Sunan At-Tirmidhi 1535

نذر اور قسموں کا بیان

1535Sunan At-Tirmidhi

غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا، وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَفُسِّرَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ قَوْلَهُ: فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ، عَلَى التَّغْلِيظِ وَالْحُجَّةُ، فِي ذَلِكَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الرِّيَاءَ شِرْكٌ، وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذِهِ الْآيَةَ: فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا سورة الكهف آية 110 قَالَ: لَا يُرَائِي.

سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے ایک آدمی کو کہتے سنا: ایسا نہیں قسم ہے کعبہ کی، تو اس سے کہا: غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا ۔

Sa’d ibn Ubaydah narrated : Sayyidina Ibn Umar (RA) heard a man swear by the Ka’bah. He said, “Do not swear by other than Allah, for I had heard Allah’s Messenger ‘ ﷺ say that if anyone swears by anyone besides Allah then he has disbelieved or associated (with Allah).” [Abu Dawud 3251, Ahmed 6179]

صحيح، الإرواء (2561)، الصحيحة (2042)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1535
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کی تفسیر بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان «فقد کفر أو أشرك» تنبیہ و تغلیظ کے طور پر ہے، اس کی دلیل ابن عمر ؓ کی حدیث ہے، نبی اکرم ﷺ نے عمر کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم، میرے باپ کی قسم! تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے ، نیز ابوہریرہ ؓ کی (روایت) کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی وہ «لا إله إلا الله» کہے، ٣ - یہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہے بیشک ریا، شرک ہے، ٤ - بعض اہل علم نے آیت کریمہ «فمن کان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا» (الکہف: ١١٠ ) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ ریا نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ٥ (٣٢٥١)، (تحفة الأشراف: ٧٠٤٥)، و مسند احمد ٢/٨٧، ١٢٥) (صحیح )