قربانی کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 19 · 36 hadiths · Page 2 of 2

1513Sunan At-Tirmidhi

عقیقہ

حَدَّثَنَا أبو سلمة يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْيُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَسَأَلُوهَا عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَأَخْبَرَتْهُمْ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَهُمْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَأُمِّ كُرْزٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَسَمُرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَنَسٍ، وَسَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَفْصَةُ هِيَ: بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.

یوسف بن ماہک سے روایت ہے کہ لوگ حفصہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ (ان کی پھوپھی) ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کریں ١ ؎۔

Yusuf ibn Mahik reported that they visited Sayyidah Hafsah bint Abdur Rahman and asked her about aqiqah. She said that Sayyidah Ayshah (RA) had informed her that Allah’s Messenger had commanded them to slaughter two sheep for a male new-born and one for a female. [Ibn e Majah 3163]

صحيح، ابن ماجة (3163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1513
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حفصہ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی ہیں، ٣ - اس باب میں علی، ام کرز، بریدہ، سمرہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، انس، سلمان بن عامر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عقیقہ اس ذبیحہ کو کہتے ہیں جو نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل میں عقیقہ ان بالوں کو کہتے ہیں جو ماں کے پیٹ میں نومولود کے سر پر نکلتے ہیں، اس حالت میں نومولود کی طرف سے جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ عقیقہ «عق» سے ماخوذ ہے جس کے معنی پھاڑنے اور کاٹنے کے ہیں، ذبح کی جانے والی بکری کو عقیقہ اس لیے کہا گیا کہ اس کے اعضاء کے ٹکڑے کئے جاتے ہیں اور پیٹ کو چیر پھاڑ دیا جاتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنی چاہیئے، «شاة» کے لفظ سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عقیقہ کے جانور میں قربانی کے جانور کی شرائط نہیں ہیں، لیکن بہتر ہے کہ قربانی کے جانور میں شارع نے جن نقائص اور عیوب سے بچنے اور پرہیز کرنے کی ہدایت دی ہے ان کا لحاظ رکھا جائے، عقیقہ کے جانور کا دو دانتا ہونا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں، البتہ «شاة» کا تقاضا ہے کہ وہ بڑی عمر کا ہو۔ اور لفظ «شاة» کا یہ بھی تقاضا ہے کہ گائے اور اونٹ عقیقہ میں جائز نہیں، اگر گائے اور اونٹ عقیقہ میں جائز ہوتے تو نبی اکرم ﷺ صرف «شاة» کا تذکرہ نہ فرماتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٥١٣)، و مسند احمد (٦/٣١، ١٥٨، ٢٥١) (صحیح )
1516Sunan At-Tirmidhi

عقیقہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ: عَنْالْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ، وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی، وہ جانور نر یا ہو مادہ اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ۔

Sayyidah Umm Kurz (RA) reported that she asked Allah’s Messenger about aqiqah. He said, “Slaughter two sheep for the newborn male and one for the newborn female.

صحيح، الإرواء (4 / 391)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1516
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الضحایا ٢١ (٢٨٨٣٤-٢٨٣٥)، سنن النسائی/العقیقة ٢ (٤٢٢٠)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥١)، و مسند احمد (٦/٣٨١، ٤٢٢) سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠٠٩) (صحیح )
1515Sunan At-Tirmidhi

عقیقہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْالرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ،

سلمان بن عامر ضبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ لازم ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ (جانور ذبح کرو) اور اس سے گندگی دور کرو ۔

Sayyidina Salman ibn Aamir Dabbi reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The aqiqah is with every boy. So shed blood (by slaughtering an animal) for him and cast off injury from him (by shaving off hair, etc).’ [Bukhari 5471]

1514Sunan At-Tirmidhi

بچے کے کان میں اذان دینا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ فِي الْعَقِيقَةِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا: أَنَّهُ عَقَّ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بِشَاةٍ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حسن بن علی جب فاطمۃ الزہراء ؓ سے پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے حسن کے کان میں نماز کی اذان کی طرح اذان دی۔

Ubaydullah ibn Abu Rafi reported on the authority of his father that he saw Allah’s Messenger call the azan in the ear of Hasan ibn Ali when he was born to Sayyidah Fatimah (RA) the azan as is called for salah. [Ahmed 23930, Abu Dawud 5105]

