علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے (مردوں کو) سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے (ریشم ملے ہوئے) کپڑے پہننے سے، زین پر رکھنے والی ریشمی گدیلے سے اور جَو کی نبیذ سے۔ ابوالا ٔحوص کہتے ہیں «جعه» ایک شراب ہے جو مصر میں جَو سے بنائی جاتی ہے۔
Sayyidina Ali (RA) ibn Abu Talib reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade wearing a ring of gold, silk garments and garments decorated with silk and he forbade drinking jiah. Abul Ahwas said that ji’ah is wine prepared in Egypt with barley. [Ahmed 722, Abu Dawud 4051, Ibn e Majah 3654,Nisai 5176] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح المتنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2808
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں کے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں۔ مریض کی عیادت کریں، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دیں۔ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں، مظلوم کی مدد کریں، اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرائیں، اور سلام کا جواب دیں کا، اور سات چیزوں سے آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی پہننے، یا سونے کے چھلے استعمال کرنے سے، اور چاندی کے برتنوں سے اور حریر، دیباج، استبرق اور قسی کے پہننے سے (یہ سب ریشمی کپڑے ہیں) ۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ commanded them to do seven things and forbade them from doing seven things. He commanded them to follow the funeral, visit the sick, respond to the sneezer, accept an invitation, help the oppressed, fulfil the promise and respond to the salaam. And, he forbade them from seven things from (wearing) a gold ring or loop, (using) silver utensils, wearing silk (for men), dibaj, istabraq and qassiy (these are kinds of silk garments). [Bukhari 1239,Muslim 2066,Nisai 1938,Ahmed 18530] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح ومضی طرف منه (1760)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2809
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اشعث بن سلیم: یہ اشعث بن ابوشعثاء ہیں، ابوشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے۔
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں سفید کپڑوں کا اپنے مردوں کو کفن دو ١ ؎۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Wear white garments, for, they are pure. And shroud your dead in them.” [Ibn e Majah 3567,Nisai 5337,Ahmed 20239]
صحيح، ابن ماجة (1472)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2810
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زندگی میں سفید لباس بہتر، پاکیزہ اور عمدہ ہے، اس لیے کہ سفید کپڑے میں ملبوس شخص کبر و غرور اور نخوت سے خالی ہوتا ہے، جب کہ دوسرے رنگوں والے لباس میں متکبر ین یا عورتوں سے مشابہت کا امکان ہے، اپنے مردوں کو بھی انہی سفید کپڑوں میں دفنانا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٥ (٣٥٦٧) (تحفة الأشراف: ٤٦٣٥) (صحیح )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، پھر آپ کو دیکھنے لگا اور چاند کو بھی دیکھنے لگا (کہ ان دونوں میں کون زیادہ خوبصورت ہے) آپ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے ١ ؎، اور آپ مجھے چاند سے بھی زیادہ حسین نظر آ رہے تھے۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) narrated : ‘I saw the Prophet ﷺ on a moonlit night, I would now look at him and now at the moon. He had over him a red robe. Indeed,he was more beautiful in my sight than the moon.
(حديث البراء) صحيح، (حديث جابر بن سمرة) ضعيف (حديث البراء) وتقدم بأتم منه (1724) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (1408 - 1794) //، (حديث جابر بن سمرة) مختصر الشمائل (8) // ووقع فيه: صحيح، وهو خطأ //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2811
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اشعث کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض علماء کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ سرخ لباس خالص سرخ رنگ کا نہیں تھا بلکہ اس میں سرخ رنگ کی دھاریاں تھیں، ظاہر ہے ایسے سرخ لباس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٢٢٠٨) (ضعیف) (سند میں اشعث بن سوار قاضی اہواز ضعیف راوی ہیں، انہوں نے اس حدیث کو براء بن عازب کی بجائے جابر بن سمرہ کی روایت بنا سنن الدارمی/ ہے، براء بن عازب کی روایت رقم ١٧٢٤ پر گزر چکی ہے )
ابورمثہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو سبز کپڑے استعمال کئے ہوئے دیکھا۔
Sayyidina Abu Rimthah (RA) reported that he observed Allah’s Messenger ﷺ in a pair of green garments.
