Sunan At-Tirmidhi 1892

پینے کے ابواب

1892Sunan At-Tirmidhi

اس کی اجازت

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّتِهِ كَبْشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَيَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هُوَ أَخُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَهُوَ أَقْدَمُ مِنْهُ مَوْتًا.

کبشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے، آپ نے ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر میں مشکیزہ کے منہ کے پاس گئی اور اس کو کاٹ لیا ١ ؎۔

Sayyidnh Kabshah (RA) reported that Allah’s Messenger visited her and drank water standing from the mouth of a suspended water-skin. She said, “I stood up and went to it and cut off the portion (where the Prophet ﷺ had drunk).” [Ibn e Majah 3423]

صحيح، المشکاة (4281)، مختصر الشمائل (182)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1892
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنے پاس تبرکاً رکھنے کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٩)، و مسند احمد (٦/٤٣٤) (صحیح )