Sunan At-Tirmidhi 1947

نیکی و صلہ رحمی کا بیان

1947Sunan At-Tirmidhi

خادموں کو مارنے اور گالی دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيُّ التَّوْبَةِ: مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ أَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ، يُكْنَى أَبَا الْحَكَمِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ١ ؎ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Abu Qasim, the Prophet ﷺ bestowed with the characteristic to repent, said, “If anyone accuses his slave, whether male or female, of adultery and they are innocent then Allah will inflict on him the prescribed punishment on the Day of Resurrection unless it is as he had said.” [Bukhari 6858]

صحيح، الروض النضير (1146)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1947
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سوید بن مقرن اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سو مرتبہ استغفار کرتے تھے، اسی لحاظ سے آپ کو «نبي التوبة» کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٤٥ (٦٨٥٨)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٩ (١٦٦٠)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٣ (٥١٦٥) (تحفة الأشراف: ١٣٦٢٤)، و مسند احمد (٢/٤٣١) (صحیح )