صحيح مختصر الشمائل (36)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2812
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبیداللہ بن ایاد کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - ابورمثہ تیمی کا نام حبیب بن حیان ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام رفاعہ بن یثربی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ١٩ (٤٠٦٥)، والترجل ١٨ (٤٢٠٦)، سنن النسائی/العیدین ١٦ (١٥٧١)، والزینة ٩٦ (٥٣٣٤) (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٦)، و مسند احمد (٢/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٢٨)، و (٤/١٦٣) (صحیح )
قیلہ بنت مخرمہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے پھر انہوں نے پوری لمبی حدیث بیان کی (اس میں ہے کہ) ایک شخص اس وقت آیا جب سورج چڑھ آیا تھا۔ اس نے کہا: «السلام علیک یا رسول اللہ»! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وعلیک السلام ورحمة اللہ»، اور نبی اکرم ﷺ (کے جسم) پر دو پرانے کپڑے تھے۔ وہ زعفران سے رنگے ہوئے تھے، اور کثرت استعمال سے ان کا رنگ پھیکا پڑگیا تھا ١ ؎ اور نبی اکرم ﷺ کے پاس کھجور کی ایک شاخ تھی۔
Sayyidah Qaylah bint Makhramah (RA) narrated: We went to Allah’s Messeneger ﷺ . She then narrated the hadith in its entirety till she said that a man came while the sun had gone up. He said, “As salaamu alikum, O Messenger of Allah ﷺ .” He said, “Wa alaykas salaam wa rahmatullah” and on the Prophet ﷺ were two with-out unstitched garments dyed in safrón, their colour having faded off. He had a twig of date tree with him. [Abu Dawud 3070]
حسن مختصر الشمائل (53 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2814
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
قیلہ کی حدیث کو ہم صرف عبداللہ بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: زعفران کا اثر ختم ہوچکا تھا، اس لیے یہ حدیث اگلی حدیث کے منافی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ٣٦ (٣٠٧٠) (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٧) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود رقم ٣٩٢ )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (مردوں کو) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messengner forbade men the use of safron as scent. [Ahmed 12941, Muslim 2101,Abu Dawud 4179]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2815
یعلیٰ بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ١ ؎، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔
Sayyidina Ya’la ibn Murrah (RA) said that the Prophet ﷺ observed a man having applied Khuluq and said, “Go. Wash it off. Wash off a second time and do not use it again.” [Nisai 5137,Ahmed 17562]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2816
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - بعض لوگوں نے عطا بن سائب سے اس حدیث کی اسناد میں اختلاف کیا ہے، ٣ - علی (علی ابن المدینی) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ جس نے عطاء بن سائب سے ان کی زندگی کے پرانے (پہلے) دور میں سنا ہے تو اس کا سماع صحیح ہے اور شعبہ اور سفیان ثوری کا عطاء بن سائب سے سماع صحیح ہے مگر دو حدیثیں جو عطاء سے زاذان کے واسطہ سے مروی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں، ٤ - شعبہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں حدیثوں کو عطاء سے ان کی عمر کے آخری دور میں سنا ہے۔ (اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے) ، ٥ - کہا جاتا ہے کہ عطاء بن سائب کا حافظہ ان کے آخری دور میں بگڑ گیا تھا، ٦ - اس باب میں عمار، ابوموسیٰ، اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «خلوق»: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٣٤ (٥١٢٤) (تحفة الأشراف: ١١٨٤٩)، و مسند احمد (٤/١٧١، ١٧٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو حفص مجہول راوی ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں «حریر» (ریشمی کپڑا) پہنا تو وہ اسے آخرت (یعنی جنت) میں نہ پہنے گا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he heard Sayyidina Umar (RA) mention that the Prophet ﷺ had said, “He who wears silk in this world will not wear it in the next world.” [Muslim 2069]
