Sunan At-Tirmidhi 1542

نذر اور قسموں کا بیان

1542Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے غلام کو تمانچہ مارے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَبْعَةَ إِخْوَةٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: لَطَمَهَا عَلَى وَجْهِهَا .

سوید بن مقرن مزنی ؓ کہتے ہیں کہ صورت حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو طمانچہ مار دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کردیں۔

Suwayd ibn Muqarrin Muzani said, “We were seven brothers. We did not have but only one servant among us. One of us slapped him. So, the Prophet ﷺ commanded us to set him free.” [Muslim 1658]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1542
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے حصین بن عبدالرحمٰن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سوید بن مقرن مزنی نے «لطمها علی وجهها» کہا یعنی اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا ۔ ٣ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٨ (١٦٥٨)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٣ (٥١٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨١١)، و مسند احمد (٣/٤٤٨)، و (٥/٤٤٤) (صحیح )