علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کرتے ہوئے نہیں دیکھا ١ ؎۔
Sayyidina Ali (RA) said, “I did not hear the Prophet ﷺ name together his parents for anyone besides Sad ibn Abu Waqqas. (it means that he said to him, “May my father and mother be ransomed to you.”)
صحيح، ابن ماجة (130)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2828
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی «فداک ابی امی» میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ایسا سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے کہتے ہوئے نہیں سنا، سعد کے لیے استعمال سے ثابت ہوا کہ اور کسی کے لیے بھی یہ جملہ کہا جاسکتا ہے۔
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص ؓ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ۔
Sa’eed ibn Musayyab reported that Sayyidina Ali (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ never named both his parents together for anyone except for Sa’d ibn Abu Waqqas (RA). He said to him on the day of Uhud, ‘Shoot arrows! May my father and mother be ransomed to you.’ And he said to him, (also), ‘Shoot, O strong young man!’” [Ahmed 709]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ٣ - اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کردیا۔ آپ نے فرمایا: تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں ، ٤ - اس باب میں زبیر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، اور ان کی روایت میں ” الغلام الحزور “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث صحیح کے متابعات و شواہد صحیحین میں موجود ہیں )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کی لڑائی کے دن میرے لیے «فداک أبي وأمي» کہہ کر اپنے ماں باپ کو یکجا کردیا۔
Many narrators reported from Yahya ibn Saeed ibn Musayyab, and from Sad ibn Abu Waqqas , that he said, “During the Battle of Uhud, the Prophet ﷺ said to me: May my father and mother be ransomed to you.” [Bukhari 3725, Muslim 2412, Ibn Majah 130,Ahmed 1616]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2830
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے «يا بني» اے میرے بیٹے کہہ کر پکارا ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) said that the Prophet ﷺ addressed him, “O son!’
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2830
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس سند کے علاوہ کچھ دیگر سندوں سے بھی انس سے روایت ہے، ٣ - ابوعثمان یہ ثقہ شیخ ہیں اور ان کا نام جعد بن عثمان ہے، اور انہیں ابن دینار بھی کہا جاتا ہے اور یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ ان سے یونس بن عبید اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ٤ - اس باب میں مغیرہ اور عمر بن ابی سلمہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ اپنے بیٹے کے علاوہ بھی کسی بچے کو اے میرے بیٹے! کہا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٦ (٢١٥١)، سنن ابی داود/ الأدب ٧٣ (٤٩٦٤) (تحفة الأشراف: ٥١٤)، و مسند احمد (٣/٢٨٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ساتویں دن نومولود بچے کا نام رکھنے اس اور اس کا عقیقہ کردینے کا حکم دیا ١ ؎۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father from his grandfather that the Prophet ﷺ commanded that a new born should be given a name on the seventh day and (the same day) his hair should be shaved and his aqiqah (sacrifice of animals) performed.
