Sunan At-Tirmidhi 2696

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2696Sunan At-Tirmidhi

بچوں کو سلام کرنے کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ ثَابِتٌ: كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَنَسٍ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں انس ؓ کے ساتھ (جا رہا) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر انس نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا ١ ؎۔

Sayyar reported that he was going with Thabit Bunani. They came across children and he greeted them with salaam and said, “I was with Anas (RA) and we passed by children and he offered them salaam and told me that he was with the Prophet ﷺ and as they passed by some childern the Prophet ﷺ greeted them.” [Bukhari 6247, Muslim 2168, Abu Dawud 5202, Ibn e Majah 3700]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2696 اس سند سے بھی انس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2696
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اسے کئی لوگوں نے ثابت سے روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث متعدد سندوں سے انس ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بچوں سے سلام کرنے میں کئی فائدے ہیں: ( ١ ) سلام کرنے والے میں تواضع کا اظہار ہوتا ہے، ( ٢ ) بچوں کو اسلامی آداب سے آگاہی ہوتی ہے، ( ٣ ) سلام سے ان کی دلجوئی بھی ہوتی ہے، ( ٤ ) ان کے سامنے سلام کی اہمیت واضح ہوتی ہے، ( ٥ ) وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں کہ یہ سنت رسول ہے جس پر عمل کرنا بہت اہم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ١٥ (٦٢٤٧)، صحیح مسلم/السلام ٥ (٢١٦٨)، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٧ (٥٢٠٢)، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٤ (٢٧٠٠) (تحفة الأشراف: ٤٣٨)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٨ (٢٦٧٨) (صحیح) انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٢٦٧) (صحیح )