مثالوں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 40 · 16 hadiths

2859Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ کی بندوں کے لئے مثال

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ دَارَانِ لَهُمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، عَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ، وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ، وَدَاعٍ يَدْعُو فَوْقَهُ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ سورة يونس آية 25، وَالْأَبْوَابُ الَّتِي عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ حُدُودُ اللَّهِ، فَلَا يَقَعُ أَحَدٌ فِي حُدُودِ اللَّهِ حَتَّى يُكْشَفَ السِّتْرُ، وَالَّذِي يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ رَبِّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ، سَمِعْتُ زَكَرِيَّا بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ: خُذُوا عَنْ بَقِيَّةَ مَا حَدَّثَكُمْ عَنِ الثِّقَاتِ، وَلَا تَأْخُذُوا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ مَا حَدَّثَكُمْ عَنِ الثِّقَاتِ وَلَا غَيْرِ الثِّقَاتِ.

نواس بن سمعان کلابی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال دی ہے، اس صراط مستقیم کے دونوں جانب دو گھر ہیں، ان گھروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں، ایک پکارنے والا اس راستے کے سرے پر کھڑا پکار رہا ہے، اور دوسرا پکارنے والا اوپر سے پکار رہا ہے، (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) «والله يدعوا إلى دار السلام ويهدي من يشاء إلى صراط مستقيم» اللہ تعالیٰ دارالسلام (جنت کی طرف) بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے ، تو وہ دروازے جو صراط مستقیم کے دونوں جانب ہیں وہ حدود اللہ ہیں ١ ؎ تو کوئی شخص جب تک پردہ کھول نہ دیا جائے، حدود اللہ میں داخل نہیں ہوسکتا اور اوپر سے پکارنے والا اس کے رب کا واعظ ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Nawwas ibn Sam’an Kilabi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah drew the parable of the straight path as having walls on either side with several open doors over which curtains hang down. At the head of the path is one who invites and another above it invites, the Prophet ﷺ recited: ‘And Allah invites (you) to the abode of peace, and guides whomsoever He will to the straight way.’ (Al-Quran 10:25) The doors on either side of the path are hudud (limits) of Allah. None will fall into the limits of Allah till he raises the curtain, meaning commit minor sins. The crier at the top of the path is e admonisher from his Lord. [Ahmed 17651]

صحيح، المشکاة (191 و 192)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کو سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے زکریا بن عدی کو سنا وہ کہتے تھے کہ ابواسحاق فزاری نے کہا: بقیہ (راوی) تم سے جو ثقہ راویوں کے ذریعہ روایت کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی روایت نہ لو خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی محرمات مثلاً زنا اور شراب وغیرہ، ان محرمات میں کوئی شخص اس وقت تک نہیں پڑ سکتا جب تک خود سے بڑھ کر ان کا ارتکاب نہ کرنے لگے، اور ارتکاب کرنے کے بعد اللہ کے عذاب و عقاب کا مستحق ہوجائے گا۔ ٢ ؎: اس حدیث میں صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے، اور کھلے ہوئے دروازوں سے مراد اللہ کے محارم ہیں اور لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدود ہیں، اور راستے کے سرے پر بلانے والا داعی قرآن ہے، اور اس کے اوپر سے پکار نے والا داعی مومن کا دل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١١٧١٤) (صحیح )
2860Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ کی بندوں کے لئے مثال

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اضْرِبْ لَهُ مَثَلًا، فَقَالَ: اسْمَعْ سَمِعَتْ أُذُنُكَ، وَاعْقِلْ عَقَلَ قَلْبُكَ، إِنَّمَا مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا، ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَائِدَةً، ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ، فَاللَّهُ هُوَ الْمَلِكُ، وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ، وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ، وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ، فَمَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْإِسْلَامَ، وَمَنْ دَخَلَ الْإِسْلَامَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ أَصَحَّ مِنْ هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ لَمْ يُدْرِكْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ جبرائیل میرے سر کے پاس ہیں اور میکائیل میرے پیروں کے پاس، ان دونوں میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کہہ رہا تھا: ان کی کوئی مثال پیش کرو، تو اس نے آپ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ سنیں، آپ کے کان ہمیشہ سنتے رہیں، آپ سمجھیں، آپ کا دل عقل (سمجھ، علم و حکمت) سے بھرا رہے۔ آپ کی مثال اور آپ کی امت کی مثال ایک ایسے بادشاہ کی ہے جس نے ایک شہر آباد کیا، اس شہر میں ایک گھر بنایا پھر ایک دستر خوان بچھایا، پھر قاصد کو بھیج کر لوگوں کو کھانے پر بلایا، تو کچھ لوگوں نے اس کی دعوت قبول کرلی اور کچھ لوگوں نے بلانے والے کی دعوت ٹھکرا دی (کچھ پرواہ ہی نہ کی) اس مثال میں یہ سمجھو کہ اللہ بادشاہ ہے، اور دار سے مراد اسلام ہے اور بیت سے مراد جنت ہے اور آپ اے محمد! رسول و قاصد ہیں۔ جس نے آپ کی دعوت قبول کرلی وہ اسلام میں داخل ہوگیا اور جو اسلام میں داخل ہوگیا وہ جنت میں داخل ہوگیا تو اس نے وہ سب کچھ کھایا جو جنت میں ہے ۔