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نومولود بچے کا نام اس کی پیدائش کے ساتویں دن رکھا جائے، بچے کی پیدائشی آلائش صاف کر کے یعنی اس کے سر کے بال اتروا کر بچے کو نہلایا جائے اور ساتویں روز اس کا عقیقہ کیا جائے، یہ افضل ہے، ایسے عائشہ ؓ کے فرمان کے مطابق چودھویں یا اکیسویں کو بھی ایسا کیا جاسکتا ہے (حاکم)۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ) رافع، برکت اور یسار نام رکھنے سے منع کر دوں گا ۔
Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I forbid you to give names Rafi (Raafi ‘i) Barakah, and Yasaar.” [Ibn e Majah 3729]
صحيح، ابن ماجة (3829)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2835
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے عمر سے روایت کی ہے۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣ - ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں، ٤ - لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» (عمر ؓ سے روایت ہے) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے۔
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو (کیونکہ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں ١ ؎۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not name your child Rabaah, Aflah, Yasaar, Najih. It might be asked, ‘Is he there and the answer might be, ‘No’.” [Ahmed 20099, Muslim 2137,Abu Dawud 4958, Ibn e Majah 3630]
صحيح، ابن ماجة (3630)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2836
Notes · وضاحت
١ ؎: «رباح» فائدہ دینے والا «افلح» فلاح والا «یسار» آسانی «نجیح» کامیاب رہنے والا، ان ناموں کے رکھنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ اگر کسی سے پوچھا جائے: کیا «افلح» یہاں ہے اور جواب میں کہا جائے کہ نہیں تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدتر نام اس شخص کا ہوگا جس کا نام «ملک الاملاک» ہوگا ، سفیان کہتے ہیں: «ملک الاملاک» کا مطلب ہے: شہنشاہ۔ اور «اخنع» کے معنی «اقبح» ہیں یعنی سب سے بدتر اور حقیر ترین۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet ﷺ in a marfu manner, “The worst of the names in the sight of Allah on the Day of Resurrection is of a man named ‘king of kings’. Sufyan said, “It means Shahinshah.” [Ahmed 7333,Bukhari 6206,Muslim 2143,Abu Dawud 4961,Ahmed 4692]
صحيح، الصحيحة (914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2837
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: تیرا نام جمیلہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ changed the name of Aasiyah. He said, “You are Jamilah.” [Muslim 2139,Abu Dawud 4952,Ahmed 4682, Ibn Majah 3733]
صحيح، ابن ماجة (3733)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2838
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان نے مرفوع بیان کیا ہے۔ یحییٰ نے عبیداللہ سے عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے، اور بعض راویوں نے یہ حدیث عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے عمر سے مرسلاً روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن سلام، عبداللہ بن مطیع، عائشہ، حکم بن سعید، مسلم، اسامہ بن اخدری، ہانی اور عبدالرحمٰن بن ابی سبرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ایسے نام جو برے ہوں انہیں بدل کر ان کی جگہ اچھا نام رکھ دیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٣ (٣١٣٩)، سنن ابی داود/ الأدب ٧٠ (٤٩٥٢)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٢ (٣٧٣٣) (تحفة الأشراف: ٨١٥٥)، و مسند احمد (٢/١٨)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٦٢ (٢٧٣٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ برا نام بدل دیا کرتے تھے۔
Sayyida Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ used to change disliked names.
صحيح، الصحيحة (207 و 208)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2839
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کے راوی ابوبکر بن نافع کہتے ہیں کہ کبھی تو عمر بن علی (الفلاس) نے اس حدیث کی سند میں کہا: «هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» یعنی مرسلاً روایت کی اور اس میں «عن عائشة» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں وہ ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے ١ ؎ میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہوگا ۔
Sayyidina Jubair bin Mut’im (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, I have many names. I am Muhammad, I am Ahmed, I am Mahi through whom Allah erases disbelief. And I am Hashir behind whom people will gather. And I am Aaqib after whom there is no Prophet.” [Ahmed 16734, Bukhari 3532, Muslim 3254]
صحيح مختصر الشمائل (315)، الروض النضير (1 / 340)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2840
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میدان حشر میں لوگ میرے پیچھے ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١٧ (٣٥٣٢)، وتفسیر سورة الصف ١ (٤٨٩٦)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٤ (٢٣٥٤) (تحفة الأشراف: ٣١٩١)، و مسند احمد (٤/٨٠، ٨١، ٨٤)، وسنن الدارمی/الرقاق ٥٩ (٢٨١٧) (صحیح )
حسن صحيح، المشکاة (4769 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2841
