Sunan At-Tirmidhi 1529

نذر اور قسموں کا بیان

1529Sunan At-Tirmidhi

اگر کوئی شخص کسی کام کے کرنے کی قسم کھائے اور اس قسم کو توڑنے میں ہی بھلائی ہو تو اس کو توڑ دے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يُونُسَ هُوَ: ابْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أَتَتْكَ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبدالرحمٰن! منصب امارت کا مطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اسی کے سپرد کردیئے جاؤ گے ١ ؎، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد و توفیق تمہارے شامل ہوگی، اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھو تو جسے تم بہتر سمجھتے ہو اسے ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو ۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “O Abdur Rahman, do not ask for office of authority, for if you are given one on your asking then you will be left to yourself to tackle the affairs. But, if you get it without asking for it then you will be helped. And when you take an oath but see something else better than it then opt for that which is better and make an atonement for your oath.” [Bukhari 6622, Muslim 1652]

صحيح، الإرواء (7 / 166 - 8 / 228 / 2601)، صحيح أبي داود (2601)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1529
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، جابر، عدی بن حاتم، ابو الدرداء، انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید تمہیں حاصل نہیں ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان والنذور ١ (٦٦٢٢)، والکفارات ١٠ (٦٧٢٢)، والأحکام ٥ (٤١٤٦)، صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٥٢)، سنن ابی داود/ الخراج ٢ (٢ (٢٩٢٩)، سنن النسائی/آداب القضاة ٥ (٥٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٥)، و مسند احمد (٥/٦٦) وسنن الدارمی/النذور ٩ (٢٣٩١) (صحیح )