SayyidinaJabir ibn Abdullah Ansari (RA) narrated: One day Allah’s Messenger ﷺ came our way. He said: I saw in my dream that Jibril stood at the side of my head and Mikail by my feet. One of them said to the other, “Coin for him a parable.” The other said, “Listen (O Prophet). May your ears listen always. Comprehend. May your heart grasp always. The parable of you and of your ummah is like a king who takes a house and builds a home. He places there a dining mat and sends a man to invite people to food. There are some who accept his invitation and some who reject him. So, Allah is the King. The house is Islam and the home is paradise, and you, O Muhammad ﷺ , are the Messenger. He who answers you, joins Islam and he who joins Islam, enters Paradise and he who enters Paradise, eats that which is in it.” [Ahmed 7281]

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے اور وہ سندیں اس حدیث کی سند سے زیادہ صحیح ہیں، ٢ - یہ مرسل حدیث ہے (یعنی منقطع ہے) ٣ - سعید بن ابی ہلال نے جابر بن عبداللہ ؓ کو نہیں پایا ہے، ٤ - اس باب میں ابن مسعود ؓ سے بھی روایت ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢ (تعلیقا عقب حدیث رقم ٧٢٨١) (تحفة الأشراف: ٢٢٦٧) (صحیح) (سند میں سعید بن أبی ہلال، اور جابر کے درمیان انقطاع ہے، مگر دیگر سندوں سے یہ حدیث صحیح ہے، جیسے بخاری کی مذکورہ روایت )
2861Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ کی بندوں کے لئے مثال

