Sunan At-Tirmidhi 1540

نذر اور قسموں کا بیان

1540Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کیسے قسم کھاتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَثِيرًا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ، لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قسم کھاتے تھے تو اکثر «لا ومقلب القلوب» کہتے تھے نہیں، دلوں کے بدلنے والے کی قسم ١ ؎۔

Sayyidina lbn Umar reported that it was often that Allah’s Messengr took oath in these words, “No, by the Turner of hearts!.” [Bukhari 6617, Abu Dawud 3263] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2092)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1540
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے قسم کھانے کا انداز و طریقہ بیان ہوا ہے کہ پہلے سے جو بات چل رہی تھی اگر صحیح نہ ہوتی تو آپ پہلے لفظ «لا» سے اس کی نفی اور تردید فرماتے، پھر اللہ کے صفاتی نام سے اس کی قسم کھاتے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء سے قسم کھانی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ١٤ (٦٦١٧)، والأیمان ٣ (٦٦٢٨)، والتوحید ١١ (٧٣٩١)، سنن ابی داود/ الأیمان ١٢ (٣٢٦٣)، سنن النسائی/الأیمان ١ (٣٧٧٠)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١ (٢٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٢٤)، و مسند احمد (٢/٢٦، ٦٧، ٦٨، ١٢٧) (صحیح )