Sunan At-Tirmidhi 2868

مثالوں کا بیان

2868Sunan At-Tirmidhi

پانچ نمازوں کی مثال

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ؟ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ نَحْوَهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Imagine if a river flows by the gate of one of you. He washes himself in it every day five times. Will there remain any dirt (on him)”? The companions said, “Nothing of dirt will remain.” He said, “That is like the five times prayer. Allah erases with them the sins.” [Ahmed 8933,Bukhari 528,Muslim 667,Nisai 461] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (15)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قتیبہ کہتے ہیں: ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ٣ - اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ نماز کی ادائیگی سے انسان صغیرہ گناہوں سے پاک و صاف ہوتا رہتا ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ سنت کے مطابق نماز ادا کی جائے، اور نماز کو نماز سمجھ کر پڑھا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٦ (٥٢٨)، صحیح مسلم/المساجد ٥١ (٦٦٧)، سنن النسائی/الصلاة ٧ (٤٦٣) (تحفة الأشراف: ٤٩٩٨)، و مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٢ ¤ ٦- ٤٢٧)، وسنن الدارمی/الصلاة ١ (١٢٢١) (صحیح )