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَتَّى خَرَجَ بِهِ إِلَى بَطْحَاءِ مَكَّةَ، فَأَجْلَسَهُ ثُمَّ خَطَّ عَلَيْهِ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: لَا تَبْرَحَنَّ خَطَّكَ فَإِنَّهُ سَيَنْتَهِي إِلَيْكَ رِجَالٌ فَلَا تُكَلِّمْهُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَلِّمُونَكَ، قَالَ: ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَرَادَ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي خَطِّي إِذْ أَتَانِي رِجَالٌ كَأَنَّهُمْ الزُّطُّ أَشْعَارُهُمْ وَأَجْسَامُهُمْ، لَا أَرَى عَوْرَةً، وَلَا أَرَى قِشْرًا، وَيَنْتَهُونَ إِلَيَّ وَلَا يُجَاوِزُونَ الْخَطَّ، ثُمَّ يَصْدُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَنِي وَأَنَا جَالِسٌ، فَقَالَ: لَقَدْ أَرَانِي مُنْذُ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ فِي خَطِّي، فَتَوَسَّدَ فَخِذِي، فَرَقَدَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَقَدَ نَفَخَ، فَبَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَسِّدٌ فَخِذِي، إِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ اللَّهُ أَعْلَمُ مَا بِهِمْ مِنَ الْجَمَالِ، فَانْتَهَوْا إِلَيَّ، فَجَلَسَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالُوا بَيْنَهُمْ: مَا رَأَيْنَا عَبْدًا قَطُّ أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا النَّبِيُّ، إِنَّ عَيْنَيْهِ تَنَامَانِ وَقَلْبُهُ يَقْظَانُ اضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا، مَثَلُ سَيِّدٍ بَنَى قَصْرًا، ثُمَّ جَعَلَ مَأْدُبَةً، فَدَعَا النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ، فَمَنْ أَجَابَهُ أَكَلَ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرِبَ مِنْ شَرَابِهِ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ عَاقَبَهُ، أَوْ قَالَ عَذَّبَهُ، ثُمَّ ارْتَفَعُوا، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: سَمِعْتَ مَا قَالَ هَؤُلَاءِ ؟ وَهَلْ تَدْرِي مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: هُمُ الْمَلَائِكَةُ، أَفَتَدْرِي مَا الْمَثَلُ الَّذِي ضَرَبُوا ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: الْمَثَلُ الَّذِي ضَرَبُوا الرَّحْمَنُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَنَى الْجَنَّةَ وَدَعَا إِلَيْهَا عِبَادَهُ، فَمَنْ أَجَابَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ عَاقَبَهُ أَوْ عَذَّبَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو تَمِيمَةَ هُوَ الْهُجَيْمِيُّ، وَاسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْهُ مُعْتَمِرٌ وَهُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ طَرْخَانَ وَلَمْ يَكُنْ تَيْمِيًّا وَإِنَّمَا كَانَ يَنْزِلُ بَنِي تَيْمٍ فَنُسِبَ إِلَيْهِمْ، قَالَ عَلِيٌّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مَا رَأَيْتُ أَخْوَفَ لِلَّهِ تَعَالَى مِنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء پڑھی۔ پھر پلٹے تو عبداللہ بن مسعود کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور انہیں ساتھ لیے ہوئے مکہ کی پتھریلی زمین کی طرف نکل گئے (وہاں) انہیں (ایک جگہ) بٹھا دیا۔ پھر ان کے چاروں طرف لکیریں کھینچ دیں، اور ان سے کہا: ان لکیروں سے باہر نکل کر ہرگز نہ جانا۔ تمہارے قریب بہت سے لوگ آ کر رکیں گے لیکن تم ان سے بات نہ کرنا، اور وہ خود بھی تم سے بات نہ کریں گے ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ جہاں جانا چاہتے تھے وہاں چلے گئے، اسی دوران کہ میں اپنے دائرہ کے اندر بیٹھا ہوا تھا کچھ لوگ میرے پاس آئے وہ جاٹ لگ رہے تھے ١ ؎، ان کے بال اور جسم نہ مجھے ننگے دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی (ان کے جسموں پر مجھے) لباس نظر آ رہا تھا، وہ میرے پاس آ کر رک جاتے اور لکیر کو پار نہ کرتے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف نکل جاتے، یہاں تک کہ جب رات ختم ہونے کو آئی تو آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: رات ہی سے اپنے آپ کو دیکھتا ہوں (یعنی میں سو نہ سکا) پھر آپ دائرے کے اندر داخل ہو کر میرے پاس آئے۔ اور میری ران کا تکیہ بنا کر سو گئے، آپ سونے میں خراٹے لینے لگتے تھے، تو اسی دوران کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور آپ میری ران کا تکیہ بنائے ہوئے سو رہے تھے۔ یکایک میں نے اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے درمیان پایا جن کے کپڑے سفید تھے، اللہ خوب جانتا ہے کہ انہیں کس قدر خوبصورتی حاصل تھی۔ وہ لوگ میرے پاس آ کر رک گئے، ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سرہانے بیٹھ گئے اور کچھ لوگ آپ کے پائتانے، پھر ان لوگوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا: ہم نے کسی بندے کو کبھی نہیں دیکھا جسے اتنا ملا ہو جتنا اس نبی کو ملا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کا دل بیدار رہتا ہے۔ ان کے لیے کوئی مثال پیش کرو (پھر انہوں نے کہا ان کی مثال) ایک سردار کی مثال ہے جس نے ایک محل بنایا، پھر ایک دستر خوان بچھایا اور لوگوں کو اپنے دستر خوان پر کھانے پینے کے لیے بلایا، تو جس نے ان کی دعوت قبول کرلی وہ ان کے کھانے پینے سے فیض یاب ہوا۔ اور جس نے ان کی دعوت قبول نہ کی وہ (سردار) اسے سزا دے گا پھر وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ اور ان کے جاتے ہی رسول اللہ ﷺ بیدار ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: سنا، کیا کہا انہوں نے؟ اور یہ کون لوگ تھے؟ میں نے کہا: اللہ اور اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ فرشتے تھے۔ تم سمجھتے ہو انہوں نے کیا مثال دی ہے؟ میں نے (پھر) کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: انہوں نے جو مثال دی ہے وہ ہے رحمن (اللہ) تبارک و تعالیٰ کی، رحمن نے جنت بنائی، اور اپنے بندوں کو جنت کی دعوت دی۔ تو جس نے دعوت قبول کرلی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو اس کی دعوت نہ قبول کرے گا وہ اسے عذاب و عقاب سے دوچار کرے گا ۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ offered the isha salah. When it was over, he held me by the hand till he took me to Batha of Makkah and made me sit. He drew a line around me, saying, ‘Do not come out of this line. People will come to you but do not talk to them and they too will not talk to you.” Then he went away to where he had intented to go. I sat within the lines when some men came to me as though they were of a rough nature. Their hair and their bodies seemed to me neither naked nor covered. They set towards me but did not trespass the line and then went towards Allah’s Messenger. This till it was the concluding hour of the night. Allah’s Messenger ﷺ came to me and I was sitting. He said, “I could not sleep all night.” Then he came within the lines and took my thigh as a pillow and went to sleep. When he slept, he would snore. While I was sitting and he was resting on my thigh, some men dressed in white came. Only Allah knows how beautiful they were. They came up to me. A party of them sat down by the head of Allah’s Messenger ﷺ and a party of them by his feet. Then they spoke to each other, saying, “We have not seen a man given the like of what is given to this Prophet. His eyes sleep but his heart is awake. Coin for him a parable. Like a chief who built a castle and placed a dining table and invited the people to his meal and his drink. So, those who responded ate of his food and drank of his drinks. And, he who did not respond was punished.” Then they got up (and went away). Allah’s Messenger ﷺ woke up at that and asked, “Did you hear what they said? And do you know who they were”? I said that Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “They were angels. Do you understand the example they presented”? I said, “Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “The example that they coined was of Ar-Rahman (the Compassionate) Who built Paradise and invited His slaves to it. So those who responded, entered Paradise and those who did not respond, He punished them.” --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2861
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابو تمیمہ: ہجیمی ہیں اور ان کا نام طریف بن مجالد ہے، ٣ - ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ٤ - سلیمان تیمی جن سے یہ حدیث معتمر نے روایت کی ہے وہ سلیمان بن طرخان ہیں، وہ اصلاً تیمی نہ تھے، لیکن وہ بنی تیم میں آیا جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ تیمی مشہور ہوگئے۔ علی ابن المدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کہتے تھے: میں نے سلیمان تیمی سے زیادہ کسی کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں دیکھا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «زط» یعنی: جاٹ قوم کے معلوم ہو رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٨١)، وانظر: سنن الدارمی/المقدمة ٢ (١٢) (حسن صحیح )
2862Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ اور تمام انبیاء کی مثال