حسن، الإرواء (1173)، مختصر تحفة المودودصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1514
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عقیقہ کے مسئلہ میں اس حدیث پر عمل ہے جو نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے آئی ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے، ٣ - نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حسن کی طرف سے ایک بکری ذبح کی، بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١١٦ (٥١٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٠) و مسند احمد (٦/٩، ٣٩١، ٣٩٢) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہیں، اور اس معنی کی ابن عباس کی حدیث میں ایک کذاب راوی ہے ۔ دیکھیے الضعیفة رقم ٣٢١ و ٦١٢١ )
1517Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُفَيْرِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ، وَخَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کے جانوروں میں سب سے بہتر مینڈھا ہے اور سب سے بہتر کفن «حلة» (تہبند اور چادر) ہے ۔

Sayyidina Abu Umamah reported that Allah’s Messenger said, “The best sacrifice is the sacrifice of a ram and the best shroud (for the dead) is hullah. [Ibn e Majah 3130]

ضعيف، ابن ماجة (3164)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1517
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - عفیر بن معدان حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٤ (٣١٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٨٦٦) (ضعیف) (سند میں ” عفیر بن معدان “ ضعیف ہیں )
1518Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ، هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.

مخنف بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔

Sayyidina Mikhnaf ibn Sulaym narrated: We observed the wuquf at Arafat with the Prophet ﷺ I heard him say, “O People! It is incumbent on every household (family) to offer a scrifice and an atirah. Do you fathom what the atirah is? It is that which you call the Rajabiyah.” [Abu Dawud 2788]

صحيح، ابن ماجة (3125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1518
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو ابن عون ہی کی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأضاحي ١ (٢٧٨٨)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١ (٤٢٢٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٢ (٣١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٤)، و مسند احمد (٤/٢١٥) و (٥/٧٦) (حسن )
1519Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَسَنِ بِشَاةٍ، وَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ، احْلِقِي رَأْسَهُ، وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً، قَالَ: فَوَزَنَتْهُ، فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو ، فاطمہ ؓ نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ١ ؎۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ observed the aqiqah of Sayyidina Hasan with a sheep and said, “O Fatimah! Have his head shaved and give sadaqah of silver equal in weight to his hair.” So, she weighed that and their weight was (equal to) a dirham, or part of it.

حسن، الإرواء (1175)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1519
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس کی سند متصل نہیں ہے، اور راوی ابوجعفر الصادق محمد بن علی بن حسین نے علی بن ابی طالب کو نہیں پایا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ نومولود کے سر کا بال وزن کر کے اسی کے برابر چاندی صدقہ کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٢٦١) (حسن) (سند مں ل ” محمد بن علی ابو جعفرالصادق “ اور ” علی ؓ “ کے درمیان انقطاع ہے، مگر حاکم کی روایت (٤/٢٣٧) متصل ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں جسے تقویت پا کر حدیث حسن لغیرہ ہے )
1520Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَطَبَ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِكَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا، پھر (منبر سے) اترے پھر آپ نے دو مینڈھے منگائے اور ان کو ذبح کیا۔

Abdur Rahman ibn Abu Bakr (RA) reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ delivered a sermon. After that, he descended (from the pulpit) and asked for two goats and slaughtered them. [Muslim 1679]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1520
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد کیا تھا، دیکھئیے اگلی حدیث) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ٩ (١٦٧٩)، سنن النسائی/الضحایا ١٤ (٤٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٨٣) (صحیح )
1521Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَضْحَى بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ عَنْ مِنْبَرِهِ، فَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ إِذَا ذَبَحَ، بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، يُقَالُ: إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عید الاضحی کے دن عید گاہ گیا، جب آپ خطبہ ختم کرچکے تو منبر سے نیچے اترے، پھر ایک مینڈھا لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، اور (ذبح کرتے وقت) یہ کلمات کہے: «بسم اللہ والله أكبر، هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated: I observed the (eid) al-Adha with the Prophet ﷺ at the place of (eed) prayer. When he had delivered the sermon, he came down the pulpit. A ram was brought and he slaughtered it with his hand, saying “Bismillah wa Allahu Akbar This is from me and from those of my ummah who have not made a sacrifice. [Ahmed 14843]