صحيح غاية المرام (78)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2817
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے اسماء بنت ابی بکر کے آزاد کردہ غلام ابوعمرو سے مروی ہے۔ ان کا نام عبداللہ اور ان کی کنیت ابوعمرو ہے، ان سے عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں علی، حذیفہ، انس ؓ اور دیگر کئی لوگوں سے بھی احادیث آئی ہیں، جن کا ذکر ہم کتاب اللباس میں کرچکے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٩) (تحفة الأشراف: ١٠٥٤٢)، و مسند احمد (١/٢٠، ٢٦، ٣٦، ٣٩) (صحیح) (ھذا من مسند عمر ؓ، وقد أخرجہ من مسند ابن عمر کل من: صحیح البخاری/الجمعة ٧ (٨٨٦، والعیدین ١ (٩٣٨)، والھبة ٢٧ (٢٦١٢)، والجھاد ١٧٧ (٣٠٥٤)، واللباس ٣٠ (٥٨٤١)، والأدب ٩ (٥٩٨١)، و ٦٦ (٦٠٨١)، وصحیح مسلم/المصدر المذکور (٢٠٦٨)، و سنن ابی داود/ الصلاة ٢١٩ (١٠٧٦)، واللباس ١٠ (٤٠٤٠)، سنن النسائی/الجمعة ١١ (١٣٨٣)، والزینة ٨٣ (٥١٦١)، وسنن ابن ماجہ/اللباس ١٦ (٣٥٩١)، وط/اللباس ٨ (١٨)، و مسند احمد (٢/٢٠، ٣٩، ٤٩) (بذکر قصة )
مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ ق بائیں تقسیم کیں، اور مخرمہ کو (ان میں سے) کچھ نہ دیا۔ مخرمہ ؓ نے کہا: اے میرے بیٹے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر چلو، تو میں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا: تم اندر جاؤ اور آپ کو میرے پاس بلا لاؤ، چناچہ میں آپ کو ان کے پاس بلا کر لانے کے لیے چلا گیا، رسول اللہ ﷺ نکل کر تشریف لائے۔ تو آپ کے پاس ان قباؤں میں سے ایک قباء تھی ، آپ نے فرمایا: یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی ۔ مسور کہتے ہیں: پھر مخرمہ نے آپ کو دیکھا اور بول اٹھے: مخرمہ اسے پا کر خوش ہے ۔
Sayyidina Miswar ibn Makhramah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ gave away some garments but did not give anything to Makhramah So he said to me, “Son, come along with me to AlIah’s Messenger ﷺ . There, he said to me, “Go in and call him for me.” So, I called him. The Prophet ﷺ came out and he had on him one of those garments and he said, I had kept aside this (one) for you.” He looked at it and said, “Makhrarnah is pleased.” [Ahmed 18949,Bukhari 2599,Muslim 10558,Abu Dawud 4028,Nisai 5339] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2818
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے ١ ؎۔
Amr ibn Shuayb reported from his father from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah loves to see signs of His blessings on His slave.” [Ahmed 19954)
حسن صحيح غاية المرام (75)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2819
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابوالاحوص کے باپ، عمران بن حصین اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس کی جیسی اچھی حیثیت ہو اسی لحاظ سے وہ حدود شریعت میں رہتے ہوئے اچھا کھائے پیے اور اچھا پہنے خوشحالی کے باوجود پھٹیچر نہ بنا رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٧٧٤) (صحیح) (یہ سند حسن درجے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے نبی اکرم ﷺ کو دو کالے رنگ کے موزے بھیجے، آپ نے انہیں پہنا، پھر آپ نے وضو کیا اور ان دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔
Sayyidina Buraida (RA) reported that the Negus sent a gift to the Prophet ﷺ of a pair of black socks, without design. He wore them and when he made ablution he used to wipe over them. [Abu Dawud 155, Ibn e Majah 549]
صحيح، ابن ماجة (5449)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2820
