Sunan At-Tirmidhi 1937

نیکی و صلہ رحمی کا بیان

1937Sunan At-Tirmidhi

آپس میں بغض رکھنے کی برائی

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مصلی اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش میں رہتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, the devil has despaired of being worshipped by those who offer salah, but he retains hope of setting them against each other.” [Muslim 2812]

صحيح، الصحيحة (1606)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں انس اور «سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبيه» سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مسلمان مرتد ہو کر بت پرستی کریں گے، اور شیطان کو پوجیں گے، اس مایوسی کے بعد وہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے، ان کے اندر بزدلی پیدا کرنے، جنگ وجدال اور فتنوں میں انہیں مشغول رکھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ١٦ (٢٨١٢) (تحفة الأشراف: ٢٣٠٢)، و مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٤، ٣٦٦، ٣٨٤) (صحیح )