reported that it was often that Allah’s Messengr took oath in these words, “No, by the Turner of hearts!.” [Bukhari 6617, Abu Dawud 3263] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2092)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1540
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے قسم کھانے کا انداز و طریقہ بیان ہوا ہے کہ پہلے سے جو بات چل رہی تھی اگر صحیح نہ ہوتی تو آپ پہلے لفظ «لا» سے اس کی نفی اور تردید فرماتے، پھر اللہ کے صفاتی نام سے اس کی قسم کھاتے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء سے قسم کھانی جائز ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ایک ایک عضو کو آگ سے آزاد کرے گا، یہاں تک کہ اس (غلام) کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو آزاد کرے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone sets a Believing slave free then Allah will release from the fire a limb of his against each limb of the slave, even his sexual organ against slaves.’ [Bukhari 6715, Muslim 1509]
١ - ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح، غریب ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، عمرو بن عبسہ، ابن عباس، واثلہ بن اسقع، ابوامامہ، عقبہ بن عامر اور کعب بن مرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب اور اگلے باب میں مذکور احادیث کا تعلق کتاب الأيمان سے یہ ہے کہ قسم کے کفارہ میں پہلے غلام آزاد کرنا ہی ہے، «واللہ اعلم»۔
سوید بن مقرن مزنی ؓ کہتے ہیں کہ صورت حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو طمانچہ مار دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کردیں۔
Suwayd ibn Muqarrin Muzani said, “We were seven brothers. We did not have but only one servant among us. One of us slapped him. So, the Prophet ﷺ commanded us to set him free.” [Muslim 1658]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1542
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے حصین بن عبدالرحمٰن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سوید بن مقرن مزنی نے «لطمها علی وجهها» کہا یعنی اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا ۔ ٣ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٨ (١٦٥٨)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٣ (٥١٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨١١)، و مسند احمد (٣/٤٤٨)، و (٥/٤٤٤) (صحیح )
ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائی وہ ویسے ہی ہوگیا جیسے اس نے کہا ١ ؎۔
Sayyidina Thabit ibn Dahhak reported that Allah’s Messenger said, ‘If anyone swears by a religion other than Islam falsely then he is as he says.’ [Bukhari 1363, Muslim 110]
صحيح، ابن ماجة (2098)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1543
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جب کوئی اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی قسم کھائے اور یہ کہے: اگر اس نے ایسا ایسا کیا تو یہودی یا نصرانی ہوگا، پھر اس نے وہ کام کرلیا، تو بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس نے بہت بڑا گناہ کیا لیکن اس پر کفارہ واجب نہیں ہے، یہ اہل مدینہ کا قول ہے، مالک بن انس بھی اسی کے قائل ہیں اور ابو عبید نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ٣ - اور صحابہ و تابعین وغیرہ میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس صورت میں اس پر کفارہ واجب ہے، سفیان، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٣ (١٣٦٣)، والأدب ٤٤ (٦٠٤٧)، و ٧٣ (٦١٠٥)، والأیمان ٧ (٦٦٥٢)، صحیح مسلم/الأیمان ٤٧ (١١٠)، سنن ابی داود/ الأیمان ٩ (٣٢٥٧)، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠١)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٣ (٢٠٩٨)، و ٣١ (٣٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٢)، و مسند احمد (٤/٣٣، ٣٤) (صحیح )