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ہم اسے صرف دلہم کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - محمد بن ربیعہ نے دلہم (راوی) سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطھارة ٥٩ (١٥٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٤ (٥٤٩)، واللباس ٣١ (٣٦٢٠) (تحفة الأشراف: ١٩٥٦)، و مسند احمد (٥/٣٥٢) (حسن) (سند میں دلھم ضعیف ہیں، اور حجیر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود رقم ١٤٤ )
عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے سے منع کیا، اور فرمایا ہے: یہ تو مسلمان کا نور ہے ١ ؎۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ forbade plucking out grey hair, saying, “It is the light of the Musilm.” [Ibn e Majah 3721,Abu Dawud 4202,Ahmed 6941]
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - عبدالرحمٰن بن حارث اور کئی دیگر لوگوں سے یہ حدیث عمر بن شعیب کے واسطہ سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ داڑھی اور سر میں جو بال سفید ہوچکے ہیں انہیں نہیں اکھاڑنا چاہیئے، اس لیے کہ یہ انسان کو غرور اور نفسانی شہوات میں مبتلا ہونے سے روکتے ہیں، کیونکہ ان سے انسان کے اندر تواضع اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جائے اس کو امین ہونا چاہیئے ۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The counsellor is a trustee”
صحيح بما بعده (2824)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2823
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حدیث ام سلمہ ؓ کی روایت سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٩) (صحیح) (سند میں عبد الرحمن بن زید بن جدعان کی دادی (جدة) مجہول راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The giver of advice (whose advice is sought) is in a position of trust.” [Abu Dawud 5128, Ibn e Majah 3745]
صحيح وقد تقدم فی الحديث (2370) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (1931 - 2488) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2822
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - متعدد لوگوں نے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی سے روایت کی ہے، اور شیبان، صاحب کتاب اور صحیح الحدیث ہیں، اور ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، ٣ - ہم سے عبدالجبار بن علاء عطار نے بیان کیا، انہوں نے روایت کی سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمیر نے کہا: جب میں حدیث بیان کرتا ہوں تو اس حدیث کا ایک ایک لفظ (یعنی پوری حدیث) بیان کردیتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے، وہ مشورہ لینے والے کی نگاہ میں امانت دار سمجھاتا ہے، اس لیے اس امانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ ایمانداری سے مشورہ دے اور مشورہ دینے کے بعد مشورہ لینے والے کے راز کو دوسروں پر ظاہر نہ کرے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے ( ١ ) عورت میں ( ٢ ) گھر میں ( ٣ ) اور جانور (گھوڑے) میں ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is ill omen in three things: woman, house and animal.” [Bukhari 5093,Muslim 2225,Abu Dawud 3922,Nisai 3571,Ahmed 4544]
صحيح بزيادة: إن کان الشؤم فی شيء ففي، الصحيحة (443 و 799 و 1897)
صحيح بزيادة: إن کان الشؤم فی شيء ففي، الصحيحة (443 و 799 و 1897)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2824
ہم سے یہ حدیث ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے زہری سے، زہری نے عبداللہ بن عمر کے دونوں بیٹے سالم اور حمزہ سے اور ان دونوں نے اپنے والد عبداللہ سے اور عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2824
