Sunan At-Tirmidhi 2829

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2829Sunan At-Tirmidhi

فداک ابی وامی کہنا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَقَالَ لَهُ: ارْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ وَفِي الْبَابِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص ؓ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ۔

Sa’eed ibn Musayyab reported that Sayyidina Ali (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ never named both his parents together for anyone except for Sa’d ibn Abu Waqqas (RA). He said to him on the day of Uhud, ‘Shoot arrows! May my father and mother be ransomed to you.’ And he said to him, (also), ‘Shoot, O strong young man!’” [Ahmed 709]

منکر بذکر الغلام الحزور // سيأتي (783 / 4019) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2829
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ٣ - اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کردیا۔ آپ نے فرمایا: تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں ، ٤ - اس باب میں زبیر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، اور ان کی روایت میں ” الغلام الحزور “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث صحیح کے متابعات و شواہد صحیحین میں موجود ہیں )