عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar said, “In the times of Allah’s Messenger we used to eat while walking about and drink while standing.” [Ibn e Majah 3301]
صحيح، المشکاة (4275)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث «عبيد اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے صحیح غریب ہے، ٢ - عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - ابوالبزری کا نام یزید بن عطارد ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے والی حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، اس حدیث سے اس کے جواز کا پتہ چلتا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ انس ؓ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا (یعنی نہ پینا بہتر اور اچھا ہے) جب کہ اس حدیث کو کراہت کے ساتھ جواز پر محمول کیا جائے گا۔ یعنی جہاں مجبوری ہو وہاں ایسا کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٥ (٣٣٠١)، (تحفة الأشراف: ٧٨٢١) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر زمزم کا پانی پیا ١ ؎۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) drank zamzam water while he was standing. [Bukhari 163]
صحيح، ابن ماجة (3422 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1882
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، سعد، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم ﷺ نے بیان جواز کے لیے کیا ہو، اس کا بھی امکان ہے کہ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی ہو، یا وہاں خشک جگہ نہ رہی ہو، اس لیے آپ نہ بیٹھے ہوں، یہ عام خیال بالکل غلط ہے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٦ (١٦٣٧)، والأشربة ٦ (٥٦١٧)، صحیح مسلم/الأشربة ١٥ (٢٠٢٧)، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٩٦٧)، و ٦٦ (٢٩٦٨)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٢)، والمؤلف في الشمائل ٣١ (١٩٧، ١٩٨، ١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٧)، و مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٠، ٣٤٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے: (پانی پینے کا یہ طریقہ) زیادہ خوشگوار اور سیراب کن ہوتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) said that the Prophet ﷺ used to pause for breath three times while drinking and say, “This is more thirst-quenching and more pleasant.”
صحيح، ابن ماجة (3416)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1884
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے ہشام دستوائی نے بھی ابوعصام کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، اور عزرہ بن ثابت نے ثمامہ سے، ثمامہ نے انس سے روایت کی ہے، نبی اکرم ﷺ برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ پینے والی چیز تین سانس میں پی جائے، اور سانس لیتے وقت برتن سے منہ ہٹا کر سانس لی جائے، اس سے معدہ پر یکبارگی بوجھ نہیں پڑتا، اور اس میں حیوانوں سے مشابہت بھی نہیں پائی جاتی، دوسری بات یہ ہے کہ پانی کے برتن میں سانس لینے سے تھوک اور جراثیم وغیرہ جانے کا جو خطرہ ہے اس سے حفاظت ہوجاتی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیو، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو، جب پیو تو «بسم اللہ» کہو اور جب منہ سے برتن ہٹاؤ تو «الحمدللہ» کہو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not drink like a camel in one breath, but drink in two or three sips taking breath, and say Bismillah, when you begin and praise Allah when you have finished.”
ضعيف، المشکاة (4278 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6233) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٩٧١) (ضعیف) (سند میں ابن عطاء بن ابی رباح مبہم راوی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب پیتے تھے تو دو سانس میں پیتے تھے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that when the Prophet ﷺ drank water, he breathed twice in the course of it. [Ibn e Majah 3417]
ضعيف، ابن ماجة (3417) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (743)، ضعيف الجامع الصغير (4424) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1886
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف رشدین بن کریب کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - میں نے ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا: وہ زیادہ قوی ہیں یا محمد بن کریب؟ انہوں نے کہا: دونوں (رتبہ میں) بہت ہی قریب ہیں، اور میرے نزدیک رشدین بن کریب زیادہ راجح ہیں، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: محمد بن کریب، رشدین بن کریب سے زیادہ راجح ہیں، ٥ - میرے نزدیک ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کی بات زیادہ صحیح ہے کہ رشدین بن کریب زیادہ راجح اور بڑے ہیں، انہوں نے ابن عباس کو پایا ہے اور انہیں دیکھا ہے، یہ دونوں بھائی ہیں ان دونوں سے منکر احادیث بھی مروی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٨ (٣٤١٧)، (تحفة الأشراف: ٦٣٤٧) (ضعیف) (سند میں رشدین بن کریب ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا، ایک آدمی نے عرض کیا: برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے بہا دو، اس نے عرض کیا: میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں، آپ نے فرمایا: تب (سانس لیتے وقت) پیالہ اپنے منہ سے ہٹا لو ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade them to blow in a drink. A man asked, “What, if there is some dirt in the vessel?” He said, “Drop them down.” The man submitted, “I am not satiated in one breath.” He said, “When you breathe, turn your face away from the vessel.” [Ahmed 11654]
حسن، الصحيحة (385)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1887
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیئے تو برتن میں سانس نہ چھوڑے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Qatadah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one of you drinks something, he must not breathe in the vessel.” [Bukhari 153, Muslim 267]
