Sunan At-Tirmidhi 1948

نیکی و صلہ رحمی کا بیان

1948Sunan At-Tirmidhi

خادموں کو مارنے اور گالی دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ مَمْلُوكًا لِي، فَسَمِعْتُ قَائِلًا مِنْ خَلْفِي، يَقُولُ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، فَالْتَفَتُّ: فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَمَا ضَرَبْتُ مَمْلُوكًا لِي بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ.

ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کہنے والے کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا: ابومسعود جان لو، ابومسعود جان لو (یعنی خبردار) ، جب میں نے مڑ کر دیکھا تو میرے پاس رسول اللہ ﷺ تھے آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے جتنا کہ تم اس غلام پر قادر ہو ۔ ابومسعود کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے اپنے کسی غلام کو نہیں مارا ١ ؎۔

Sayyidina Abu. (RA) narrated I was beating my slave. Suddenly, I heard a speaker behind me say, “Beware, O Abu Mas’ud! Beware, O Abu Mas’ud!” So, I turned (my face) and as I was facing Allah’s Messenger ﷺ . He said, “Allah is more powerful over you than you are over him.” After that, I never beat a servant. [Muslim 1659]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1948
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ ـ: غلاموں اور نوکروں چاکروں پر سختی برتنا مناسب نہیں، بلکہ بعض روایات میں ان پر بےجا سختی کرنے یا جرم سے زیادہ سزا دینے پر وعید آئی ہے، نبی اکرم ﷺ اللہ کی جانب سے جلالت وہیبت کے جس مقام پر فائز تھے اس حدیث میں اس کی بھی ایک جھلک دیکھی جاسکتی ہے، چناچہ آپ کے خبردار کہنے پر ابومسعود اس غلام کو نہ صرف یہ کہ مارنے سے رک گئے بلکہ آئندہ کسی غلام کو نہ مارنے کا عہد بھی کر بیٹھے اور زندگی اس پر قائم رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٨ (١٦٥٩)، سنن ابی داود/ الأدب ١٣٣ (٥١٥٩) (تحفة الأشراف: ١٠٠٠٩) (صحیح )