ابوامامہ باہلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔
Sayyidina Abu Umamah Bahili (RA) reported that two men were mentioned before Allah’s Messenger ﷺ . One of them was a devout worshipper while the other was a scholar. So Allah’s Messenger ﷺ said, “The excellence of the scholar over the worshipper is like my excellence over the humblest of you.” Then, he said, “Surely, Allah, His angels, the inhabitants of the heavens and the earths, even the ants in their holes and even the fish invoke blessings on the teacher of the people about what is good.”
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - فضیل بن عیاض کہتے ہیں «ملکوت السموات» (عالم بالا) میں عمل کرنے والے عالم اور معلم کو بہت بڑی اہمیت و شخصیت کا مالک سمجھا اور پکارا جاتا ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن بھلائی سے ہرگز آسودہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام جنت میں پہنچ جاتا ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A believer is never satiated from the good (words) that he hears till its limit is Paradise.”
ضعيف، المشکاة (216) // والصواب (222)، ضعيف الجامع الصغير (4783) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2686
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کرلینے کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The words of wisdom are the lost possession of a believer. So, wheresoever he finds them, he has more right over them.” [Ibn e Majah 4169]
ضعيف جدا (216) // كذا الأصل والصواب: أنه رقم مشكاة المصابيح وهو في ضعيف الجامع الصغير برقم (4302 ) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2687
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - ابراہیم بن فضل مدنی مخزومی حدیث بیان کرنے میں حفظ کے تعلق سے کمزور مانے جاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٥ (٤١٦٩) (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٠) (ضعیف جدا) (سند میں ابراہیم بن الفضل المخزومی متروک راوی ہے )