آداب اور اجازت لینے کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 39 · 185 hadiths · Page 6 of 9

2788Sunan At-Tirmidhi

مردوں اور عورتوں کی خوشبو کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَ طِيبِ الرَّجُلِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَخَيْرَ طِيبِ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ، وَنَهَى عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مرد کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور اس کا رنگ چھپا رہے، اور عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو چھپی رہے ، اور آپ ﷺ نے زین کے اوپر انتہائی سرخ ریشمی کپڑا ڈالنے سے منع فرمایا۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The best of the scents for men is that which has a noticeable odour and an unnoticeable colour. And the best of scents for women is with a noticeable colour but an unnoticeabe smell.” And, he disallowed wearing red silk dress. [Bukhari 2582, Nisai 5273]

صحيح، المشکاة (4443)، مختصر الشمائل (188)، الرد علی الکتاني ص (11)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2788
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٥)، و مسند احمد (٤/٤٤٢) (صحیح )
2789Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ خوشبو سے انکار کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ، وَقَالَ أَنَسٌ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انس ؓ خوشبو (کی چیز) واپس نہیں کرتے تھے، اور انس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ خوشبو کو واپس نہ کرتے تھے ١ ؎۔

Thumamah ibn Abduilah reported that Sayyidina Anas (RA) never refused a perfume saying, “The Prophet ﷺ never refused perfume.” [Bukhari 2582, Nisai 5273]

صحيح مختصر الشمائل (186)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2789
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ کے پاس ہدیہ اگر خوشبو جیسی چیز آتی تو آپ اسے بھی واپس نہیں کرتے تھے، اس لیے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ہدیہ کی ہوئی خوشبو کو واپس نہیں کرنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٩ (٢٥٨٢)، واللباس ٨٠ (٥٩٢٩)، سنن النسائی/الزینة ٧٤ (٥٢٦٠) (تحفة الأشراف: ٧٤٥٣) (صحیح )
2790Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ خوشبو سے انکار کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ: الْوَسَائِدُ، وَالدُّهْنُ، وَاللَّبَنُ الدُّهْنُ، يَعْنِي بِهِ الطِّيبَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدَبٍ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں (ہدیہ و تحفہ میں آئیں) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے، دہن، اور دودھ، دہن (تیل) سے مراد خوشبو ہے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three things are not refused: a pillow, scent and milk.”

حسن مختصر الشمائل (187)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2790
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - عبداللہ یہ مسلم بن جندب کے بیٹے ہیں اور مدنی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٤٥٣) (حسن )
2791Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ خوشبو سے انکار کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بَصْرِيٌّ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ حَنَانٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُعْطِيَ أَحَدُكُمُ الرَّيْحَانَ فَلَا يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا نَعْرِفُ حَنَانًا إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، وَقَدْ أَدْرَكَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرَهُ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.

ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ وہ جنت سے نکلی ہے ۔

Sayyidina Abu Uthman Nahdi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If one of you is offered a scent, let him not refuse it, for it comes from Paradise.”

ضعيف مختصر الشمائل (189)، الضعيفة (764) // ضعيف الجامع الصغير (385) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2791
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - حنان (نام کے) راوی کو ہم صرف اسی حدیث میں پاتے ہیں، ٣ - ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ تو پایا لیکن انہیں آپ کا دیدار نصیب نہ ہوا اور نہ ہی آپ سے کوئی حدیث سن سکے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ المراسیل ٩٧ (تحفة الأشراف: ١٨٩٧٥) (ضعیف) (اولاً یہ مرسل ہے کیوں کہ ابو عثمان النھدی تابعی ہیں، دوسرے اس کا راوی ” حنان “ لین الحدیث ہے )
2792Sunan At-Tirmidhi

مباشرت ممنوعہ سے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ حَتَّى تَصِفَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت عورت سے نہ چمٹے یہاں تک کہ وہ اسے اپنے شوہر سے اس طرح بیان کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No woman should describe her meeting with another woman to her husband as though he is watching her.” [Ahmed 3609, Bukhari 5241, Abu Dawud 2150]