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم مکروہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نبی اکرم ﷺ کا نام اور آپ کی کنیت ایک ساتھ رکھے۔ لیکن بعض لوگوں نے ایسا کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کا کہنا ہے کہ آپ کی زندگی میں یہ چیز ممنوع تھی، آپ کے بعد آپ کا نام اور آپ کی کنیت رکھنا درست ہے، بعض کا کہنا ہے کہ دونوں ایک ساتھ رکھنا منع ہے، جب کہ بعض کہتے ہیں کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے، پہلا قول راجح ہے (دیکھئیے اگلی دونوں حدیثیں)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤١٤٣)، و مسند احمد (٢/٤٣٣) (صحیح) (وراجع ماعند صحیح البخاری/ في الأدب (٦١٨٨)
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو بازار میں ابوالقاسم کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ تو اس نے کہا: میں نے آپ کو نہیں پکارا ہے۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: میری کنیت نہ رکھو ۔
Sayyidina Jabir (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ said, “If you take my name then do not use my Kunyah.” [Ibn Majah 3736]
حسن صحيح، المشکاة (4769 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2841
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ ابوالقاسم کنیت رکھنا مکروہ ہے۔
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے انتقال کے بعد میرے یہاں لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام محمد اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔ (ایسا کرسکتے ہو) علی ؓ کہتے ہیں: یہ صرف میرے لیے رخصت و اجازت تھی ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) submitted, “O Messenger of Allah ﷺ what do you say if a son is born to me after your death, may I name him Muhamamd and give him your kunyah?” He said, “Yes.” Sayyidina All said, “The permission was for me.” [Abu Dawud 4967]
صحيح مختصر تحفة الودودصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2843
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں ۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “In some poetry, there is wisdom.”
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2844
Notes · وضاحت
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اسے ابوسعید اشج نے ابن ابی غنیہ کے واسطہ سے مرفوع روایت کیا ہے۔ اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے ابن ابی غنیہ کے واسطہ سے اسے موقوف روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث کئی سندوں سے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے روایت کی گئی ہے، ٤ - اس باب میں ابی بن کعب، ابن عباس، عائشہ، بریدہ، اور عمرو بن عوف مزنی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسان ؓ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اللہ حسان کی مدد روح القدس (جبرائیل) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ (اپنے اشعار کے ذریعہ) رسول اللہ ﷺ کی جانب سے فخر کرتے یا آپ کا دفاع کرتے ہیں ۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated: The Prophet ﷺ had placed a pulpit for Hassan in the mosque. He would stand on it and present proud poetry eulogising Allah’s Messenger ﷺ or, she said: He would respond to the charges against Allah’s Messenger ﷺ . And, Allah’s Messenger ﷺ would say, “Allah helps Hassan through Jibril when he boasts or responds.” [Ahmed 2491, Abu Dawud 501]
حسن، الصحيحة (1657)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2846
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور یہ حدیث ابن ابی الزناد کی روایت سے ہے۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرۃ القضاء کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ «خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم علی تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» اے کفار کی اولاد! اس کے (یعنی محمد ﷺ کے) راستے سے ہٹ جاؤ، آج کے دن ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو گردنوں سے جدا کر دے گی، ایسی مار ماریں گے جو دوست کو دوست سے غافل کر دے گی عمر ؓ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! تم رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: انہیں کہنے دو، عمر! یہ اشعار ان (کفار و مشرکین) پر تیر برسانے سے بھی زیادہ زود اثر ہیں (یہ انہیں بوکھلا کر رکھ دیں گے) ۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: The Prophet ﷺ entered Makkah to perform the redeeming umrah and Abdullah ibn Rawahah led ahead reciting this poetry: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِه وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
صحيح مختصر الشمائل (210)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2847
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر سے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے انس سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے (اس وقت) کعب بن مالک آپ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود تھے۔
بعض محدثین کے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ عبداللہ بن رواحہ جنگ موتہ میں مارے گئے ہیں۔ اور عمرۃ القضاء اس کے بعد ہوا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حافظ ابن حجر نے امام ترمذی کے اس قول پر نقد کیا ہے، کہتے ہیں: امام ترمذی کا یہ کہنا کہ عمرۃ القضاء جنگ موتہ کے بعد ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے۔