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي، كَرَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا وَيَقُولُونَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا، گھر کو مکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے ١ ؎۔ لوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے: کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ (بھی) خالی نہ ہوتی ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, my example with the Prophets is that a man builds a house. He completes it and makes it beautiful except for a space of a brick. The people enter it and admire it, but remark: ‘Were it not for the space of a brick’.” [Bukhari 3534, Muslim 2287]

صحيح فقه السيرة (141)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابی بن کعب اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گھر کو خوبصورت اور مکمل بنانے کے باوجود ایک اینٹ کی جگہ باقی رکھ چھوڑی، لوگ اسے دیکھ کر کہنے لگے: کاش یہ خالی جگہ پر ہوجاتی تو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے، اس حدیث کی ایک روایت میں آگے الفاظ ہیں: تو میں وہی (آخری) اینٹ ہوں جیسے خالی جگہ میں لگا کر نبوت کے محل کو مکمل کیا گیا ہے۔ خوبصورت گھر سے مراد نبوت و رسالت والا دین حنیف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١٨ (٣٥٣٤)، صحیح مسلم/الفضائل ٧ (٢٢٨٧) (تحفة الأشراف: ٢٢٦٠)، وحإ (٢/٢٥٧، ٣٩٨، ٤١٢) (صحیح )
2863Sunan At-Tirmidhi

نماز، روزے اور صدقے کی مثال کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْحَارِثَ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ يَعْمَلَ بِهَا، وَيَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَنْ يَعْمَلُوا بِهَا، وَإِنَّهُ كَادَ أَنْ يُبْطِئَ بِهَا، فَقَالَ عِيسَى: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ لِتَعْمَلَ بِهَا وَتَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَنْ يَعْمَلُوا بِهَا، فَإِمَّا أَنْ تَأْمُرَهُمْ وَإِمَّا أَنْ آمُرَهُمْ، فَقَالَ يَحْيَى: أَخْشَى إِنْ سَبَقْتَنِي بِهَا أَنْ يُخْسَفَ بِي أَوْ أُعَذَّبَ، فَجَمَعَ النَّاسَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَامْتَلَأَ الْمَسْجِدُ وَقَعَدُوا عَلَى الشُّرَفِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ وَآمُرَكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ، أَوَّلُهُنَّ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَإِنَّ مَثَلَ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ، فَقَالَ: هَذِهِ دَارِي، وَهَذَا عَمَلِي فَاعْمَلْ وَأَدِّ إِلَيَّ، فَكَانَ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ، فَأَيُّكُمْ يَرْضَى أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِوَجْهِ عَبْدِهِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ فِي عِصَابَةٍ، مَعَهُ صُرَّةٌ فِيهَا مِسْكٌ، فَكُلُّهُمْ يَعْجَبُ، أَوْ يُعْجِبُهُ رِيحُهَا، وَإِنَّ رِيحَ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ وَقَدَّمُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ، فَقَالَ: أَنَا أَفْدِيهِ مِنْكُمْ بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ فَفَدَى نَفْسَهُ مِنْهُمْ، وَآمُرُكُمْ أَنْ تَذْكُرُوا اللَّهَ، فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ خَرَجَ الْعَدُوُّ فِي أَثَرِهِ سِرَاعًا حَتَّى إِذَا أَتَى عَلَى حِصْنٍ حَصِينٍ فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ مِنْهُمْ، كَذَلِكَ الْعَبْدُ لَا يُحْرِزُ نَفْسَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ: السَّمْعُ، وَالطَّاعَةُ، وَالْجِهَادُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجَمَاعَةُ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ ؟ قَالَ: وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ وَلَهُ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ.