صحيح، صحيح أبي داود (1866 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2792
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر عورت اپنے شوہر سے کسی دوسری عورت کے جسمانی اوصاف بیان کرے تو اس سے اس کا شوہر فتنہ اور زناکاری میں مبتلا ہوسکتا ہے، شریعت نے اسی فتنہ کے سد باب کے لیے کسی دوسری عورت کے جسمانی اوصاف کو بیان کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١١٨ (٥٢٤٠)، سنن ابی داود/ النکاح ٤٤ (٢١٥٠) (تحفة الأشراف: ٩٢٥٢)، و مسند احمد (١/٣٨٧، ٤٦٠) (صحیح )
2793Sunan At-Tirmidhi

مباشرت ممنوعہ سے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Let no man look at the satr of another man and no woman at the satr of another woman. And, let no man lie down with another man covered with the same blanket and let no woman lie down with anothr woman covered with the same blanket.” [Ahmed 11601, Muslim 338, Ibn e Majah 661]

صحيح، ابن ماجة (661)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2793
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دو مرد یا دو عورتیں ایک ہی کپڑا اوڑھ کر ننگے بدن نہ لیٹ جائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢١ (١٤٣٧)، سنن ابی داود/ الحمام ٣ (٤٠١٨) (تحفة الأشراف: ٤١١٥) (صحیح )
2794Sunan At-Tirmidhi

ستر کی حفاظت سے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ: احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ؟ قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا ؟ قَالَ: فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے نبی! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی شرمگاہ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ، میں نے پھر کہا: جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں (تو ہم کیا اور کیسے کریں؟ ) آپ نے فرمایا: تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے ، میں نے پھر کہا: اللہ کے نبی! جب آدمی تنہا ہو؟ آپ نے فرمایا: لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔

Bahz ibn Hakim reported from his father who from his grandfather that he asked the Prophet ﷺ from whom they should conceal their awrah and from whom not. He said, “Guard your awrah except from your wife and what your right hand possesses (female slaves).” He asked, “O Messenger of Allah ﷺ what when people are with each other?” He said, “If it is possible that no one may observe your private parts, see that none sees them.” He asked, “O Prophet ﷺ of Allah what if one of us is alone?” He said, “But Allah has more right that people should be ashamed before Him.” [Ahmed 20054]

حسن وتقدم (2931)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2794
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٧٦٩ (حسن )
2795Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ران ستر میں داخل ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرْهَدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَشَفَ فَخِذُهُ، فَقَال: إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ.

جرہد ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں جرہد کے پاس (یعنی میرے پاس سے) سے گزرے (اس وقت) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ران بھی ستر (چھپانے کی چیز) ہے ۔

Sayyidina Jarhad (RA) narrated: The Prophet ﷺ passed by him in the mosque while his thighs were visible. He said, “The thighs are awrah.” [Bukhari 12,Abu Dawud 4014Ahmed 15927]

صحيح، الإرواء (1 / 297 - 298)، المشکاة (3114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2795
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٢ (تعلیقاً في الترجمة)، سنن ابی داود/ الحمام ٢ (٤٠١) (تحفة الأشراف: ٣٢٠٦)، و مسند احمد (٣/٤٧٨) (ویأتي بعد حدیث) (صحیح )
2796Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ران ستر میں داخل ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جَرْهَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ كَاشِفٌ عَنْ فَخِذِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

جرہد ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی ران کھولے ہوئے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنی ران ڈھانپ لو کیونکہ یہ ستر (چھپانے کی چیز) ہے ۔

Ibn Jarhad reported from his father that the Prophet ﷺ passed by him while his thighs were uncovered so the Prophet ﷺ said “Cover your thighs, for, they are part of the awrah.” [Ahmed 15929]

صحيح أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2796
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٤٣٢) (صحیح )
2798Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ران ستر میں داخل ہے

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْفَخِذُ عَوْرَةٌ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ران بھی ستر (چھپانے کی چیز) ہے ۔

Abdullah ibn Jarhad Aslami reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ said, “The thighs are awrah.”

صحيح انظر ما قبله (2797)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2798
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2797Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ران ستر میں داخل ہے

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْفَخِذُ عَوْرَةٌ .وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ صُحْبَةٌ، وَلِابْنِهِ مُحَمَّدٍ صُحْبَةٌ

جرہد اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ران ستر (چھپانے کی چیز) ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The thighs are awrah.”

