Sunan At-Tirmidhi 2828

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2828Sunan At-Tirmidhi

فداک ابی وامی کہنا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کرتے ہوئے نہیں دیکھا ١ ؎۔

Sayyidina Ali (RA) said, “I did not hear the Prophet ﷺ name together his parents for anyone besides Sad ibn Abu Waqqas. (it means that he said to him, “May my father and mother be ransomed to you.”)

صحيح، ابن ماجة (130)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2828
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی «فداک ابی امی» میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ایسا سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے کہتے ہوئے نہیں سنا، سعد کے لیے استعمال سے ثابت ہوا کہ اور کسی کے لیے بھی یہ جملہ کہا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٨٠ (٢٩٠٥)، والمغازي ١٨ (٤٠٥٨، ٤٠٥٩)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥١ (٢٤١١)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٧٧ (١٩٠-١٩٤)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٩)، وانظر رقم ٢٨٣٠ (تحفة الأشراف: ١٠١١٦) (صحیح )