ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ١ ؎
Sayyidah Aisha (RA) was asked if the Prophet ﷺ ever recited poetry. She said, “He used to recite this verse of lbn Rawahah: Trans-“They will bring news to you whom you gave no provision.” [Ahmed 21060, Abu Dawud 1294, Nisai 1357]
صحيح، الصحيحة (2057)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2848
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پورا شعر اس طرح ہے: «ستبدی لک الأيام ماکنت جاهلا ويأتيك بالأخبار من لم تزود» زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بیخبر ہو گے، اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عرب کا بہترین شعری کلام لبید کا یہ شعر ہے: «ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل» سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The best poetic words an Arab has uttered are the words of Labid : Trans-‘Everything apart from Allah is void’.” [Ahmed 97431
صحيح بلفظ: أصدق ... مختصر الشمائل (207)، فقه السيرة (27)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور اسے ثوری اور ان کے علاوہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے (سنتے و سناتے) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) narrated: I had the Prophet’s ﷺ company more than a hundred times. His sahabah (RA) used to recite poetry and recall affairs of the jahiliyah while he kept quiet except for an occasional smile with them.
صحيح مختصر الشمائل (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ (و سینے) میں (کفریہ شرکیہ اور گندے) اشعار بھرے ہوئے ہوں ۔
صحيح مختصر الشمائل (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن عمر، اور ابو الدرداء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر توحید وسنت، اخلاق حمیدہ، وعظ و نصیحت، پند و نصائح اور حکمت و دانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا، پڑھنا سب جائز ہے، اور اگر کفریہ، شرکیہ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اور مواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩٢ (٦١٥٥)، صحیح مسلم/الشعر ٧ (٢٢٥٧)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٢ (٣٧٥٩) (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٨)، و مسند احمد (٢/٢٨٨، ٣٣١، ٣٩١) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے پیٹ کا بیماری کے سبب مواد سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ١ ؎۔
Sayyidina Sa’d ibn Abu Waqqas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “That the belly of one of you is full of pus is better than being full of poetry.” [Muslim 2258, Ibn e Majah 3760,Ahmed 1506]
صحيح، ابن ماجة (3759)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2852
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پیپ مواد سے تو صرف تکلیف ہوگی لیکن (گندے) اشعار سے تو انسان کی عاقبت ہی خراب ہو کر رہ جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الشعر ٨ (٢٢٥٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٢ (٣٧٦٠) (تحفة الأشراف: ٣٩١٩)، و مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٧، ١٨١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ (و سینے) میں (کفریہ شرکیہ اور گندے) اشعار بھرے ہوئے ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “That one of you fills his belly with pus that corrodes is better for him than to fill it with poetry.” [Ahmed 997, Bukhari 6155, Muslim 2257, Ibn e Majah 3759]
صحيح مختصر الشمائل (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن عمر، اور ابو الدرداء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر توحید وسنت، اخلاق حمیدہ، وعظ و نصیحت، پند و نصائح اور حکمت و دانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا، پڑھنا سب جائز ہے، اور اگر کفریہ، شرکیہ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اور مواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩٢ (٦١٥٥)، صحیح مسلم/الشعر ٧ (٢٢٥٧)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٢ (٣٧٥٩) (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٨)، و مسند احمد (٢/٢٨٨، ٣٣١، ٣٩١) (صحیح)
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے مبالغہ کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے جو اپنی زبان ایسے چلاتا ہے جیسے گائے چلاتی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, Allah hates the eloquent one among men who twists his tongue just as the cow (wags its tail).”
صحيح، الصحيحة (878)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2853
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے گائے چارے کو اپنی زبان سے لپیٹ لپیٹ کر اپنی خوراک بناتی ہے اسی طرح چرب زبان آدمی بات کو لپیٹ لپیٹ کر بیان کرتا چلا جاتا ہے، یہ صورت خاص کر غلط باتوں کے سلسلے ہی میں ہوتی ہے، ایسی فصاحت و بلاغت ناپسندیدہ ہے۔
جابر ؓ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (رات میں) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو، گھر کے دروازے بند کردیا کرو، اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چوہیا چراغ کی بتی کھینچ لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے۔
صحيح ومضی (1813) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (1479 - 1888) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث متعدد سندوں سے جابر سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ہریالی اور شادابی کے زمانہ میں سفر کرو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو (یعنی جی بھر کر چر لینے دیا کرو) اور جب تم خزاں و خشکی اور قحط کے دنوں میں سفر کرو اس کی قوت سے فائدہ اٹھا لینے میں کرو تو جلدی ١ ؎ اور جب تم رات میں قیام کے لیے پڑاؤ ڈالو تو عام راستے سے ہٹ کر قیام کرو، کیونکہ یہ (راستے) رات میں چوپایوں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you travel during days of productivity, give the camel its share from the earth. And when you travel during the dry season, hurry through your journey while it still has stamina in it. When you halt for rest, leave aside the road, for, it is passage for animals and adobe of worms and insects.” [Muslim 1926, Ahmed 8450]
صحيح، الصحيحة (1357)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2858
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوشش کر کے جلد منزل پر پہنچ جاؤ، کیونکہ اگر منزل پر پہنچنے سے پہلے چارے کی کمی کے باعث اونٹ کمزور پڑگیا تو تم پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٤ (١٩٢٦)، سنن ابی داود/ الجھاد ٦٣ (٢٥٦٩) (تحفة الأشراف: ١٢٧٠٦)، و مسند احمد (٢/٣٣٧) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی چھت پر جہاں کوئی رکاوٹ نہ ہو سونے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade that a man should sleep on a roof that is not surrounded by a parapet.
صحيح، الصحيحة (826)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2854
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اس حدیث کو صرف محمد بن منکدر کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ جابر سے روایت کرتے ہیں، ٣ - عبدالجبار بن عمر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں سے اخیر تک چند احادیث متفرق ابواب کی ہیں، ان کا فصاحت و بیان سے کوئی تعلق نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠٥٣) (صحیح) (سند میں عبد الجبار بن عمر الأیلي ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو وعظ و نصیحت کا سلسلے میں اوقات کا خیال کیا کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ہم پر اکتاہٹ طاری نہ ہوجائے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ used to specify for us days of sermons to keep away boredom over us. [Ahmed 4060, Bukhari 68, Muslim 2821]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2855
اس سند سے بھی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ وعظ و نصیحت کے لیے وقفے وقفے کے ساتھ کچھ وقت مقرر کرنا چاہیئے، کیونکہ ایسا نہ کرنے سے لوگوں پر اکتاہٹ طاری ہونے کا خطرہ ہے جس سے وعظ و نصیحت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ١١ (٦٨)، و ١٢ (٧٠)، والدعوات ٦٩ (٦٤١١)، صحیح مسلم/المنافقین ١٩ (٢٨٢١) (تحفة الأشراف: ٩٢٥٤)، و مسند احمد (١/٣٧٧، ٤٢٥، ٤٤٠، ٤٤٣، ٤٦٢) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح )
ابوصالح سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ ؓ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ پسند تھا؟، ان دونوں نے جواب دیا کہ وہ عمل جو گرچہ تھوڑا ہو لیکن اسے مستقل اور برابر کیا جائے۔
Abu Salih reported that Sayyidah Aisha (RA) and Sayyidah Umm Salamah were asked, “Which deed was dearest to Allah’s Messenger ﷺ . They said, “That which is done constantly even if it is little.” [Ahmed 25494, Bukhari 43, Muslim 785, Nisai 5050, Ibn e Majah 4238]
صحيح، صحيح أبي داود (1238)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2856