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2797
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی اور محمد بن عبداللہ بن جحش سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور عبداللہ بن جحش اور ان کے بیٹے محمد ؓ دونوں صحابی رسول ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٧٩٥ (صحیح )
2799Sunan At-Tirmidhi

پاکیزگی کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، وَيُقَالْ ابْنُ إِيَاسٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ، قَال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ، نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ، كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ، جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ، فَنَظِّفُوا، أُرَاهُ قَالَ: أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍفَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: نَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ يُضَعَّفُ، وَيُقَالُ ابْنُ إِيَاسٍ.

صالح بن ابی حسان کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا: اللہ طیب (پاک) ہے اور پاکی (صفائی و ستھرائی) کو پسند کرتا ہے۔ اللہ مہربان ہے اور مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ سخی و فیاض ہے اور جود و سخا کو پسند کرتا ہے، تو پاک و صاف رکھو۔ (میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس سے آگے کہا) اپنے گھروں کے صحنوں اور گھروں کے سامنے کے میدانوں کو، اور یہود سے مشابہت نہ اختیار کرو ۔ (صالح کہتے ہیں) میں نے اس (روایت) کا مہاجر بن مسمار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اس کو عامر بن سعد نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا۔ البتہ مہاجر نے «نظفوا أفنيتكم» کہا ہے۔

Salih ibn Abu Hassan reported having heard Sa’eed ibn Musayyiab say, “Indeed Allah is Pure. He loves the pure. He is Clean and loves cleanliness. He is Generous and loves generosity. He is Benevolent and loves benevolence. So, keep yourselves clean and tidy.” The narrator thought that he also said, “Keep your courtyards clean and do not imitate the Jews.” Salih said that he mentioned that to Muhajir ibn Masmar and he said “A hadith was narrated to me by Aamir ibn Sa’d from his father, from the Prophet ﷺ of like manner except that he did not say, “I think,” but orly “Keep your courtyards clean.”

ضعيف، لکن قوله:صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2799
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - خالد بن الیاس ضعیف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٨٩٤) (ضعیف) (سند میں مہاجر بن سمار لین الحدیث ہیں، لیکن ” نظفوا أفنيتكم … الخ “ اور ” جواد يحب الجواد “ کے ٹکڑے متابعات کی بنا پر صحیح ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: ١٦٢٧ )
2800Sunan At-Tirmidhi

جماع کے وقت پردہ کرنے کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَيْزَكَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ، فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ، وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو مُحَيَّاةَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ننگے ہونے سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ (فرشتے) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ تو صرف اس وقت جدا ہوتے ہیں جب آدمی پاخانہ جاتا ہے یا اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے ہمبستر ہوتا ہے۔ اس لیے تم ان (فرشتوں) سے شرم کھاؤ اور ان کی عزت کرو ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is binding on you to refrain from nudity, for, there are with you who do not separate from you except during excrement and when a man approaches his wife. So, show modesty to them and honour them.

ضعيف، الإرواء (64)، المشکاة (3115 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2194) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2800
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٣١٨) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، دیکھیے: الارواء رقم: ٦٤ )
2801Sunan At-Tirmidhi

حمام میں جانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ بِغَيْرِ إِزَارٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَجْلِسْ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ طَاوُسٍ، عَنْ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ صَدُوقٌ، وَرُبَّمَا يَهِمُ فِي الشَّيْءِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، لَيْثٌ لَا يُفْرَحُ بِحَدِيثِهِ، كَانَ لَيْثٌ يَرْفَعُ أَشْيَاءَ لَا يَرْفَعُهَا غَيْرُهُ فَلِذَلِكَ ضَعَّفُوهُ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہہ بند باندھے بغیر غسل خانہ (حمام) میں داخل نہ ہو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو غسل خانہ (حمام) میں نہ بھیجے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘He who believes in Allah and the Last Day must not send his wife to the public bath And he who believes in Allah and the Last Day, must not go to the public bath without his lower garment. And he who believes in Allah and the Last Day must not sit at the table where wine is passed round.” [Ahmed 14657, Nisai 398]