حارث اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ قریب تھا کہ وہ اس حکم کی تعمیل میں سستی و تاخیر کریں عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ تم خود ان پر عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دو کہ وہ بھی اس پر عمل کریں، یا تو تم ان کو حکم دو یا پھر میں ان کو حکم دیتا ہوں۔ یحییٰ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپ نے ان امور پر مجھ سے سبقت کی تو میں زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں یا عذاب میں مبتلا نہ کردیا جاؤں، پھر انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا، مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ لوگ کنگوروں پر بھی جا بیٹھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ نے ہمیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں خود بھی ان پر عمل کروں اور تمہیں حکم دوں کہ تم بھی ان پر عمل کرو۔ پہلی چیز یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی کی ہے جس نے ایک غلام خالص اپنے مال سے سونا یا چاندی دے کر خریدا، اور (اس سے) کہا: یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا پیشہ (روز گار) ہے تو تم کام کرو اور منافع مجھے دو، سو وہ کام کرتا ہے اور نفع اپنے مالک کے سوا کسی اور کو دیتا ہے، تو بھلا کون شخص یہ پسند کرسکتا ہے کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، ٢ - اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے تو جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر نہ دیکھو۔ کیونکہ اللہ اپنا چہرہ نماز پڑھتے ہوئے بندے کے چہرے کی طرف رکھتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، ٣ - اور تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو ایک جماعت کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ایک تھیلی ہے جس میں مشک ہے اور ہر ایک کو اس کی خوشبو بھاتی ہے۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے، ٤ - اور تمہیں صدقہ و زکاۃ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے گردن سے ملا کر باندھ دیئے ہیں، اور اسے لے کر چلے تاکہ اس کی گردن اڑا دیں تو اس (قیدی) نے کہا کہ میرے پاس تھوڑا زیادہ جو کچھ مال ہے میں تمہیں فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لینا چاہتا ہوں، پھر انہیں فدیہ دے کر اپنے کو آزاد کرا لیا ١ ؎، ٥ - اور اس نے حکم دیا ہے کہ تم اللہ کا ذکر کرو۔ اس کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جس کا پیچھا دشمن تیزی سے کرے اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں پہنچ کر اپنی جان کو ان (دشمنوں) سے بچا لے۔ ایسے ہی بندہ (انسان) اپنے کو شیطان (کے شر) سے اللہ کے ذکر کے بغیر نہیں بچا سکتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے ( ١ ) بات سننا ( ٢ ) (سننے کے بعد) اطاعت کرنا ( ٣ ) جہاد کرنا ( ٤ ) ہجرت کرنا ( ٥ ) جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو! اس اللہ کے پکار کی دعوت دو ٢ ؎ جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا ۔

Sayyidina Harith Ashari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: ‘Allah commanded Yahya ibn Zakariya with five things that he may abide by them and command the Banu Isra’il to abide by them. But he was delayed in coveying them. Eesa said to him, “Allah commanded you with five commands that you may abide by them and command the Banu Isra’il to abide by them. So, either you give them the command, or I will do that.” So Yahya said, “If you take precedence over me in conveying them, I fear that I will be swallowed up (in earth) or punished.” So, he assembled the people in Bayt al-Maqdis and it was filled up, and people sat down on elevated places. He said to them, “Allah has commanded me with five commands that I should abide by them and comañd you to abide by them. (1) The first of them is that you worship Allah and associate not anything with Him. And the example of one who associates wit Allah is like a man who bought a slave with his pure earnings of gold or silver and said to him, ‘This is my house and this is my business. So take up this occupation and pay me what you earn) He works but pays another than his master. So, which of you will be pleased to have a slave like that? (2) And Allah commands you to offer salah. When you offer salah, do not turn elsewhere, for, Allah has His face towards His slave who offers salah as long as he does not turn elsewhere. (3) And I command you to keep fast. Its similitude is of a man who is with a party. He has a bagful of mausk. Alla of them are pleased with it or he is pleased with its odour. And the odour of oe who is fasting is more pleasant to Allah than the odour of musk. (4) And I command you to give sadaqah. Its similtude is like that of a man who is imprisoned by his enye my. They tie his hand to his neck and take him to be executed. He offers, ‘I pay ransom to you the little or much, and he ransoms himself from them, (5) And, I command you that you remember Allah. The similitude for that is like a man whose enye my pursue him in haste while he comes to a strong fort and protects himself from them. So is the man whom nothing protects from the devil but dhikr (remembrance) of Allah.” The Prophet ﷺ said. “And I command you with firve commands with which Allah has commanded me. They are: to hear, to obey, to wage jihad, to make hijrah (migration) and to a attach to the main body of Muslim s, for, he who separates from the main body even by a span takes out the rope of Islam from his neck unless he returns to it. And, he who invites people to the evils of jahiliyah is fuel of Hell.” Someone asked, “O Messenger of Allah ﷺ , even if he offered salah and kept fast”? He said, “Even if he offered salah and fasted. So invite to Allah Who named you Muslim s. Believers and slaves of Allah.” [Ahmed 1717]

