اس بارے میں کہ کسی کے لئے نبی اکرم ﷺ کا نام اور کنیت جمع کرکے رکھنا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْمُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ أُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَانَتْ رُخْصَةً لِي ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے انتقال کے بعد میرے یہاں لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام محمد اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔ (ایسا کرسکتے ہو) علی ؓ کہتے ہیں: یہ صرف میرے لیے رخصت و اجازت تھی ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) submitted, “O Messenger of Allah ﷺ what do you say if a son is born to me after your death, may I name him Muhamamd and give him your kunyah?” He said, “Yes.” Sayyidina All said, “The permission was for me.” [Abu Dawud 4967]