حسن، التعليق الرغيب (1 / 88 - 89)، الإرواء (1949)، غاية المرام (190)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2801
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اس سند سے جانتے ہیں، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: لیث بن ابی سلیم صدوق ہیں، لیکن بسا اوقات وہ وہم کر جاتے ہیں، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں: لیث کی حدیث سے دل خوش نہیں ہوتا۔ لیث بعض ایسی حدیثوں کو مرفوع بیان کردیتے تھے جسے دوسرے لوگ مرفوع نہیں کرتے تھے۔ انہیں وجوہات سے لوگوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حمامات عمومی غسل خانے ہوا کرتے تھے، جس میں مرد اور عورتیں سب کے سب ننگے نہاتے تھے، آپ ﷺ نے مردوں کو تہہ بند باندھ کر نہانے کی اجازت دی، جب کہ عورتوں کو اس سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر وہ مجلس جہاں نشہ آور اور حرام چیزوں کا دور چل رہا ہو اس میں شریک ہونا درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الغسل ٢ (٤٠١) (بعضہ) (تحفة الأشراف: ٢٢٨٤)، و مسند احمد (٣/٣٣٩) (حسن) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، الإروائ: ١٩٤٩، غایة المرام ١٩٠ )
2802Sunan At-Tirmidhi

حمام میں جانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَيَازِرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَائِمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مردوں اور عورتوں کو حمامات (عمومی غسل خانوں) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی۔

Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ forbade men and women to go to public baths. Later, he permitted men to go there but not without their lower garments. [Abu Dawud 4009, Ibn e Majah 3749]

ضعيف، ابن ماجة (2749) // كذا الأصل، وهو في ضعيف سنن ابن ماجة برقم (821 - 3749)، غاية المرام (191)، ضعيف أبي داود (865 / 4009) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2802
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس کی سند ویسی مضبوط نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحمام ١ (٤٠٠٩)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٨ (٣٧٤٩) (تحفة الأشراف: ١٧٧٩٨)، و مسند احمد (٦/١٧٩) (ضعیف) (سند میں ابو عذرہ مجہول تابعی ہیں، صحابی نہیں ہیں: غایة المرام رقم ١٩٠ )
2803Sunan At-Tirmidhi

حمام میں جانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسَاءً مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، أَوْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ دَخَلْنَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ نِسَاؤُكُنَّ الْحَمَّامَاتِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ اہل حمص یا اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم وہی ہو جن کی عورتیں حمامات (عمومی غسل خانوں) میں نہانے جایا کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے سوا اپنے کپڑے کہیں دوسری جگہ اتار کر رکھتی ہے وہ عورت اپنے اور اپنے رب کے درمیان سے حجاب کا پردہ اٹھا دیتی ہے ۔

Abu Malih Huzali reported that some women of Hims or of Syria visited Sayyidah Aisha (RA). She said, “You are the women who go to the public baths. I have heard Allah’s Messenger ﷺ say that there is no women who removes her garments in a house other than her husband’s but she tears the curtain between her and her Lord.” [Abu Dawud 4010, Ahmed 25462]

صحيح، ابن ماجة (3750)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2803
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحمام ١ (٤٠١٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٨ (٣٧٥٠) (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٤)، و مسند احمد (٦/١٩٩)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٢٣ (٢٦٩٣) (صحیح )
2804Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر یا کتا ہو

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وعبد بن حميد، وغير واحد، واللفظ للحسن بن علي، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں جاندار مجسموں کی تصویر ہو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported having heard Abu Talhah say that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The angels do not enter a house in which there is a dog or a picture of an animate.” [Ahmed 16347,Bukhari 3225,Muslim 2106,Nisai 4288, TMuslim 3649]

صحيح، ابن ماجة (3649)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2804
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسے کتے جو کھیت اور و جائیداد کی نگرانی نیز شکار کے لیے ہوں وہ مستثنیٰ ہیں، اسی طرح تصویر سے بےجان چیزوں کی تصویریں مستثنیٰ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٥، ٣٢٢٦)، و ١٧ (٣٣٢٢)، سنن ابی داود/ المغازي ١٢ (٤٠٠٢)، واللباس ٨٨ (٥٩٤٩)، و ٥٢ (٥٩٥٨)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦)، سنن ابی داود/ اللباس ٤٨ (٤١٥٣)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١١ (٤٢٨٧)، والزینة ١١١ (٥٣٤٩)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٤ (٣٦٤٩) (تحفة الأشراف: ٣٧٧٩)، و مسند احمد (٤/٢٨) (صحیح )
2805Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر یا کتا ہو