صحيح، صحيح أبي داود (23)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1889
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث بظاہر انس ؓ کی اس حدیث کے معارض ہے «أن النبي صلی اللہ عليه وسلم کان يتنفس في الإناء ثلاثا» یعنی نبی اکرم ﷺ برتن سے پانی تین سانس میں پیتے تھے، ابوقتادہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی برتن سے پانی پیتے وقت برتن کو منہ سے ہٹائے بغیر برتن میں سانس لیتا ہے تو یہ مکروہ ہے، اور انس ؓ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ برتن سے پانی تین سانس میں پیتے تھے، اور سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے جدا رکھتے تھے، اس توجیہ سے دونوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہ جاتا۔
ابو سعید خدری ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) said that the Prophet ﷺ disallowed them to drink from the mouth of a water skin. [Bukhari 5625, Muslim 2023]
صحيح، ابن ماجة (3418)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں: ( ١ ) مشکیزہ سے برابر منہ لگا کر پانی پینے سے پانی کا ذائقہ بدل سکتا ہے، ( ٢ ) اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں اس میں کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا نہ ہو، ( ٣ ) مشکیزہ کا منہ اگر کشادہ اور بڑا ہے تو اس کے منہ سے پانی پینے کی صورت میں پینے والا گرنے والے پانی کے چھینٹوں سے نہیں بچ سکتا، اور اس کے حلق میں ضرورت سے زیادہ پانی جاسکتا ہے کہ جس میں اچھو آنے کا خطرہ ہوتا ہے جو نقصان دہ ہوسکتا ہے، ( ٤ ) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت بڑے اور کشادہ منہ والے مشکیزہ سے متعلق ہے، ( ٥ ) کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رخصت والی روایت اس کے لیے ناسخ ہے، ( ٦ ) عذر کی صورت میں جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٣ (٥٦٢٤)، صحیح مسلم/الأشربة (٢٠٢٣)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٥ (٣٧٢٠)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٩ (٣٤١٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٣٨)، و مسند احمد (٣/٦، ٦٧، ٦٩، ٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن انیس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے، اسے جھکایا، پھر اس کے منہ سے پانی پیا۔
Sayyidina Abdullah ibn Unays (RA) said, “I saw the Prophet ﷺ stand by a water-skin suspended above. He inclined it down and drank from it (from its mouth).” [Abu Dawud 3721]
منكر، ضعيف أبي داود // 797 / 3721 //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ام سلیم سے بھی روایت ہے (جو آگے آرہی ہے) ، ٢ - اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے، عبداللہ بن عمر حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، میں نہیں جانتا ہوں کہ انہوں نے عیسیٰ سے حدیث سنی ہے یا نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ١٥ (٣٧٢١)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٩) (منکر) (سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، اور یہ حدیث پچھلی صحیح حدیث کے برخلاف ہے )
کبشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے، آپ نے ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر میں مشکیزہ کے منہ کے پاس گئی اور اس کو کاٹ لیا ١ ؎۔
Sayyidnh Kabshah (RA) reported that Allah’s Messenger visited her and drank water standing from the mouth of a suspended water-skin. She said, “I stood up and went to it and cut off the portion (where the Prophet ﷺ had drunk).” [Ibn e Majah 3423]
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، آپ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں ابوبکر ؓ، آپ نے دودھ پیا، پھر (بچا ہوا دودھ) اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ مستحق ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that milk to which water was added was offered to Allah’s Messenger ﷺ to whose right hand sat a villager and to the left sat Abu Bakr (RA) .He drank and gave it to the villager, “The (one to the) right, so to the right (is more deserving).” [Bukhari 5612, Muslim 2129]
صحيح، ابن ماجة (3425)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1893
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس، سہل بن سعد، ابن عمر اور عبداللہ بن بسر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ١٤ (٥٦١٣)، و ١٨ (٥٧١٩) والشرب ١ (٢٣٥٢)، والہبة ٤ (٢٥٧١)، صحیح مسلم/الأشربة ١٧ (٢٠٢٩)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٩ (٣٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٢ (٣٤٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤)، و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ٩ (١٧)، و مسند احمد (٣/١١٠، ١١٣، ١٩٧)، سنن الدارمی/الأشربة ١٨ (٢١٦٢) (صحیح )
ابن عیینہ سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، لیکن صحیح وہی ہے جو زہری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا مشروب بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: میٹھا اور ٹھنڈا مشروب ۔
Zuhri reported from the Prophet ﷺ that he was asked, “Which drink is the purest?’ He said, “That which is sweet and cool.” [Ahmed 24155]
صحيح انظر ما قبله (1895)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1896
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم ﷺ مرسلاً روایت کی ہے، ٢ - یہ ابن عیینہ (رح) کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٩٣٩٤ و ١٩٤١٤) (صحیح الإسناد مرسل) (زہری تابعی ہے ان کی روایت نبی اکرم ﷺ سے مرسل ہے، اور زہری کی مراسیل کو سب سے خراب مرسل کا درجہ علماء نے دیا ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث میں زہری نے بسند عروہ ام المومنین عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے صحیح )