صحيح، المشکاة (3694)، التعليق الرغيب (1 / 189 - 190)، صحيح الجامع (1724)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2863
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حارث اشعری صحابی ہیں اور اس حدیث کے علاوہ بھی ان سے حدیثیں مروی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرح صدقہ و خیرات کرنے والا صدقہ و خیرات کی بدولت اللہ کی رحمت کا مستحق ہوتا ہے، اور اس کے عذاب سے نجات پا لیتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی جاہلیت کا نعرہ اور اس کی پکار جو خانہ جنگی کی پکار ہے اس سے بچو اور اللہ کی توحید اور اس کی تعلیمات کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (التحفة: ٣٢٧٤)، و مسند احمد (٤/٢٠٢) (صحیح )
2864Sunan At-Tirmidhi

نماز، روزے اور صدقے کی مثال کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ اسْمُهُ مَمْطُورٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.

اس سند سے بھی حارث اشعری ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح اسی کی ہم معنی حدیث روایت کرتے ہیں۔

Muhammad ibn Bashshar reported from Abu Dawud Tiyalsi, from Aban ibn Yazid, from Yahya ibn Abu Kathir, from Zayd ibn Sallam, from Abu Sallam, from Harith Ash’ari (RA) from the Prophet ﷺ a hadith like it. --------------------------------------------------------------------------------

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ٢ - ابوسلام حبشی کا نام ممطور ہے، ٣ - اس حدیث کو علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2865Sunan At-Tirmidhi

قرآن پڑھنے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ رِيحُهَا مُرٌّ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَيْضًا.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ و مزہ بھی اچھا ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی سی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہے اور مزہ میٹھا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو، مہک تو اچھی ہے مزہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے اندرائن (حنظل) (ایک کڑوا پھل) کی طرح ہے جس کی بو بھی اچھی نہیں اور مزہ بھی اچھا نہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Musa Asha’ari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The example of the believer who recites the Quran is like a citron whose fragrance is pleasant and whose taste is pleasant. And, the example of the believer who does not recite the Qur’an is like a date that has no fragrance though its taste is sweet. And, the example of the hypocribe who recites the Quran is like basil whose taste is bitter. Aned the example of the hypocrite who does not recite the Qur’an is like colocynth whose fragrance is repulsive and whose taste is bitter.” [Bukhari 5020, Muslim 797, Abu Dawud 4829, Ibn e Majah 214, Nisai 5053]

صحيح نقد الکتانی (43)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے شعبہ نے قتادہ سے بھی روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کلام کی اثر انگیزی انسان کے ظاہر و باطن دونوں میں پائی جاتی ہے اور انسان چونکہ مختلف اوصاف کے حامل ہوتے ہیں اس لیے قرآن کریم کا پورا پورا تاثیری فائدہ صرف اس بندے کو حاصل ہوتا ہے جو مومن ہونے کے ساتھ حافظ قرآن اور اس پر عمل کرنے والا ہو، ایسا مومن اللہ کے نزدیک خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل کی طرح مقبول ہے۔ اور کچھ بندے ایسے ہیں جن کا باطن قرآن سے مستفید ہوتا ہے لیکن ظاہر محروم رہتا ہے، یہ وہ مومن بندہ ہے جو قاری قرآن نہیں ہے، ایسا مومن اللہ کے نزدیک اس مزے دار پھل کی طرح ہے جس میں خوشبو نہیں ہوتی، اور کچھ بندے ایسے ہیں جن کا ظاہر قرآن پڑھنے کے سبب اچھا ہے لیکن باطن تاریک ہے، یہ قرآن پڑھنے والا منافق ہے، یہ اللہ کے نزدیک اس خوشبودار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں اس قرآن سے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا، یہ قرآن نہ پڑھنے والا منافق ہے، یہ اللہ کے نزدیک حنظلہ اندرائن (حنظل) کی طرح ہے جس میں نہ تو خوشبو ہے اور نہ ہی اس کا مزہ اچھا ہے، بلکہ کڑوا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٧ (٥٠٢٠)، و ٣٦ (٥٠٥٩)، والأطعمة ٣٠ (٥٤٢٧)، التوحید ٥٧ (٧٥٦٠)، صحیح مسلم/المسافرین (٣٧ (٧٩٧)، سنن ابی داود/ الأدب ١٩ (٤٨٣٠)، سنن النسائی/الإیمان ٣٢ (٥٠٤١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١٤) (تحفة الأشراف: ٨٩٨١)، و مسند احمد (٣٩٧، ٤٠٨) (صحیح )
2866Sunan At-Tirmidhi