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّرَافِعَ بْنَ إِسْحَاق أَخْبَرَهُ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أبِي طَلْحَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍأَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ: الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ ، شَكَّ إِسْحَاق لَا يَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ: قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خبر دی ہے: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے ہوں یا تصویر ہو ، (اس حدیث میں اسحاق راوی کو شک ہوگیا کہ ان کے استاد نے «تماثیل» اور «صورة» دونوں میں سے کیا کہا؟ انہیں یاد نہیں) ۔

Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ ?- said to them, “The angels do not enter a house in which is a representation of an animate or a picture.” The narrator Ishaq, was in doubt what he said [Ahmed 11858]

صحيح غاية المرام (118)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2805
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٣١) وانظر موطا امام مالک/الاستئذان ٣ (٦) (صحیح )
2806Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر یا کتا ہو

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي بَابِ الْبَيْتِ تِمْثَالُ الرِّجَالِ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي بِالْبَابِ فَلْيُقْطَعْ، فَلْيُصَيَّرْ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ، وَيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مُنْتَبَذَتَيْنِ يُوطَآَنِ، وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَيُخْرَجْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ذَلِكَ الْكَلْبُ جَرْوًا لِلْحَسَنِ أَوْ الْحُسَيْنِ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي طَلْحَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر کہا: کل رات میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن مجھے آپ کے پاس گھر میں آنے سے اس بات نے روکا کہ آپ جس گھر میں تھے اس کے دروازے پر مردوں کی تصویریں تھیں اور گھر کے پردے پر بھی تصویریں تھیں۔ اور گھر میں کتا بھی تھا، تو آپ ایسا کریں کہ دروازے کی «تماثیل» (مجسموں) کے سر کو اڑوا دیجئیے کہ وہ مجسمے پیڑ جیسے ہوجائیں، اور پردے پھڑوا کر ان کے دو تکیے بنوا دیجئیے جو پڑے رہیں اور روندے اور استعمال کیے جائیں۔ اور کتے کو نکال بھگائیے، تو رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ اور وہ کتا ایک پلا تھا حسن یا حسین کا ان کی چارپائی کے نیچے رہتا تھا، چناچہ آپ نے اسے بھگا دینے کا حکم دیا اور اسے بھگا دیا گیا۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Jibril came to me. He said, ‘I came to you yesterday. Nothing prevented me from entering your house in which you were but that at the door were representations of men. There was in the house a curtain with pictures on it. There was in the house a dog. So, give the command that the head be removed from the representations at the door that they may look like trees. And give command about the curtain to be cut down and made into two pillows lying down and trampled underfoot. And give command that the dog may be driven off.” So Allah’s Messenger ﷺ did like that. The dog was a puppy belonging to Husayn or Hasan and had been under the Prophet’s ﷺ bed. He was driven out at the Prophet’s ﷺ command. [Ahmed 10197,Abu Dawud 4158]

صحيح آداب الزفاف (102 - 108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2806
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ اور ابوطلحہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٤٨ (٤١٥٨)، سنن النسائی/الزینة ١١٥) (٥٣٨٠) (تحفة الأشراف: ١٤٣٤٥)، و مسند احمد (٢/٣٠٥، ٣٠٨، ٤٧٨) (صحیح )
2807Sunan At-Tirmidhi

کسم کے رنگے ہوئے کپڑے کی مردوں کے لے ممانعت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُمْ كَرِهُوا لُبْسَ الْمُعَصْفَرِ، وَرَأَوْا أَنَّ مَا صُبِغَ بِالْحُمْرَةِ بِالْمَدَرِ، أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُعَصْفَرًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے گزرا۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that a man walked by wearing a pair of red coloured garments. He greeted the Prophet ﷺ with salaam, but he did not give him a response.

ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (878 / 4069) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2807
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں۔ اور جو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگا جائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو (یعنی زرد رنگ کا نہ ہو) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٢٠ (٤٠٦٩) (تحفة الأشراف: ٨٩١٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو یحییٰ القتات لین الحدیث ہیں، مگر دیگر روایات سے اس کا معنی ثابت ہے )