صحيح، الإرواء (1138)، صحيح أبي داود (2501)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1521
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت آدمی یہ کہے «بسم اللہ والله أكبر» ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، کہا جاتا ہے، ٣ - راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب کا سماع جابر سے ثابت نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے، جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے۔ (یہ آخری جملہ اس بابت واضح اور صریح ہے کہ آپ ﷺ نے امت کے ان افراد کی طرف سے قربانی کی جو زندہ تھے اور مجبوری کی وجہ سے قربانی نہیں کرسکے تھے، اس میں مردہ کو شامل کرنا زبردستی ہے )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الضحایا ٨ (٢٨١٠)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١ (٣١٢١)، (تحفة الأشراف: ٣٠٩٩)، و مسند احمد (٣/٣٥٦، ٣٦٢)، وسنن الدارمی/الأضاحي ١ (١٩٨٩) (صحیح) (” مطلب “ کے ” جابر “ ؓ سے سماع میں اختلاف ہے، مگر شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء ١١٣٨، وتراجع الألبانی ٥٨٠ )
1522Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ .

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے ١ ؎، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں ۔

Sayyidina Samurah reported that Allah’s Messenger said, “A boy is pledged to his aqiqah. Sacrifice is made for him on the seventh day and he is given a name, and his head is shaved.” [Ahmed 20104]

صحيح، ابن ماجة (3165)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1522
Notes · وضاحت
١ ؎: «مرتهن» کے مفہوم میں اختلاف ہے: سب سے عمدہ بات وہ ہے جو امام احمد بن حنبل (رح) نے فرمائی ہے کہ یہ شفاعت کے متعلق ہے، یعنی جب بچہ مرجائے اور اس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو قیامت کے دن وہ اپنے والدین کے حق میں شفاعت نہیں کرسکے گا، ایک قول یہ ہے کہ عقیقہ ضروری اور لازمی ہے اس کے بغیر چارہ کار نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بالوں کی گندگی و ناپاکی میں مرہون ہے، اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ اس سے گندگی کو دور کرو۔ ٢ ؎: اس سلسلہ میں صحیح حدیث تو درکنار کوئی ضعیف حدیث بھی نہیں ملتی جس سے اس شرط کے قائلین کی تائید ہوتی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العقیقة ٢ (٥٤٧٢)، (اشارة بعد حدیث سلمان الضبي) سنن ابی داود/ الضحایا ٢١ (٢٨٣٧)، سنن النسائی/العقیقة ٥ (٤٢٢٥)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨١)، و مسند احمد (٥/٧، ٨، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٢) وسنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٢) (صحیح )
1523Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرٍو أَوْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالصَّحِيحُ هُوَ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ، قَدْ رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ نَحْوَ هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ كَانَ يَقُولُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَإِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ذَهَبَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ، فَقَالُوا: لَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعَرِهِ وَأَظْفَارِهِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ مِنْ الْمَدِينَةِ، فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ مِنْهُ الْمُحْرِمُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنا چاہتا ہو وہ (جب تک قربانی نہ کرلے) اپنا بال اور ناخن نہ کاٹے ۔

Sayyidah Umm Salamab (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “One who observes the (new) moon of Zulhajjah and intends to make a sacrifice must not take (meaning not shave) his hair and (not clip) his nails.” [Muslim 1977]

صحيح، ابن ماجة (3149 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1523
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - (عمرو اور عمر میں کے بارے میں) صحیح عمرو بن مسلم ہے، ان سے محمد بن عمرو بن علقمہ اور کئی لوگوں نے حدیث روایت کی ہے، دوسری سند سے اسی جیسی حدیث سعید بن مسیب سے آئی ہے، سعید بن مسیب ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا یہی قول ہے، سعید بن مسیب بھی اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک بھی اسی حدیث کے موافق ہے، ٤ - بعض اہل علم نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے، وہ لوگ کہتے ہیں: بال اور ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، شافعی کا یہی قول ہے، وہ عائشہ ؓ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ قربانی کا جانور مدینہ روانہ کرتے تھے اور محرم جن چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہیں کرتے تھے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عائشہ ؓ اور ام سلمہ کی حدیث میں تطبیق کی صورت علماء نے یہ نکالی ہے کہ ام سلمہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٧ (١٩٧٧)، سنن ابی داود/ الضحایا ٣ (٢٧٩١)، سنن النسائی/الضحایا ١ (٤٣٦٧)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١١ (٣١٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٢)، و مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣٠١)، ٣١١)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢ (١٩٩٠) (صحیح )