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - زہری کے بعض اصحاب (تلامذہ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٤٧ (٢٨٥٨)، والنکاح ١٧ (٥٠٩٣، ٥٠٩٤)، والطب ٤٣ (٥٧٥٣)، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٥٥)، سنن النسائی/الخیل ٥ (٣٥٧١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٩، ٦٨٢٦)، موطا امام مالک/الاستئذان ٨ (٢٢)، و مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح) (اس روایت میں ” الشؤم في … “ کا لفظ شاذ ہے، صحیحین کے وہ الفاظ صحیح ہیں جو یہ ہیں ” إن کان الشؤم ففي … “ یعنی اگر نحوست کا وجود ہوتا تو ان تین چیزوں میں ہوتا، الصحیحة ٤٤٣، ٧٩٩، ١٨٩٧)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم تین آدمی ایک ساتھ ہو، تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی نہ کریں ، سفیان نے اپنی روایت میں «لا يتناجی اثنان دون الثالث فإن ذلك يحزنه» کہا ہے، یعنی تیسرے شخص کو چھوڑ کر دو سرگوشی نہ کریں کیونکہ اس سے اسے دکھ اور رنج ہوگا ۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you are three people, two should not engage in a private conversation keeping their companion apart.” Sufyan in his hadith uses the words, “The two must not whisper at the exclusion of the third,’ adding that it grieves him. [Ahmed 3560, Bukhari 6290, Muslim 2184, Abu Dawud 4851, Ibn e Majah 3775]
صحيح، ابن ماجة (3775)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2825
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک کو نظر انداز کر کے دو سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے مومن کو تکلیف پہنچتی ہے، اور اللہ عزوجل مومن کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا ہے ، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ٤٥ (٦٢٨٨)، و ٤٧ (٦٢٩٠)، صحیح مسلم/السلام ١٥ (٢١٨٤)، سنن ابی داود/ الأدب ٢٩ (٤٨٥١)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٠ (٣٧٧٥) (تحفة الأشراف: ٩٢٥٣)، وط/السلام ٦ (١٣)، و مسند احمد (١/٤٢٥) (صحیح )
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو گورا چٹا دیکھا، آپ پر بڑھاپا آ چلا تھا حسن بن علی ؓ (شکل و صورت میں) آپ کے مشابہ تھے۔ آپ نے تیرہ ( ١٣ ) جوان اونٹنیاں ہم کو عنایت کرنے کے لیے حکم صادر فرمایا، ہم انہیں لینے کے لیے گئے ہی تھے کہ اچانک آپ کے انتقال کی خبر آ گئی، چناچہ لوگوں نے ہمیں کچھ نہ دیا، پھر جب ابوبکر ؓ نے مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے جس کسی کا بھی کوئی عہد و پیمان ہو تو وہ ہمارے پاس آئے (اور پیش کرے) چناچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور انہیں آپ کے حکم سے آگاہ کیا، تو انہوں نے ہمیں ان اونٹنیوں کے دینے کا حکم فرمایا۔
Sayyidina Abu Juhayfah (RA) narrated: I had seen Allah’s Messenger ﷺ . He was fair-complexioned and had grown old. Hasan ibnAli (RA) resembled him. He had ordered for us thirteen young she-camels, so we went to collect them. News of his death reached us and they had not given us anything. When Abu Bakr (RA) became Khalifah, he said, “He who has received a promise from Allah’s Messenger ﷺ must come.” So, I mood up before him and informed him( of it) and he ordered them or us. [Bukhari 3544, Muslim 2343]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2826
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - مروان بن معاویہ نے یہ حدیث اپنی سند سے ابوجحیفہ ؓ کے واسطے سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - کئی اور لوگوں نے بھی اسماعیل بن ابوخالد کے واسطہ سے ابوجحیفہ سے روایت کی ہے، (اس روایت میں ہے) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے حسن بن علی ؓ آپ کے مشابہ تھے۔ اور انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا۔
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے، حسن بن علی ؓ آپ کے مشابہ تھے۔
Muhammad ibn Bashshar reported from Yahya ibn Sa’eed, from Isma’il ibn Abu Khaild from Abu Juhayfah (RA). He said, I saw the Prophet ﷺ , Hasan ibn Ali (RA) resembled him’.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2827
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اسی طرح کئی ایک نے اسماعیل بن ابوخالد سے اسی جیسی روایت کی ہے، ٢ - اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - ابوجحیفہ ؓ کا نام وہب سوائی ہے۔