قرآن پڑھنے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيَاحُ تُفَيِّئُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ بَلَاءٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں (ادھر ادھر) ہلاتی رہتی ہیں۔ (ایسا ہی مومن ہے) مومن پر بلائیں برابر آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال صنوبر (اشوک) کے درخت کی ہے، وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں جب تک کہ کاٹ نہ دیا جائے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said. “The believer is like a field. The wind does not cease to bend him down and the believer does not cease to face trials. And, the hypocrite is like a pine tree that is motionless till it is uprooted.” [Ahmed 7195,Bukhari 544,Muslim 28089]

صحيح تخريج إيمان ابن أبى شيبة (86)، الصحيحة (2883)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ١٤ (٢٨٠٩) (تحفة الأشراف: ١٣٢٧٩) (وراجع ماعند صحیح البخاری/ في المرضی ١ (٥٦٤٤)، والتوحید ٣١ (٧٤٦٦)، و مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٨٤، ٥٢٣) (صحیح )
2867Sunan At-Tirmidhi

قرآن پڑھنے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَقُولَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ عُمَرَ بِالَّذِي وَقَعَ فِي نَفْسِي، فَقَالَ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے؟ عبداللہ کہتے ہیں: لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کھجور ہے ، مجھے شرم آ گئی کہ میں (چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے) بولوں (جب کہ لوگ خاموش ہیں) پھر میں نے (اپنے والد) عمر ؓ کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا (میرے بیٹے) اگر تم نے یہ بات بتادی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں ۔

Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is among trees, a tree whose leaves do not fall. It is like a believer. Tell me what it is”? Abdullah said the people thought of the trees of the wild while I thought of the date tree.” The Prophet ﷺ disclosed that it is the date (palm) tree. Abdullah siad, “I was shy to speak.” He said, “I narrated to Umar (RA) what had transpired with me. He said, ‘If you had spoken, that would have been dearer to me than that I had this and that.’” [Ahmed 5274,Bukhari 61,Muslim 2811]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2867
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤ (٦١)، و ٥ (٧٢)، و ٥٠ (١٣١)، وتفسیر سورة ابراہیم ١ (٤٦٩٨)، والأدب ٧٩ (٦١٢٢)، و ٨٩ (٦١٤٤)، صحیح مسلم/المنافقین ١٥ (٢٨١١) (تحفة الأشراف: ٧٢٣٤)، و مسند احمد (٢/٣١، ٦١) (صحیح )
2868Sunan At-Tirmidhi

پانچ نمازوں کی مثال

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ؟ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ نَحْوَهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Imagine if a river flows by the gate of one of you. He washes himself in it every day five times. Will there remain any dirt (on him)”? The companions said, “Nothing of dirt will remain.” He said, “That is like the five times prayer. Allah erases with them the sins.” [Ahmed 8933,Bukhari 528,Muslim 667,Nisai 461] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (15)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قتیبہ کہتے ہیں: ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ٣ - اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ نماز کی ادائیگی سے انسان صغیرہ گناہوں سے پاک و صاف ہوتا رہتا ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ سنت کے مطابق نماز ادا کی جائے، اور نماز کو نماز سمجھ کر پڑھا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٦ (٥٢٨)، صحیح مسلم/المساجد ٥١ (٦٦٧)، سنن النسائی/الصلاة ٧ (٤٦٣) (تحفة الأشراف: ٤٩٩٨)، و مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٢ ¤ ٦- ٤٢٧)، وسنن الدارمی/الصلاة ١ (١٢٢١) (صحیح )
2869Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَرُوِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُثَبِّتُ حَمَّادَ بْنَ يَحْيَى الْأَبَحَّ، وَكَانَ يَقُولُ هُوَ مِنْ شُيُوخِنَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی ہے، نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘The example of my ummah is like rain. It is not known whether first of it is better or the last of it.” [Ahmed 12329] --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، المشکاة (6277)، الصحيحة (2286)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2869
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عمار، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت ہے کہ وہ حماد بن یحییٰ الابح کی تائید و تصدیق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارے اساتذہ میں سے ہیں۔ فائدہ ١ ؎: معلوم ہوا کہ امت کا ہر فرد بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، نہیں معلوم اس میں سے کس کو کب اور کس وقت دوسرے سے خیر و برکت پہنچ جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٩١)، و مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٣١٩) (حسن صحیح )
2870Sunan At-Tirmidhi

انسان اس کی موت اور امید کی مثال

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَي، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ وَمَا هَذِهِ ؟ وَرَمَى بِحَصَاتَيْنِ ، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: هَذَاكَ الْأَمَلُ وَهَذَاكَ الْأَجَلُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ امید (و آرزو) ہے اور یہ اجل (موت) ہے ١ ؎۔

Sayyidina Buraida (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Do you fathom what the example of this and of that is”? He cast two pebbles. They said, “Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “This is hope. And this is the appinted time (death).”

ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 133)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2870
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ انسان کی آرزوئیں بہت ہیں ان آرزؤں کی تکمیل میں وہ سرگرداں رہتا ہے، اس کی بہت ساری امیدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اچانک موت اسے اپنے آہنی شکنجے میں دبوچ لیتی ہے، گویا انسان یہ کہتا ہے کہ موت سے قبل اپنی ساری آرزوئیں پوری کرلے گا جب کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٩٥٠) (ضعیف) (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث راوی ہیں )
2872Sunan At-Tirmidhi

انسان اس کی موت اور امید کی مثال

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں۔ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Men are only like a hundred camels (with anyone), yet a man does not find among them any worth riding.” [Ahmed 5623,Muslim 2547]

صحيح، ابن ماجة (3990)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2872
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اچھے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٣٥ (٦٤٩٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦٠ (٢٥٤٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٦ (٣٩٩٠) (تحفة الأشراف: ٦٩٤٥)، و مسند احمد (٢/٧، ٤٤، ٧٠، ١٠٩، ١٢١، ١٢٢، ١٢٣، ١٣٠) (صحیح )
2873Sunan At-Tirmidhi

انسان اس کی موت اور امید کی مثال

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: لَا تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً ، أَوْ قَالَ: لَا تَجِدُ فِيهَا إِلَّا رَاحِلَةً . عَنْ سَالِمٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سفیان بن عیینہ زہری سے اسی سند سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور انہوں نے کہا: تم ان میں ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ گے، یا یہ کہا: تم ان میں سے صرف ایک سواری کے قابل پا سکو گے۔

We know it from Sa’eed reported it from Sufyan, from Zuhri through the same sanad, the like of it. Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People are just like a hundred camels. You do not find among them even one on which you may ride or you do not find among them any save one on which you may ride.”

صحيح انظر ما قبله (2872)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2873
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٦٨٣٥) (صحیح )
2874Sunan At-Tirmidhi

انسان اس کی موت اور امید کی مثال

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغَيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلًتِ الذُّبَابُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا، وَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکھیاں اور پتنگے اس میں پڑنے لگے (یہی حال تمہارا اور ہمارا ہے) میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں (جہنم کی آگ میں) بلا سوچے سمجھے گھسے چلے جا رہے ہو ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “My example and of my ummah is like a man who kindles a fire. Insects and butterflies come over and fall into it, and I hold you back by your hems while you advance forward into it.” [Ahmed 8123, Bukhari 3426,Muslim 2284] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الضعيفة تحت الحديث (3082)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2874
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٠ (٣٤٢٦)، صحیح مسلم/الفضائل ٦ (٢٢٨٤) (تحفة الأشراف: ١٣٨٧٩)، و مسند احمد (٢/٣٦١، ٣٩٢) (صحیح )
2871Sunan At-Tirmidhi

انسان اس کی موت اور امید کی مثال

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِيمَا خَلَا مِنَ الْأُمَمِ، كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، فَعَمِلَتْ النَّصَارَى عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ أَنْتُمْ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، وَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری مدت گزری ہوئی امتوں کے مقابل میں عصر سے مغرب تک کی درمیانی مدت کی طرح ہے (یعنی بہت مختصر تھوڑی) تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کئی مزدور رکھے۔ اس نے کہا: میرے یہاں کون فی کس ایک قیراط پر دوپہر تک کام کرتا ہے؟ تو یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا، پھر اس نے کہا: میرے یہاں کون مزدوری کرتا ہے دوپہر سے عصر تک فی کس ایک ایک قیراط پر؟ تو نصاریٰ نے ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم (مسلمان) کام کرتے ہو عصر سے سورج ڈوبنے تک فی کس دو دو قیراط پر۔ (یہ دیکھ کر) یہود و نصاریٰ غصہ ہوگئے، انہوں نے کہا: ہمارا کام زیادہ ہے اور مزدوری تھوڑی ہے؟، اللہ نے فرمایا: کیا تمہارا حق کچھ کم کر کے میں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اس نے کہا: یہ میرا فضل و انعام ہے میں جسے چاہوں دوں ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: ‘Indeed, your appointed time relative to the people who have passed away is like between the salah of asr and the setting of the sun. And, your example relative to the Jews and Christians is like a man who hired many labourers asking, “Who will work for me till afternoon against a qirat.” The Jews worked against one qirat. Then he asked, “Who will work for me from afternoon on against a qirat”? The Christians worked against one qirat. Then you work from the salah of Asr to the setting of the sun against two qirats. So, the Jews and the Christians became angry and said, “We work more but are paid less.” He asked “Have I wornged you and denied anything of your right”? They said, “No.” He said, “This is my favour. I grant it to whom I will.” [Ahmed 5909,Bukhari 557]

صحيح مختصر البخاری (312)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ٩ (٢٢٦٦٩)، وأحادیث الأنبیاء ٥٠ (٣٤٥٩)، وفضائل القرآن ١٧ (٥٠٢١) (تحفة الأشراف: ٧٢٣٥)، و مسند احمد (٢/٦، ١١١) (صحیح )